"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

 

 رشتہ تو جڑ گیا، مگر کیا روح کو سکون ملا؟ شادی سے پہلے کی میٹھی زبان اور شادی کے بعد کی تلخ 

حقیقت۔

 شانزے اس منافقت کے جال سے نکل پائے گی؟ میرا نیا ناول، جو معاشرے کے دوہرے چہروں کو بے نقاب کرے گا۔

میرا حصار: عزت یا اذیت؟"



قسط نمبر ۱: کھرے کھوٹے

"ارسلان! او ارسلان! آواز نہیں آ رہی میری؟ کدھر ہو؟ امی نیچے بلا رہی ہیں۔"

ارسلان نے بالکونی سے نیچے جھانکا اور جواب دیا، "آپا! آ رہا ہوں۔" اس نے دل ہی دل میں سوچا، "دو گھڑی اس گھر میں سکون کا سانس بھی نہیں لے سکتا۔" مگر یہ صرف اس کی سوچ تھی، زبان میں اتنی ہمت کہاں تھی کہ کچھ کہہ پاتا۔ وہ دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اور بہنیں اسے اپنے آگے بولنے ہی نہیں دیتی تھیں۔ گھر میں سب سے بڑی بہن جمیلہ کا سکہ چلتا تھا۔ اس کی شادی ایک خوشحال گھرانے میں ہوئی تھی، مگر اس نے میکے اور سسرال دونوں پر اپنا تسلط برقرار رکھا تھا۔ کوئی بھی معاملہ ہو، اگر جمیلہ سے نہ پوچھا جاتا تو وہ پورا گھر سر پر اٹھا لیتی۔ ماں بھی اس کے آگے خاموش ہو جاتی تھیں تو ارسلان کی کیا مجال کہ کچھ کہتا۔

ارسلان کی پہلی شادی بھی ان ہی بہنوں کے ظلم و ستم کی وجہ سے خراب ہوئی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ غلطی اس کی بہنوں کی ہے، مگر اسے کبھی صحیح اور غلط کی پہچان کروائی ہی نہیں گئی تھی۔ یہ پہچان کرواتے ہوئے نوشین اسے 'خدا حافظ' کہہ گئی تھی۔ "میں ایسے مرد کے ساتھ نہیں رہ سکتی جسے اپنے گھر کی عورتوں کے آگے صحیح بات کہنے کی ہمت نہ ہو۔" نوشین کے یہ آخری الفاظ اس کے کانوں میں گونجتے تھے۔

وہ جب بھی کچھ کہنے لگتا، بڑی بہن کو "بے ہوشی" کے دورے پڑنے لگتے۔ وہ بیماری کا ایسا ڈرامہ رچاتی کہ الٹا وہی مظلوم بن جاتی اور ارسلان اپنی بہن کی فکر میں لگ جاتا۔دونوں بہنیں نوشین سے جان چھڑانا چاہتی تھیں کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ کہیں وہ ان کے بھائی کو ان سے دور نہ کر دے۔ نوشین کے آنے جانے پر پابندی تھی، وہ اپنی مرضی کا کھانا نہیں پکا سکتی تھی اور نہ ہی اسے کوئی ملازمہ رکھنے کی اجازت تھی۔ سب کام وہ اکیلی کرتی تھی۔ بمشکل یہ شادی چھ ماہ چلی۔ جب نوشین کا حمل ضائع  ہوا اور اس کے والدین اسے آرام کے لیے گھر لے گئے، تودونوں بہنوں نے ماں کو ساتھ ملایا اور ارسلان سے طلاق کے کاغذات تیار کروا کر اس کے گھر بھجوا دیے۔

نوشین کے ساتھ ارسلان کی ازدواجی زندگی کا یہ باب ختم ہوا، مگر کسی کو دکھ نہیں تھا۔ بہنیں بار بار کہتی تھیں، "وہ تیرے لائق نہیں تھی، صبر کر! اس بار ایسی لائیں گے کہ سب دیکھیں گے۔ جلتے ہیں سب ہم سے کہ ہمارا بھائی ہماری ہر بات سنتا ہے، وہ کوئی 'جورو کا غلام' تھوڑی ہے۔" یہ کہہ کر وہ خود کو جھوٹی تسلی دے رہی تھیں، کیونکہ دراصل وہ چاہتی ہی نہیں تھیں کہ ارسلان کی زندگی میں کوئی لڑکی آئے۔ وہ بس دکھاوے کے لیے حامی بھرتی تھیں اور جب کوئی رشتہ سامنے آتا تو اس میں سو عیب نکال دیتیں۔

ارسلان کی دوسری بہن  دینی تعلیم کا اثر اس پر نہ ہونے کے برابر تھا۔ ان کی تربیت میں سلیقہ مندی، خوش اخلاقی اور صبر کا فقدان تھا۔ شمع بیگم (ان کی امی) کو فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کے سوا کوئی کام نہیں تھا۔ وہ کیا گھر داری سکھاتیں جنہیں خود کھانا پکانا نہیں آتا تھا؟ زبان کی وہ اتنی تیز تھیں کہ وہی تلخی ان کی بیٹیوں میں بھی آ گئی تھی۔ انہوں نے اپنے وقت میں اپنے سسرال کو خوب تنگ کیا تھا، یہاں تک کہ وہ تنگ آ کر ان سے الگ ہو گئے۔ اب شمع بیگم کو اپنی مرضی کرنے کا پورا موقع مل گیا تھا۔ شوہر صبح اٹھتے ہی دکان پر چلے جاتے اور ناشتہ بھی باہر ہی کرتے کیونکہ ان کی گھر والی دوپہر بارہ بجے سے پہلے نہیں اٹھتی تھیں۔ بیٹیوں کی تعلیم پر بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی، بڑی نے میٹرک کیا اور باقی دو نے آٹھ جماعتوں کے بعد یہ کہہ کر پڑھائی چھوڑ دی کہ "ہم دینی تعلیم حاصل کریں گی۔"

افتخار صاحب کی روز شمع بیگم سے اسی بات پر لڑائی رہتی۔ نہ انہیں وقت پر کھانا ملتا، نہ دھلے ہوئے کپڑے۔ وہ اپنے کپڑے دھوبی سے دھلواتے اور وہیں سے استری کرواتے۔ گھر میں جوان بیٹیوں کے ہوتے ہوئے انہیں کوئی پانی تک نہیں پلاتا تھا۔ جب وہ تربیت کی بات کرتے، تو شمع بیگم طوفان کھڑا کر دیتیں۔ آخر کار وہ اپنی دوائی کھا کر سو جاتے۔ ایک رات وہ ایسے سوئے کہ پھر کبھی نہ اٹھ سکے۔ ایک ڈر اور خوف جو شمع بیگم کو تھا، وہ بھی منوں مٹی تلے سو گیا۔

دکان کرائے پر چڑھا دی گئی تاکہ گھر کی دال روٹی چلتی رہے۔ ارسلان نے میٹرک کے بعد پڑھائی چھوڑ دی تھی اور دوستوں کے ساتھ رات دیر تک باہر رہنا اور سگریٹ پینا شروع کر دیا تھا۔ گھر میں کسی کو اس کی ان حرکتوں کا علم نہیں تھا۔

آج ان کے گھر افضال بھائی (جمیلہ کے شوہر اور شمع بیگم کے بھانجے) آئے ہوئے تھے۔ وہ بات کرتے ہوئے بولے، "خالہ! اب ارسلان کا بھی گھر بسا دیں، سارا دن کدھر پھرتا رہتا ہے؟ اب اسے گھر سنبھالنا چاہیے۔" شمع بیگم نے فوراً مصنوعی نرمی اختیار کی، "دیکھتی ہوں بیٹا! نوشین نے تو ایسا دل دکھایا ہمارا کہ اب شادی کے نام سے ڈر لگتا ہے۔"

شمع بیگم ایسی اداکاری کرتی تھیں کہ سامنے والا انہیں سچا اور دوسری پارٹی کو غلط سمجھتا۔ داماد کے آگے وہ اتنی حلیم بن جاتیں کہ ان جیسا کوئی نہ ہو۔ نوشین کے وقت میں بھی وہ ایسا ہی کرتیں، جب افضال گھر آتا تو نوشین کو پاس بٹھا لیتیں اور کہتیں، "کتنا کام کرو گی بیٹا؟" جبکہ نوشین کو پہلے ہی ڈرا دیا جاتا تھا کہ اگر کسی کو کچھ بتایا تو گھر سے نکال دیں گے۔ وہ گھر کسی بہو کے لیے پنجرہ زیادہ اور سسرال کم تھا۔ بہو وہاں ملازمہ تھی اور بیٹیاں سوتی رہتی یا باہر سے رول سموسے منگواتی رہتیں۔

ایک دن جب نوشین امید سے تھی، وہ سیڑھیوں سے اتری ہی تھی کہ چھوٹی نند عارفہ نے اسے دھکا دے دیا۔ درد سے کراہتی نوشین بے ہوش ہو گئی تو شمع بیگم نے فوراً ارسلان کو بلوا کر ہسپتال پہنچایا۔ وہاں ہوش آنے پر اسے پھر دھمکایا گیا کہ "اگر اپنا گھر بچانا چاہتی ہو تو ڈاکٹر کو کچھ نہ بتانا۔" مگر نوشین کی برداشت اب جواب دے چکی تھی۔ ہسپتال میں جب اس کے والدین اسے اس حال میں اکیلا دیکھ کر پریشان ہوئے، تو وہ اسے ساتھ لے گئے۔

ارسلان اور اس کے گھر والوں نے آپس میں مشورہ کیا اور طلاق کے کاغذات پوسٹ کر دیے۔ یہ سوچے بغیر کہ ایک دن ان کے اس ظلم کا بھی حساب ہوگا۔ وہ ذات جو اوپر سے سب دیکھ رہی ہے، وہ ایک دن ان کی ہر زیادتی کا حساب لے گی۔


قسط نمبر ۲: علم و ادب کا گہوارہ

جہاں ارسلان کا گھر ہنگاموں اور تلخیوں کا مرکز تھا، وہیں ہمدانی صاحب کا گھرانہ سکون، علم اور تہذیب کا استعارہ تھا۔ شانزے کی پرورش کسی عام لڑکی کی طرح نہیں ہوئی تھی۔ جب وہ صرف آٹھ سال کی تھی، تو اس کی ماں فوزیہ ایک موذی مرض (ٹیومر) کے باعث اسے ادھورا چھوڑ گئی تھیں۔ فوزیہ کی وفات کے بعد حماد صاحب کی دنیا ان کی اکلوتی بیٹی شانزے کے گرد سمٹ گئی تھی۔ ان کی والدہ نے کئی بار اصرار کیا کہ وہ دوسری شادی کر لیں، مگر انہوں نے جواب دیا، "امی! میری زندگی کا اب ایک ہی مقصد ہے، شانزے کو ایک بہترین انسان بنانا۔"

حماد صاحب اردو ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر رہے تھے، اب ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا زیادہ وقت گھر پر ہی گزارتے۔ ان کا ایک دیرینہ دوست کی گارمنٹس فیکٹری میں حصہ تھا، جہاں سے انہیں معقول منافع ملتا، جس نے انہیں مالی طور پر مستحکم رکھا ہوا تھا۔ اس گھر میں شانزے کی تربیت کے لیے دو خاص ہستیاں سائے کی طرح موجود تھیں۔ ایک اس کی دادی، جو اپنے زمانے کی ایک کامیاب پرنسپل رہ چکی تھیں۔ وہ روایتی دادیوں جیسی نہیں تھیں بلکہ علم و ادب سے لبریز ایک ایسی خاتون تھیں جنہوں نے شانزے کو خود اعتمادی اور شعور کی دولت دی۔ دوسری شخصیت "جنت بی بی" تھیں، جو جوانی میں ہی بیوہ ہو گئی تھیں اور سالہا سال سے اس گھر کا فرد بن چکی تھیں۔ شانزے انہیں "اماں جی" کہتی تھی، جنہوں نے اسے اپنی مامتا دی تھی۔ حماد صاحب مطمئن تھے کہ ان کی غیر موجودگی میں جنت بی بی ان کی آنکھ کے تارے کا بہت خیال رکھتی ہیں۔

شانزے کے مزاج میں ایک خاص قسم کا ٹھہراؤ تھا۔ اس کی گفتگو میں ایسی جاذبیت تھی کہ سننے والا مسحور ہو جاتا۔ وہ جب دادی کے پاؤں دبا رہی ہوتی یا اماں جی کے پیچھے شرارت سے چھپ کر ان کا دوپٹہ کھینچتی، تو گھر کی دیواریں اس کے قہقہوں سے زندہ ہو اٹھتیں۔ "اماں جی! آج پھر آلو کے پراٹھے جلائے آپ نے؟ بابا کو بتا دوں گی کہ آپ کچن میں کم اور پڑوسن کی باتوں میں زیادہ ہوتی ہیں،" وہ شرارت سے آنکھ مار کر کہتی تو جنت بی بی پیار سے اس کا صدقہ اتارنے لگتیں۔ حماد صاحب دور بیٹھے اپنی بیٹی کی ان معصومانہ حرکات کو دیکھ کر دنیا جہان کے غم بھول جاتے۔

ایک شام جب شانزے نے اپنا ماسٹرز مکمل کیا، تو اس کی دادی نے حماد صاحب کو اپنے پاس بٹھایا اور بڑی سنجیدگی سے گویا ہوئیں: "حماد! اب شانزے کی تعلیم مکمل ہو چکی ہے، خیر سے جوان ہے۔ میری خواہش ہے کہ اب ہم کسی اچھے اور باوقار خاندان کی تلاش شروع کریں جہاں ہماری گڑیا کو وہ عزت ملے جس کی یہ حقدار ہے۔"

اسی دوران شانزے کے ایک یونیورسٹی فیلو کا رشتہ بھی آیا، مگر جب اس کے گھر والے ملنے آئے تو ان کا غیر شائستہ لہجہ اور دکھاوے کی گفتگو دادی اور حماد صاحب کو ایک آنکھ نہ بھائی۔ وہ لوگ شانزے کے کردار سے زیادہ اس کے باپ کی فیکٹری اور جائیداد میں دلچسپی لے رہے تھے۔ دادی نے بڑی نفاست سے انہیں رخصت کیا اور حماد صاحب سے کہا: "بیٹا! رشتہ وہ ہوتا ہے جہاں دلوں کا میل ہو، صرف اسٹیٹس نہیں۔ ہمیں شرافت ڈھونڈنی ہے۔"

انہیں دنوں دادی کی ایک پرانی دوست کی نواسی کی شادی کا دعوت نامہ موصول ہوا۔ پوری فیملی نے وہاں شرکت کی۔ اسی تقریب میں جمیلہ اور اس کی بہنوں کی نظریں شانزے پر جم گئیں۔ جمیلہ نے نہایت مکاری اور زبان سے شہد ٹپکاتے ہوئے دادی سے ملاقات کی۔ "خالہ جان! آپ کی پوتی تو بالکل پری ہے، لگتا ہے اسے بڑی محبتوں سے پالا ہے۔" جمیلہ نے اتنی عاجزی اور "احترام" دکھایا کہ دادی جیسی جہاں دیدہ خاتون بھی اس کے جال میں آ گئیں اور اخلاقاً انہیں اپنے گھر آنے کی دعوت دے دی۔

دوسری طرف، ارسلان کے گھر کا ماحول بالکل مختلف تھا۔ وہاں جمیلہ اور شمع بیگم ایک بار پھر کمر کس کر بیٹھی تھیں۔ "دیکھو ارسلان! اس بار لڑکی بہت کھاتے پیتے گھرانے کی ہے،" جمیلہ نے ارسلان کو پٹیاں پڑھاتے ہوئے کہا۔ "تجھے بس اتنا کرنا ہے کہ شروع میں اسے سر پر نہیں چڑھانا۔ اسے باور کروانا ہے کہ یہاں ہماری مرضی چلتی ہے۔ نوشین کے کیس میں تو تھوڑا نرم پڑ گیا تھا، لیکن اس بار تو نے ہمارا ساتھ دینا ہے۔" عارفہ نے لقمہ دیا، "ہاں بھائی! ایسی لڑکی لانی ہے جو گھر کے کام بھی کرے اور جس کا باپ تیرا کاروبار بھی سیٹ کر دے۔"

ارسلان خاموشی سے اپنی بہنوں کا مکارانہ منصوبہ سنتا رہا، اسے لگ رہا تھا کہ شاید اس بار اس کا گھر واقعی "بس" جائے گا، مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ بسنا نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی زندگی کو اجاڑنے کی نئی پلاننگ تھی۔



قسط نمبر ۳

   شکاری کی دستک  

وہ اتوار کی ایک سہ پہر تھی جب حماد صاحب کے گھر کے باہر ارسلان کی سفید گاڑی آ کر رکی۔ جمیلہ، شمع بیگم اور عارفہ نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا "کامیاب ناٹک" کھیلنے کی تیاری کر رکھی تھی۔ جمیلہ نے گہرے رنگوں کی جگہ سادہ اور باوقار لباس پہنا تھا، تاکہ وہ ایک سلجھی ہوئی بڑی بہن نظر آئے۔ جیسے ہی وہ گھر کے اندر داخل ہوئیں، وہاں کی نفاست، مہکتی ہوئی لائبریری اور دیواروں پر لگے ادبی اقوال دیکھ کر جمیلہ کی آنکھوں میں ہوس کی ایک چمک آئی، جسے اس نے فوراً پلکیں جھکا کر چھپا لیا۔

جنت بی بی (اماں جی) نے مہمانوں کا استقبال کیا، مگر ان کی تجربہ کار آنکھوں کو ان عورتوں کی ضرورت سے زیادہ "نرمی" کچھ عجیب سی لگی۔ حماد صاحب اور دادی جان لاؤنج میں موجود تھے۔ شمع بیگم نے دادی کے پاس بیٹھتے ہی ان کے ہاتھ چوم لیے۔ "خالہ جان! آپ سے مل کر تو ایسا لگ رہا ہے جیسے اپنی ماں کی خوشبو آ رہی ہو۔ کتنا سکون ہے آپ کے گھر میں، بالکل ویسا ہی جیسا ہم اپنے گھر میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں،" شمع بیگم نے اتنی عاجزی سے کہا کہ دادی جیسی اصول پسند خاتون کا دل بھی پگھلنے لگا۔

جمیلہ نے گفتگو کا رخ موڑتے ہوئے حماد صاحب کی طرف دیکھا۔ "بھائی صاحب! ہم تو صرف رشتہ نہیں، ایک بیٹی لینے آئے ہیں۔ ہمارے گھر میں ارسلان اکلوتا بھائی ہے، اس کی دونوں بہنیں اس پر جان چھڑکتی ہیں۔ ہمیں ایسی بہو چاہیے جو ہماری طرح اس گھر کو اپنی محبت سے سینچ سکے،" اس نے لفظوں کو اتنی مٹھاس میں ڈبو کر ادا کیا کہ حماد صاحب کو محسوس ہوا کہ شاید ان کی بیٹی کے لیے اس سے بہتر "محفوظ حصار" کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔

جب شانزے چائے کی ٹرے لے کر کمرے میں داخل ہوئی، تو عارفہ نے تڑپ کر اس کے ہاتھ سے ٹرے تھام لی۔ "ارے نہیں نہیں بھابھی! (ابھی سے بھابھی کہہ کر) آپ کیوں زحمت کر رہی ہیں؟ آپ تو ہمارے گھر کی شہزادی بن کر رہیں گی۔ آپ کے ہاتھ تو صرف کتابیں پکڑنے کے لیے بنے ہیں، کچن کے کاموں کے لیے تو ہم سب بہنیں ہیں نا۔" شانزے یہ سن کر جھینپ گئی اور دھیمے سے مسکرا دی۔ اس کی سادگی اور معصومیت دیکھ کر ان مکار عورتوں نے دل ہی دل میں سوچا کہ اسے قابو کرنا کتنا آسان ہوگا۔

دادی نے جمیلہ کی باتوں سے متاثر ہو کر کہا، "بیٹا! ہماری شانزے بہت نازوں سے پلی ہے۔ اسے کبھی کسی نے اونچی آواز میں کچھ نہیں کہا۔" جمیلہ نے فوراً دادی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور گویا ہوئی، "خالہ جان! آپ فکر ہی نہ کریں۔ ہمارے گھر میں تو اونچی آواز میں بات کرنا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ ارسلان تو اتنا سعادت مند ہے کہ میری مرضی کے بغیر پانی کا گھونٹ بھی نہیں پیتا۔ آپ بس ایک بار ہاں کر دیں، آپ کو کبھی پچھتاوا نہیں ہوگا۔" یہ وہ جملہ تھا جس نے دادی کی رہی سہی ہچکچاہٹ بھی ختم کر دی۔

