"میرا حصار - قسط 15"


 "میرا حصار - قسط 15"

تحریر: عشرت زاہد

شانزے نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا، آج اس کی آنکھوں میں وہ پرانی بے بسی نہیں بلکہ ایک نیا عزم تھا۔ بابا کی علالت نے اسے وقت سے پہلے بہت کچھ سکھا دیا تھا۔ جب اس نے فیکٹری جانے کے لیے اپنی گاڑی کی چابی اٹھائی، تو اسے ارسلان کا وہ جملہ یاد آیا کہ "تمہاری اوقات کیا ہے؟"۔ آج وہ اسے دکھانا چاہتی تھی کہ ایک عورت کی اوقات اس کے کردار اور اس کی ہمت سے ہوتی ہے، کسی مرد کی دی ہوئی پہچان سے نہیں۔

وہ تیار ہو کر بابا کے کمرے میں آئی۔ حماد صاحب نے اسے دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتے ہوئے سمجھایا، "بیٹا! میں نے فیصل صاحب کو فون کر دیا ہے، اب سے میٹنگز میں تم ہی میری نمائندگی کرو گی۔ میرے بعد یہ سب تمہیں ہی سنبھالنا ہے۔" شانزے نے محبت سے کہا، "بابا! میں آپ کی طبیعت کی وجہ سے جا رہی ہوں، آپ کو جلد ٹھیک ہو کر اپنی سیٹ خود سنبھالنی ہوگی۔" حماد صاحب کی آنکھوں میں بیٹی کے لیے فخر چمک رہا تھا، انہوں نے جاتے ہوئے ٹوکا، "اپنے اور ارسلان کے بارے میں بھی کچھ سوچنا، سارا وقت کام میں ہی نہ گم ہو جانا۔" شانزے "جی اچھا" کہہ کر باہر نکل آئی مگر دل میں سوچا، "بنا لوں پہلے خود کو، پھر سوچوں گی کہ ساتھ رہنا ہے یا نہیں۔ معاف کر دینے اور زخم بھول جانے میں بڑا 

فرق ہے۔ میری روح زخمی ہے، سب اتنی جلدی کیسے بھول جاؤں؟"

آفس پہنچ کر فیصل صاحب نے اس کا استقبال کیا اور اسے رمیز کے ساتھ بورڈ روم بھیج دیا تاکہ وہ کمپنی کی اپ ڈیٹس لے سکے۔ میٹنگ بہت اچھی رہی، تمام ممبران نے شانزے کی سنجیدگی اور دلچسپی کو سراہا۔ میٹنگ کے بعد فیصل صاحب نے اسے اپنے آفس میں کافی کی پیشکش کی اور اس کے تعلیمی پس منظر سے متاثر ہو کر اسے روزانہ آفس آنے کا مشورہ دیا۔ "شانزے! تمہارے اندر بہت پوٹینشل ہے، تم چاہو تو اپنے بابا کا کمرہ استعمال کرو یا میں نیا سیٹ اپ کروا دیتا ہوں۔" شانزے نے شکریہ ادا کیا اور بابا کے کمرے کو دیکھا جو مدتوں سے ان کا منتظر تھا۔ وہاں سے نکلتے ہوئے اسے محسوس ہوا کہ وہ اب صرف ایک مظلوم بیوی نہیں، ایک بااختیار خاتون ہے۔

دوسری طرف، ارسلان کے گھر میں خاموشی کا راج تھا۔ شمع بیگم فزیو تھراپی کے دوران بولنے کی کوشش کر رہی تھیں مگر صرف آنسو ہی نکل پاتے تھے۔ ارسلان گھر آیا تو اسے ہر طرف ویرانی محسوس ہوئی۔ اسے ہر پل شانزے کی کمی محسوس ہوتی تھی۔ جب وہ اپنی ماں کے پاس گیا تو انہوں نے ٹوٹے ہوئے الفاظ میں کہا، "ماں۔۔۔ فف۔۔ فی (معافی)۔" ارسلان نے ماں کا ہاتھ چوما اور انہیں تسلی دی، مگر وہ خود اندر سے ٹوٹا ہوا تھا۔ وہ شانزے کی ایک کال یا میسج کا منتظر تھا تاکہ اپنی نادانیوں کا ازالہ کر سکے اور ایک نئے حصار میں زندگی شروع کر سکے۔

