بہار کے سنگ قسط نمبر 21


بہار کے سنگ 

قسط نمبر 22 


بند کمرے کے حبس میں جب تانیہ نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے عکس کا جائزہ لیا، تو اسے محسوس ہوا جیسے آئینے کے اس پار کوئی نئی لڑکی کھڑی ہے۔ وہی نقوش، وہی آنکھیں، مگر ان آنکھوں میں موجود ڈر اب ایک عزم میں بدل چکا تھا۔ ہلکے گلابی رنگ کے فارمل جوڑے پر ستاروں کا کام اس کی شخصیت کو مزید نکھار رہا تھا، مگر اس کی اصل چمک وہ سکون تھا جو اسے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے کے بعد نصیب ہوا تھا۔ اسے بار بار اپنی ماں کے خواب میں کہے ہوئے الفاظ یاد آ رہے تھے: "تانیہ میری جان! تم کمزور نہیں ہو۔" ان الفاظ نے جیسے اس کے گرد ایک مضبوط حصار باندھ دیا تھا۔

اس نے اپنے بالوں کو آخری بار سیٹ کیا اور گہری سانس لے کر خود سے سرگوشی کی، "المیر! تم نے سمجھا تھا کہ تم طاقت، انا اور دھمکیوں سے مجھے جھکا لو گے؟ تم نے میرے بابا کو، میری واحد پناہ گاہ کو نشانہ بنانا چاہا، لیکن اب میں وہ تانیہ نہیں رہی جو تمہارے ایک میسج پر لرز جایا کرتی تھی۔ میں اپنی مما کا ادھورا خواب بھی پورا کروں گی، ان کا بزنس بھی سنبھالوں گی اور اپنی عزتِ نفس کا سودا کبھی نہیں ہونے دوں گی۔" اس نے اپنا کلچ اٹھایا اور نہایت پروقار قدموں سے کمرے سے باہر نکل آئی۔ لاؤنج میں شہاب صاحب صوفے پر بیٹھے تسبیح پڑھ رہے تھے، جیسے ہی ان کی نظر اپنی بیٹی پر پڑی، ان کے چہرے پر ایک فخریہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ تانیہ کو اس طرح پُراعتماد دیکھ کر ان کا آدھا غم غلط ہو گیا تھا۔ دونوں خاموشی سے گیراج کی طرف بڑھے اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔ راستے میں تانیہ نے گاڑی رکوا کر رومیسہ کے لیے ایک نہایت ہی نفیس، مہکتا ہوا اور بڑا سا گلدستہ لیا، جو ان کی دوستی کی نئی شروعات کا مظہر تھا۔

دوسری طرف، شادی ہال کا منظر دیدنی تھا۔ روشنیوں سے جگمگاتا ہال اور پھولوں کی خوشبو نے ایک سحر انگیز سماں باندھ رکھا تھا۔ شہروز، جو صبح سے رومیسہ کو پارلر چھوڑنے، انتظامات دیکھنے اور مہمانوں کی لسٹ چیک کرنے میں مصروف تھا، اب بری طرح تھکن کا شکار نظر آ رہا تھا۔ وہ ابھی ابھی ہال پہنچا تھا اور اسے اب تک تیار ہونے کا موقع نہیں ملا تھا۔ جب وہ ہال کے اندر داخل ہوا تو اس کے بابا نے اسے دیکھتے ہی ماتھے پر بل ڈال لیے۔ "شہروز! تم اب آ رہے ہو؟ آدھے سے زیادہ مہمان جمع ہو چکے ہیں اور دلہن کا بھائی اب ہال پہنچ رہا ہے؟" انہوں نے دبی آواز میں غصے کا اظہار کیا۔ "بابا! معذرت چاہتا ہوں، وہ میرا اصلی سوٹ استری ہونے کے لیے گیا تھا، جب میں لینے پہنچا تو پتا چلا کہ بجلی کے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے پوری مارکیٹ کی دکانیں بند ہو چکی ہیں۔ بڑی مشکل سے دوسری جگہ سے یہ دوسرا سوٹ پریس کروایا، اسی چکر میں دیر ہو گئی۔" شہروز نے ہانپتے ہوئے صفائی دی اور جلدی سے پھولوں کی ٹوکریاں سنبھال کر استقبال کے لیے گیٹ پر جا کھڑا ہوا۔ اس کی نظریں بار بار گیٹ کی طرف اٹھ رہی تھیں، جیسے وہ کسی خاص چہرے کا منتظر ہو۔

تانیہ جب ہال پہنچی تو اسے ہر طرف ایک عجیب سی اپنائیت محسوس ہوئی۔ وہ سب سے پہلے رومیسہ سے ملنے ڈریسنگ روم میں گئی۔ رومیسہ، جو اپنی زندگی کے سب سے بڑے دن پر تھوڑی نروس تھی، تانیہ کو دیکھ کر فوراً کھڑی ہو گئی۔ "بیٹھی رہیں رومیسہ! آپ واقعی کسی پری سے کم نہیں لگ رہیں،" تانیہ نے پیار سے کہا اور گلدستہ اس کی طرف بڑھا دیا۔ "تھینک یو تانیہ! تم آگئیں، میرا دل بہت گھبرا رہا تھا،" رومیسہ نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔ ابھی وہ دونوں باتیں کر ہی رہی تھیں کہ ایک لڑکی ہانپتی ہوئی اندر آئی، "تانیہ آپ کو رومیسہ باجی کی امی باہر بلا رہی ہیں، بارات بالکل گیٹ پر پہنچ گئی ہے، جلدی آئیں!" تانیہ فوراً باہر آئی اور ہال کے مرکزی دروازے پر جا کھڑی ہوئی۔ ایک چھوٹی سی بچی نے پھولوں کی پلیٹ اس کے ہاتھ میں تھما دی۔ کیمرہ مین کی آواز گونجی، "سب ادھر دیکھیں پلیز، ریڈی!" اور فلیش کی تیز روشنی میں تانیہ کا وہ مسکراتا ہوا چہرہ محفوظ ہو گیا۔ سامنے سے بارات کی خواتین اندر آ رہی تھیں، تانیہ نے نہایت سلیقے سے سب کا استقبال کیا اور خواتین کو پھولوں کے ہار پہنائے۔

نکاح کی سادہ مگر پُروقار تقریب کے بعد جب تانیہ کو کہا گیا کہ وہ دلہن کو لے کر آئے، تو تانیہ کا اپنا دل بھی زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ رومیسہ کا ہاتھ تھام کر اسے اسٹیج کی طرف لے کر آ رہی تھی، تمام لائٹس اور کیمرے انہی پر مرکوز تھے۔ تانیہ نے محسوس کیا کہ اس کے قدموں میں ایک ٹھہراؤ ہے۔ اچانک، جب وہ اسٹیج کے قریب پہنچی، تو اس کے نیٹ کے بھاری دوپٹے کا ایک کونا اسٹیج کی سجاوٹ والی لائٹس کے اسٹینڈ میں الجھ گیا۔ تانیہ کے قدم وہیں رک گئے اور اس نے گھبرا کر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ شہروز، جو قریب ہی اسٹیج کے پاس کھڑا تھا، ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر آگے بڑھا اور نہایت نزاکت سے تانیہ کا دوپٹہ ان تیز لائٹس سے چھڑوانے لگا۔ اس مختصر سے وقفے میں تانیہ اور شہروز کی نظریں ملیں۔ شہروز کی آنکھوں میں ایک ایسی ستائش اور تحفظ کا احساس تھا جس نے تانیہ کے دل کے کسی گوشے میں دستک دی۔ دوپٹہ آزاد ہوتے ہی کیمرہ مین نے کہا، "جی، اب سامنے دیکھ کر آہستہ چلیں!" تانیہ نے رومیسہ کو اسٹیج پر بٹھایا اور اس کا ہاتھ اس کے شوہر کے ہاتھ میں دے دیا۔

دودھ پلائی کی رسم شروع ہوئی تو پورے ہال میں ہنگامہ مچ گیا۔ رومیسہ کی امی نے تانیہ کو آواز دی، "تانیہ! ادھر آؤ، رومیسہ کی کوئی سگی بہن نہیں ہے، آج سے تم ہی اس کی بڑی بہن ہو، آؤ اور یہ دودھ کا گلاس پکڑو!" تانیہ کے لیے یہ لمحہ بہت جذباتی تھا۔ اسے اپنی زندگی میں کبھی ایسی اپنائیت اور اہمیت نہیں ملی تھی۔ تانیہ نے اپنی کزنز کے اکسانے پر پانچ لاکھ کا مطالبہ کیا، جس پر لڑکے والوں کی طرف سے خوب بحث و تکرار ہوئی۔ ہال قہقہوں سے گونج اٹھا، اور آخر کار ایک لاکھ روپے پر سودا طے ہوا۔ رومیسہ کی امی نے جب پیسے تانیہ کو دیے، تو اس نے انکار کرنا چاہا، مگر انہوں نے نہایت محبت سے پچاس ہزار روپے تانیہ کے ہاتھ میں تھما دیے اور کہا، "یہ تمہارا حق ہے بیٹا، اسے اپنی بہن کی طرف سے تحفہ سمجھ کر رکھ لو۔"