کھانے کی میز پر بھی ان کا رویہ مثالی رہا۔ شمع بیگم نے جان بوجھ کر جنت بی بی کی تعریف شروع کر دی، "اماں جی! آپ کے ہاتھ میں تو وہ ذائقہ ہے جو اب ختم ہوتا جا رہا ہے۔ سچی بات ہے، اس گھر کی تربیت ہی الگ ہے۔" جنت بی بی مسکرا تو دیں، مگر ان کے اندر کا وسوسہ ختم نہ ہوا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ جمیلہ کی نظریں بار بار گھر کے فرنیچر اور سجاوٹی اشیاء کا تخمینہ لگا رہی تھیں۔ مگر اس وقت خوشی کا شور اتنا تھا کہ کسی نے ان باریکیوں پر توجہ نہ دی۔

ارسلان پورے وقت خاموش رہا، جس کا مطلب حماد صاحب نے "شرم و حیا" لیا۔ انہیں لگا کہ لڑکا کتنا با ادب ہے کہ بڑوں کے سامنے لب تک نہیں کھول رہا۔ جمیلہ نے باتوں ہی باتوں میں ارسلان کی پہلی شادی کا ذکر بھی چھیڑ دیا، مگر بڑے "محتاط" انداز میں۔ "بھائی صاحب! ارسلان کی پہلی بیوی بہت اچھی تھی، بس اس کی قسمت میں ہمارے ساتھ رہنا نہیں تھا۔ وہ ذرا جدید خیالات کی تھی، اسے گھر داری سے رغبت نہ تھی۔ ہم نے بہت کوشش کی کہ گھر بچ جائے، مگر شاید اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔" اس جھوٹ کو انہوں نے اتنی سچائی سے بولا کہ حماد صاحب کو نوشین (پہلی بیوی) پر ہی ترس آنے لگا۔

رخصت ہوتے وقت جمیلہ نے شانزے کو ایک بہت قیمتی سونے کی انگوٹھی پہنا دی۔ "یہ رشتہ پکا سمجھیں خالہ جان! اب ہم دوبارہ آئیں گے تو اپنی بہو کو لے کر ہی جائیں گے۔" دادی نے مسکراتے ہوئے جمیلہ کو گلے لگا لیا۔ انہیں لگ رہا تھا کہ انہوں نے اپنی پوتی کے لیے ایک ہیرا خاندان ڈھونڈ لیا ہے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ وہ جسے 'ہیرا' سمجھ رہی ہیں، وہ دراصل کانچ کے وہ ٹکڑے ہیں جو بہت جلد شانزے کے پاؤں لہو لہان کرنے والے ہیں۔

حماد صاحب نے مہمانوں کے جانے کے بعد اطمینان کا سانس لیا اور دادی سے کہا، "امی! جمیلہ بیٹا کتنی سمجھدار ہے نا؟ کتنے ڈھنگ سے بات کر رہی تھی۔ مجھے لگتا ہے شانزے وہاں بہت خوش رہے گی۔" دادی نے اثبات میں سر ہلایا۔ "ہاں حماد! بہت کم لوگ اتنے با اخلاق ہوتے ہیں۔ اللہ ہماری بچی کے نصیب اچھے کرے۔" دوسری طرف، گاڑی میں بیٹھتے ہی جمیلہ کے چہرے سے وہ مصنوعی مسکراہٹ غائب ہو گئی اور اس نے عارفہ سے کہا، "دیکھا! کیسے مٹھی میں لیا ان پڑھے لکھے 

لوگوں کو؟ اب بس شادی ہو جائے، پھر اس 'پروفیسر کی بیٹی' کو بتائیں گے کہ گھر کیسے چلایا جاتا ہے۔"

ایک طرف جمیلہ دوسروں کے گھروں میں "شرافت" کا لبادہ اوڑھ کر جاتی تھی، تو دوسری طرف اس کا اپنا گھر اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار تھا۔ جمیلہ کا بیٹا محسن، جو اس کی آنکھوں کا تارا تھا، اب اس کے قابو سے باہر ہوتا جا رہا تھا۔ اسی شام جب جمیلہ شانزے کے گھر سے لوٹی، تو اسے امید تھی کہ محسن گھر پر ہوگا، مگر وہ تیار ہو کر دوستوں کے ساتھ باہر جانے کے لیے نکل رہا تھا۔ "محسن! بیٹا دیکھو تو سہی میں تمہارے ماموں کے لیے کیسی ہیرا لڑکی دیکھ کر آئی ہوں، ذرا بیٹھو تو سہی،" جمیلہ نے پیار سے پکارا، مگر محسن نے مڑ کر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ "امی! آپ کے ان جذباتی ڈراموں کے لیے میرے پاس وقت نہیں ہے، میرے دوست باہر میرا انتظار کر رہے ہیں،" محسن نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا اور گاڑی اسٹارٹ کر کے نکل گیا۔ جمیلہ کا چہرہ غصے سے تمتما اٹھا، مگر جیسے ہی باہر سے اس کے شوہر افضال کی گاڑی کی آواز آئی، اس نے فوراً اپنے تاثرات بدلے اور ایک مصنوعی مسکراہٹ سجا لی۔ وہ برسوں سے افضال سے محسن کی آوارگی اور بدتمیزی چھپاتی آئی تھی تاکہ گھر پر اس کا رعب قائم رہے اور افضال کو لگے کہ جمیلہ نے بچوں کی "مثالی" تربیت کی ہے۔

ابھی وہ افضال کو چائے دینے ہی لگی تھی کہ اس کی بیٹی کا فون آ گیا۔ بیٹی نے فون اٹھاتے ہی رونا شروع کر دیا اور ساس و نندوں کی شکایتوں کے دفتر کھول دیے۔ جمیلہ نے فون کان سے لگایا اور لاؤنج کے کونے میں جا کر دبی آواز میں اسے وہ "گر" سکھانے لگی جو اس نے خود اپنی زندگی میں اپنائے تھے۔ "میری بات کان کھول کر سن! ان ساس نندوں کے نخرے اٹھانے کی ذرہ برابر ضرورت نہیں ہے۔ سارا دن کمرے میں آرام کر، جیسے ہی تیرا شوہر گھر آئے، فوراً کچن میں گھس جا اور ایسا منہ بنا جیسے تیری طبیعت بہت خراب ہو اور تو بستر سے اٹھ کر صرف اس کے لیے کھانا بنانے آئی ہو۔ جب وہ پوچھے تو کہہ دینا کہ 'امی اور باجی نے کہا ہے کہ طبیعت جیسی بھی ہو، کام تو تمہیں ہی کرنا ہے'۔" جمیلہ کی آنکھوں میں وہی مکارانہ چمک تھی جو اس نے شانزے کے گھر دکھائی تھی۔ وہ اپنی بیٹی کو گھر بسانے کے نہیں بلکہ گھر اجاڑنے اور شوہر کو مٹھی میں کرنے کے طریقے سکھا رہی تھی، یہ جانے بغیر کہ یہی "سازشی تربیت" ایک دن خود اس کے اپنے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہو جائے گی۔

ارسلان کے گھر میں شادی کی تیاریاں تو شروع ہو چکی تھیں، مگر ان تیاریوں میں خوشی سے زیادہ "چالاکی" کا عنصر نمایاں تھا۔ لاؤنج میں کپڑوں اور پرانے زیورات کا ڈھیر لگا تھا، جہاں شمع بیگم اور عارفہ بیٹھ کر یہ طے کر رہی تھیں کہ کون سی سستی چیز کو نیا بنا کر شانزے کے سر تھوپا جا سکتا ہے۔ "امی! یہ جو نوشین کے چند جوڑے پڑے ہیں، ان کا کام ابھی بالکل نیا ہے، بس لیسیں بدلوا کر اور تھوڑی سی پیکنگ نئی کر کے شانزے کو دے دیتے ہیں، اسے کیا پتہ چلے گا؟" عارفہ نے ایک گہرا سرخ جوڑا اٹھاتے ہوئے کہا۔ شمع بیگم نے اثبات میں سر ہلایا اور ساتھ ہی ارسلان کے لیے سستی شاپنگ کا منصوبہ بنانے لگیں، "شاپنگ پر صرف میں اور جمیلہ جائیں گی، ارسلان کو ساتھ لے جانے کی ضرورت نہیں، وہ فضول خرچی کروائے گا۔" ارسلان قریب ہی کھڑا اپنی بہنوں اور ماں کی یہ گھٹیا سوچ دیکھ رہا تھا۔ اسے اپنی سابقہ بیوی نوشین کی وہ چیزیں دیکھ کر شدید بددلی محسوس ہوئی جو کبھی اس گھر کی بے قدری کا شکار ہوئی تھیں اور اب وہی تاریخ دہرائی جا رہی تھی۔ اس کا جی گھبرانے لگا، اس نے سوچا کہ کچھ کہے مگر ماں کی کڑی نظروں اور جمیلہ کے رعب نے اسے خاموش کر دیا۔ وہ خاموشی سے اپنا موبائل اٹھا کر دوستوں کے ڈیرے پر چلا گیا، جہاں وہ سگریٹ کے دھوئیں میں اپنی بے بسی چھپانے کی کوشش کرنے لگا۔ ان عورتوں کی توقعات شانزے سے بہت بلند تھیں؛ ان کا خیال تھا کہ ایک پروفیسر کی اکلوتی بیٹی ہے تو جہیز میں گاڑی، سونا اور لاکھوں کا سامان تو لازمی آئے گا۔ ان کے نزدیک ایک پڑھی لکھی اور باکردار بیٹی کی کوئی قیمت نہیں تھی، وہ تو بس اس انتظار میں تھے کہ کب وہ "سونے کی چڑیا" ان کے پنجرے میں آئے۔

دوسری طرف جمیلہ نے اپنی چال بازی کا ایک اور پتہ کھیلا۔ اس نے شانزے کی دادی کو فون کیا اور نہایت ہی "اعلیٰ ظرفی" کا ناٹک کرتے ہوئے بولی، "خالہ جان! ہم نے سنا ہے کہ آج کل لوگ جہیز کے لیے بچیوں کو تنگ کرتے ہیں، مگر ہمیں یہ سب نہیں چاہیے۔ آپ بس اپنی دعا دیں، ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔" فون پر دادی ان کی اس بات سے اتنی متاثر ہوئیں کہ ان کی نظر میں جمیلہ کا مقام مزید بڑھ گیا، مگر فون رکھتے ہی جمیلہ کے چہرے پر ایک زہریلی مسکراہٹ آگئی۔ اس نے فوراً اپنی ماں کو فون ملایا، "امی! میں نے وہاں فون کر کے منع کر دیا ہے تاکہ ہماری ناک اونچی رہے، مگر فکر نہ کریں، وہ پروفیسر کی اکلوتی بیٹی ہے، وہ خالی ہاتھ نہیں بھیجیں گے۔ جتنا ہم 'نہ' کہیں گے، وہ اتنا ہی زیادہ دکھاوے کے لیے دیں گے۔ اب آپ لوگ تیار ہو جائیں، ہم کل ہی ان کے گھر جا کر شادی کی تاریخ پکی کرتے ہیں اور اس بار ذرا بن ٹھن کر جانا ہے تاکہ انہیں لگے کہ ہم کتنے بڑے لوگ ہیں۔" جمیلہ کی یہ دوہری چال حماد صاحب کے گھرانے کے لیے ایک ایسا جال تھا جس کا انہیں گمان تک نہ 

تھا۔


قسط نمبر ۴

 :خوشیوں کی دہلیز پر

حماد صاحب کے گھر میں ان دنوں رونق اور گہما گہمی عروج پر تھی۔ ارسلان کے گھر والوں کی طرف سے رشتہ پکا ہونے کے بعد اب باری تھی شادی کی تاریخ طے کرنے اور اس یادگار سفر کی تیاریوں کی۔ شانزے، جو اس گھر کی رونق اور اپنے باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی، اب ایک نئی زندگی کے خواب بننے لگی تھی۔ اسے محسوس ہوتا تھا جیسے زندگی نے اسے وہ سب کچھ دے دیا ہے جس کی اس نے کبھی تمنا کی تھی۔ ارسلان کی بہنوں کی وہ میٹھی باتیں اور شمع بیگم کا اسے "بیٹی" پکارنا، شانزے کے دل میں ان کے لیے احترام اور محبت کی گہری جگہ بنا چکا تھا۔

شادی کی تاریخ طے کرنے کے لیے جب ارسلان کے گھر والے دوبارہ آئے، تو ان کا استقبال پہلے سے بھی زیادہ شاہانہ انداز میں کیا گیا۔ جمیلہ نے باتوں ہی باتوں میں حماد صاحب کو جتایا کہ "بھائی صاحب! ہم نے تو ارسلان سے کہہ دیا ہے کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے، بس بچی کے دو جوڑے ہوں اور آپ کی دعائیں،" مگر ساتھ ہی اس نے بڑے سلیقے سے حماد صاحب کی قیمتی لائبریری اور گھر کے قیمتی فرنیچر کی تعریفیں بھی جاری رکھیں۔ حماد صاحب، جو اپنی اکلوتی بیٹی کے لیے سب کچھ نچھاور کرنے کو تیار تھے، جمیلہ کی اس بظاہر "قناعت پسندی" سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے دل ہی دل میں عہد کر لیا کہ وہ اپنی بیٹی کو اتنا سامان دیں گے کہ دیکھنے والے دنگ رہ جائیں۔

شاپنگ کا سلسلہ شروع ہوا تو شانزے کی خوشی دیدنی تھی۔ وہ اپنے بابا اور دادی کے ساتھ شہر کے مہنگے ترین مالز اور بازاروں میں جاتی۔ اسے ڈیزائنر جوڑوں اور زیورات سے زیادہ اس بات کی خوشی تھی کہ ارسلان کی بہنوں نے اسے اپنی پسند کے رنگ لینے کی مکمل آزادی دی تھی۔ وہ ہر جوڑا، ہر جیولری سیٹ اس امید کے ساتھ خریدتی کہ وہ اپنے نئے گھر میں سب کا دل جیت لے گی۔ اس کی معصومیت کا یہ عالم تھا کہ وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی اپنی ہونے والی نندوں کی پسند کو مدنظر رکھ کر خرید رہی تھی، یہ جانے بغیر کہ وہ اسے کبھی اپنائیں گی بھی نہیں۔

جنت بی بی (اماں جی) اکثر اسے خوشی سے نہال دیکھ کر مسکراتیں، مگر ان کے تجربہ کار دل کے کسی کونے میں اب بھی وہ کھٹکا موجود تھا جو انہوں نے پہلی ملاقات میں جمیلہ کی ہوس بھری آنکھوں میں دیکھا تھا۔ ایک دن جب شانزے اپنی شادی کا بھاری لہنگا دکھا رہی تھی، تو اماں جی نے دھیرے سے کہا، "بیٹا! گھر دیواروں اور کپڑوں سے نہیں، لوگوں کے ظرف سے بنتے ہیں۔ اللہ کرے وہ لوگ ویسے ہی نکلیں جیسے نظر آ رہے ہیں۔" شانزے نے ہنستے ہوئے انہیں گلے لگا لیا، اسے لگ رہا تھا کہ اماں جی بس ضرورت سے زیادہ فکر مند ہو رہی ہیں۔

دوسری طرف، ارسلان کے گھر میں "کفایت شعاری" کے نام پر گھٹیا پن کا بدترین مظاہرہ ہو رہا تھا۔ عارفہ اور شمع بیگم نے شانزے کے لیے جو کپڑے اور زیورات تیار کیے تھے، وہ دراصل نوشین کے پرانے جوڑوں کو ہی تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ نیا روپ دے کر تیار کیے گئے تھے۔ "امی! یہ ستارے والی لیس لگا دیں، کسی کو کیا پتہ چلے گا کہ یہ نوشین کا ولیمہ کا جوڑا ہے،" عارفہ نے مکاری سے ہنستے ہوئے کہا۔ ارسلان جب اپنی ہونے والی دلہن کے لیے ان چیزوں کو تیار ہوتے دیکھتا، تو اس کا دل بھر آتا، مگر وہ پھر بھی خاموش رہا۔ اسے لگ رہا تھا کہ شاید شانزے، نوشین سے زیادہ صابر نکلے گی اور کبھی شکایت نہیں کرے گی۔

جمیلہ کا مکر اب فون کالز تک بھی پھیل چکا تھا۔ وہ تقریباً روزانہ شانزے کی دادی کو فون کرتی اور نہایت ہی عاجزی سے کہتی، "خالہ جان! ہم تو ارسلان کے کمرے کی سیٹنگ بدلوا رہے ہیں، بس آپ دعا کریں کہ شانزے آ کر اسے سنبھال لے۔ ہمیں تو کچھ نہیں چاہیے، بس وہ آ جائے تو گھر مکمل ہو جائے گا۔" یہ سن کر دادی کا دل باغ باغ ہو جاتا۔ انہوں نے حماد صاحب سے کہا کہ "بیٹا! دیکھو کتنے اعلیٰ ظرف لوگ ہیں، جہیز کا نام تک نہیں لیتے، ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر بیٹی کو رخصت کریں۔" یوں جمیلہ کی "نہ" دراصل ایک بہت بڑے "ہاں" کی دعوت بن چکی تھی۔

شادی سے چند دن پہلے حماد صاحب اپنی بیٹی کے کمرے میں آئے جہاں پیکنگ ہو رہی تھی۔ انہوں نے شانزے کا ہاتھ پکڑ کر بڑے مان سے کہا، "بیٹا! میں نے تمہیں صرف تعلیم نہیں دی، شعور بھی دیا ہے۔ سسرال میں سب کو محبت دینا، مگر اپنی عزتِ نفس پر کبھی سمجھوتہ نہ کرنا۔" شانزے کی آنکھیں بھر آئیں، اس نے بابا کا ہاتھ چوم لیا۔ وہ اپنی زندگی کے اس سب سے بڑے سفر کے لیے تیار تھی، اسے لگ رہا تھا کہ وہ ایک محبت بھرے حصار میں جا رہی ہے جہاں اسے صرف عزت اور پیار ملے گا۔

ادھر ارسلان اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا ایک عجیب سے خوف میں مبتلا تھا۔ "یار! مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں خوش ہوں یا پریشان۔ میری بہنیں اس لڑکی کو بھی نوشین کی طرح مشین نہ سمجھ لیں۔" اس کے دوست نے اسے سمجھایا، "ارسلان! اس بار بزدلی مت دکھانا، اگر تم نے اپنی بیوی کا ساتھ دیا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔" مگر ارسلان جانتا تھا کہ اس کے گھر کی دیواریں اتنی اونچی ہیں کہ وہاں سچ کی آواز دب جاتی ہے۔ وہ ایک بار پھر اسی بند گلی کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں سے وہ پہلے بھی ناکام لوٹا تھا۔

ارسلان کے دوستوں کی نصیحتوں کا اثر شاید الٹا ہی ہوا تھا۔ جمیلہ آپا، جو ارسلان کے دل کی ہر تھکن اور ڈر سے واقف تھیں، اسے شاپنگ کے بہانے ساتھ لے گئیں۔ ارسلان کو امید تھی کہ شاید اس بار اسے اپنی پسند کا لباس پہننے کا موقع ملے گا، مگر جمیلہ نے ایک سستی سی دکان پر رک کر نہایت عام سا سوٹ نکالا اور بولی، "ارسلان! فضول خرچی کی ضرورت نہیں ہے، نکاح کے بعد یہ کپڑے ویسے بھی الماری میں پڑے رہتے ہیں۔ ہمیں اپنی بچت کا سوچنا چاہیے تاکہ کل کو تمہارے ہی کام آئے۔" ارسلان، جو اپنی بڑی بہن کے سامنے کبھی زبان نہیں کھول سکا تھا، خاموشی سے وہ سستا سوٹ تھامے گاڑی میں آ بیٹھا۔ اس کا دل بری طرح بجھ گیا تھا؛ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس کی اپنی شادی میں بھی اس کی حیثیت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں، جس کی ڈوریں جمیلہ آپا کے ہاتھ میں ہیں۔

شادی کی تقریبات کا آغاز ہوا تو حماد صاحب نے اپنی اکلوتی بیٹی کے لیے دل کھول کر خرچ کیا۔ مایوں اور مہندی کی تقریب میں شانزے کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ نکاح کے موقع پر جب سلامیوں اور تحائف کا سلسلہ شروع ہوا، تو ارسلان کی تینوں بہنوں کے لیے سونے کی انگوٹھیاں، ساس کے لیے سونے کا بھاری سیٹ اور خاندان کے ہر فرد، بڑے سے لے کر بچے تک کے لیے دو دو قیمتی سوٹ پیش کیے گئے۔ حماد صاحب نے لڑکے والوں کو وہ وی آئی پی پروٹوکول دیا کہ مہمان دنگ رہ گئے۔ مووی اور تصویروں کے دوران جمیلہ، عارفہ اور شمع بیگم کے چہروں پر اگرچہ مسکراہٹ تھی، مگر دل میں حسد کی آگ بھڑک رہی تھی۔ انہیں شانزے کی خوبصورتی اور اس کے میکے کی شان و شوکت ایک آنکھ نہ بھائی، مگر مصلحت کے تحت وہ زہر کے گھونٹ پی کر خاموش رہیں اور اپنی باری کا انتظار کرنے لگیں۔

