بہار کے سنگ قسط نمبر22
بہار کے سنگ
قسط نمبر 22
گاڑی کی رفتار کے ساتھ ساتھ تانیہ کے خیالات بھی تیز رفتاری سے دوڑ رہے تھے۔ شہروز نے اسٹیئرنگ پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے ایک نظر تانیہ کے مرجھائے ہوئے چہرے پر ڈالی۔ اس کی خاموشی اسے بے چین کر رہی تھی۔
"تانیہ! آپ ٹھیک تو ہیں نا؟" اس کی آواز میں چھپی فکر تانیہ کو حال میں واپس لے آئی۔ تانیہ نے ایک گہری سانس لی، کھڑکی سے باہر تیزی سے پیچھے جاتے درختوں کو دیکھا اور پھر شہروز کی طرف مڑ کر ایک مصنوعی مسکراہٹ سجائی۔ "جی، میں بالکل ٹھیک ہوں۔ بس وہ بیکری والا واقعہ..." اس نے بات ادھوری چھوڑ دی اور پھر لہجہ بدلتے ہوئے پوچھا، "وہ تمام ٹوکریاں اور گلدستے ڈگی میں محفوظ ہیں نا؟ رومیسہ کے سسرال خالی ہاتھ جانا اچھا نہیں لگتا۔"
شہروز نے شرارتی انداز میں سر ہلایا، "جی میڈیم! سب کچھ ترتیب سے رکھا ہے، آپ فکر نہ کریں۔"
تانیہ نے اپنا فون ان لاک کیا تاکہ اپنے بابا کو میسج کر سکے، لیکن اسکرین روشن ہوتے ہی اس کا دل جیسے سینے میں دھک سے رہ گیا۔ المیر کے پیغامات کی ایک لمبی قطار تھی۔ اس نے ایک میسج پر نظر ڈالی: "تانیہ! تم نے اپنی اوقات دکھا ہی دی۔ نکاح میں ہوتے ہوئے کسی دوسرے مرد کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آئی؟ میں تمہیں ایک باوقار لڑکی سمجھتا تھا، مگر تم تو..."
ان الفاظ نے تانیہ کے وجود میں آگ لگا دی۔ اسے غصہ بھی تھا اور اپنے انتخاب پر افسوس بھی۔ اس نے سوچا کہ جو شخص اسے پانے کے لیے اس کے کردار پر کیچڑ اچھال سکتا ہے، وہ زندگی بھر اسے کیا عزت دے گا؟ اس نے بنا کسی جواب کے المیر کا نمبر ہمیشہ کے لیے بلاک کر دیا۔ اسے اب کسی "میس" کی ضرورت نہیں تھی۔ اس نے اپنے دل میں تہیہ کر لیا کہ محبت سے پہلے عزتِ نفس آتی ہے۔
شہروز نے اسے فون گھورتے ہوئے دیکھا تو نرمی سے پوچھا، "کیا پھر المیر کا کوئی پیغام ہے؟ تانیہ، اگر آپ چاہتی ہیں تو ہم اس معاملے کو قانونی طور پر دیکھ سکتے ہیں۔" تانیہ نے نفی میں سر ہلایا، "نہیں شہروز، اب وہ میرے لیے مر چکا ہے۔ میں کسی تذبذب میں تھی، مگر آج اس کی بدتمیزی نے مجھے فیصلہ کرنے میں مدد دی ہے۔"
رومیسہ کے سسرال پہنچے تو وہاں کا ماحول بالکل مختلف تھا۔ ہر طرف ایک خوشگوار سی چہل پہل تھی۔ رومیسہ کی ساس اور سسر نے انہیں ایسے گلے لگایا جیسے وہ ان کے اپنے بچے ہوں۔ "ارے اتنے تکلف کی کیا ضرورت تھی؟" ساس نے مٹھائی کی ٹوکریاں سنبھالتے ہوئے کہا۔ شہروز نے ہنس کر جواب دیا، "آنٹی، یہ امی اور ببا کی طرف سے ایک چھوٹی سی رسم ہے، اور ہمارا مقصد آپ کے ساتھ ناشتہ کرنا تھا۔"
