بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

 

بہار کے سنگ 

قسط نمبر: 23 


کمرے کی کھڑکی سے چھنتی ہوئی صبح کی پہلی کرن تانیہ کے چہرے پر پڑی تو اس کی آنکھ کھل گئی۔ آج کا دن اس کے لیے ایک نئی شروعات کی علامت تھا۔ اس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا؛ وہ پُر اعتماد تانیہ جو اب کسی کے لفظی حملوں سے ٹوٹنے والی نہیں تھی۔ اس نے عزم کر لیا تھا کہ آج وہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا قانونی قدم اٹھائے گی۔

ناشتے کی میز پر شہاب صاحب اخبار پڑھ رہے تھے، تانیہ نے مسکراتے ہوئے انہیں سلام کیا اور خاموشی سے اپنی فائل ان کے سامنے رکھ دی۔ "ببا! یہ خلع کے کاغذات ہیں۔ میں نے وکیل سے بات کر لی ہے، آج ہم عدالت میں درخواست دائر کر دیں گے۔" شہاب صاحب نے فخر سے اپنی بیٹی کو دیکھا۔ "تانیہ، مجھے تم پر ناز ہے۔ تم نے ثابت کر دیا کہ ایک عورت اگر ٹھان لے تو وہ اپنے حق کے لیے پہاڑ سے بھی ٹکرا سکتی ہے۔"

کچھ ہی دیر بعد شہروز کا فون آیا۔ اس کا لہجہ ہمیشہ کی طرح پُرسکون اور حوصلہ افزا تھا۔ "تانیہ، کیا آپ تیار ہیں؟ میں باہر آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔" تانیہ نے گاڑی میں بیٹھتے ہی شہروز کی طرف دیکھا، جو اسے اپنی خاموش محبت اور سہارے کا یقین دلا رہا تھا۔ عدالت کی کارروائی کے دوران المیر وہاں موجود نہیں تھا، لیکن اس کے وکیل نے ہر ممکن کوشش کی کہ تانیہ پر ذہنی دباؤ ڈالا جائے، مگر تانیہ کے دو ٹوک جوابات نے ثابت کر دیا کہ اب واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔

عدالت سے واپسی پر تانیہ نے ایک گہری سانس لی۔ "شہروز! آج مجھے لگ رہا ہے جیسے میں نے قید سے آزادی پائی ہو۔" شہروز نے مسکراتے ہوئے گاڑی کا رخ شہر کے ایک بزنس ٹاور کی طرف موڑ دیا۔ "تانیہ، آزادی کا جشن صرف باتوں سے نہیں ہوتا۔ چلیں، آپ کو آپ کی نئی منزل دکھانی ہے۔"

شہروز اسے ایک خوبصورت آفس اسپیس میں لے کر آیا۔ شیشے کی بڑی کھڑکیوں سے پورا شہر نظر آ رہا تھا۔ "یہ کیا ہے شہروز؟" تانیہ نے حیرت سے پوچھا۔ "تانیہ، آپ نے کہا تھا نا کہ آپ اپنی مما کا ادھورا خواب پورا کرنا چاہتی ہیں؟ یہ وہی اسٹوڈیو ہے جس کا نقشہ آپ کی مما نے اپنی ڈائری میں بنایا تھا۔ میں نے اسے صرف حقیقت کا رنگ دیا ہے۔ اب یہاں سے آپ کی اپنی پہچان شروع ہوگی۔"

تانیہ نے لرزتے ہاتھوں سے شیشے کی دیوار کو چھوا۔ باہر پھیلا ہوا شہر اسے اب ڈراؤنا نہیں بلکہ مواقع سے بھرا ہوا لگ رہا تھا۔ اس نے مڑ کر شہروز کو دیکھا، جس کی آنکھوں میں اس کے لیے بے پناہ ستائش تھی۔ "شہروز، میں نے ہمیشہ سوچا تھا کہ میں اکیلی ہوں، لیکن آپ نے مجھے احساس دلایا کہ سہارا کیا ہوتا ہے۔"

شہروز نے نرمی سے جواب دیا، "تانیہ، مضبوط آپ خود تھیں، میں نے تو بس آپ کو آئینہ دکھایا ہے۔ اب وقت ہے کہ دنیا کو دکھا دیں کہ تانیہ شہاب کیا چیز ہے۔"

اسی شام، تانیہ نے اپنی مما کے ادھورے پراجیکٹس کی فائلز کھولیں۔ اس کے ذہن میں نئے آئیڈیاز کا ایک طوفان تھا، لیکن اس کی توجہ بار بار اپنے فون کی طرف جا رہی تھی۔ المیر کے کئی مسڈ کالز اسکرین پر چمک رہے تھے۔ وہ شاید معافی مانگنا چاہتا تھا یا اپنی غلطی کا ازالہ، لیکن تانیہ کے لیے وہ باب اب بند ہو چکا تھا۔ اس نے فون اٹھایا اور ایک آخری میسج ٹائپ کیا: "المیر، شکریہ! تمہاری بدتمیزی نے مجھے خود سے ملوایا۔ اب میرے پاس تمہارے لیے نہ غصہ ہے اور نہ ہی جگہ۔ میری زندگی میں اب صرف 'بہار' ہے، تم جیسا خزاں کا جھونکا نہیں۔"