رخصتی کے بعد جب شانزے اپنے سسرال پہنچی، تو وہاں کا منظر اس کے تصورات کے بالکل برعکس تھا۔ استقبال کے لیے نہ کوئی پھول تھے، نہ کوئی رسم اور نہ ہی خوشی کا کوئی شور۔ گھر میں داخل ہوتے ہی جمیلہ نے اکتاہٹ سے کہا، "ہم سب بہت تھک گئے ہیں، شانزے تم بھی تھک گئی ہوگی، جاؤ جا کر آرام کرو۔" ابھی شانزے سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ جمیلہ اس کے پاس آئی اور بڑی اپنائیت کا ناٹک کرتے ہوئے اس کے سونے کے زیورات اتارنے لگی۔ "بیٹا! یہ بھاری جیولری پہن کر تم سو نہیں پاؤ گی، لاؤ میں اسے سنبھال کر محفوظ کر دوں، ورنہ آج کل گھروں میں چوریاں بہت ہوتی ہیں۔" معصوم شانزے نے شکریہ کے ساتھ اپنے تمام زیورات جمیلہ کے حوالے کر دیے، یہ جانے بغیر کہ یہ "سنبھالنا" دراصل اس کی ملکیت پر پہلا قبضہ تھا۔ ارسلان کو اس کے دوستوں نے باہر ہی روک لیا تھا اور جمیلہ نے اسے وہیں رہنے کا پیغام بھجوا دیا تھا۔

کچھ ہی دیر بعد عارفہ کمرے میں داخل ہوئی اور شانزے کو ایک سادہ سا جوڑا دے کر بولی، "یہ چینج کر لو اور سو جاؤ۔ ارسلان ابھی دوستوں کے ساتھ ہے، وہ فجر کے وقت تک ہی آئے گا، تم انتظار کر کے اپنی طبیعت خراب مت کرو۔" شانزے کے لیے یہ کسی دھچکے سے کم نہ تھا۔ اس نے سوچا تھا کہ آج کی رات وہ اور ارسلان مل کر نئی زندگی کے عہد کریں گے، مگر اسے تنہائی کے حوالے کر دیا گیا۔ وہ دلہن کے لباس میں سجی، بستر کی ایک سمت بیٹھی ارسلان کا انتظار کرتی رہی۔ کمرے کی دیواریں اسے کاٹنے کو دوڑ رہی تھیں۔ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی اور دل میں وسوسوں کا ایک طوفان تھا۔ وہ ساری رات بیٹھی رہی، کبھی گھڑی کو دیکھتی اور کبھی دروازے کو، مگر ارسلان نہ آیا۔

رات کا آخری پہر گزر گیا اور فجر کی اذانیں فضا میں گونجنے لگیں۔ شانزے نے کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں اجالا پھیل رہا تھا، مگر اس کے اپنے وجود میں ایک عجیب سی تاریکی اتر رہی تھی۔ اسے احساس ہوا کہ جس "حصار" کو وہ محبت کا سائبان سمجھ کر آئی تھی، اس کی بنیادیں تو پہلے ہی دن سے بے رخی اور سازش پر رکھی گئی ہیں۔ فجر کی پہلی اذان کے ساتھ ہی اس نے تھک کر مصلّے پر سر رکھ دیا، جبکہ ارسلان اب بھی اپنی بہنوں کے حکم کی تعمیل میں گھر سے باہر ہی کہیں موجود تھا۔


قسط نمبر ۵

"ٹوٹتے خواب، کڑوی سچائیاں" 

  • شانزے نے نمازِ فجر سے فارغ ہو کر لرزتے ہاتھوں سے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ "یا اللہ! مجھے اتنی ہمت اور توفیق دینا کہ میں ان سب کے دلوں میں اپنی جگہ بنا سکوں، ارسلان کے دل میں اتر سکوں اور میری وجہ سے میرے بابا کا سر کبھی نہ جھکے۔" دعا مانگتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ شادی کی پہلی صبح ایسی تو نہ سوچی تھی! اس نے کتنے خواب سجائے تھے، کتنی باتیں جمع کر رکھی تھیں جو اسے ارسلان سے کرنی تھیں، مگر جس ہمسفر کو اس کا سہارا بننا تھا، وہ تو پوری رات اس کے پاس نہ آیا۔

  • ارسلان کی بہنوں نے شادی سے پہلے ہی اسے ارسلان سے فون پر بات کرنے کا موقع نہ دیا تھا، یہ کہہ کر کہ "شادی کے بعد بہت وقت ملے گا، ابھی یہ مناسب نہیں لگتا۔" اب وہی خاموشی شانزے کے لیے زہر بن رہی تھی۔ وہ بوجھل قدموں سے بستر پر آئی اور تکیے پر سر رکھتے ہی تھکن اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے اسے گہری نیند آ گئی۔

  • ابھی نیند پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ ایک زوردار آواز سے شانزے کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے دیکھا کہ جمیلہ آپا ارسلان پر برس رہی تھیں۔ "کیا نرالی شادی ہوئی ہے تم دونوں کی؟ دس بج رہے ہیں اور ابھی تک کمرے سے باہر نہیں آئے۔ باہر آؤ اور ناشتے کا بندوبست کرو، سب کو بھوک لگی ہے!" شانزے ہڑبڑا کر اٹھی، منہ ہاتھ دھو کر باہر آئی تو اس کے چہرے پر ایک دن کی دلہن والی کوئی سرخی نہ تھی، بلکہ تھکن کے سائے ابھر رہے تھے۔

  • جمیلہ آپا نے بغیر کسی لحاظ کے شانزے کا ہاتھ پکڑا اور اسے کچن میں لے گئیں۔ "یہ دیکھو، اب یہ تمہارا کام ہے۔ روزانہ ناشتہ تم ہی بناؤ گی، پراٹھے، آملیٹ اور چائے۔ برتن دھونا اور صفائی کا کام کل سے شروع کر لینا، آج تو ولیمہ بھی ہے۔" شانزے ساکت کھڑی انہیں دیکھتی رہی۔ جمیلہ نے مزید جتایا، "پالر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، میری بیٹی کو میک اپ آتا ہے، وہ تمہیں گھر پر ہی تیار کر دے گی۔"

  • اسی دوران عرفہ بھی بول پڑی، "کیا سنائی نہیں دیتا؟ ناشتہ بناؤ، بھوک لگی ہے۔ ویسے تو آج کے دن ناشتہ تمہارے گھر سے آنا چاہیے تھا، خیر اب تم کام شروع کرو۔" شانزے ان سخت لہجوں کی عادی نہ تھی، اتنی جلدی رویوں کی تبدیلی اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔ اتنے میں دروازے کی گھنٹی بجی اور جنت بی بی ڈرائیور کے ساتھ ڈھیر سارا سامان لیے اندر داخل ہوئیں، ان کے ساتھ حماد صاحب کی والدہ بھی تھیں۔

  • جنت بی بی کو اچانک دیکھ کر سسرال والے بوکھلا گئے۔ جنت بی بی نے جب شانزے کا حال دیکھا تو تڑپ اٹھیں۔ "چندہ! یہ کیا حال بنایا ہوا ہے؟ آج تو تمہیں تیار ہونا چاہیے تھا۔" شانزے نے بمشکل اپنے آنسو ضبط کیے اور ان کے گلے لگ گئی۔ عرفہ نے جلدی سے ناشتے کا سامان کچن میں رکھوایا۔ ناشتے میں حلوہ پوری، نہاری، نان چنے، کیک، بسکٹ اور مکھن دیکھ کر عرفہ کی رال ٹپکنے لگی۔ "میرے تو مزے آگئے، اب خوب کھاؤں گی، آخر ہمارا حق ہے یہ!" اس نے دل میں سوچا۔

  • جمیلہ کچن میں آئی تو عرفہ کو سامان پر ٹوٹتے دیکھ کر سرگوشی میں بولی، "کیا نادیدوں کی طرح کھول کر بیٹھی ہو؟ کوئی دیکھ لے گا تو کیا کہے گا؟" عرفہ نے منہ بناتے ہوئے کہا، "اپیا! اب مجھ سے اداکاری نہیں ہوتی، شادی ہوگئی اب ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ یہ تو ان کی لڑکی ہے جو ہمارے گھر دب کر رہے گی، میں تو اب ناشتہ کھاؤں گی۔" اسی دوران جنت بی بی کچن میں آئیں اور بولیں، "بیٹی! ناشتہ کہاں لگانا ہے؟ میں مدد کروا دیتی ہوں، شانزے کو تو ابھی کھانا پکانا نہیں آتا، ابھی تو پڑھائی سے فارغ ہوئی ہے۔" جمیلہ نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، "سب سیکھ جائے گی، شادی کے بعد ہی تو لڑکیاں سیکھتی ہیں۔"

  • جنت بی بی جب لاؤنج میں ناشتہ لگانے لگیں تو گھر کی حالت دیکھ کر ان کا دل بھر آیا۔ وہ گھر جسے جمیلہ نے پرانے صوفوں اور سینٹر پیس سے ڈرائنگ روم بنانے کی ناکام کوشش کی تھی، جنت بی بی کو کسی "دربے" سے کم نہ لگا۔ وہ سوچنے لگیں کہ ان کی لاڈلی بیٹی، جو محل جیسے گھر میں پلی بڑھی، اس چھوٹے سے گھر میں کیسے رہے گی؟ جہاں کچن تک ڈھنگ کا نہ تھا۔ عرفہ نے ڈھٹائی سے کہا، "چائے ذرا کڑک بنانا، جیسی شانزے آپ کے گھر پیتی تھی، بڑا مزہ آیا تھا۔"

  • ناشتے کے بعد جب شانزے تیار ہو کر آئی تو اس کے چہرے کی زردی میک اپ میں بھی نہ چھپ سکی۔ دادی نے جب خالی کلائیاں دیکھیں تو پوچھا کہ منہ دکھائی میں کیا ملا؟ جمیلہ نے فوراً جھوٹ گھڑا، "وہ ہم نے سونے کی چین کا آرڈر دیا ہوا ہے، سنار کے ہاں فوتگی ہوگئی تھی اس لیے ابھی ملی نہیں۔" دادی نے سرد آہ بھری اور کہا، "خیر، گھر چیزوں سے نہیں، محبت اور عزت سے بستے ہیں۔ ہم نے اپنی بیٹی اس امید پر آپ کو دی ہے کہ آپ اس کا بہت خیال رکھیں گے۔" مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ اس گھر کی دیواریں پہلے ہی دن شانزے کو نگلنے کے لیے تیار تھیں۔


  • قسط نمبر ۶

    نم آنکھیں، ادھورے خواب

    ولیمہ، جو کسی بھی لڑکی کی زندگی کا ایک یادگار اور رنگین دن ہوتا ہے، شانزے کے لیے کسی تاریک سائے سے کم نہ تھا۔ ایک عام سا، بے رونق کمیونٹی ہال جس کی دیواریں پیلی پڑ چکی تھیں اور جہاں کی فضا میں خوشی کے بجائے ایک عجیب سی گھٹن کا احساس تھا، وہاں کوئی پھول تھے نہ کوئی خاص سجاوٹ۔ حماد صاحب اور دادی جب ہال میں داخل ہوئے تو وہاں کی بے ترتیبی اور بدانتظامی دیکھ کر ان کا دل بری طرح بیٹھ گیا، کیا ان کی شہزادی جیسی بیٹی اس اجاڑ اور ویران جگہ بیاہی گئی تھی؟ ہال کی خستہ حالی پکار پکار کر کہہ رہی تھی کہ یہاں شانزے کی قدر و قیمت کا کوئی احساس نہیں کیا گیا، بس ایک رسم تھی جسے جیسے تیسے پورا کیا جا رہا تھا۔

    ہال کے بیچوں بیچ شانزے ایک پرانے سے صوفے پر کسی قیدی کی طرح بیٹھی تھی، جس کا میک اپ کسی بیوٹی پارلر کا نہیں بلکہ اناڑی اور بے حس ہاتھوں کی فنکاری لگ رہا تھا۔ مصنوعی جیولری کی سستی چمک اس کے چہرے کی زردی اور آنکھوں کی اداسی کو چھپانے میں مکمل طور پر ناکام تھی، جو بار بار اپنی قسمت پر آنسو بہانا چاہتی تھیں۔ سب سے زیادہ دکھ کی بات وہ فراک تھی جو شانزے کو پہنائی گئی تھی، وہ نوشین کی برسوں پرانی فراک تھی جس پر جمیلہ نے چند ستارے ٹانکر اسے نیا ثابت کرنے کی ایک بھونڈی اور گھناؤنی کوشش کی تھی۔ مگر اس لباس کی گھسی ہوئی رنگت اور پرانا پن صاف نظر آ رہا تھا کہ یہ جوڑا کسی نئی نویلی دلہن کا نہیں بلکہ کسی کی اتری ہوئی پوشاک ہے۔

    جنت بی بی جب اپنی لاڈلی کے قریب پہنچیں تو شانزے کی آنکھوں میں چھپا کرب اور بے بسی دیکھ کر ان کا کلیجہ منہ کو آگیا، وہ تڑپ کر رہ گئیں کہ ان کی بیٹی کے ساتھ یہ کیا مذاق ہو رہا ہے۔ وہ بیٹی جو ہمیشہ برانڈڈ اور بیش قیمت کپڑوں میں ملبوس رہتی تھی، آج ایک اتری ہوئی اور بے رنگ پوشاک میں کسی بے بس کٹھ پتلی کی طرح خاموش بیٹھی سب دیکھ رہی تھی۔ ارسلان، جس کا لباس بھی اس کی پہلی شادی کا وہی پرانا پرنس کوٹ تھا جو اب اس پر جچ بھی نہیں رہا تھا، شانزے کے برابر میں ایک اجنبی کی طرح بیٹھا تھا۔ اسے نہ شانزے کے دکھ کا اندازہ تھا اور نہ ہی اپنی ماں اور بہنوں کی ان نیچ حرکتوں پر کوئی شرمندگی تھی، وہ بس ایک بے جان وجود بنا بیٹھا تھا۔

    کھانے کی میزوں پر بکھرے ہوئے برتنوں اور ناقص مینیو کو دیکھ کر حماد صاحب کی آنکھوں میں نمی تیر گئی، انہیں اپنی بیٹی کی قسمت پر رونا آنے لگا۔ ایک عام سا سالن اور روکھا سوکھا نان، جسے دیکھ کر لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ کسی رئیس زادی کے ولیمے کی تقریب ہے جس کے باپ نے اپنی بساط سے بڑھ کر خرچ کیا تھا۔ جمیلہ، شمع اور ان کی بیٹیوں نے جہاں اپنے لیے بہترین اور مہنگے ریشمی جوڑوں کا انتخاب کیا تھا، وہیں شانزے کو ایک ایسی حالت میں سب کے سامنے کھڑا کر دیا تھا جس پر ہر دیکھنے والے کو ترس آ رہا تھا۔ کیا واقعی شادی کا مطلب صرف ایک لڑکی کو بیاہ کر لانا اور پھر اسے اپنی انا اور لالچ کی بھینٹ چڑھا دینا ہوتا ہے؟

    رسموں اور سلامیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو منافقت کی وہ انتہا دیکھنے کو ملی جو صرف جمیلہ اور اس کی بیٹیاں ہی کر سکتی تھیں۔ انہوں نے سلامی کے نوٹ اس انداز میں شانزے کے ہاتھوں میں تھمائے جیسے وہ بہت بڑے دل والے ہوں، مگر ان کی لالچی نظریں ان پیسوں پر جمی تھیں جنہیں وہ گھر پہنچتے ہی چھین لینے کا ارادہ رکھتی تھیں۔ ان کا مقصد صرف دنیا کو دکھانا اور اپنی واہ واہ کروانا تھا، جبکہ حقیقت میں وہ نکاح پر ملی ہوئی سلامی بھی ہضم کرنے کا پورا منصوبہ بنا چکی تھیں۔ جمیلہ چاہتی تھی کہ ولیمے کا جو بھی معمولی خرچہ ہوا ہے، وہ شانزے کی اپنی رقم سے ہی پورا کیا جائے اور ان کی جیب پر ایک دھیلے کا بوجھ بھی نہ پڑے۔

    جنت بی بی کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی مگر حماد صاحب کی والدہ انہیں مسلسل دلاسہ دے رہی تھیں کہ بیٹا دولت سب کچھ نہیں ہوتی، اخلاق ہی اصل چیز ہے۔ وہ جمیلہ کی زبان کی شیرینی کی اب بھی گرویدہ تھیں جو تقریب میں ایسے گھوم رہی تھی جیسے شانزے پر اپنی جان نچھاور کر دے گی اور اسے اپنی بیٹیوں سے بڑھ کر رکھے گی۔ حماد صاحب کی والدہ کو لگ رہا تھا کہ شاید حالات اتنے برے نہیں ہیں جتنے نظر آ رہے ہیں، لیکن وہ اس منافقت کے پردے کو نہیں دیکھ پا رہی تھیں جو جمیلہ نے اپنے چہرے پر چڑھا رکھا تھا۔ جمیلہ کا پیار اور اپنائیت صرف ایک دکھاوا تھا تاکہ میکے والوں کے سامنے ان کا بھرم قائم رہے اور کوئی بدمزگی پیدا نہ ہو۔

    شانزے اس پوری تقریب کے ختم ہونے کا شدت سے انتظار کر رہی تھی، اس کا دل ہر لمحہ بوجھل ہوتا جا رہا تھا اور وہ کسی بھی قیمت پر خاموش رہنا چاہتی تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے میکے کا بھرم ٹوٹے یا افضال صاحب کے سامنے ان کی کوئی جگ ہنسائی ہو، اس لیے اس نے اپنے لب سی لیے تھے۔ وہ اس منافقت کو اپنے اندر اتار رہی تھی جو جمیلہ اور شمع نے چھپا رکھی تھی، مگر اس کے اندر کی قوت اسے بار بار جھنجھوڑ رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کیا وہ بھی نوشین کی طرح خاموشی سے ان کی غلامی قبول کر لے گی یا وہ ان سب کے اصل چہرے اپنے گھر والوں کے سامنے بے نقاب کرے گی؟ یہی سوالات اسے مسلسل پریشان کر رہے تھے کہ نوشین، جو ارسلان کی پہلی بیوی تھی، کیا یہ سب سلوک اس کے ساتھ بھی ہوا ہوگا؟ کیا ارسلان تب بھی اسی طرح مصلحت کی چادر اوڑھے خاموش رہا ہوگا؟ کیا نوشین نے بھی اپنی سسکیاں انہی دیواروں میں دفن کر دی تھیں؟ یہ خیال اسے اندر تک دہلا رہا تھا کہ اگر ارسلان پہلے بھی خاموش تھا، تو اب اس سے کسی معجزے کی امید رکھنا شاید خود کو دھوکہ دینے کے مترادف تھا۔

    ولیمے کا اختتام ہوا تو ہر کوئی ایک بوجھل دل اور ان کہی باتوں کا بوجھ لے کر رخصت ہو رہا تھا۔ ہال کی بتیاں ایک ایک کر کے بجھ رہی تھیں اور اندھیرا بڑھ رہا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے شانزے کے مستقبل پر دھند چھا رہی تھی۔ جمیلہ کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی جبکہ ارسلان نے اب بھی نظریں جھکا رکھی تھیں۔ شانزے نے آخری بار پلٹ کر اپنے بابا کو جاتے دیکھا، اور پھر ایک گہرا سانس لے کر اس نئی زندگی کی سمت قدم بڑھا دیے جہاں ہر موڑ پر ایک نیا امتحان اس کا منتظر تھا۔ حماد صاحب کی فکر مند نظریں بار بار اپنی بیٹی کا پیچھا کر رہی تھیں، انہیں احساس ہو رہا تھا کہ کچھ تو غلط ہے، مگر دادی کی تسلیاں انہیں خاموش رہنے پر مجبور کر رہی تھیں۔ شانزے کا دل پکار رہا تھا کہ اب بس بہت ہو چکا، مگر کیا وہ اپنی زندگی کا یہ نیا لائحہ عمل طے کر پائے گی یا حالات کی ستم ظریفی اسے بھی بے بس کر دے گی؟

     "آپ کے خیال میں شانزے کو اب کیا کرنا چاہیے؟"

  • "وہ دن جو خوشیوں کا ہونا چاہیے تھا، شانزے کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن گیا۔ کیا وہ اس خاموش ظلم کو سہتی رہے گی یا اپنے حق کے لیے کھڑی ہوگی؟ پڑھیے 'میرا حصار' 


    کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں کہ کیا شانزے کی خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے؟

  • میرا حصار: قسط نمبر 7 

  • ٹوٹتے خوابوں کی کرچیاں

  • ولیمہ کی پروقار تقریب سے واپسی کا سفر خاموشی کی اس چادر میں لپٹا ہوا تھا جو اکثر کسی بڑے طوفان کے آنے سے پہلے فضا پر چھا جاتی ہے۔ گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھی جنت بیبی کی آنکھوں میں اداسی کے سائے گہرے تھے، لیکن ان سے کہیں زیادہ بے چینی حماد صاحب کے چہرے پر عیاں تھی۔ وہی حماد صاحب جنہیں دنیا ایک مضبوط انسان کے طور پر جانتی تھی، آج اپنے ہی کیے گئے ایک فیصلے کے بوجھ تلے دبے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔ انہیں یہ احساس بار بار اندر سے کاٹ رہا تھا کہ کہیں ارسلان اور اس کے گھر والوں کے چمکتے ہوئے ظاہر کو دیکھ کر انہوں نے اپنی بیٹی کے مستقبل کا سودا تو نہیں کر دیا؟ گاڑی جیسے ہی گھر کے پورچ میں رکی، وہ کسی سے ایک لفظ کہے بغیر، اپنی سوچوں کے بھنور میں الجھے ہوئے سیدھے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے۔ جنت بیبی اور حماد صاحب کی والدہ نے ان کی اس اچانک بیزاری اور خاموشی کو شدت سے محسوس کیا۔

    رئیسہ بیگم، جو حماد صاحب کی والدہ تھیں، اپنے بیٹے کی طبیعت سے بخوبی واقف تھیں۔ جب وہ ان کا حال جاننے کے لیے کمرے کی طرف گئیں تو دروازے کی اوٹ سے نظر آنے والے منظر نے ان کا دل پسیج دیا۔ حماد صاحب اپنی مخصوص ریوالونگ چیئر پر بیٹھے، ہاتھوں میں اپنی  مرحومہ   بیوی فوزیہ کی تصویر تھامے، اس سے ایسے ہمکلام تھے جیسے وہ ان کے سامنے موجود ہو۔ وہ کہہ رہے تھے کہ فوزیہ، آج ہماری بیٹی زندگی کے ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں سے واپسی کا راستہ نہیں ہوتا۔ میں نے اور اماں جی نے اسے بہت نازوں سے پالا، اسے بہترین تعلیم اور شعور دیا، لیکن آج میرا دل مسلسل ڈوب رہا ہے۔ کیا میں نے اپنی پھول جیسی بیٹی کو کسی ایسے تپتے ہوئے صحرا میں تو نہیں بھیج دیا جہاں اسے کوئی سایہ میسر نہ ہو؟ مجھے اماں جی اور جنت بیبی کی تربیت پر پورا یقین ہے، لیکن ارسلان کے خاندان کا رویہ مجھے ایک پل چین نہیں لینے دے رہا۔

    اسی کمرے کے گوشے میں حماد صاحب کی آواز میں چھپا ہوا دکھ اب سسکیوں کی صورت اختیار کر رہا تھا۔ وہ تصویر سے مخاطب ہو کر مزید کہہ رہے تھے کہ آج تمہاری کمی پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہو رہی ہے، کیونکہ ایک باپ جتنا بھی مضبوط کیوں نہ ہو، بیٹی کی رخصتی کے وقت اسے ایک ہمدرد جیون ساتھی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو اس کے خدشات کو بانٹ سکے۔ انہوں نے یاد کیا کہ کیسے انہوں نے شانزے کو ایک باپ کے بجائے ایک دوست بن کر سمجھایا تھا کہ زندگی کا یہ باب جتنا خوبصورت ہے، اتنا ہی کٹھن بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اسے تاکید کی تھی کہ عزتِ نفس وہ متاعِ گراں ہے جس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ اگر کبھی حالات انسان کو جانور بنا دیں، تو تمہیں اپنی حفاظت خود کرنی ہوگی۔ یہی وہ باتیں تھیں جو اب حماد صاحب کے ذہن میں ہتھوڑوں کی طرح بج رہی تھیں، اور پھر اسی اضطراب میں ان کی آنکھ لگ گئی۔

    دوسری طرف، شانزے کا نیا گھر اس کے لیے کسی خواب گاہ کے بجائے کسی عقوبت خانے کا منظر پیش کرنے لگا تھا۔ وہ ابھی صوفے پر تھکن سے چور بیٹھی ہی تھی کہ سسرال والوں کے اصل چہرے بے نقاب ہونے لگے۔ جمیلہ اور اس کی ماں شمع بیگم کے درمیان پیسوں اور سلامی کی تقسیم پر ہونے والی بحث نے شانزے کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیل دیا۔ شمع بیگم کا وہ لہجہ، جو نکاح سے پہلے شہد جیسا میٹھا تھا، اب زہر آلود ہو چکا تھا۔ انہوں نے شانزے کو مخاطب کر کے کہا کہ اے لڑکی! یہاں محلوں کی رانی بن کر بیٹھنے کی ضرورت نہیں ہے، جاؤ کچن میں اور سب کے لیے چائے بناؤ۔ جمیلہ نے ارسلان پر رعب جھاڑتے ہوئے ساری سلامی کا مطالبہ کر دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ رشتہ اس کی وجہ سے ہوا ہے، اس لیے مال پر پہلا حق اس کا ہے۔

    شانزے کے لیے یہ سب کچھ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا۔ وہ ان لوگوں کے درمیان خود کو بالکل اجنبی محسوس کر رہی تھی جو ابھی چند گھنٹے پہلے تک اسے اپنی جان سے پیارا کہہ رہے تھے۔ اسی دوران عرفہ کمرے میں داخل ہوئی اور بغیر کسی لحاظ کے شانزے کے گلے سے وہ قیمتی زیور اتارنے لگی جو اسے عارضی طور پر پہنایا گیا تھا۔ بالوں کے کھینچنے سے ہونے والی تکلیف سے زیادہ شانزے کو اس رویے نے دکھ دیا، لیکن اس نے خاموشی سے سب کچھ ان کے حوالے کر دیا۔ ابھی وہ اس صدمے سے سنبھلنے کی کوشش ہی کر رہی تھی کہ ارسلان کمرے میں آیا۔ اس کی نظریں محبت کے بجائے لالچ سے چمک رہی تھیں۔ اس نے شانزے سے سلامی کے پیسوں کا مطالبہ کیا اور جب اسے معلوم ہوا کہ رقم اس کی توقع سے کم ہے، تو اس کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔

    ارسلان نے شانزے کے سامنے ہی اس کے بابا کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنا شروع کر دیے۔ اس نے طنز کیا کہ اتنے بڑے فیکٹری مالک نے اپنی اکلوتی بیٹی کو رخصت کرتے وقت ایک گاڑی تک نہیں دی، حالانکہ اسے معلوم ہے کہ اس کا داماد موٹر سائیکل پر دھکے کھاتا ہے۔ اس نے الماری سے شانزے کے وہ قیمتی جوڑے جو جنت بیبی نے بڑی محنت سے تیار کیے تھے، نکال کر فرش پر پھینک دیے اور بڑبڑاتا ہوا باہر نکل گیا کہ تمہارے باپ کی جائیداد تو آخر ہمارے ہی نام ہونی ہے۔ شانزے وہیں بیڈ پر ساکت بیٹھی رہ گئی، اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے ارد گرد کی دیواریں اسے کچلنے لگی ہوں۔ اسے اپنے بابا کی وہ بات یاد آئی کہ عزت پر کبھی سمجھوتہ نہ کرنا، لیکن یہاں تو قدم قدم پر اس کی تذلیل ہو رہی تھی۔

    آخر میں جب شمع بیگم نے دوبارہ کمرے میں آ کر اسے ڈانٹا کہ ابھی تک تم نے کپڑے کیوں نہیں بدلے اور کچن میں کیوں نہیں گئیں، تو شانزے کی ہمت جواب دے گئی۔ اس نے جب نوکرانی کا ذکر کیا تو اسے صاف بتا دیا گیا کہ اس گھر میں وہ خود ہی سب کچھ ہے کیونکہ وہ کسی نوکر کی تنخواہ افورڈ نہیں کر سکتے۔ شانزے جب اٹھی تو اس کے پاؤں میں وہی ریشمی کپڑے الجھ رہے تھے جو اس کی دادی نے اسے بڑے پیار سے بنائے تھے۔ وہ ان ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیوں کو سمیٹتی ہوئی باتھ روم میں چلی گئی، جہاں اب دیواروں سے لگ کر اس کی دبی دبی سسکیاں گونجنے لگی تھیں۔ اس کی آنکھوں سے گرنے والے آنسو اس حقیقت پر مہر ثبت کر رہے تھے کہ اس کا حصار اب اس کے لیے ایک قید خانہ بن چکا ہے۔

  • اگلی قسط کے لیے جڑے رہیے اور کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں!"

  •  Ishrat Zahid Novels

    Ishratdigitalcreation@gmail,com


  • میرا حصار - قسط نمبر8: 

    آزمائشوں کا یہ دور شانزے کے لیے کسی کڑے امتحان سے کم نہ تھا۔ اسے آج صبح سویرے ہی عارفہ جگانے آگئی تھی۔ عارفہ، جو حد درجے کی بدتمیز اور بددماغ لڑکی تھی، جسے فلموں اور ڈراموں کے سوا کسی چیز کا شوق نہ تھا۔ وہ اپنی ماں کی طرح صرف کھانے پینے کی شوقین تھی؛ کبھی رول تو کبھی سموسے، اس کی فرمائشیں ختم نہ ہوتی تھیں۔ ان سب کے لیے وہ پیسے بھی شمع بیگم کی دراز سے چوری چھپے نکال لیتی تھی جب وہ کمرے میں نہ ہوتیں۔ شمع بیگم نے خود تو کبھی سگھڑاپا سیکھا نہیں تھا، تو بیٹیوں کی تربیت کیا کرتیں۔ انہوں نے تو صرف سسرال میں مکاریاں، چالاکیاں اور سیاستیں ہی سیکھی تھیں اور وہی اپنی بیٹیوں کو بھی منتقل کر دیں۔

    شانزے کی طبیعت کا ٹھہراؤ اس کے گھر کی اعلیٰ تربیت کا آئینہ دار تھا، اسی لیے وہ ان کی 'منہ زوری' کا جواب بھی 'ادب' سے دے رہی تھی۔ وہ کچن میں کھڑی یہ سوچ رہی تھی کہ ایک پڑھی لکھی ماں نہ صرف گھر سنوارتی ہے بلکہ اولاد کو جینے کا ڈھنگ بھی سکھاتی ہے، مگر یہاں تو گنگا ہی الٹی بہہ رہی تھی۔ ولیمے کا دوسرا دن تھا اور اسے اپنے بابا کی فکر ستا رہی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ بابا کو فون کر کے ان کی خیریت پوچھے، مگر ابھی وہ سوچوں میں ہی تھی کہ عارفہ کسی طوفان کی طرح کچن میں داخل ہوئی۔

    "یہ کیا تم میک اپ کر کے بیٹھی ہو؟ بس اب ہو گئی شادی! یہ مت سمجھنا کہ ہم تمہارے ناز اٹھائیں گے" عارفہ نے حقارت سے اسے دیکھا۔ "پہلی والی، نوشین نے بھی بڑے ناز دکھائے تھے، اسے بھی میں نے ہی سیدھا کیا تھا۔ یہ میرا گھر ہے، یہاں میری مرضی چلتی ہے۔ تمہارے باپ نے دیا ہی کیا ہے؟ ایک معمولی سی انگوٹھی! میرے بھائی کو گاڑی دیتے تو بات بھی تھی۔ جاؤ اب کچن میں جا کر کھانا بناؤ، مجھے بھوک لگی ہے۔ اور ہاں! شام کو افضال بھائی نے آنا ہے، میٹھے سمیت چار پانچ چیزیں تیار ہونی چاہئیں"۔

    شانزے خاموشی سے کچن میں چلی گئی، جہاں رات کے اور صبح کے ناشتے کے گندے برتنوں کا ڈھیر اس کا منتظر تھا۔ پورا کچن بکھرا پڑا تھا جیسے کسی نے اسے جان بوجھ کر گندا کیا ہو۔ شمع بیگم وہیں موجود تھیں اور ان کے تیور بتا رہے تھے کہ وہ جنگ کی تیاری میں ہیں۔ "شکر ہے تم کمرے سے نکلی! کچن کا حال دیکھ رہی ہو؟ آج پہلی بار ہے تو معافی دے رہی ہوں، اگلی بار ٹائم سے کام نہ ہوا تو ہاتھ پکڑ کر گھر سے نکال دوں گی"۔ انہوں نے مزید ڈرایا کہ "ارسلان سے شکایت لگانے کی غلطی مت کرنا، اس نے تمہاری ایک نہیں سننی۔ وہ ہماری مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرتا، نوشین کو بھی ہمارے کہنے پر ہی طلاق دی تھی"۔

    اسی دوران ارسلان جیسے ہی گھر آیا اور کچن میں برتن صاف کرتی شانزے کو دیکھ کر بولا، "کیا پکایا ہے؟" شانزے نے ارسلان کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھا، جیسے وہ اس کی حالت دیکھ کر کوئی ہمدردانہ بات کہے گا، مگر ارسلان کو صرف اپنے کھانے کی فکر تھی۔ "جلدی دھو برتن، مجھے بھوک لگی ہے!" ارسلان کی آواز سنتے ہی شمع بیگم بھی کچن میں دھڑک آئیں۔ "آج تو جلدی کیسے گھر آگیا؟ اور یہ کیا، آتے ہی بیوی کے پلو سے چپک گیا؟ ماں نظر نہیں آتی کہ ماں کے پاس آتا؟" شمع بیگم کے تیکھے سوالوں سے ارسلان ایک دم ڈر گیا اور بزدلی سے بولا، "بس کھانے کا پوچھنے آیا تھا، باہر کا کھا کھا کر دل بھر گیا ہے، سوچا اب گھر کا کھانا ملے گا۔"

    اب شمع بیگم کی توپوں کا رخ پھر شانزے کی طرف مڑ گیا۔ "پچھلے دو گھنٹے سے تم کچن میں گھسی ہو، کیا اتنا سا کام تم سے ہو نہیں رہا؟ اب شوہر کو دکھانے کے لیے لگی ہو جیسے ہم نے تو ظلم کے پہاڑ توڑ دیے ہیں!" شانزے کچھ نہ بولی، بس برتن دھونے میں لگی رہی۔ اتنے برتن اس نے کبھی اپنے گھر میں نہیں دھوئے تھے۔ اسے جنت بی بی (ملازمہ) کی یاد آگئی جو یہ سب کام کرتی تھیں۔ جب کبھی شانزے کچن میں جاتی تو وہ کہتی، "بی بی یہ ہاتھ برتنوں کے لیے نہیں ہیں، یہ کتابیں پڑھنے اور پیار کرنے کے لیے ہیں۔" مگر شانزے اب حقیقت کی دنیا میں واپس آگئی تھی، جہاں اسے صرف برتن نہیں دھونے تھے بلکہ ابھی کھانا بھی بنانا تھا۔

    ادھر شمع بیگم اپنی دیورانی نصرت سے فون پر باتیں کرتے ہوئے شانزے کی برائیاں کر رہی تھیں، "کیا بتاؤں نصرت! آج کل کی لڑکیاں صرف فیشن جانتی ہیں، گھر والے کچھ سکھاتے نہیں اور بس سسرال والوں کے سر تھوپ دیتے ہیں۔ میری عارفہ نے سارا گھر سنبھالا ہوا تھا، اب شانزے آئی ہے تو یہ دیکھے گی۔" دوسری طرف نصرت دل ہی دل میں تمسخر اڑا رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ شمع بیگم کی اپنی تربیت کیسی ہے۔ شمع بیگم کی اصل منصوبہ بندی یہ تھی کہ ان کے دیور کا بیٹا عدیل، جو کہ اکلوتا تھا، وہ عارفہ کے قابو میں آ جائے۔ وہ اکثر بہانے سے عدیل کو بلاتیں اور عارفہ کو تاکید کرتیں کہ اسے قابو کرے۔

    عارفہ بھی ماں سے دو ہاتھ آگے تھی، وہ جانتی تھی کہ اسے عدیل کے دل میں کیسے جگہ بنانی ہے۔ وہ سارا دن صرف فیشن اور میک اپ میں مگن رہتی، کوئی کام کاج اسے کرنا نہیں تھا۔ پہلے جمیلہ کی کام والی آ کر کام کر جاتی تھی، مگر اب جب سے شانزے آئی تھی، کام والی کی بھی چھٹی کر دی گئی تھی۔ اب گھر کی صفائی سے لے کر کپڑے دھونے تک، سب کچھ شانزے کو ہی کرنا تھا۔ ارسلان کا یہ حال تھا کہ وہ سب دیکھ کر بھی خاموش تھا، کیونکہ اس کی اپنی کوئی سوچ نہ تھی۔ اس کے لیے ظلم سہنا اور آواز نہ اٹھانا ایک معمول بن چکا تھا، لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ آواز نہ اٹھانا ہی سب سے بڑا ظلم ہے۔.

  • اگلی قسط کے لیے جڑے رہیے اور کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں!"

  • Ishrat Zahid Novels

  •  Ishratdigitalcreation@gmail,com


  • ناول: میرا حصار (قسط نمبر 9)   

    شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور کچن میں شانزے کی ہمت جواب دے رہی تھی۔ یوٹیوب سے بریانی کی ترکیب دیکھ کر وہ بڑی محنت سے پکی ہوئی خوشبوؤں کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایک طرف چکن تکہ میرینیٹ ہو چکا تھا اور دوسری طرف کڑاہی کے لیے ٹماٹر کٹنے کے منتظر تھے۔ کچن میں ایگزاسٹ فین نہ ہونے کی وجہ سے تپش اور دھوئیں نے شانزے کا دم گھٹانا شروع کر دیا تھا اور اس کی طبیعت عجیب سی ہونے لگی تھی کہ اچانک شمع بیگم کی کرخت آواز گونجی۔ "شانزے! او شانزے! بہری ہو گئی ہو کیا؟ کب سے پکار رہی ہوں۔" شمع بیگم کچن کے دروازے پر ایک جلاد کی طرح آ کھڑی ہوئیں اور ماتھے پر تیوریاں چڑھا کر غصے سے پھنکاریں۔ ان کے لہجے میں ایسی کاٹ تھی کہ شانزے کے ہاتھ سے چھری چھوٹتے چھوٹتے بچی۔ وہ جانتی تھی کہ اس گھر میں اس کی خاموشی کو اس کی کمزوری سمجھا جاتا ہے۔

    شمع بیگم نے سر پر سوار ہو کر پوچھا کہ تمہیں کوئی حیا شرم ہے یا نہیں کہ میں کب سے آوازیں دے رہی ہوں۔ شانزے نے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا کہ امی جی، کچن کے شور میں آواز نہیں آئی، عارفیہ آپ کے پاس ہی تو تھیں آپ ان سے کہہ دیتیں۔ یہ سننا تھا کہ شمع بیگم کا پارہ آسمان کو چھونے لگا۔ انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ آج تو تم نے مجھ سے زبان درازی کر لی ہے لیکن آئندہ ایسا نہ کرنا ورنہ یہ قینچی جیسی زبان کاٹ دوں گی۔ میرے آگے کسی کی زبان نہیں چلتی اور یاد رکھو کہ ایک گھنٹے میں سب کچھ تیار ہونا چاہیے، ذرا جلدی ہاتھ چلاؤ۔ پتا نہیں جمیلہ کو اس جنگلی میں کیا نظر آیا جو اسے لا کر ہمارے ماتھے مڑھ دیا۔ کہنے کو بڑے باپ کی بیٹی ہے لیکن لائی کیا ہو؟ ایک ہلکا سا سیٹ، کوئی خاص جہیز بھی ساتھ نہیں لائی کہ بندہ فخر کر سکے۔ کیا تمہارے باپ نے کوئی گاڑی دی؟ لوگ تو لاکھوں روپے لٹاتے ہیں۔ میرا پتر لاکھوں میں ایک ہے اور تمہاری جیسی لڑکیاں تو اس کے آگے پیچھے پھرتی ہیں۔ شانزے کا دل چھلنی ہو گیا، اس نے بس اتنا ہی کہا، "جی جانتی ہوں، بلکہ اب اچھی طرح جان گئی ہوں آپ سب کو۔"

