بہار کے سنگ - قسط نمبر 17


بہار کے سنگ - قسط نمبر 17


 رومیسہ نے جب سے شہروز کی آنکھوں میں تانیہ کے لیے وہ ان کہی محبت اور فکر دیکھی تھی، اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ جلد از جلد اس بوجھ کو ہلکا کر دے۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے بھائی نے ہمیشہ دوسروں کی خوشیوں کو مقدم رکھا ہے، لیکن اب وقت تھا کہ شہروز کی زندگی میں بھی کوئی اپنی بہار بن کر آئے۔ اس نے تانیہ کے قریب جا کر اس کا ہاتھ تھاما اور شرارت سے بولی، "بھائی اور تانیہ! آپ لوگ یہاں ایسے کھڑے باتیں کر رہے ہیں جیسے سب کچھ نارمل ہو۔ یاد دلوا دوں کہ کل میری رخصتی ہے؟ کیا آپ لوگ میری کچھ مدد نہیں کروائیں گے یا بس اسی طرح جذباتی ڈائیلاگز ہی چلتے رہیں گے؟"

اس کی بات پر تانیہ کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی، جبکہ شہروز نے مصنوعی غصے سے اسے گھورا۔ شاہاب صاحب، جو فارم ہاؤس کے اندر واپسی کی تیاریوں میں مصروف تھے، باہر آئے۔ وہ تانیہ کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے تاکہ کل صبح وکیل سے ملاقات کی جا سکے۔ جمیل صاحب (شہروز کے والد) نے محبت سے کہا، "شاہاب بھائی! تانیہ بیٹی کو یہیں رہنے دیں، رومیسہ کی مدد بھی ہو جائے گی اور اس کا دل بھی بہل جائے گا۔"

شاہاب صاحب نے ٹھنڈی آہ بھری، "جمیل! میں ضرور چھوڑ دیتا مگر کل صبح میری اپنے دوست وکیل سے ملاقات طے ہے، تانیہ کا کیس فائل کرنا ہے اور باقی قانونی فارمیلیٹیز بھی پوری کرنی ہیں۔ شام میں انشاءاللہ ہم دوبارہ آپ کے گھر فنکشن میں ملیں گے۔" تانیہ سب سے مل کر جب گاڑی کی طرف بڑھی تو شہروز اس کا ہینڈ بیگ لے کر گاڑی تک آیا۔ گاڑی کا دروازہ کھولنے سے پہلے اس نے بہت دھیما لہجے میں کہا، "تانیہ! یاد رکھیے گا میں آپ کے ساتھ ہوں۔ جب بھی کوئی ضرورت ہو یا دل بوجھل ہو، آپ مجھ سے بات کر سکتی ہیں۔ آئی ہوپ کہ ہم واٹس ایپ پر اِن ٹچ رہیں گے؟" تانیہ نے ممنون نظروں سے اسے دیکھا، "اللہ حافظ" کہا اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔ شہروز کی نظریں گاڑی کے دور ہونے تک وہیں جمی رہیں۔

"فارم ہاؤس سے واپسی کا سفر شروع ہوا تو گاڑی میں ایک بوجھل خاموشی طاری تھی۔ تانیہ کھڑکی سے باہر تیزی سے پیچھے جاتے درختوں کو دیکھ رہی تھی، مگر اس کی نظریں کسی ایک جگہ نہیں ٹک رہی تھیں۔ شاہاب صاحب نے گاڑی چلاتے ہوئے کئی بار سائیڈ مرر سے اپنی بیٹی کا مرجھایا ہوا چہرہ دیکھا۔ وہ اس خاموشی کو محسوس کر رہے تھے جو تانیہ کے اندر کسی طوفان کے گزر جانے کے بعد چھا جاتی ہے۔ انہوں نے کچھ کہنا چاہا، مگر پھر خاموشی سے نظریں دوبارہ سامنے سڑک پر جما لیں، وہ جانتے تھے کہ اس وقت تانیہ کو لفظوں سے زیادہ سکون کی ضرورت ہے۔" 

 دوسری طرف، المیر جب گھر پہنچا تو اس نے اپنی ماں، آسیہ بیگم کو جائے نماز پر بیٹھے دیکھا۔ اس نے آج سے پہلے انہیں اس طرح گڑگڑاتے نہیں دیکھا تھا۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو المیر ان کے پاس بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ تھیں۔ آسیہ بیگم نے تڑپ کر اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیا، "مل آئے تانیہ سے؟" المیر نے خاموشی سے سر جھکا دیا۔ آسیہ بیگم کی آنکھوں میں پچھتاوا تھا، "المیر! مجھے شاہاب بھائی  کے پاس لے کر چلو۔ میرے گناہوں کی سزا میرے بیٹے کو نہیں ملنی چاہیے۔ میں تمہاری خوشی کے لیے اب کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔"

المیر جو ماں سے لڑنے آیا تھا، ان کی حالت دیکھ کر کچھ نہ بول سکا۔ وہ انہیں لے کر دوبارہ فارم ہاؤس کی طرف نکلا۔ جب گاڑی گیٹ پر پہنچی تو آسیہ بیگم چونک گئیں، "یہ تو وہی جگہ ہے جہاں ہم آئے تھے تو شادی ہو رہی تھی؟" المیر نے بتایا کہ تانیہ اور ان کے والد یہیں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ المیر نے گاڑی سے اتر کر گیٹ کیپر سے کہا کہ تانیہ کو بلوا دے۔ گیٹ کیپر نے جواب دیا کہ وہ تو جا چکی ہیں۔ المیر کو لگا وہ جھوٹ بول رہا ہے، دونوں کے درمیان بحث بڑھ گئی جس پر شہروز باہر آگیا۔

"کیا شور ہے؟" شہروز نے پوچھا۔ گیٹ کیپر نے بتایا، "صاحب، یہ زبردستی اندر آنا چاہتے ہیں اور تانیہ میڈم کا پوچھ رہے ہیں۔" شہروز نے المیر کو پہچان لیا، "آپ کو دوپہر میں ہی جواب مل گیا تھا، اب یہاں تماشہ کیوں لگا رہے ہیں؟ تانیہ اپنے والد کے ساتھ جا چکی ہے۔" المیر نے غصے سے کہا، "میری امی ساتھ ہیں، وہ ملنا چاہتی ہیں۔" شہروز نے سخت لہجے میں جواب دیا، "آپ اندر آ کر تسلی کر لیں، یہاں کوئی جھوٹ نہیں بول رہا۔ اور ایک بات کان کھول کر سن لیں المیر! تانیہ کل کیس فائل کر رہی ہے، وہ بہت جلد آپ کے اس تعلق سے آزاد ہو جائے گی۔ اب جو بات کرنی ہو عدالت میں کیجیے گا۔"

المیر شکستہ قدموں سے واپس گاڑی میں آ بیٹھا۔ آسیہ بیگم نے اس کا لٹکا ہوا چہرہ دیکھ کر سب سمجھ لیا۔ "اللہ کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے المیر۔ ہم بھی کیس لڑیں گے اور ثابت کریں گے کہ ہم تانیہ کو وہ تمام آسائشیں دے سکتے ہیں جو اسے چاہیے۔ میری دوست ایک مشہور فیملی کورٹ ایڈوکیٹ ہے، میں اس سے بات کروں گی۔

"دوسری طرف، جمیل صاحب کے گھر میں خوشیوں کا میلہ سجا ہوا تھا۔ رومیسہ کی رخصتی کا دن قریب تھا، اس لیے پورا گھر روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ صحن میں بچھی رنگ برنگی دری، ڈھولک کی تھاپ پر گاتی لڑکیاں، اور ہر طرف پھیلی گیندے کے پھولوں کی خوشبو ایک الگ ہی سماں باندھ رہی تھی۔ شہروز بھاگ دوڑ کر انتظامات سنبھال رہا تھا، مگر اس گہما گہمی میں بھی وہ بار بار اپنے فون کو دیکھتا، جیسے اسے تانیہ کے کسی پیغام یا خیریت کی خبر کا انتظار ہو۔ گھر کی دیواریں قہقہوں سے گونج رہی تھیں، مگر شہروز کا دل ابھی بھی اس خاموش دعا میں مصروف تھا کہ تانیہ کی زندگی میں بھی جلد ایسی ہی کوئی حقیقی بہار آئے۔"

اسی دوران المیر کے فون پر اس کے مینیجر کی درجنوں کالز آ رہی تھیں۔ المیر نے کال بیک کی تو مینیجر نے پریشانی میں بتایا، "سر! آپ کی غیر موجودگی کی وجہ سے جرمن کلائنٹ نے ڈیل کینسل کر دی ہے، ہمیں کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے!" المیر کو لگا جیسے زمین اس کے پیروں سے نکل رہی ہو۔

اگلی صبح، تانیہ اپنے بابا اور شہروز کے ساتھ وکیل کے چیمبر میں بیٹھی تھی۔ جب خلع کی بات شروع ہوئی تو وکیل نے میز پر ایک پرانی فائل رکھی۔ "شاہاب صاحب! تانیہ کا کیس فائل کرنے سے پہلے آپ کو یہ وصیت دیکھنی چاہیے۔" سب حیران رہ گئے۔ وکیل نے وضاحت کی، "تانیہ کے نانا نے یہ وصیت میرے والد کو سونپی تھی کہ جب تانیہ اپنی زندگی کا کوئی بڑا قانونی فیصلہ کرنے وکیل کے پاس آئے، تب ہی اسے یہ کاغذات دیے جائیں۔ وصیت کے مطابق صوفیہ بیگم کی فیکٹری اور بنگلہ اب قانونی طور پر تانیہ کے نام منتقل ہو چکے ہیں۔"

تانیہ نے لرزتے ہاتھوں سے فائل کو چھوا۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس کی ماں اور نانا نے اسے اس دن کے لیے پہلے سے مضبوط کر دیا تھا۔ شہروز کے چہرے پر ایک فخر آمیز مسکراہٹ تھی، وہ جانتا تھا کہ اب تانیہ صرف ایک مظلوم لڑکی نہیں، بلکہ ایک بااختیار خاتون کے طور پر المیر کے سامنے کھڑی ہوگی۔

وکیل صاحب نے سنجیدگی سے شاہاب صاحب کی طرف دیکھا اور بولے:

"شاہاب صاحب، ایک اور اہم بات! چونکہ تانیہ بی بی کا صرف نکاح ہوا ہے اور ابھی رخصتی نہیں ہوئی، اس لیے قانوناً ہمارا کیس بہت مضبوط ہے۔ لیکن نکاح نامے کے مطابق المیر نے 50 لاکھ روپے حق مہر لکھوایا تھا جو کہ 'واجب الادا' ہے۔ اگر المیر خلع کے بدلے مہر معاف کرنے کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ الگ بات ہے، ورنہ قانونی طور پر اسے یہ رقم ادا کرنی ہوگی۔"

تانیہ نے ایک سرد آہ بھری، اسے ان پیسوں سے کوئی غرض نہیں تھی، لیکن اسے یہ دیکھ کر سکون ملا کہ جو شخص (المیر) اسے مہرہ سمجھ کر کھیل رہا تھا، اب قانون کی گرفت اسے وہاں سے مالی اور اخلاقی طور پر توڑ دے گی۔

 
 جملہ حقوق بحق مصنفہ محفوظ ہیں © 2026 عشرت خانم۔ اس تحریر کا کوئی بھی حصہ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر کسی بھی شکل میں دوبارہ شائع یا تقسیم کرنا قانونی جرم ہے۔

وضاحتی بیان: یہ کہانی مکمل طور پر افسانوی ہے۔ کسی بھی حقیقی شخص یا واقعے سے
مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی۔

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22