شہروز نے تانیہ کو سمجھاتے ہوئے کہا، "تانیہ! ابھی ہمیں ایک بار پھر کورٹ جانا ہے اور اب ہمیں باقاعدہ اسٹاف بھی ہائر کرنا ہے۔ بہت سارے کام ابھی باقی ہیں۔ آپ کو یہ پوری بلڈنگ دیکھنی ہے، اس کی رینوویشن  بھی ہونی ہے۔ کچھ چیزوں میں میں آپ کو گائیڈ کروں گا، لیکن باقی تمام سسٹم آپ کو خود آگے لے کر چلنا ہے۔"

تانیہ نے فکرمندی سے کہا، "شہروز، یہ سب کافی مشکل لگ رہا ہے۔" شہروز نے حوصلہ دیا، "زندگی میں شروعات ہمیشہ مشکل ہی ہوتی ہے تانیہ! لیکن جب انسان ارادہ کر لے تو کچھ بھی ناممکن نہیں رہتا۔ سب آسان ہو جاتا ہے۔ یہ سوچ کر آگے قدم بڑھائیں کہ آپ اکیلی نہیں ہیں۔ میں بھی آپ کے ساتھ ہوں، انکل (وکیل) بھی ساتھ ہیں اور ببا کے پاس تو بزنس کے بہت سے آئیڈیاز ہیں، آپ جب چاہیں ان سے مشورہ لے سکتی ہیں۔"

تانیہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا، "پہلے ہم کورٹ ہو آتے ہیں، وہاں ایک فائل جمع کروانی ہے۔" شہروز نے بتایا، "میں نے آپ کی طرف سے انکل سے کہہ کر درخواست جمع کروا دی تھی کہ آپ صوفیہ شہاب کی جائیداد کی قانونی وارث ہیں۔ اب آپ وہاں خود پیش ہو کر اپنی مما کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ  جمع کروائیں گی۔ اس کے بعد آپ کو لیگل سرٹیفکیٹ مل جائے گا اور پھر کوئی بھی آپ کی پراپرٹی پر ناجائز قبضہ نہیں کر سکے گا۔"

دوسری طرف المیر اپنے آفس کے کاموں میں الجھا ہوا تھا کہ وکیل کی کال آگئی۔ "جی وکیل صاحب!" المیر نے فون اٹھاتے ہوئے کہا۔ "سر! آج پیشی تھی، لیکن آپ نہیں آئے۔ اگلی سماعت پر آپ کا آنا لازمی ہے، عدالت آپ کا موقف جاننا چاہتی ہے۔" المیر نے بیزاری سے کہا، "وکیل صاحب، میں آ کر کیا کروں گا؟ آپ بس اس کیس کو جتنا لمبا کر سکتے ہیں کریں، میں شہروز کو سبق سکھانا چاہتا ہوں جو تانیہ کا ہمدرد بنا پھرتا ہے۔"

وکیل نے دھیمی آواز میں پوچھا، "سر! اگر آپ مس تانیہ کو طلاق نہیں دینا چاہتے تو آپ کو عدالت آنا ہوگا۔ آپ نے کہا تھا کہ تانیہ کے کردار پر انگلی نہ اٹھاؤں، لیکن شہروز والا پوائنٹ ہمارے حق میں جا سکتا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ تانیہ کو اکسا رہا ہے۔" المیر تھوڑی دیر خاموش رہا اور پھر کہا، "اس پوائنٹ پر سوچا جا سکتا ہے۔ اگلی تاریخ کیا ملی ہے؟" وکیل نے جواب دیا، "اگلے مہینے کی تین تاریخ، یعنی صرف دس دن بعد۔ مجھے کہنا پڑا کہ آپ اپنی والدہ کے علاج کے سلسلے میں شہر سے باہر ہیں۔" المیر نے فون بند کیا اور سوچنے لگا، "تانیہ! کیوں مجھے ضد دلا رہی ہو؟ میں ایسا تو نہیں تھا، لیکن جب شہروز کا نام سنتا ہوں تو غصہ قابو میں نہیں رہتا۔"