    شانزے کے لہجے کی تلخی دیکھ کر شمع بیگم نے غصے سے اسے گھورا اور پھلوں کی ٹوکری اٹھا کر کمرے میں چلی گئیں۔ تبھی ارسلان بھی وہاں آ گیا اور بولا کہ اماں اتنا کیوں چیخ رہی تھیں، چھت تک آواز جا رہی تھی۔ شمع بیگم نے سیب کاٹتے ہوئے زہر اگلنا جاری رکھا اور بولیں کہ سوچا تھا بیٹے کی بیوی لاؤں گی تو سکھ ملے گا پر یہ جمیلہ کیا دیکھ کر لائی ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ ہمارے ساتھ چل سکے گی، ایک تو سست اتنی ہے کہ ابھی تک کھانا ہی تیار نہیں ہوا۔ ارسلان نے جواب دیا کہ اماں کر تو رہی ہے، ابھی اسے آئے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں، ذرا اسے سنبھلنے تو دیں۔ شمع بیگم نے سیب کاٹتے ہوئے ہاتھ روکا اور ارسلان کو خاموش کرواتے ہوئے کہا کہ تم چپ ہی رہو، پہلی والی کو بھی تم نے ہی شہ دی تھی۔ اسے دبا کر رکھو اور صاف کہہ دو کہ مجھے ہر چیز وقت پر چاہیے۔ میں نے اسے یہاں شو پیس بنا کر نہیں رکھا اور نہ ہی یہاں مفت کی روٹیاں توڑنے کے لیے لائی ہوں۔ ارسلان خاموشی سے اپنی ماں کے تیور دیکھ رہا تھا، اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس گھر میں اس کی اپنی بھی نہیں چلنی، تو شانزے کا کیا بنے گا۔

    ارسلان نے اپنی ماں سے کہا کہ اماں آپ عارفیہ کو بھی سمجھا دیں کہ وہ ہر وقت اسے زن مرید نہ کہا کرے، ورنہ میں اسے بول دوں گا۔ اور یہ عدیل ہر وقت یہاں کیوں منڈلاتا نظر آتا ہے؟ مجھے انکل خاور نے بتایا ہے کہ میری غیر موجودگی میں وہ اکثر یہاں ہوتا ہے۔ آپ اسے لگام ڈالیں یا پھر چچی سے کہیں کہ باقاعدہ رشتہ بھیجیں۔ وہ فون پر بھی عدیل سے گپیں لگا رہی ہوتی ہے، آپ مجھے تو کسی سے بات نہیں کرنے دیتیں لیکن اسے کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ کیا وہ آپ کی سگی ہے اور میں سوتیلا ہوں؟ ارسلان کے لہجے میں چھپی بیزاری بتاتی تھی کہ وہ گھر کے بگڑتے ہوئے ماحول سے کتنا پریشان ہے، لیکن شمع بیگم کی ممتا صرف اپنے مفاد تک محدود تھی۔

    شمع بیگم نے ارسلان کا بدلا ہوا موڈ دیکھ کر لہجہ بدلا اور اسے سمجھانے لگیں کہ عدیل تمہارے چچا کا اکلوتا وارث ہے، اس کی دو دکانیں اور گھر سب اسی کا ہونا ہے۔ جمیلہ کو بھی میں نے اچھے گھر بیاہا ہے جہاں اس نے پورے سسرال کو قابو کر رکھا ہے۔ وہ تو ہر مہینے اپنے شوہر سے چھپ کر مجھے پیسے دیتی ہے جس سے تم دوستوں کے ساتھ عیاشیاں کرتے ہو۔ تمہاری شادی اس لیے کروائی ہے کہ جو تمہاری بیوی کا ہے وہ سب تمہارا ہو جائے۔ اس کے باپ کی فیکٹری اور جائیداد پر تمہاری نظر ہونی چاہیے۔ لڑکی والے دب کر رہتے ہیں اور شانزے کا باپ حماد ایک شریف آدمی ہے جو اپنی عزت کے لیے سب کچھ قربان کر دے گا، بس تم اسے ڈرا دھمکا کر رکھو کہ وہ کبھی تمہارے سامنے بول نہ سکے۔

    شمع بیگم نے مزید زہر گھولا کہ ارسلان تم اسے سمجھا دو کہ میں جب نوشین جیسی کو چھوڑ سکتا ہوں تو تم کیا چیز ہو۔ پڑھی لکھی لڑکیاں سر پر ناچتی ہیں، اس لیے اسے اس کی اوقات میں رکھو۔ انہوں نے حسرت سے کہا کہ کاش اس کا باپ کوئی ایسی ملازمہ ہی دے دیتا جو میرے پاؤں دباتی اور سر میں تیل لگاتی، میری تو خدمت کرنے والا کوئی نہیں ہے اور اولاد بھی نکمی نکلی۔ ارسلان اپنی ماں کی باتوں سے بدمزہ ہو کر کچن میں آ گیا جہاں کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبو نے اس کی بھوک چمکا دی تھی۔ اسے اپنی ماں کی باتیں زہر لگ رہی تھیں لیکن وہ ان کی گرفت سے نکلنے کی ہمت بھی نہیں رکھتا تھا۔

    گھر میں اس وقت قدرے سکون تھا کیونکہ عارفیہ اپنے کمرے میں عدیل سے فون پر باتیں کرنے میں مگن تھی۔ اس تین کمروں کے گھر میں سلیقے کا دور دور تک نام نہ تھا، سب شمع بیگم کے بستر پر ہی اپنی پلیٹیں لے جا کر کھانا کھاتے تھے اور ٹی وی کا شور رات دو بجے تک پورے گھر میں گونجتا رہتا تھا۔ شانزے کے لیے ایسے ماحول میں سمجھوتہ کرنا کسی بڑی آزمائش سے کم نہ تھا، مگر وہ اپنے بابا کی لاج رکھنے کی خاطر سب کچھ سہنے کا عزم کر چکی تھی۔ وہ کچن میں کام کرتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ کیا کبھی یہ لوگ اسے اپنا مانیں گے؟ کیا کبھی اسے وہ عزت ملے گی جس کی وہ حقدار ہے؟ وہ نہیں جانتی تھی کہ ان سفاک لوگوں کے لیے وہ جتنا بھی کر لے، اسے شکر گزاری کا ایک لفظ بھی نصیب نہیں ہوگا۔

    شانزے ابھی انہی سوچوں میں گم تھی کہ اسے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ ارسلان اسے بغور دیکھ رہا تھا، وہ سادہ سے حلیے میں اور بغیر میک اپ کے بھی اسے بہت پیاری لگ رہی تھی۔ ارسلان نے قریب آ کر پوچھا کہ کیا کیا بنا رہی ہو؟ شانزے نے چونک کر اسے دیکھا اور بتایا کہ بریانی، تکہ اور کڑاہی تیار ہے بس میٹھا بنانا باقی ہے۔ ارسلان حیرت سے بولا کہ کیا تمہیں یہ سب بنانا آتا ہے؟ عارفیہ نے تو کبھی نہیں بنا کر دیا، اماں بھی اکثر باہر سے ہی منگوا لیتی تھیں۔ جب اس نے بریانی کی دیگچی کا ڈھکن ہٹایا تو بھنی ہوئی مہک پورے کچن میں پھیل گئی۔ ارسلان نے تعریف کے بجائے طنزیہ نظروں سے دیکھا اور پوچھا کہ ذائقہ کیسا ہوگا یہ تو کھا کر ہی پتا چلے گا۔

    ارسلان کی نظر کچن کے شیلف پر پڑے شانزے کے موبائل پر پڑی جو آن تھا، وہ بولا کہ کیا تم بھی ڈراموں کی شوقین ہو؟ شانزے نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ جواب دیا کہ نہیں، میں نے اپنی زندگی میں کبھی ڈرامے نہیں دیکھے، بس یہاں آ کر ہی یہ سب دیکھ رہی ہوں۔ ارسلان اس کی بات کا مطلب سمجھ کر الجھ گیا اور غصے سے بولا کہ کیا کہنا چاہتی ہو تم؟ کیا میری ماں اور بہن تمہیں ڈرامہ لگتی ہیں؟ ایک بات ذہن میں بٹھا لو کہ میں نے نوشین سے بہت محبت کی تھی لیکن صرف اس لیے اسے فارغ کر دیا کہ اس نے میری ماں کے خلاف بات کی تھی۔ اس لیے تم میرے ساتھ سیدھی چلنا، ابھی تم میرے مزاج سے واقف نہیں۔شانزے نے جواب دینے کے بجائے خاموشی میں ہی عافیت سمجھی۔ اس اندازہ ہو گیا تھا کہ اس گھر میں دلیل یا سچائی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ارسلان کی دھمکی نے اس کے اندر ایک عجیب سی بے حسی بھر دی تھی۔ وہ کچن کے برتن سمیٹنے لگی، جبکہ باہر سے ٹی وی کے شور اور عارفیہ کے قہقہوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ کسی ایسے حصار میں قید ہو گئی ہے جس کی دیواریں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ تنگ ہوتی جا رہی ہیں۔ کیا وہ اس حصار کو توڑ پائے گی یا پھر نوشین کی طرح کسی نئے طوفان کی نذر ہو جائے گی؟   یہ سوال اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا۔



  •                                     تحریر: عشرت زاہد
  • اگلی قسط کے لیے جڑے رہیے اور کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں!"

  • Ishrat Zahid Novels

  •  Ishratdigitalcreation@gmail,com

  • ناول: میرا حصار (قسط نمبر: 10)


    شانزے کچن کے کاموں سے فارغ ہوئی تو تھکن کے مارے اس کا برا حال تھا۔ وہ وہیں رکھی کرسی پر بیٹھ کر پانی پینے لگی کہ اچانک اسے جمیلہ کی آواز آئی جو پوچھ رہی تھی کہ شانزے کہاں ہے۔ جواب میں شمع بیگم کی سپاٹ آواز گونجی کہ وہ اپنے کمرے میں پڑی سو رہی ہوگی۔ جمیلہ نے کچن میں آ کر دیکھا تو شانزے وہیں کرسی پر بیٹھی سوچوں میں مگن تھی۔ جمیلہ نے قریب آ کر ایک زوردار آواز کے ساتھ اسے جھنجھوڑا اور کہنے لگی کہ تم بہری ہو یا بس ڈرامے کرتی ہو، معصوم تو بہت لگتی ہو پر ہو نہیں، اماں کہہ رہی تھیں تم سارا وقت سوتی رہتی ہو۔ جمیلہ نے زہریلے لہجے میں بات جاری رکھی کہ ہم تمہیں بیاہ کر اس لیے نہیں لائے کہ تم اپنے کمرے میں آرام کرتی رہو، یہاں تمہارے باپ کے نوکر نہیں ہیں، یا تو ساتھ دو نوکر لے کر آتیں کیونکہ اماں تم سے بہت ناراض ہیں، اب تم لائن پر آ جاؤ ورنہ یاد رکھو جس طرح میں اس گھر میں لے کر آئی ہوں ویسے ہی واپس بھی بھیج دوں گی۔


    شانزے نے جمیلہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا کہ جی اماں نے مجھے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میں سب کی جی حضوری کروں ورنہ مجھے نوشین کی طرح اس گھر سے نکال دیا جائے گا، لیکن آپ لوگ پہلے یہ تو فیصلہ کر لیں کہ یہ گھر ہے کس کا، اماں کہتی ہیں ان کا ہے، آپ کہتی ہیں کہ آپ کا حکم چلے گا اور عارفہ کہتی ہے کہ اس کا راج ہے، پہلے آپ سب مل کر طے کر لیں کہ مجھے کس کا حکم ماننا ہے پھر مجھے سمجھائیے گا۔ یہ کہہ کر شانزے رکی نہیں اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ جمیلہ کو شانزے سے ایسے دو ٹوک جواب کی امید نہ تھی، وہ فوراً اس کے پیچھے آئی اور کمرے کا دروازہ کھول کر چیخ کر بولی کہ بی بی ہواؤں میں مت اڑو، تمہاری یہ گز بھر کی زبان میں نے کاٹ دینی ہے، آنے دو ارسلان کو میں بتاتی ہوں اسے کہ تمہاری اتنی جرات کہ میرے آگے بولو۔ شانزے نے کوئی جواب نہ دیا اور فریش ہونے کے لیے واش روم میں چلی گئی کیونکہ وہ صبح سے کام کر کے اب تھوڑا پرسکون ہونا چاہتی تھی۔


    جمیلہ ابھی مزید بولنا چاہتی تھی مگر افضال کی آواز سن کر رک گئی اور اپنی ماں سے کہنے لگی کہ دیکھو اماں، افضال کے سامنے شانزے کو کچھ مت بولنا اور اپنی آواز بھی دھیمی رکھنا کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ ان کے سامنے گھر کا کوئی تماشہ بنے۔ پھر اس نے عارفہ کے بارے میں پوچھا تو شمع بیگم نے بتایا کہ وہ اپنے کمرے سے نہیں نکلتی۔ جمیلہ غصے سے بولی کہ آپ نے سب کو بہت ڈھیل دے رکھی ہے، میرے اپنے گھر کے مسائل کم ہیں کیا جو میں یہاں کے جھگڑے بھی دیکھوں۔ اتنے میں افضال اندر آیا تو شمع بیگم کے چہرے پر فوری مسکراہٹ آگئی۔ افضال نے سلام کیا اور شمع بیگم کے آگے سر جھکایا تو انہوں نے پیار سے ہاتھ پھیرا اور دعائیں دیں۔ سب لاؤنج میں بیٹھ گئے تو شمع بیگم نے گلہ کیا کہ تم بہت کم آنے لگے ہو، جس پر افضال نے کام کی زیادتی کا عذر پیش کیا۔ جمیلہ نے بتایا کہ بچے بھی اپنی اپنی مصروفیات کے بعد جلد پہنچ جائیں گے۔ جب افضال نے ارسلان اور عارفہ کا پوچھا تو شمع بیگم نے پھر جھوٹ بولا کہ عارفہ تو صبح سے کچن میں لگی ہوئی ہے اور آپ لوگوں کے لیے کھانا پکا رہی ہے۔ افضال نے حیرت سے کہا کہ جہاں تک مجھے یاد ہے اسے تو کھانا پکانے کا شوق نہیں تھا، مگر شمع بیگم اس طنز کو مسکرا کر نظرانداز کر 
    گئیں کیونکہ وہ اپنے داماد کو قابو میں رکھنا خوب جانتی تھیں۔


    جمیلہ پانی پینے کے بہانے عارفہ کے کمرے میں آئی تو وہ عدیل کے ساتھ فون پر مصروف تھی۔ جمیلہ نے اسے سخت سست سنایا کہ باہر آ کر اپنا حلیہ ٹھیک کرو، اماں نے افضال کو کہا ہے کہ سارا کھانا تم نے بنایا ہے۔ عارفہ لاپرواہی سے ہنسی کہ مجھے تو کھانا بنانا نہیں آتا پر چلو دیکھتی ہوں کہ اس مہارانی نے کچن میں کیا کیا کر کے رکھا ہے۔ جب شانزے تیار ہو کر کچن میں آئی تو عارفہ وہاں پہنچ گئی اور اسے دھمکانے لگی کہ خبردار جو کسی کو بتایا کہ کھانا تم نے پکا یا ہے، اگر اس گھر میں سلامتی کے ساتھ رہنا چاہتی ہو تو میری میڈ بن کر رہو اور اپنی زبان بند رکھو۔ شانزے نے ایک نظر اس پر ڈالی اور خاموشی سے سلاد کاٹنے لگی۔ کھانے کی میز پر جب محسن نے کھانے کی تعریف کی تو جمیلہ نے فوراً کہا کہ یہ عارفہ خالہ نے بنایا ہے، جس پر بچے بھی حیران ہوئے مگر جمیلہ نے انہیں ڈانٹ کر خاموش کروا دیا۔ ارسلان جو جانتا تھا کہ عارفہ نے کچن کا رخ بھی نہیں کیا، وہ عارفہ کے جھوٹ پر حیران رہ گیا اور اسے کھاتے ہوئے پھندہ لگ گیا مگر وہ سب کے سامنے سچ نہ بول سکا۔


    رات کو جب سب مہمان چلے گئے اور شانزے برتن دھو کر کمرے میں آئی تو ارسلان سو چکا تھا۔ شانزے کو بہت دکھ ہوا کہ شادی کے بعد سے ارسلان نے کبھی اس کے ساتھ محبت سے وقت نہیں گزارا، نہ کوئی تحفہ دیا اور نہ ہی اس کے جذبات کا خیال رکھا۔ اس نے اپنا موبائل اٹھایا تو جنت بی بی کی کئی مسڈ کالز اور ایک روتا ہوا وائس میسج موجود تھا۔ پیغام میں جنت بی بی بتا رہی تھیں کہ شمع بیگم کے فون کے بعد حماد صاحب کی طبیعت اچانک بگڑ گئی ہے اور وہ ہسپتال میں ہیں۔ یہ سن کر شانزے کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی، اسے شدید گھٹن محسوس ہوئی اور وہ پانی لینے کے لیے کچن کی طرف بڑھی۔ وہاں اسے عارفہ اور عدیل کی سرگوشیاں سنائی دیں۔ عدیل کہہ رہا تھا کہ اس نے ارسلان کو دھوکے سے دکان کے نقلی کاغذات تھما دیے ہیں اور اصلی اپنے پاس رکھ لیے ہیں۔ عارفہ اس کی مکاری پر ہنس رہی تھی اور دونوں مل کر شانزے کو گھر سے نکالنے کا منصوبہ بنا رہے تھے، بالکل ویسے ہی جیسے انہوں نے نوشین کو نکالا تھا۔


    شانزے ابھی یہ سب سن کر صدمے میں تھی کہ اس کے فون پر دوبارہ میسج آیا۔ اسی دوران عارفہ اور عدیل کمرے سے باہر نکلے اور شانزے کو وہاں دیکھ کر اسے گھیر لیا۔ عارفہ نے چلانا شروع کر دیا کہ تم آدھی رات کو یہاں کیا کر رہی ہو؟ ان کا شور سن کر ارسلان بھی باہر نکل آیا۔ عارفہ نے فوراً پینترا بدلا اور ارسلان سے کہا کہ یہی تو میں اس سے پوچھ رہی ہوں کہ یہ یہاں کیا کر رہی ہے۔ عدیل نے موقع پا کر ایک گھناؤنا جھوٹ بولا کہ ارسلان بھائی، اصل میں شانزے نے مجھے یہاں بلایا تھا، اب آپ خود اس سے پوچھ لیں کہ کیوں بلایا ہے۔ یہ سن کر ارسلان آپے سے باہر ہو گیا، اس نے غصے میں شانزے کا بازو مروڑا اور اسے بدکردار کہتے ہوئے تھپڑ جڑ دیا۔ شانزے نے صفائی دینے کی کوشش کی کہ اس کے پاس عدیل کا نمبر تک نہیں ہے اور وہ صرف پانی پینے آئی تھی، مگر ارسلان نے اس کی ایک نہ سنی۔

  • ارسلان اسے گھسیٹتا ہوا کمرے میں لے گیا اور بیڈ پر پٹخ کر اسے آوارہ اور بے حیا کہنے لگا۔ شانزے کی ہمت اب جواب دے چکی تھی، وہ ایک دم اٹھی اور بولی کہ بس ارسلان، اب ایک لفظ مزید نہیں، میں اپنے بابا کی خاطر خاموش تھی مگر آپ کو میری عزت پر حملہ کرنے کا کوئی حق نہیں، آپ کی بہن جھوٹ بول رہی ہے۔ ارسلان نے اسے دھمکی دی کہ میری ماں بہن کے خلاف کچھ مت کہنا اور صبح ہونے سے پہلے میرے گھر سے دفع ہو جاؤ۔ اس سارے ہنگامے کے دوران شمع بیگم بے خبر سوتی رہیں کیونکہ انہیں اپنی اولاد کے گناہوں سے زیادہ اپنی نیند پیاری تھی۔ شانزے نے روتے ہوئے جنت بی بی کو کال کی اور ڈرائیور بھیجنے کا کہا۔ وہ اپنی ضروری چیزیں لے کر گھر سے باہر نکل آئی اور گاڑی کا انتظار کرنے لگی۔ اسے جاتا دیکھ کر ارسلان کی بے چینی بڑھ گئی، وہ سگریٹ پر سگریٹ سلگانے لگا مگر اس کا غصہ اور شک اسے سکون نہیں لینے دے رہے تھے۔ دوسری طرف گاڑی میں شانزے روتی جا رہی تھی، ڈرائیور نے اسے تسلی دی کہ صاحب اب خطرے سے باہر ہیں مگر شانزے کا دل اس شخص کے لیے رو رہا تھا دل بری طرح ٹوٹ چکا تھا۔ ارسلان اس کی عزت کا محافظ تھا یا ان لوگوں میں شامل تھا جو اسے بسنے نہیں دینا چاہتے تھے؟

  • اگلے موڑ پر کیا ہوگا؟ کیا ارسلان کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا؟ جاننے کے لیے جڑے رہیے میرے ناول 'میرا حصار' کی اگلی قسط کے ساتھ، جو کل رات میرے بلاگ پر شائع ہوگی!


  •                                     تحریر: عشرت زاہد
  • اگلی قسط کے لیے جڑے رہیے اور کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں!"

  • Ishrat Zahid Novels

  • Ishratdigitalcreation@gmail,com

  • میرا حصار: قسط نمبر 11

    تحریر: عشرت زاہد

    شانزے کی آنکھوں سے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ گاڑی کی کھڑکی سے باہر تیزی سے پیچھے جاتی روشنیاں اسے اپنی زندگی کی طرح دھندلی اور بے نور محسوس ہو رہی تھیں۔ ڈرائیور نے اسے حوصلہ دینے کی کوشش کی کہ بابا کی طبیعت اب بہتر ہے مگر شانزے کے دل پر ارسلان کے تھپڑ اور اس کی تہمت نے جو گہرا زخم لگایا تھا، وہ کسی ہسپتال میں ٹھیک نہیں ہو سکتا تھا۔ جیسے ہی وہ ہسپتال پہنچی، کوریڈور کی مخصوص بو اور وہاں کے سناٹے نے اس کے اعصاب کو مزید بوجھل کر دیا۔ آئی سی یو کے باہر کھڑی جنت بی بی اسے دیکھتے ہی لپٹ گئیں، "شکر ہے تم آگئیں بیٹی، تمہارے بابا تمہیں ہی پکار رہے تھے۔" شانزے نے کانپتے ہاتھوں سے اپنے آنسو پونچھے، چہرے پر ایک مصنوعی مسکراہٹ سجائی اور کمرے کے اندر داخل ہوگئی۔ حماد صاحب نے نیم وا آنکھوں سے اپنی بیٹی کو دیکھا تو ان کے مرجھائے ہوئے چہرے پر ایک لمحے کے لیے رونق آگئی۔

    "میری بیٹی... تم ٹھیک تو ہو نا؟" ان کی آواز میں نقاہت تھی مگر فکر وہی پرانی۔ شانزے نے ان کا ہاتھ تھاما اور اپنے دل کی لرزش چھپاتے ہوئے بولی، "میں بالکل ٹھیک ہوں بابا! آپ بس آرام کریں، میں اب کچھ دن آپ کے پاس ہی رہوں گی، ہم گھر جا کر تفصیل سے ڈھیروں باتیں کریں گے۔" اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا جھوٹ بولا تاکہ ایک بیمار باپ کا دل نہ ٹوٹے۔ اسی دوران ڈاکٹر اور نرسیں اندر داخل ہوئیں اور رپورٹس دیکھ کر ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اب حماد صاحب کی حالت مستحکم ہے، مگر انہیں ذہنی دباؤ سے دور رکھنا ہوگا اور مکمل آرام کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ہدایت دی کہ ایک ہفتے بعد دوبارہ چیک اپ کے لیے لانا ہوگا، ابھی انہیں عام کمرے میں شفٹ کیا جا رہا ہے۔

    شانزے جب کمرے سے باہر آئی تو اسے اپنے اعصاب جواب دیتے ہوئے محسوس ہوئے۔ پورے دن کی تھکن، ارسلان کا رویہ اور پھر ان مشینوں کی ڈراؤنی آوازیں جو اس کے بابا کے جسم کے ساتھ لگی ہوئی تھیں، اسے توڑنے کے لیے کافی تھیں۔ اسے آج اپنی ماں کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔ باہر کوریڈور میں جنت بی بی تسبیح پڑھ رہی تھیں، ان کی آنکھیں نم تھیں۔ شانزے ان کے پاس آتے ہی ان کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ "جنت بی بی! بابا ٹھیک تو ہو جائیں گے نہ؟ میں نے آج امی کو بہت یاد کیا۔ اگر وہ ہوتیں تو میں ان کی آغوش میں چھپ جاتی۔ کیا شادی شدہ زندگی صرف ایک آزمائش ہوتی ہے؟"

    جنت بی بی نے اسے خود سے الگ کیا اور اس کی اتری ہوئی صورت دیکھ کر بولیں، "چندا! یہ کیا حال بنا لیا ہے تم نے؟ تم وہاں خوش نہیں ہو، اس کا اندازہ مجھے پہلے دن ہی ہو گیا تھا۔ مگر میں کیا کرتی؟ بڑی بیگم صاحبہ کے آگے میرا بولنا بنتا نہیں تھا اور حماد میاں بھی ادب اور لحاظ کی وجہ سے ان کے سامنے خاموش ہی رہے۔ وہ گھر تمہارے لائق نہیں تھا شانزے! تم تو نازوں پلی لڑکی ہو، میری ان ہاتھوں میں پلی ہو۔ بی بی صاحبہ کے انتقال کے بعد حماد صاحب اب بالکل ٹوٹ گئے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ان سے بہت بڑی زیادتی ہو گئی ہے۔ وہ ارسلان کے گھر والوں کا شاہانہ لبادہ اور شائستہ مزاج تو محض ایک دکھاوا تھا، اور رہی سہی کسر تمہاری ساس کے اس ایک فون نے پوری کر دی۔"

    شانزے نے تڑپ کر پوچھا، "جنت بی بی! ایسا کیا کہا انہوں نے جو بابا دل پر لگا گئے؟ آپ کو اللہ کی قسم ہے، مجھ سے کچھ مت چھپائیے۔" جنت بی بی نے ایک لمبی آہ بھری، "میں پورا تو نہیں جانتی، بس اتنا پتہ ہے کہ حماد میاں کے ہاتھ سے فون گرا اور وہ ہذیانی انداز میں بول رہے تھے: 'میں ہار گیا فوزیہ! میں ہار گیا۔ میں نے صحیح فیصلہ نہیں کیا، میں نے اپنے ہاتھوں اپنی بیٹی کو دوزخ میں بھیج دیا۔ اب کیا ہوگا؟ میری لاڈو وہاں کیسے جیے گی؟ وہاں تو انسان نہیں رہتے...' بس اتنا کہہ کر وہ بے ہوش ہو گئے۔" شانزے نے کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں سیاہ رات اپنے پر پھیلائے کھڑی تھی۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ اور اس کے بابا دونوں ہی ہار چکے ہیں۔

     عمران کے گھر کی روشنیاں اور اونچی موسیقی، جو جمیلہ کے گھر کے گھٹن زدہ ماحول سے بالکل الٹ تھی۔ محسن، جو اپنی ماں کی دوغلی پالیسیوں سے بیزار تھا، وہاں عمران کی کزن ماریہ سے ملا۔ ماریہ کے والدین قالینوں کے بڑے تاجر تھے اور بہت تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ محسن کو ماریہ کی بے باکی اور سچائی میں وہ سکون نظر آیا جس کی اسے ہمیشہ سے خواہش تھی۔ ان کی ذہنی ہم آہنگی نے بہت جلد دوستی کو محبت میں بدل دیا۔ محسن نے ماریہ کو اسی شام پروپوز کر دیا، مگر ایک شرط کے ساتھ کہ وہ شادی کے بعد اپنی ماں کے گھر میں نہیں رہیں گے۔

    رات کے پچھلے پہر جب محسن گھر لوٹا تو لاؤنج میں جمیلہ کسی شکاری کی طرح بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔ "بڑے صاحب آگئے؟" جمیلہ نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔ "تمہیں پتہ ہے تمہارے باپ کب سے پوچھ رہے ہیں؟ ذرا اس ماں کی عزت کا ہی خیال کر لیا ہوتا..." محسن نے پہلی بار جمیلہ کی بات کاٹ کر اسے ششدر کر دیا۔ "بس کریں امی! بہت ہو گئی یہ عزت اور تربیت کی باتیں، آج کے بعد اگر آپ نے میرے معاملات میں مداخلت کی، تو میں بابا کو وہ سارا سچ بتا دوں گا جو آپ ان سے چھپاتی ہیں۔ آپ کی وہ تمام سازشیں اور وہ پیسے بھی، جو آپ ہر مہینے نانو کو چپکے سے بھجواتی ہیں۔ بابا کی محنت کی کمائی ہے وہ، کوئی خیرات نہیں جو آپ بانٹ رہی ہیں۔" جمیلہ کا چہرہ فق ہو گیا اور محسن پیر پٹختا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

    دوسری طرف ارسلان کے لیے یہ رات کسی عذاب سے کم نہ تھی۔ وہ چھت پر ٹہلتا رہا، ایک کے بعد ایک سگریٹ سلگاتا رہا، مگر اس کے دل کی آگ ٹھنڈی نہیں ہو رہی تھی۔ بے چین ہو کر وہ نیچے اترا تو عارفہ کے کمرے سے آتی ہنسی کی آواز نے اس کے قدم روک لیے۔ "میں تو ہوں ہی ماسٹر مائنڈ! میں جو ارسلان کو کہتی ہوں وہ مان لیتا ہے۔ پہلے درجے کا بیوقوف ہے وہ، جو کہو سچ سمجھ لیتا ہے،" عارفہ فون پر عدیل سے باتیں کرتے ہوئے قہقہے لگا رہی تھی۔ ارسلان کا دل ڈوبنے لگا۔ اس نے غصے میں عارفہ کے کمرے کا دروازہ کھولا اور اس کے ہاتھ سے فون چھین لیا۔

    "کیوں کیا تم نے یہ سب؟ کیا دشمنی تھی تمہاری شانزے سے؟" ارسلان دھاڑا۔ عارفہ نے ڈھٹائی سے جواب دیا، "میں نے کچھ نہیں کیا، تم خود بیوقوف ہو جو ہر بات پر یقین کر لیتے ہو۔ اب وہ چلی گئی ہے تو میں کیا کروں؟" ارسلان کا غصہ اب ضبط کی حدیں پار کر رہا تھا۔ "تم نے میرے اعتبار کا قتل کیا ہے عارفہ! اور اس عدیل کو تو میں اب نہیں چھوڑوں گا، میں تم دونوں کو دیکھ لوں گا!" عارفہ نے بڑی لاپروائی سے ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کا کہا اور بیڈ پر لیٹ گئی۔

    ارسلان اپنے کمرے میں آکر بیڈ پر گر گیا۔ کمرے کی ہر چیز اسے شانزے کی بے گناہی کی یاد دلا رہی تھی۔ اسے شانزے کی وہ بھیگی آنکھیں یاد آرہی تھیں جب وہ اپنی بے گناہی کی دہائی دے رہی تھی اور وہ اسے تھپڑ مار رہا تھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی شانزے کی محبت اس کے دل میں گہرائی تک اتر رہی تھی۔ "اف میرے اللہ! میں کیا کروں؟" اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا۔ کنپٹیاں شدتِ درد سے دکھ رہی تھیں۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے بیڈ کی دراز سے نیند کی گولی نکالی اور کھا کر لیٹ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے بغیر آج اسے نیند نہیں آئے گی، اور ویسے بھی، اس کی زندگی میں اب خوشی ہو یا نہ ہو، کسے پروا تھی؟


  •  شانزے کا دل پکار رہا تھا کہ اب بس بہت ہو چکا، مگر کیا وہ اپنی زندگی کا یہ نیا لائحہ عمل طے کر پائے گی یا حالات کی ستم ظریفی اسے بھی بے بس کر دے گی

  • اگلے موڑ پر کیا ہوگا؟ کیا ارسلان کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا؟ جاننے کے لیے جڑے رہیے میرے ناول 'میرا حصار' کی اگلی قسط کے ساتھ، جو کل رات میرے بلاگ پر شائع ہوگی!

  • Ishrat Zahid Novels

  •  Ishratdigitalcreation@gmail,com

  • ناول: میرا حصار (قسط نمبر 12)

    تحریر: عشرت زاہد

    ہسپتال کے کارڈیک وارڈ کی راہداریوں میں پھیلی سفید روشنی اور فضا میں بسی جراثیم کش ادویات کی بو دل کو ایک عجیب سے خوف میں مبتلا کر رہی تھی۔ رات کے آخری پہر کی خاموشی کو کبھی کسی مشین کے بیپ کرنے کی آواز توڑتی تو کبھی دور سے آتی کسی نرس کے قدموں کی چاپ۔ حماد صاحب کو آئی سی یو سے روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا، جہاں وہ ابھی تک گہری نیند میں تھے، مگر ان کے چہرے کی زردی بتا رہی تھی کہ ان کے دل پر کتنا گہرا بوجھ تھا۔ کمرے کے کونے میں رکھے چھوٹے سے اٹینڈنٹ بیڈ پر شانزے نے جنت بی کو زبردستی لٹا دیا تھا کیونکہ وہ گھر جانے پر کسی صورت راضی نہ تھیں۔ شانزے خود ایک سخت لکڑی کی کرسی پر بیٹھی تھی، جہاں نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اس کے کانوں میں اب بھی ارسلان کے وہ تلخ جملے اور وہ "تھپڑ" گونج رہا تھا جس نے اس کے منہ پر نہیں، بلکہ اس کی روح پر نشان چھوڑ دیا تھا۔

    فجر کی اذان کی آواز سنتے ہی شانزے نے ایک گہری سانس لی اور اپنے بوجھل وجود کو کرسی سے اٹھایا۔ وہ دبے قدموں کمرے سے باہر نکل آئی تاکہ کسی کی نیند میں خلل نہ پڑے۔ ریسپشن سے  کمرے کا راستہ پوچھ کر جب وہ وضو کر کے جائے نماز پر بیٹھی تو اس کے ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے۔ وہ  گر کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور اپنے رب سے باتیں کرنے لگی۔ "یا اللہ! تو تو دلوں کے حال جانتا ہے، مجھ سے کہاں غلطی ہوئی کہ زندگی کا یہ امتحان اتنا کٹھن ہو گیا؟ میں نے ہمیشہ تیرے حکم کی تعمیل کی، اپنے بابا کا مان رکھا، پھر آج میں اس موڑ پر کیوں کھڑی ہوں؟" اس نے آنسوؤں کے درمیان دعا کی کہ اس کے بابا کا سایہ اس کے سر پر سلامت رہے کیونکہ وہی اس کا واحد حصار تھے۔

    واپس کمرے میں پہنچی تو جنت بی جاگ چکی تھیں اور دادی کی کال آ رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد دادی اپنے بھتیجے حمزہ کے ساتھ ہسپتال پہنچ گئیں۔ حمزہ جو لاہور کے راستوں سے ناواقف تھا، لوکیشن ٹریک کر کے یہاں پہنچا تو اس نے شانزے کو ایک کرسی پر ڈھیر پایا۔ حمزہ چائے کے دو کپ لے کر اس کے پاس آیا اور ایک کپ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے تعارف کروایا۔ میں حمزہ ہوں، دادی کے بھائی کا پوتا۔۔ آپ شاید بہت تھک گئی ہیں، تھوڑی چائے پی لیں۔" شانزے نے شکریہ کے ساتھ کپ تھام لیا۔ حمزہ نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا، "آپ کے شوہر ارسلان صاحب نظر نہیں آ رہے، وہ کہاں ہیں؟" شانزے نے ایک لمحے کے لیے نظریں چرائیں اور جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے کہا، "وہ... وہ اصل میں کام کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے ہوئے ہیں، انہیں ابھی اطلاع نہیں ملی۔" حمزہ نے اسے غور سے دیکھا، اسے محسوس ہو رہا تھا کہ شانزے کی آواز میں جو لرزش ہے وہ صرف تھکاوٹ کی وجہ سے نہیں ہے۔

    ادھر ارسلان کی آنکھ شمع بیگم کی چیخ و پکار سے کھلی۔ "ارسلان! اٹھ دیکھ تیری بیوی راتوں رات گھر سے بھاگ گئی ہے، ہمارے منہ پر کالک مل کر چلی گئی!" ارسلان کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔ اس نے کمرے کی بے ترتیبی دیکھی تو اسے احساس ہوا کہ شانزے کے جانے سے صرف کمرہ نہیں، اس کی زندگی بھی بکھر گئی ہے۔ وہ گھر سے نکلا اور اپنے دوست فرحان کے پاس پہنچ گیا۔ دونوں ایک ڈھابے پر ناشتہ کرنے بیٹھے تو فرحان نے سنجیدگی سے پوچھا۔

    "ارسلان، سچ بتاؤ ہوا کیا ہے؟ تم اتنے پریشان کیوں ہو؟" فرحان نے پراٹھا توڑتے ہوئے سوال کیا۔

    ارسلان نے ایک لمبی آہ بھری اور کہا، "فرحان، مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں نے کیا کر دیا ہے۔ شائد میں نے عریفہ کی باتوں میں آ کر بہت جلدی کر دی۔ میں نے شانزے پر ہاتھ اٹھایا اور وہ گھر چھوڑ کر چلی گئی۔"

    فرحان نے حیرت سے اسے دیکھا، "کیا؟ تم نے اس پر ہاتھ اٹھایا؟ ارسلان، تم جانتے ہو کہ ایک بار تمہارا گھر ٹوٹ چکا ہے، پھر بھی تم نے صبر سے کام نہیں لیا؟ عریفہ تو چاہتی ہی یہی ہے کہ تمہارا گھر نہ بسے۔ وہ مکار عورت ہے، تم اس کی باتوں میں کیسے آ گئے؟"

    "مجھے اس وقت کچھ سمجھ نہیں آیا فرحان، مجھے لگا وہ واقعی غلط ہے،" ارسلان نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔

    فرحان نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا، "دیکھو ارسلان، عورت کا مان اس کا شوہر ہوتا ہے، اور تم نے وہی مان توڑ دیا۔ اب پچھتاوے سے بہتر ہے کہ تم کچھ عملی قدم اٹھاؤ۔ میں تمہیں اپنی کزن کے پاس لے کر چلتا ہوں جو میرج کونسلر ہے۔ وہ تم دونوں کے درمیان کی یہ غلط فہمیاں دور کرنے میں مدد کرے گی۔ ایسے مسائل کا حل غصہ نہیں، کونسلنگ ہوتا ہے۔" ارسلان خاموشی سے فرحان کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا، اسے لگ رہا تھا کہ شاید ابھی بھی کچھ بچایا جا سکتا ہے۔

    دوسری طرف جمیلہ بیگم کے گھر میں ایک الگ ہی کھچڑی پک رہی تھی۔ وہ رات بھر سو نہیں سکیں کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ ان کا بیٹا محسن ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ وہ محسن کی بیوی اپنی مرضی سے لانا چاہتی تھیں تاکہ گھر پر ان کی حکمرانی برقرار رہے، مگر محسن اب اپنی مرضی کرنے پر بضد تھا۔ صبح ناشتے کی میز پر افضال صاحب نے سختی سے کہا، "جمیلہ! محسن کو کہو اب وہ لاڈ پیار چھوڑ دے۔ آج سے وہ میرے ساتھ کارخانے جائے گا، اسے بھی تو پتہ چلے کہ پیسہ کیسے کمایا جاتا ہے۔"

    جمیلہ بیگم نے گھبراتے ہوئے جواب دیا، "جی وہ... وہ چلا جائے گا، میں اسے کہہ دوں گی۔"

    افضال صاحب نے غصے سے چائے کا کپ رکھا، "تم نے اسے بگاڑ دیا ہے۔ اب جب تک وہ کمانے نہیں لگے گا، اسے کوئی اپنی بیٹی نہیں دے گا۔ اسے کہو کہ اپنی آوارہ گردی چھوڑ دے۔" جمیلہ بیگم کا دل بیٹھ گیا۔ انہیں پتہ تھا کہ اگر افضال کو محسن کی پسند کا پتہ چلا تو ان کی ساری عزت مٹی میں مل جائے گی۔ وہ کچن میں آ کر ماسی پر اپنا غصہ نکالنے لگیں، مگر ان کے ذہن میں ایک ہی بات چل رہی تھی کہ محسن کو کیسے روکا جائے اور اسے اس لڑکی سے کیسے دور کیا جائے۔

    وہ سب اس وہم میں تھے کہ وہ زندگی کے فیصلے خود کر رہے ہیں، مگر تقدیر کا اپنا ایک حصار تھا جو ان سب کے گرد آہستہ آہستہ تنگ ہو رہا تھا۔

    (جاری ہے...)

  • اگلے موڑ پر کیا ہوگا؟ کیا ارسلان کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا؟ جاننے کے لیے جڑے رہیے میرے ناول 'میرا حصار' کی اگلی قسط کے ساتھ، جو کل رات میرے بلاگ پر شائع ہوگی!

  • Ishrat Zahid Novels

  •  Ishratdigitalcreation@gmail,com

  • ناول: میرا حصار (قسط نمبر 13)

    تحریر: عشرت زاہد

    "کچھ خاموشیاں اتنی گہری ہوتی ہیں کہ وہ لفظوں کے حصار کو روند ڈالتی ہیں۔ ہسپتال کی اس سرد راہداری میں بیٹھی شانزے کو لگ رہا تھا جیسے وقت تھم گیا ہے۔ ایک طرف اس کے بابا زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے اور دوسری طرف اس کے اپنے گھر کی بنیادیں ہل چکی تھیں۔ ارسلان کا وہ تھپڑ صرف ایک جسمانی ضرب نہیں تھی، وہ اس کے مان کے شیش محل پر لگنے والی وہ پہلی دراڑ تھی جس نے سب کچھ دھندلا دیا تھا۔"

    حمزہ نے جب دوبارہ اس سے ارسلان کے بارے میں پوچھا، تو شانزے کے پاس جھوٹ کی کوئی نئی تہہ باقی نہ تھی۔ وہ کب تک حقیقت سے نظریں چراتی؟ دوسری طرف، ارسلان اب میرج کونسلر کے کمرے کے باہر بیٹھا اپنے ہی ہاتھوں کی لرزش کو دیکھ رہا تھا۔ کیا ایک پروفیشنل مشورہ اس ٹوٹے ہوئے اعتبار کو دوبارہ جوڑ سکتا تھا؟ یا عریفہ کی سازشیں اب ایک نیا جال بننے والی تھیں؟

    فرحان کے ساتھ جب ارسلان اندر گیا تو شاہینہ باجی نے انہیں بہت اچھے سے خوش آمدید کہا۔ فرحان نے ارسلان کا تعارف کروایا اور آنے کی وجہ بیان کی۔ شاہینہ ارسلان کی زبانی سب سننا چاہتی تھیں اور وہ ساری صورتحال سمجھ چکی تھیں۔ ان کا کہنا تھا: "ارسلان میاں! میاں بیوی وہ پہلا رشتہ ہے جو رب نے سب سے پہلے بنایا اور باقی رشتے بعد میں آئے۔ عورت کو تو تخلیق ہی اس لیے کیا گیا کہ وہ مرد کی ساتھی بنے، اس کا ایمان مکمل کرتی ہے، اس کے دکھ سکھ میں اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ مردوں کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی کہ ایک لڑکی جب ایک لڑکے کے نکاح میں آتی ہے تو اپنا سب کچھ چھوڑ کر اس لڑکے کا گھر بسانے آتی ہے۔ اس کے شوہر پر اس کے نان نفقے کی ذمہ داری شریعت نے رکھی ہے۔ دستور کے مطابق جتنا ہو خرچ کرے، اسے اچھے سے رکھے، اسے گھر کا تحفظ دے، اسے اعتبار دے تاکہ وہ ایڈجسٹ ہو سکے۔"

    شاہینہ باجی نے ارسلان کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بات جاری رکھی: "ساس نندوں کی ذمہ داری شریعت نے بیوی پر نہیں ڈالی، یہ ذمہ داری لڑکے پر ہے کہ وہ اپنے والدین کا خیال رکھے اور بہن بھائیوں کا بھی۔ یہاں لڑکی کو سارے سسرال کی خدمت پر ڈال دیا جاتا ہے۔ ساس بھی بولے گی، نند بھی بولے گی۔ کیا وہ ایک ماسی  لائے ہیں؟ اس کی ذہنی حالت تباہ کر دی جاتی ہے۔ اسے بس یہ کام دیا جاتا ہے کہ سسرال والوں کو خوش کرو۔ دونوں کو موقع نہیں دیا جاتا کہ وہ ایک دوسرے کو سمجھیں، اسی وجہ سے طلاق کا تناسب بڑھ گیا ہے۔" انہوں نے وارننگ دی: "ارسلان! ابھی واپسی کا دروازہ کھلا ہے۔ آپ کو ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا، یہ کام مردوں کو زیب نہیں دیتا۔ جو عزت کی چادر اوڑھاتے ہیں وہ پھر سب کے سامنے اس کی عزت کرتے ہیں، اسے ذلیل نہیں کرتے۔ ہماری سوسائٹی میں لڑکے کی تربیت کرنا ماں بھول چکی ہے۔ بیٹے کو بلیک میل کر کے طلاق دلوا دی جاتی ہے۔ میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ شانزے سے معافی مانگیں اور انہیں الگ گھر میں رکھیں، یہ ان کا حق ہے۔ بیٹیاں مار کھانے کے لیے آپ کے گھر نہیں آتیں، آپ کا آنگن مہکانے آتی ہیں کیونکہ وہ پھول ہوتی ہیں۔"

    ارسلان ابھی گاڑی کے پاس پہنچا ہی تھا کہ اس کے پڑوسی، عقیل صاحب کا فون آ گیا۔ "ارسلان بیٹا! تمہاری دکان پر کچھ لوگ آئے ہوئے ہیں اور عدیل ان کو دکان دکھا رہا ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ تم نے سودا کر لیا ہے؟" ارسلان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ فرحان اور پولیس کو لے کر وہاں پہنچا، جہاں عدیل رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ پولیس کسٹڈی میں عدیل نے اگل دیا: "ارسلان بھائی! خدا کی قسم اس سب میں عریفہ کی سازش ہے، میں تو انٹرسٹڈ بھی نہیں تھا۔ عریفہ خود میرے پیچھے پڑی ہوئی تھی، وہ مجھے فون کر کے بلاتی تھی۔ آپ میرا فون ریکارڈ چیک کر لیں۔ یہ کاغذات بھی انہوں نے ہی دیے تھے تاکہ دکان ان کے نام ہو جائے۔ وہ تو آپ کے گھر کی ملکیت بھی اپنے نام چاہتی ہیں۔ اسی لیے انہوں نے لالچ دیا کہ اگر شانزے کو نکلوانے میں مدد کی تو دکان آدھی تمہارے نام کر دوں گی۔ میں ان کی باتوں میں آ گیا تھا۔" ارسلان کا دل بیٹھنے لگا کہ آستین میں سانپ تھا اور وہ پہچان نہ سکا۔

    وہ صدمے میں گھر پہنچا تو عریفہ سو رہی تھی جبکہ شمع بیگم فرش پر بے سدھ تھیں۔ ہسپتال کی آئی سی یو کے باہر ڈاکٹر نے بتایا: "ارسلان صاحب، آپ کی والدہ کی حالت نازک ہے۔ بی پی اور شوگر ہائی ہونے سے انہیں دائیں طرف کا فالج ہوا ہے، اگلے چوبیس گھنٹے اہم ہیں۔" ارسلان وہیں بیٹھ کر رونے لگا تو فرحان نے اسے سنبھالا: "ہمت کرو ارسلان! آنٹی ٹھیک ہو جائیں گی۔ لیکن پچھتاوا صرف رونے سے ختم نہیں ہوتا۔ میں نے پتا کروایا ہے، شانزے بھابھی کے والد کو بھی اٹیک ہوا تھا، وہ ابھی ڈسچارج ہوئے ہیں۔ تمہیں پہل کرنی ہوگی، جاؤ ان سے معافی مانگو اور اپنے گھر کو بچاؤ۔" ارسلان نے عزم کیا: "تم صحیح کہہ رہے ہو فرحان، میں کل ہی شانزے کے گھر جاؤں گا اور اس کا سامنا کروں گا۔"

    دوسری طرف جمیلہ بیگم اپنے بیٹے محسن کو ماریہ کے رشتے کے لیے قائل کر رہی تھیں۔ محسن نے دو ٹوک کہا: "مجھ سے کوئی گیم مت کھیلیے گا امی! میں ارسلان ماموں نہیں ہوں۔ میں جانتا ہوں آپ وہاں جا کر ایسی باتیں کریں گی کہ وہ خود انکار کر دیں تاکہ میں آپ کے قابو میں رہوں۔" جمیلہ بیگم سٹپٹا گئیں، مگر پھر مکر و فریب کی مسکراہٹ سجا لی کہ جب رشتہ ٹوٹے گا تو محسن خود ہی ٹھنڈا ہو کر بیٹھ جائے گا۔

    (جاری ہے...)اگلے موڑ پر کیا ہوگا؟

  •  جاننے کے لیے جڑے رہیے میرے ناول 'میرا حصار' کی اگلی قسط کے ساتھ، جو کل رات میرے بلاگ پر شائع ہوگی!

  • Ishrat Zahid Novels

  •  Ishratdigitalcreation@gmail,com

  • اول: میرا حصار

    قسط نمبر: 14 تحریر: عشرت زاہد

    ہسپتال کے اس خاموش کمرے میں صرف مشینوں کی بیپ سنائی دے رہی تھی۔ شمع بیگم، جو کبھی پورے گھر پر اپنی آواز کا جادو چلاتی تھیں، آج ایک بے جان مورت بنی بیڈ پر پڑی تھیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق انہیں اب مکمل طور پر ایک نرس، فزیو تھراپسٹ اور سب سے بڑھ کر کسی اپنے کی ضرورت تھی، تاکہ وہ اس صدمے سے باہر نکل سکیں۔ وہ ہوش میں تو آ گئی تھیں، مگر ان کے چہرے پر فالج کا اثر صاف نظر آ رہا تھا جس کی وجہ سے وہ بولنے سے قاصر تھیں۔ یہ کیسا مکافاتِ عمل تھا؟ کل تک جس شمع بیگم کے آگے کوئی بول نہیں پاتا تھا، آج وہ خود بے بسی کی تصویر بنی سب کو دیکھ رہی تھیں۔ قدرت نے نوشین اور شانزے کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا حساب اسی دنیا میں چکا دیا تھا۔

    ڈاکٹروں نے ارسلان کو مشورہ دیا: "ارسلان صاحب! آپ انہیں گھر لے جائیں، وہاں اپنوں کے درمیان ریکوری جلدی ہوگی۔" ارسلان کے لیے یہ بات کسی امتحان سے کم نہ تھی۔ وہ "اپنے" کہاں سے لاتا؟ جنہیں اپنا سمجھا تھا وہ آستین کے سانپ نکلے اور جو رب نے سچی ساتھی دی تھی، اسے وہ خود اپنے ہاتھوں سے کھو چکا تھا۔ فرحان نے ایک سچے دوست کی طرح ساتھ دیا اور ایک ماہر نرس کا بندوبست کیا جو دن رات شمع بیگم کے ساتھ رہ سکے۔

    گھر پہنچ کر ارسلان تنہائی میں شانزے کی کمی بری طرح محسوس کرنے لگا۔ اسے احساس ہوا کہ ایک پڑھی لکھی اور نیک سیرت بیوی اور ماں کیوں ضروری ہے، جو سیاست نہیں بلکہ انسانیت سکھائے۔ اسے شانزے جیسی ہی ماں اپنے بچوں کے لیے چاہیے تھی، اپنی ماں یا بہنوں جیسی نہیں جہاں صرف سیاست ہو، ادب اور تمیز نہیں۔

    اسی دوران ایک اور حادثہ ہو گیا۔ عریفہ، جو اپنی ماں کی بیماری سے لاپرواہ تھی، چھت سے نیچے آتے ہوئے انہی سیڑھیوں سے گر پڑی جہاں سے کبھی اس نے نوشین کو دھکا دیا تھا۔ پاؤں کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی اور وہ درد سے تڑپ رہی تھی۔ جب ارسلان نے جمیلہ آپا کو فون کر کے مدد کے لیے بلایا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا: "ارسلان، میں روز روز نہیں آ سکتی، افضل کو برا لگتا ہے۔" ابھی ارسلان ان پریشانیوں میں تھا کہ جمیلہ آپا کا دوبارہ فون آ گیا، وہ رو رہی تھیں: "ارسلان! افضل کا بہت برا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے، وہ ہسپتال میں ہیں، دعا کرنا وہ بچ جائیں۔" عریفہ یہ سن کر مزید سہم گئی، اسے یقین ہو گیا کہ اب حساب کا وقت سب کے لیے شروع ہو چکا ہے۔

    اگلے دن ارسلان شانزے کے گھر پہنچا۔ شانزے اسے دیکھ کر خاموش تھی، وہ سوچ میں تھی کہ ایک طرف بابا کی طبیعت تھی جو ذرا سی ذہنی پریشانی سے مزید بگڑ سکتی تھی، اور دوسری طرف اس کا اپنا ٹوٹا ہوا مان۔ وہ ذہنی طور پر اب ارسلان کے ساتھ جانے کے لیے تیار نہیں تھی۔ ارسلان نے اس کا مان توڑا تھا، اس کی عزتِ نفس کو مجروح کیا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ اب جو بھی قدم اٹھائے، سوچ سمجھ کر اٹھائے، جلد بازی میں کوئی غلطی نہیں کرنا چاہتی تھی۔

    شانزے نے ارسلان کو نم آنکھوں سے دیکھا اور اپنے دل میں سوچنے لگی:

    میرے ہم نشیں میرے مہربان تجھے کیا کہوں یہ بتا مجھے میری زندگی تجھے کیا کہوں جو گلہ ہے مجھ کو سنوار دے جو ملا ہے مجھ کو بتا اسے میں کسی کے جینے کی آس ہوں میں کسی کے دل کا قرار ہوں تجھے کیا ملا میرے ہم نشیں میرے مہربان

    ارسلان! مجھے وقت چاہیے تاکہ میں خود کو تیار کر سکوں، آپ پر دوبارہ بھروسہ کرنے کے لیے۔ فی الحال مجھے بابا کے ساتھ رہنا ہے، میں آپ کو مطلع کر دوں گی۔ اپنی زندگی کا فیصلہ لینے کا حق تو مجھے بھی ہے، شانزے نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔

    ارسلان نے ندامت سے سر جھکا لیا، "بالکل شانزے! تم جتنا چاہو وقت لو، میں اپنے رویے پر شرمندہ ہوں۔ مجھے بس ایک موقع ضرور دینا، میں تمہارے جواب کا انتظار کروں گا۔ اچھا۔۔۔ اب میں چلتا ہوں، کیا میں انکل سے مل سکتا ہوں؟ ان کی طبیعت کا سنا تھا تو فکر ہو رہی تھی۔" شانزے نے سر ہلایا اور کہا "میں آپ کی ملاقات کروا دیتی ہوں"۔

    شانزے نے بابا کے کمرے کا دروازہ تھوڑا سا کھول کر دیکھا تو وہ جاگ رہے تھے۔ حماد صاحب نے اسے دیکھ کر پکارا، "آ جاؤ شانزے، دروازے پر کیوں کھڑی ہو؟" شانزے اندر آئی اور کہنے لگی، "بابا! ارسلان آئے ہیں، آپ کی طبیعت کا پوچھنے اور آپ سے ملنے۔ کیا اندر بلا لوں؟" حماد صاحب بولے، "یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ باہر کیوں کھڑا رکھا ہے، اندر بلاؤ اور چائے کا بندوبست کرواؤ، جانت بی سے کہو اچھی سی چائے پلائیں ارسلان کو۔"

    یہ سنتے ہی ارسلان کی شرمندگی مزید گہری ہو گئی۔ وہ ان سب کے خلوص کا جواب بدتمیزی سے دیتا آیا تھا۔ شانزے ارسلان کو بابا کے پاس بٹھا کر چائے کا کہنے چلی گئی تو ارسلان نے بے اختیار حماد صاحب کے ہاتھ پکڑ لیے۔ "انکل! مجھے معاف کر دیں، میں نے بہت بڑی بھول کر دی ہے، شانزے کو ہرٹ کیا ہے۔ آپ اسے کہیں وہ میرے ساتھ چلے، میں اب کچھ ایسا نہیں کروں گا، اس کا خیال رکھوں گا۔ میں نے الگ گھر کا بھی کہا ہوا ہے، شانزے الگ رہے گی۔"

    حماد صاحب مسکرائے اور بولے، "مجھے ابھی پتا چلا تمہارے کہنے سے کہ شانزے تم سے ناراض ہو کر آئی ہے، میں سمجھا میری بیماری کی وجہ سے آئی ہے۔ ارسلان! میری بیٹی بہت سادہ مزاج ہے، اسے زمانے کی چالاکیاں نہیں آتیں، اسے سیاست نہیں آتی۔ اس دن تمہاری امی کا فون آیا تھا میرے پاس، بہت نازیبا الفاظ ادا کیے تھے میری بیٹی کے لیے۔ میری بیٹی بوجھ نہیں ہے، لیکن میں اس کے لیے ایسا شریکِ حیات چاہتا تھا جو مجھ سے زیادہ اس کا خیال رکھے، جو اس کی حفاظت کرے، اسے عزت، مان اور یقین دے۔ میں نے کبھی اس پر ہاتھ تک نہیں اٹھایا بیٹا۔ زندگی میں اونچ نیچ تو ہو جاتی ہے، بس صبر اور برداشت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ تمہاری باتوں سے لگتا ہے تم پچھتا رہے ہو، میں نے ابھی شانزے سے کچھ نہیں کہا۔ میں چاہتا ہوں وہ جو بھی فیصلہ لے، خود ڈیسائیڈ کرے۔ تمہیں انتظار کرنا ہوگا۔"

    اتنے میں جانت بی چائے لے کر آ گئیں۔ ارسلان نے چائے پی اور جیسے ہی کمرے سے باہر نکلا تو ساتھ شانزے کو کھڑا پایا اور کہا: "میں انتظار کروں گا اپنی زندگی کی آخری سانس تک تمہاری معافی کا اور تمہارے دوبارہ میری زندگی میں شامل ہونے کا، جہاں ہمارا رشتہ برابری اور عزت پر قائم ہوگا۔ جو بھی فیصلہ لینا ہو مجھے بتا دینا، میرا فون آن ہے تاکہ جب تم بتاؤ تو میں تمہیں لینے آ جاؤں۔"

    (جاری ہے...)

  • آپ کی رائے میرے لیے اہم ہے!

    "مکافاتِ عمل کا پہیہ گھوم چکا ہے اور ارسلان آج اپنی انا چھوڑ کر شانزے کے سامنے جھک گیا ہے۔ مگر کیا ٹوٹا ہوا مان اور لٹی ہوئی عزتِ نفس صرف ایک معافی سے بحال ہو سکتی ہے؟"

    آپ کے خیال میں شانزے کو اب کیا کرنا چاہیے؟یا پھر وہ اپنی خودداری کی خاطر خلع کا راستہ اپنائے اور اس حصار سے ہمیشہ کے لیے باہر نکل جائے؟

    کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں، کیونکہ شانزے کا اگلا قدم آپ کے مشورے کا محتاج ہو سکتا ہے!کیا وہ ارسلان کے بدلتے ہوئے رویے اور پچھتاوے پر بھروسہ کر کے اسے معاف کر دے؟

  •  جاننے کے لیے جڑے رہیے میرے ناول 'میرا حصار' کی اگلی قسط کے ساتھ، جو کل رات میرے بلاگ پر شائع ہوگی!