اسی شام ارسلان کی ملاقات فرحان سے ہوئی۔ فرحان نے افضل صاحب کی خیریت پوچھی اور پھر شانزے کا تذکرہ چھیڑا۔ "یار ارسلان! اگر تم مناسب سمجھو تو کیا میں بھابھی سے بات کروں؟" ارسلان نے مایوسی سے کہا، "شاید وہ تمہاری بات مان جائے۔" فرحان نے دل میں ارسلان کا گھر بچانے کا پکا ارادہ کر لیا تھا، اسی لیے اس نے شاہینہ باجی سے بھی رابطہ کیا اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔ شاہینہ باجی نے جب شانزے کا نمبر مانگا تو فرحان نے فوراً فراہم کر دیا، اس امید کے ساتھ کہ شاید کوئی راستہ نکل آئے۔

ادھر ہسپتال میں افضل صاحب سے ملنے ماریہ کے والدین آئے تھے۔ جمیلہ خاموش اور اتری ہوئی شکل کے ساتھ ایک طرف بیٹھی تھی۔ افضل صاحب نے ماریہ کے والدین کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے باتوں ہی باتوں میں بچوں کے مستقبل (شادی) کا ذکر چھیڑ دیا۔ ان کے جانے کے بعد افضل صاحب نے محسن سے ماریہ کے بارے میں پوچھا تو محسن نے صاف کہہ دیا، "بابا! ماما جانتی ہیں لیکن وہ اس رشتے کے لیے راضی نہیں۔" افضل صاحب نے اسے یقین دلایا، "میں تمہاری پسند کی شادی کرواؤں گا۔ میں نے زندگی جمیلہ کی مرضی کے مطابق گزاری ہے لیکن اب میں تمہیں تمہاری مرضی کی زندگی گزارنے کا موقع دوں گا۔"

پاس ہی صوفے پر لیٹی جمیلہ سب سن رہی تھی۔ اسے احساس ہوا کہ جس شوہر کو اس نے اپنی جاگیر سمجھا، وہ دراصل اس کی مصلحت پسندی تھی جو اسے برداشت کر رہی تھی۔ وہ اٹھی اور افضل کے پاس آ کر رو پڑی، "افزل! میں شرمندہ ہوں۔ میں نے ہر چیز کو اپنی ملکیت سمجھا، پر اصل خوشی بانٹنے میں تھی چھیننے میں نہیں۔" افضل نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے معاف کر دیا اور ہدایت کی کہ اب ارسلان کی بیوی کو بھی واپس لانے کی کوشش کرے۔

 شام ڈھلے جب شانزے آفس سے واپس گھر کی طرف نکلی، تو اس کے چہرے پر تھکن کے باوجود ایک عجیب سا سکون تھا۔ آج پہلی بار اسے لگا کہ اس کی اپنی بھی کوئی پہچان ہے۔  کبھی ارسلان نے اس کی تذلیل کی تھی۔ اس نے گاڑی کی رفتار کم کی اور ایک گہرا سانس لیا۔ آج وہ وہ پرانی شانزے نہیں تھی جو کسی کے لفظوں سے ٹوٹ جائے۔ گھر پہنچ کر جب اس نے بابا کو آج کی میٹنگ کی تفصیلات سنائیں تو حماد صاحب کی آنکھوں میں فخر کی چمک دیکھ کر اسے لگا کہ اس کی زندگی اب صحیح راستے پر آ گئی ہے۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب وہ اپنی زندگی کی باگ ڈور کسی اور کے ہاتھ میں نہیں دے گی۔

آپ کی رائے ہمارے لیے اہم ہے! کمنٹس میں ضرور بتائیے گا کہ شانزے کو اب کیا فیصلہ کرنا چاہیے؟ کیا اسے ارسلان کو معاف کر دینا چاہیے یا اپنی نئی زندگی کی طرف بڑھ جانا چاہیے؟

آنے والی اقساط کے لیے جڑے رہیے۔ آپ سب کی پسندیدگی کا بے حد شکریہ!

میرے فیس بک ناول گروپ "Ishrat Zahid Novels" کو ضرور جوائن کریں اور مجھے فالو کرنا مت بھولیں تاکہ آپ کو میرے ناولز کی ہر نئی قسط بروقت ملتی رہے۔

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22