تانیہ نے وہاں کی خواتین کے ساتھ مل کر ناشتہ لگوایا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہاں موجود ہر شخص اسے شہروز کی ہونے والی شریکِ حیات کے طور پر دیکھ رہا ہے اور اسے ویسی ہی عزت دے رہا ہے۔ رومیسہ جب سیڑھیوں سے نیچے آئی تو تانیہ کو دیکھ کر اس کے چہرے پر رونق آ گئی۔ "تانی! تم آگئیں، میرا دل لگ ہی نہیں رہا تھا۔" دونوں سہیلیوں نے ڈھیروں باتیں کیں، قہقہے لگائے اور ناشتے کی میز پر ایک بھرپور فیملی ٹائم گزارا۔
واپسی پر رومیسہ کی ساس نے تانیہ کو روکا اور ایک خوبصورت سوٹ اور پھلوں کی ٹوکری اس کے ہاتھ میں تھمائی۔ "بیٹی! تم پہلی بار اس گھر آئی ہو، یہاں سے خالی ہاتھ نہیں جاتے۔" ان کے لہجے کی مٹھاس نے تانیہ کو جذباتی کر دیا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے تانیہ نے شہروز کو بغور دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا۔ "کیا دیکھ رہی ہیں تانیہ؟ دوسری بار آپ نے مجھے ایسے دیکھا ہے، اب تو بتا دیں کیا بات ہے؟" شہروز نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ تانیہ نے نظریں جھکا لیں، "میں سوچ رہی تھی، کل آپ کتنے تھکے ہوئے اور اداس تھے، اور آج آپ کے چہرے پر کتنا اطمینان ہے۔" شہروز نے سنجیدگی سے جواب دیا، "رومیسہ صرف بہن نہیں، میری بہترین دوست بھی تھی۔ گھر اب خالی سا لگے گا، لیکن جب آپ ساتھ ہوتی ہیں تو وہ خالی پن محسوس نہیں ہوتا۔" اس نے شرارت سے تانیہ کی طرف دیکھا، "ویسے اس وقت آئس کریم کے بارے میں کیا خیال ہے؟"
وہ شہر کے مشہور آئس کریم پارلر پر پہنچے۔ گاڑی میں ہلکا سا میوزک بج رہا تھا جس کے بول تانیہ کی روح میں اتر رہے تھے۔ اسے محسوس ہوا جیسے وہ برسوں کے کسی بوجھ سے آزاد ہو گئی ہو۔
گھر واپسی پر جیسے ہی تانیہ اندر داخل ہوئی، شہاب صاحب لاؤنج میں اس کا انتظار کر رہے تھے۔ تانیہ بھاگ کر ان سے لپٹ گئی۔ "ببا! میں نے آپ کو بہت مس کیا۔" شہاب صاحب نے ہنستے ہوئے اس کے سر پر پیار دیا، "میری بچی، تم صرف چند گھنٹوں کے لیے گئی تھی، اتنا پیار؟" تانیہ نے اپنی بانہوں میں موجود تحائف دکھائے اور کہا، "ببا! رومیسہ کے سسرال والے بہت اچھے ہیں۔ اور ہاں، میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم کل ہی خلع کا کیس فائل کریں گے۔ مجھے اب المیر سے کوئی سروکار نہیں۔ میں مما کا بزنس سنبھالوں گی اور اپنی زندگی اپنی شرائط پر جیوں گی۔"
شہاب صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "تانیہ! تم نے میری زندگی کی سب سے بڑی فکر ختم کر دی ہے۔ اگر تم اس شخص کے پاس واپس جانے کا فیصلہ کرتیں تو شاید میں سکون سے مر بھی نہ پاتا۔ اب مجھے یقین ہے کہ تم ایک مضبوط عورت بن چکی ہو۔"
تانیہ اپنے کمرے کی طرف بڑھی، جہاں آئینے میں اسے آج اپنا عکس پہلے سے کہیں زیادہ روشن اور پُر اعتماد نظر آ رہا تھا۔ اسے پتا تھا کہ اب اس کی منزل شہروز کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
(جاری ہے...)
© 2026 Ishrat Khanam/Ishrat Zahid/Zoaq Isha | Zoaq Digital Novels. All Rights Reserved.
Comments
Post a Comment