رخصتی کا وقت آیا تو ہال کی فضا بوجھل ہو گئی۔ رومیسہ جب اپنے بابا کے گلے لگی تو اس کی سسکیاں پورے ہال میں سنی جا سکتی تھیں۔ شہروز نے اپنی بہن کو سہارا دیا اور اس کے ماتھے پر پیار کیا۔ رومیسہ نے تانیہ کو اپنے پاس بلایا اور سسکتے ہوئے کہا، "تانیہ! وعدہ کرو کہ میری مما کو کبھی تنہا محسوس نہیں ہونے دو گی۔ وہ بہت اکیلی ہو جائیں گی، تم ان کے پاس آتی رہنا۔" تانیہ نے روتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ رومیسہ کو یقین دلایا، "میں وعدہ کرتی ہوں رومیسہ، میں انٹی کا اپنی ماں کی طرح خیال رکھوں گی۔" شہروز خاموشی سے تانیہ کے اس جذباتی روپ کو دیکھ رہا تھا، اور اس کے دل میں تانیہ کے لیے احترام کی ایک نئی لہر جاگی۔

اگلی صبح، تھکن کے باوجود تانیہ اور شہروز نے طے کیا کہ وہ ناشتہ باہر کریں گے اور ساتھ ہی رومیسہ کے سسرال بھیجنے کے لیے کچھ پھل اور مٹھائیاں بھی لیں گے۔ وہ شہر کی ایک معروف بیکری پر پہنچے جہاں شہروز بڑی خوش دلی سے پھلوں کی ٹوکریاں بنوا رہا تھا۔ تانیہ شہروز کے ساتھ کھڑی ہنس کر باتیں کر رہی تھی کہ اچانک اسے اپنی پشت پر کسی کی سرد نظریں محسوس ہوئیں۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو سامنے المیر کھڑا تھا، اس کا چہرہ غصے اور حسد سے تمتما رہا تھا۔

"تو اب یہ ہے تمہاری نئی پناہ گاہ؟" المیر کی آواز میں چھپا طنز تانیہ کے کانوں میں زہر گھولنے لگا۔ "کل تک جو میرے لیے آنسو بہا رہی تھی، آج کسی دوسرے کے ساتھ ناشتے کی میزیں سجا رہی ہے؟" اس نے شہروز کی طرف ایک حقارت آمیز نظر ڈالی اور تانیہ کو دوبارہ بابا پر کیس کرنے کی دھمکی دی تاکہ اسے واپس اپنی گرفت میں لے سکے۔

تانیہ نے ایک گہرا سانس لیا، اپنے اعصاب کو قابو میں کیا اور شہروز کا بازو مضبوطی سے تھام لیا۔ اس نے المیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہایت سپاٹ لہجے میں کہا، "المیر! تمہاری یہ دھمکیاں اب پرانی ہو چکی ہیں۔ تم نے ہمیشہ محبت کو طاقت اور خوف کے ترازو میں تولا ہے، بالکل اپنے باپ کی طرح۔ لیکن یاد رکھنا، شہروز نے مجھے وہ عزت اور تحفظ دیا ہے جس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ میری محبت اب تمہارے لیے نہیں، بلکہ اس انسان کے لیے ہے جو میرے وقار کا محافظ بن کر کھڑا ہے۔"

المیر کا غصہ دیوانگی میں بدلنے لگا، وہ کچھ کہنے کے لیے تانیہ کی طرف لپکا مگر شہروز نے نہایت وقار اور مضبوطی کے ساتھ اس کا راستہ روکا۔ "المیر صاحب! تانیہ اب اکیلی نہیں ہے، اپنی حد پار کرنے کی کوشش نہ کریں۔" شہروز نے نہایت سکون سے تانیہ کا ہاتھ تھاما اور اسے گاڑی کی طرف لے گیا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے تانیہ نے محسوس کیا کہ المیر کے لیے اس کے دل میں موجود آخری ہمدردی بھی پچھتاوے کی راکھ بن کر اڑ گئی ہے۔ اسے اب یقین ہو چلا تھا کہ اس کی منزل کا راستہ اب شہروز کی ہمراہی میں ہی کٹ سکتا ہے۔

(جاری ہے...)

© 2026 Ishrat Khanam/ Ishrat Zahid/Zoaq Isha| Zoaq Digital Novels. All Rights Reserved.


Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ - قسط نمبر 17