اسی دوران مینیجر اندر آیا۔ المیر نے پوچھا، "بتاؤ کیا نئی بری خبر لائے ہو؟" مینیجر نے فائل سامنے رکھی، "سر! خبر یہ ہے کہ مس تانیہ کی طرف سے کورٹ میں صوفیہ میڈم کی پراپرٹی کے لیے درخواست جمع ہو گئی ہے۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ جمع ہوتے ہی سب ان کے نام ہو جائے گا۔" المیر نے کہا، "وہ تو ان کا حق تھا، اس میں نیا کیا ہے؟" مینیجر نے انکشاف کیا، "سر! نیا یہ ہے کہ جہانگیر صاحب نے فون کر کے کہا ہے کہ وہ دو دن میں پہنچ رہے ہیں۔ وہ اس فیکٹری اور صوفیہ میڈم کی کمپنی کو فروخت  کرنے کا پلان بنا رہے ہیں۔ لیکن اب لیگلی یہ سب تانیہ کے پاس چلا جائے گا اور جہانگیر صاحب کے پاس اسے بیچنے کا کوئی حق نہیں رہے گا۔"

المیر نے حیرت سے پوچھا، "جے-گروپ کے کتنے شیئرز میرے نام ہیں؟" مینیجر نے بتایا، "50 فیصد آپ کے نام ہیں، 30 فیصد میڈم صوفیہ کے تھے جو اب تانیہ کے ہوں گے، اور جہانگیر صاحب کے پاس صرف 2 فیصد ہیں۔ وہ کمپنی اب تانیہ ٹیک اوور کرنے والی ہیں، ان کے وکیل کا نوٹس آگیا ہے کہ وہ وہاں رینوویشن کروائیں گی اور وہ اب وہاں کی چیئرپرسن ہوں گی۔" المیر نے نوٹس پڑھا اور دل میں سوچا، "مجھے پھوپھو کی پراپرٹی سے کچھ نہیں لینا تھا، میں تو بس ان کی فیملی کو ڈھونڈ کر یہ سب انہیں دینا چاہتا تھا۔ بابا نے ناحق زیادتی کی، اب تانیہ سمجھے گی کہ میں نے یہ سب جائیداد کے لیے کیا ہے۔"

المیر پریشانی میں گاڑی کی چابیاں اٹھا کر فارم ہاؤس کی طرف نکل پڑا۔ راستے میں اسے شہر والے ملازم کا فون آیا، "سر! جہانگیر صاحب کا فون آیا تھا، وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کا کمرہ پھولوں سے ڈیکوریٹ کریں، وہ اپنی دوسری بیوی کے ساتھ آرہے ہیں۔ اور آسیہ بیگم (المیر کی والدہ) کے لیے دوسرا کمرہ سیٹ کر دیں۔" یہ سن کر المیر کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے گاڑی سڑک کے کنارے روکی۔ "تو بابا نے اپنی کر لی!" اس نے غصے سے ملازم کو ہدایت دی کہ کسی کو پتا نہ چلے کہ وہ اور اس کی ماں فارم ہاؤس میں رہ رہے ہیں۔

المیر جب گھر پہنچا تو آسیہ بیگم لاؤنج میں انتظار کر رہی تھیں۔ المیر سیدھا اپنے کمرے میں گیا اور غصے میں چیزیں ادھر ادھر پھینکنے لگا۔ دیوار پر ہاتھ مارا، اس کا دل ٹوٹ گیا تھا۔ جب آسیہ بیگم کمرے میں آئیں تو المیر کی حالت دیکھ کر ان کا دل بیٹھ گیا۔ "یہ کیا حالت بنائی ہے بیٹے؟" المیر پھٹ پڑا، "ماما! میں تھک گیا ہوں سب سے لڑتے لڑتے۔ آخر ہمارے گناہ کب معاف ہوں گے؟ بابا کے کیے کی سزا ہم کیوں بھگت رہے ہیں؟" المیر ماں کی گود میں سر رکھ کر زار و قطار رونے لگا۔ آسیہ بیگم نے اسے رونے دیا تاکہ اس کا بوجھ ہلکا ہو جائے۔

"ماما! بابا اپنی دوسری بیوی کے ساتھ آرہے ہیں۔" المیر نے روتے ہوئے بتایا۔ آسیہ بیگم نے سکون سے کہا، "میں جانتی تھی یہ ایک دن ہوگا۔ المیر! میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں خلع لے لوں گی۔ میں اب صرف اپنے بیٹے کے لیے جینا چاہتی ہوں۔ ہم یہ ملک چھوڑ کر باہر چلے جاتے ہیں، جہاں نہ تانیہ کی یاد ستائے اور نہ تمہارے بابا کا سایہ ہو۔ ہم اپنی نئی دنیا بسائیں گے۔" المیر نے دوبارہ ماں کی گود میں سر رکھ دیا، "ماما! مجھے سوچنے دیں کہ آگے کیا کرنا ہے۔"

(جاری ہے...)

© 2026 Ishrat Khanam/Ishrat Zahid/Zoaq Isha | Zoaq Digital Novels. All Rights Reserved.


Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر22