ناول: سجیلا (قسط نمبر 3)
ناول: سجیلا (قسط نمبر 3) "انجان راستے، پرانی پناہ" بس پہاڑی راستوں پر بل کھاتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔ صفیہ نے سجیلا کو اپنے سینے سے لگائے کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں دھند میں لپٹے پہاڑ نمودار ہو رہے تھے۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں صفیہ نے اپنی زندگی کی پہلی سانس لی تھی، جہاں اس کا بچپن گزرا تھا۔ برسوں پہلے جب وہ ابھی اسکول میں پڑھتی تھی، تو اس کے والد کو کام کے سلسلے میں شہر شفٹ ہونا پڑا تھا۔ وہ اپنی بیوی اور اکلوتی لاڈلی بیٹی کو لے کر شہر آ گئے، جہاں صفیہ نے اپنی جوانی دیکھی۔ رحمت خان سے محبت اور پھر برادری کے خلاف جا کر پسند کی شادی کی ضد نے صفیہ کے والدین کو ایسا توڑا کہ وہ شہر بھی چھوڑ کر کہیں دور چلے گئے۔ بعد میں صفیہ کو خبر ملی تھی کہ ایک حادثے میں دونوں کا انتقال ہو گیا۔ صفیہ کا کوئی بھائی بہن نہیں تھا۔ آج جب اس کا اپنا سہاگ اس کے لختِ جگر کا دشمن بن گیا، تو کسی دور کے رشتے دار کے پاس جانے یا کسی سے مدد مانگنے کے بجائے صفیہ کے ذہن میں صرف اپنی بچپن کی سہیلی اور اس کی ماں کا خیال آیا۔ یہ وہ جگہ تھی جس کا ذکر صفیہ نے کبھی رحمت خان سے نہیں کیا تھا، اور نہ ہی رحمت خان نے کبھی اس ک...