  • Ishrat Zahid Novels

  •  Ishratdigitalcreation@gmail,com

  •  "میرا حصار - قسط 15

  • تحریر: عشرت زاہد

    شانزے نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا، آج اس کی آنکھوں میں وہ پرانی بے بسی نہیں بلکہ ایک نیا عزم تھا۔ بابا کی علالت نے اسے وقت سے پہلے بہت کچھ سکھا دیا تھا۔ جب اس نے فیکٹری جانے کے لیے اپنی گاڑی کی چابی اٹھائی، تو اسے ارسلان کا وہ جملہ یاد آیا کہ "تمہاری اوقات کیا ہے؟"۔ آج وہ اسے دکھانا چاہتی تھی کہ ایک عورت کی اوقات اس کے کردار اور اس کی ہمت سے ہوتی ہے، کسی مرد کی دی ہوئی پہچان سے نہیں۔

    وہ تیار ہو کر بابا کے کمرے میں آئی۔ حماد صاحب نے اسے دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتے ہوئے سمجھایا، "بیٹا! میں نے فیصل صاحب کو فون کر دیا ہے، اب سے میٹنگز میں تم ہی میری نمائندگی کرو گی۔ میرے بعد یہ سب تمہیں ہی سنبھالنا ہے۔" شانزے نے محبت سے کہا، "بابا! میں آپ کی طبیعت کی وجہ سے جا رہی ہوں، آپ کو جلد ٹھیک ہو کر اپنی سیٹ خود سنبھالنی ہوگی۔" حماد صاحب کی آنکھوں میں بیٹی کے لیے فخر چمک رہا تھا، انہوں نے جاتے ہوئے ٹوکا، "اپنے اور ارسلان کے بارے میں بھی کچھ سوچنا، سارا وقت کام میں ہی نہ گم ہو جانا۔" شانزے "جی اچھا" کہہ کر باہر نکل آئی مگر دل میں سوچا، "بنا لوں پہلے خود کو، پھر سوچوں گی کہ ساتھ رہنا ہے یا نہیں۔ معاف کر دینے اور زخم بھول جانے میں بڑا 

    فرق ہے۔ میری روح زخمی ہے، سب اتنی جلدی کیسے بھول جاؤں؟"

    آفس پہنچ کر فیصل صاحب نے اس کا استقبال کیا اور اسے رمیز کے ساتھ بورڈ روم بھیج دیا تاکہ وہ کمپنی کی اپ ڈیٹس لے سکے۔ میٹنگ بہت اچھی رہی، تمام ممبران نے شانزے کی سنجیدگی اور دلچسپی کو سراہا۔ میٹنگ کے بعد فیصل صاحب نے اسے اپنے آفس میں کافی کی پیشکش کی اور اس کے تعلیمی پس منظر سے متاثر ہو کر اسے روزانہ آفس آنے کا مشورہ دیا۔ "شانزے! تمہارے اندر بہت پوٹینشل ہے، تم چاہو تو اپنے بابا کا کمرہ استعمال کرو یا میں نیا سیٹ اپ کروا دیتا ہوں۔" شانزے نے شکریہ ادا کیا اور بابا کے کمرے کو دیکھا جو مدتوں سے ان کا منتظر تھا۔ وہاں سے نکلتے ہوئے اسے محسوس ہوا کہ وہ اب صرف ایک مظلوم بیوی نہیں، ایک بااختیار خاتون ہے۔

    دوسری طرف، ارسلان کے گھر میں خاموشی کا راج تھا۔ شمع بیگم فزیو تھراپی کے دوران بولنے کی کوشش کر رہی تھیں مگر صرف آنسو ہی نکل پاتے تھے۔ ارسلان گھر آیا تو اسے ہر طرف ویرانی محسوس ہوئی۔ اسے ہر پل شانزے کی کمی محسوس ہوتی تھی۔ جب وہ اپنی ماں کے پاس گیا تو انہوں نے ٹوٹے ہوئے الفاظ میں کہا، "ماں۔۔۔ فف۔۔ فی (معافی)۔" ارسلان نے ماں کا ہاتھ چوما اور انہیں تسلی دی، مگر وہ خود اندر سے ٹوٹا ہوا تھا۔ وہ شانزے کی ایک کال یا میسج کا منتظر تھا تاکہ اپنی نادانیوں کا ازالہ کر سکے اور ایک نئے حصار میں زندگی شروع کر سکے۔

    اسی شام ارسلان کی ملاقات فرحان سے ہوئی۔ فرحان نے افضل صاحب کی خیریت پوچھی اور پھر شانزے کا تذکرہ چھیڑا۔ "یار ارسلان! اگر تم مناسب سمجھو تو کیا میں بھابھی سے بات کروں؟" ارسلان نے مایوسی سے کہا، "شاید وہ تمہاری بات مان جائے۔" فرحان نے دل میں ارسلان کا گھر بچانے کا پکا ارادہ کر لیا تھا، اسی لیے اس نے شاہینہ باجی سے بھی رابطہ کیا اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔ شاہینہ باجی نے جب شانزے کا نمبر مانگا تو فرحان نے فوراً فراہم کر دیا، اس امید کے ساتھ کہ شاید کوئی راستہ نکل آئے۔

    ادھر ہسپتال میں افضل صاحب سے ملنے ماریہ کے والدین آئے تھے۔ جمیلہ خاموش اور اتری ہوئی شکل کے ساتھ ایک طرف بیٹھی تھی۔ افضل صاحب نے ماریہ کے والدین کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے باتوں ہی باتوں میں بچوں کے مستقبل (شادی) کا ذکر چھیڑ دیا۔ ان کے جانے کے بعد افضل صاحب نے محسن سے ماریہ کے بارے میں پوچھا تو محسن نے صاف کہہ دیا، "بابا! ماما جانتی ہیں لیکن وہ اس رشتے کے لیے راضی نہیں۔" افضل صاحب نے اسے یقین دلایا، "میں تمہاری پسند کی شادی کرواؤں گا۔ میں نے زندگی جمیلہ کی مرضی کے مطابق گزاری ہے لیکن اب میں تمہیں تمہاری مرضی کی زندگی گزارنے کا موقع دوں گا۔"

    پاس ہی صوفے پر لیٹی جمیلہ سب سن رہی تھی۔ اسے احساس ہوا کہ جس شوہر کو اس نے اپنی جاگیر سمجھا، وہ دراصل اس کی مصلحت پسندی تھی جو اسے برداشت کر رہی تھی۔ وہ اٹھی اور افضل کے پاس آ کر رو پڑی، "افزل! میں شرمندہ ہوں۔ میں نے ہر چیز کو اپنی ملکیت سمجھا، پر اصل خوشی بانٹنے میں تھی چھیننے میں نہیں۔" افضل نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے معاف کر دیا اور ہدایت کی کہ اب ارسلان کی بیوی کو بھی واپس لانے کی کوشش کرے۔

     شام ڈھلے جب شانزے آفس سے واپس گھر کی طرف نکلی، تو اس کے چہرے پر تھکن کے باوجود ایک عجیب سا سکون تھا۔ آج پہلی بار اسے لگا کہ اس کی اپنی بھی کوئی پہچان ہے۔  کبھی ارسلان نے اس کی تذلیل کی تھی۔ اس نے گاڑی کی رفتار کم کی اور ایک گہرا سانس لیا۔ آج وہ وہ پرانی شانزے نہیں تھی جو کسی کے لفظوں سے ٹوٹ جائے۔ گھر پہنچ کر جب اس نے بابا کو آج کی میٹنگ کی تفصیلات سنائیں تو حماد صاحب کی آنکھوں میں فخر کی چمک دیکھ کر اسے لگا کہ اس کی زندگی اب صحیح راستے پر آ گئی ہے۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب وہ اپنی زندگی کی باگ ڈور کسی اور کے ہاتھ میں نہیں دے گی۔

    آپ کی رائے ہمارے لیے اہم ہے! کمنٹس میں ضرور بتائیے گا کہ شانزے کو اب کیا فیصلہ کرنا چاہیے؟ کیا اسے ارسلان کو معاف کر دینا چاہیے یا اپنی نئی زندگی کی طرف بڑھ جانا چاہیے؟

    آنے والی اقساط کے لیے جڑے رہیے۔ آپ سب کی پسندیدگی کا بے حد شکریہ!

    میرے فیس بک ناول گروپ "Ishrat Zahid Novels" کو ضرور جوائن کریں اور مجھے فالو کرنا مت بھولیں تاکہ آپ کو میرے ناولز کی ہر نئی قسط بروقت ملتی رہے۔


  • قسط نمبر 16 اور 17 (میگا لاسٹ قسط)

    تحریر: عشرت زاہد

    فرحان کی والدہ آج شمع بیگم کی عیادت کے لیے آئی تھیں۔ باتوں باتوں میں انہوں نے عریفہ کے مستقبل کا ذکر چھیڑ دیا۔ "شمع! اب عریفہ کے پاؤں کا پلستر بھی اتر چکا ہے اور ماشاءاللہ وہ پہلے سے زیادہ سلجھی ہوئی لگ رہی ہے۔ میری ایک کزن ہیں، ان کا بیٹا بہت نیک اور برسرِ روزگار ہے۔ میں سوچ رہی تھی کہ اب عریفہ کو اپنے گھر کا کر دینا چاہیے۔ بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں، لیکن ان کا اپنے گھر میں آباد ہونا ہی والدین کا سکون ہوتا ہے۔ لڑکیاں کبھی اپنے منہ سے نہیں کہتیں، ان کے بڑوں کو ہی سوچنا ہوتا ہے۔"

    ارسلان جو قریب ہی بیٹھا تھا، فوراً بولا: "جی آنٹی! میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ عریفہ اب اپنی پچھلی تمام تلخیاں بھول کر نئی زندگی شروع کرے۔" فرحان کی والدہ نے اسے شفقت سے سمجھایا: "بیٹا! مایوس نہیں ہوتے۔ تم نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، اللہ تمہارے لیے بھی راستے کھولے گا۔ اپنی بیوی سے بھی جا کر بات کرو، بیٹھ کر بات کرنے سے ہر مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ لڑکا صاحبِ حیثیت ہے، اسے جہیز کی کوئی طلب نہیں۔ وہ بس ایک ایسی لڑکی چاہتا ہے جو اس کی نسل کی اچھی تربیت کرے اور دکھ سکھ کی ساتھی بنے۔"

    ارسلان سوچ میں ڈوبا ہوا تھا، پھر کہنے لگا: "آنٹی! جہیز تو ہمارے معاشرے کا ناسور ہے۔ ہم بیٹی والوں پر اتنا بوجھ ڈال دیتے ہیں، جبکہ سب سے قیمتی چیز تو ان کی بیٹی ہوتی ہے۔ لڑکے کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کا نان نفقہ خود اٹھائے۔ لوگ بے جا رسومات پر اتنا پیسہ ضائع کر کے اس مقدس فریضے کو مشکل بنا دیتے ہیں۔" فرحان کی والدہ ارسلان کی یہ پختہ باتیں سن کر مسکرا دیں: "تم میں احساسِ ذمہ داری آ گیا ہے، یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔"

    آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے۔ شانزے ٹیرس پر کھڑی بارش کی بوندوں کو دیکھ رہی تھی جب حمزہ دو کپ چائے لیے وہاں آ گیا۔ "کیا سوچ رہی ہیں آپ؟" حمزہ نے ایک کپ اس کی طرف بڑھایا۔ "شانزے! دل کا موسم اچھا ہو تو سب اچھا لگتا ہے، ورنہ بارش بھی اداس کر دیتی ہے۔ آپ اوپر سے جتنا بھی مسکرائیں، اندر سے اداس ہیں۔ ارسلان شرمندہ ہیں، وہ تلافی کرنا چاہتے ہیں۔ ایک موقع تو بنتا ہے۔ خوشیاں آپ کے دروازے پر دستک دے رہی ہیں، ان سے منہ نہ موڑیں۔" شانزے "اچھا" کہہ کر لاؤنج میں آ گئی جہاں بابا، دادو اور جنت بی کی گپ شپ چل رہی تھی۔ وہ بھی ان کے پاس بیٹھ گئی، مگر حمزہ کی باتیں اس کے دل میں دستک دے رہی تھیں۔

    شمع بیگم اب فزیو تھراپی کی مدد سے تھوڑی دیر سہارے کے ساتھ بیٹھنے لگی تھیں۔ ارسلان نرس کے ساتھ مل کر پوری کوشش کرتا کہ ڈاکٹرز کی ہدایات کے مطابق انہیں ورزش کروائے۔ چھ ماہ کے اس کٹھن وقت نے ان کے اندر کا نخرہ اور ہٹ دھرمی دفن کر دی تھی۔ وہ سوچ رہی تھیں: "جیسے ہی میں بولنے کے قابل ہوئی، میں نوشین، شانزے اور ان کے والدین سے معافی مانگوں گی۔" انہیں احساس ہو گیا تھا کہ ظلم اتنا ہی کرنا چاہیے جتنا انسان خود برداشت کر سکے، کیونکہ مکافاتِ عمل برحق ہے۔

    افضل صاحب بھی اب مکمل مطمئن تھے۔ گھر کی فضا پرسکون ہو چکی تھی۔ جمیلہ افضل صاحب کے لیے سوپ بنا کر لائیں تو وہ کہنے لگے: "جمیلہ! میں سوچ رہا ہوں کہ محسن کی شادی کے بعد ہم حج پر جائیں۔" جمیلہ نے تائید کی: "آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ میں نے ہمیشہ دکھاوے کو ہی سب کچھ سمجھا، لیکن اصل خوشی تو سادگی اور رب کو راضی کرنے میں ہے۔ ہم لوگوں کو اپنی ملکیت سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ سب کی ڈور اللہ کے ہاتھ میں ہے۔" افضل صاحب نے مسکرا کر جمیلہ کو دیکھا: "صبح کا بھولا شام کو گھر آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ اب ارسلان کو کہو کہ جا کر اپنی بیوی کو لے آئے۔"


    ارسلان نے پورے گھر کی کایا ہی پلٹ دی تھی۔ لاؤنج میں نیا فرنیچر آ چکا تھا اور اس نے ڈائننگ ایریا اور لاؤنج کو خوبصورتی سے الگ کر دیا تھا۔ یہ سب کر لینے کے بعد ارسلان عریفہ کے کمرے میں داخل ہوا اور رشتے کے بارے میں پوچھا۔ ارسلان کی بات سنتے ہی عریفہ بھائی کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ "بھائی! مجھے معاف کر دیں، میں لالچ میں اندھی ہو گئی تھی۔ مجھے احساس ہو گیا ہے کہ ایک کھیل ہم کھیلتے ہیں اور ایک قدرت! اور ہوتا وہی ہے جو قدرت چاہتی ہے۔" ارسلان نے اس کے آنسو پونچھے: "عریفہ! انسان خطاؤں کا پتلا ہے، اگر تم نے اپنی غلطیوں سے سیکھ لیا ہے تو اب پیچھے مڑ کر نہ دیکھو۔" عریفہ نے کہا: "بھائی! میں راضی ہوں، لیکن میں پہلے شانزے سے معافی مانگنا چاہتی ہوں۔ کیا آپ مجھے وہاں لے کر جائیں گے؟"

    اگلے ہی روز ارسلان اور عریفہ شانزے کے گھر پہنچ گئے۔ عریفہ نے سب کے سامنے شانزے کے ہاتھ تھام لیے۔ "شانزے! میں آج سب کے سامنے تم سے معافی مانگنے آئی ہوں۔ میں نے اپنے لالچ اور حسد میں تم پر وہ الزام لگایا جو ایک عورت کے لیے موت سے بدتر ہوتا ہے۔" شانزے کے بابا نے کہا: "عریفہ بیٹی! معافی مانگ لینا اعلیٰ ظرفی کی نشانی ہے، اس سے کوئی چھوٹا نہیں ہو جاتا۔ اصل بہادری یہ ہے کہ اپنی غلطی تسلیم کر کے اپنی اصلاح کی جائے اور اسے دوبارہ نہ دہرایا جائے۔" شانزے نے عریفہ کو گلے سے لگا لیا۔

    دوسری طرف جمیلہ نے ماریہ کے گھر والوں کا دل سے خیر مقدم کیا۔ محسن جذباتی ہو کر ماں کے گلے لگ گیا؛ وہ بچپن سے جس ممتا اور گھرانے کی تمنا کر رہا تھا، آج اسے وہ مل گیا تھا۔ وعدے کے مطابق اس نے ماریہ کے لیے الگ گھر کا انتظام کیا جہاں وہ اپنی مرضی سے زندگی بسا سکے۔

    واپسی پر گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ارسلان نے پوچھا: "شانزے! امی والے گھر جاؤ گی یا 'ہمارے' گھر؟ میں نے ایک چھوٹا سا اپارٹمنٹ لیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی پسند سے اسے سجاؤ۔ امی کے لیے نرس رکھ لی ہے، تمہیں ان کی خدمت کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔" عریفہ نے بھی پیچھے سے کہا: "بھابھی! آپ کی ذمہ داری بس بھائی ہیں، باقی سب کام میں خود سیکھ رہی ہوں۔" ارسلان نے گاڑی روک کر گجروں کے دو جوڑے لیے؛ ایک شانزے اور ایک عریفہ کو دیا۔ گجروں کی خوشبو نے برسوں کی اداسی ختم کر دی۔ ارسلان سمجھ چکا تھا کہ مرد کی اصل ذمہ داری رشتوں میں 'بیلنس' رکھنا ہے۔

    گھر پہنچ کر شانزے نے شمع بیگم کے کمرے کا رخ کیا۔ اسے دیکھتے ہی شمع بیگم نے کپکپاتے ہاتھ سے اشارہ کیا اور ٹوٹے لفظوں میں کہا: "ما... معافی!" شانزے نے ان کا ہاتھ تھام لیا: "امی! میں نے سب کو معاف کیا۔ میں آپ کا گھر چھیننے نہیں، بس آپ کا پیار چاہتی تھی۔" اتنے میں جمیلہ، افضل صاحب اور محسن بھی مٹھائی لے کر آ گئے۔ افضل صاحب نے محسن کی شادی کی خبر دی تو ارسلان نے بتایا کہ اسی ماہ کے آخر میں عریفہ اور شہباز کا نکاح بھی طے پا گیا ہے۔ عریفہ نے اپنی ماں کے پاس آ کر کہا: "ماں! مجھے اپنی دعاؤں میں رخصت کرنا۔" شانزے نے عریفہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا: "اللہ معاف کرنے والا ہے، امی خود تمہیں رخصت کریں گی۔"

    اختتام : محسن اور ماریہ کی شادی کی تقریب میں پورا خاندان ایک ساتھ تھا۔ ایک خوبصورت 'گروپ فوٹو' لی گئی جس میں سب کے چہروں پر حقیقی مسکراہٹ تھی۔ رات کو جب شانزے کمرے میں اپنی جیولری اتار رہی تھی، ارسلان پیچھے سے آیا اور کہا: "آنکھیں بند کرو!" اس نے شانزے کے گلے میں ایک نازک سی چین پہنائی جس میں 'A' کا پینڈنٹ چمک رہا تھا۔ "یہ حقیقت ہے یا خواب؟" شانزے نے پوچھا۔ "یہ تمہاری منہ دکھائی ہے، بس ذرا دیر ہو گئی۔" ارسلان نے محبت سے کہا۔ شانزے مسکرائی: "دیر آئے، درست آئے۔"

    ہر کہانی کا اختتام ہیپی ہونا چاہیے۔ ہم دوسروں کو سکون سے جینے دیں تو معاشرے میں امن پیدا ہوگا۔ ہر انسان اپنے حصے کی ذمہ داری اٹھائے۔ اب شانزے کے پاس جو حصار ہے، وہ ارسلان کی سچی محبت کا ہے جس میں کوئی دکھاوا نہیں ہے۔


    حاصلِ کلام (Moral of the Story)

    ناول "میرا حصار" ہمیں زندگی کے چند اہم حقائق کی طرف متوجہ کرتا ہے:

    مکافاتِ عمل برحق ہے: ہم دوسروں کی زندگی میں جو کانٹے بوتے ہیں، وہ گھوم پھر کر ہماری اپنی راہوں میں آ جاتے ہیں۔ ظلم اتنا ہی کریں جتنا خود پر بیتے تو سہہ سکیں۔

    رشتوں میں توازن: ایک مرد کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ کتنا کما رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی ماں، بہن اور بیوی کے حقوق کے درمیان کتنا بہتر توازن برقرار رکھتا ہے۔ کسی ایک کا حق مار کر دوسرے کو خوش کرنا گھر کی تباہی کا باعث بنتا ہے۔

    عزتِ نفس پر سمجھوتہ نہیں: محبت اور لحاظ اپنی جگہ، لیکن اپنی عزتِ نفس  کو قربان کر کے کبھی کوئی رشتہ نہیں بچایا جا سکتا۔ برابری اور عزت ہی ایک مضبوط ازدواجی زندگی کی بنیاد ہے۔

    معافی اور اصلاح: غلطی کرنا انسان کی فطرت ہے، لیکن اپنی غلطی پر اڑ جانا تکبر ہے اور اسے تسلیم کر کے اصلاح کر لینا اعلیٰ ظرفی۔ سچی توبہ اور معافی ٹوٹے ہوئے گھروں کو دوبارہ جوڑ سکتی ہے۔
    بیٹیاں اور بہوئیں: بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں اور بہوئیں گھر کی خادمہ نہیں ہوتیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹیاں اپنے گھروں میں خوش رہیں، تو ہمیں دوسروں کی بیٹیوں (بہوؤں) کو بھی اپنے گھر میں وہی عزت اور خوشی دینی ہوگی۔

    مصنفہ کی جانب سے ایک پیغام (Author's Note)

    میرے پیارے قارئین!

    آج میرا ناول "میرا حصار: عزت یا اذیت؟" اپنی آخری منزل کو پہنچا۔ اس پورے سفر میں آپ سب نے جس طرح میری تحریر کو سراہا، مجھ سے جڑے رہے اور ہر قسط کا بے صبری سے انتظار کیا، اس کے لیے میں آپ سب کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔

    ایک لکھاری کے لیے سب سے بڑا انعام اس کے قارئین کی محبت اور ان کی طرف سے ملنے والی رائے ہوتی ہے۔ آپ لوگوں کے تبصروں اور ساتھ نے مجھے ہمیشہ بہتر لکھنے کا حوصلہ دیا۔ امید ہے کہ اس کہانی کے کرداروں اور اس کے پیغام نے آپ کے دلوں پر کوئی مثبت اثر چھوڑا ہوگا۔

    مجھ سے جڑے رہنے اور میری تحریر کو پڑھنے کا بہت بہت شکریہ۔ انشا اللہ، بہت جلد ایک نئی کہانی، نئے کرداروں اور ایک نئے احساس کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گی۔ تب تک اپنا اور اپنے پیاروں کا بہت خیال رکھیے گا۔

    آپ کی دعا گو، عشرت زاہد

  • ختم شد

  • Comments

    "سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

    بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

    بہار کے سنگ قسط نمبر22