"خوشیوں کے محل سے دکھوں کے سفر تک"(مکمل ناول)

 

"خوشیوں کے محل سے دکھوں کے سفر تک"



پہلا باب: خوشیوں کا آنگن اور ایک اداس شام:

 

عمارہ ایک بہت ہی خوبصورت اور دلکش لڑکی تھی۔ اس کی شخصیت میں ایک ایسی چمک تھی کہ جو بھی اس سے ملتا، اس کا گرویدہ ہو جاتا۔ وہ نہ صرف دکھنے میں حسین تھی بلکہ انتہائی ملنسار اور ہر ایک کی مدد کرنے والی لڑکی تھی۔ اپنے بہن بھائیوں میں وہ سب سے بڑی تھی، اس لیے اس کی ذمہ داری کا احساس بھی دوسروں سے زیادہ تھا۔

اس کا خاندان مالی طور پر بہت مستحکم تھا۔ اس کے والد ایک نامور تاجر تھے اور ان کا گھر ہر قسم کی آسائشوں سے بھرا ہوا تھا۔ عمارہ نے اپنی کمیونٹی کے سب سے بہترین کالج میں داخلہ لیا، جہاں اس کی ذہانت کے چرچے ہر طرف تھے۔ وہ اپنی پڑھائی میں اتنی باصلاحیت تھی کہ اس کے اسائنمنٹس اور پراجیکٹس ہمیشہ پوری کلاس میں سب سے منفرد اور بہترین ہوتے تھے۔

زندگی ایک حسین خواب کی طرح گزر رہی تھی... لیکن پھر وہ منحوس شام آئ

عمارہ جب کالج سے واپس گھر پہنچی تو پورے گھر میں ایک عجیب سا سناٹا تھا۔ گھر میں کسی کو نہ دیکھ کر اس کا دل ڈوبنے لگا۔ اس نے اپنی چھوٹی بہن کو آواز دی اور پوچھا: "امی اور ابو کہاں ہیں؟ سب اتنے خاموش کیوں ہیں؟"

بہن نے روتی ہوئی آواز میں جواب دیا: "باجی! ابو ہسپتال میں ہیں، کارڈیک وارڈ میں... آج مارکیٹ میں انہیں اچانک دل کا دورہ پڑا، لوگ انہیں ایمرجنسی میں لے کر گئے ہیں۔"

عمارہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ خوشیاں جو ابھی چند لمحے پہلے اس کے ساتھ تھیں، اچانک ایک گہرے سائے میں بدل گئیں۔

ہسپتال کی مشینوں کے شور میں عمارہ اپنے ساکت پڑے باپ کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے دل میں ایک انجانا خوف سر اٹھا رہا تھا۔ تبھی اس کی ماں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور گلوگیر آواز میں کہا، "عمارہ بیٹا! اللہ سے دعا کرو، اللہ بیٹیوں کی دعا ضرور سنتا ہے۔"

عمارہ خاموشی سے وہاں سے اٹھی، وضو کیا اور ہسپتال کے جائے نماز پر آ گئی۔ سجدے میں سر رکھتے ہی اس کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے اور وہ زار و قطار رونے لگی۔

"اے اللہ! میں نے آج تک تجھ سے کچھ نہیں مانگا کیونکہ تو نے بن مانگے ہی مجھے سب کچھ دے دیا تھا۔ لیکن آج میں تیرے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑی ہوں۔ میرے بابا کو زندگی دے دے، میں نے ان کے بنا جینے کا کبھی سوچا بھی نہیں ہے۔ میرے بابا ہی میری زندگی ہیں، وہی میرا سکون ہیں۔"

اس نے سسکیوں کے درمیان التجا کی، "اے میرے مالک! تو تو جانتا ہے کہ جب تک میں بابا کو اپنے پورے دن کی کہانی نہ سنا لوں مجھے چین نہیں آتا۔ مجھے ان کی وہی مسکراہٹ اور وہی صحت واپس چاہیے، اللہ جی! میرے بابا مجھے واپس کر دیں، میں ان کا ویسے ہی خیال رکھوں گی جیسے انہوں نے بچپن سے میرا رکھا ہے۔"

جب وہ سجدے سے اٹھی تو اسے اپنے دل پر ایک عجیب سا سکون اترتا محسوس ہوا۔ اسے ایسا لگا جیسے کوئی کہہ رہا ہو کہ اللہ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور وہ سب سنتا ہے۔ وہ کمرے سے باہر آئی تو دیکھا کہ اس کا بھائی ڈاکٹر سے بات کر رہا ہے۔ وہ بھی بھاگ کر ان کے پاس پہنچ گئی۔

"ڈاکٹر صاحب! میرے بابا کب تک گھر واپس جا سکیں گے؟" اس نے بے چینی سے پوچھا

ڈاکٹر نے مسکرا کر تسلی دی، "بس کچھ ٹیسٹ باقی ہیں، ہم انہیں دو دن تک ڈسچارج کر دیں گے۔ آپ پریشان نہ ہوں، آپ کے والد کو ہوش آ گیا ہے اور وہ بیدار ہیں۔ آپ مل سکتی ہیں لیکن یاد رہے کہ انہیں کوئی ذہنی دباؤ یا ٹریس  نہ ملے، وہ ابھی خطرے سے باہر ہیں مگر انہیں مکمل آرام کی ضرورت ہے۔"

یہ سنتے ہی عمارہ "بابا!" پکارتی ہوئی کمرے کی طرف دوڑی۔ اندر اس کی ماں والد کے سرہانے کھڑی تھی۔ عمارہ نے اپنے باپ کا ہاتھ تھام لیا اور روتے ہوئے بولی، "بابا! اب میں آپ کا بہت خیال رکھوں گی، آپ کو کہیں نہیں جانے دوں گی۔"

اسے روتا دیکھ کر اس کی ماں نے ٹوکا، "عمارہ! ڈاکٹر نے بابا کو ٹینشن دینے سے منع کیا ہے اور تم ہو کہ روئے جا رہی ہو..."



: دستک اور دوریاں

زرون اپنے آفس میں کام میں مصروف تھا کہ اچانک اس کا موبائل بجنے لگا۔ سکرین پر نام دیکھتے ہی اس نے کال کاٹ دی اور دوبارہ لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہو گیا۔ فون دوبارہ بجا، تو اس بار زرون نے اکتا کر کال اٹھائی۔

"ہیلو! جی مما، سب خیریت ہے؟ آپ مسلسل کالز کر رہی ہیں۔"

زرون کی والدہ رخسانہ بیگم دوسری طرف سے بولیں، "تم گھر کب آ رہے ہو؟" "کیوں خیریت؟" زرون نے مختصر پوچھا۔ "کیا تم بھول گئے کہ ہمیں بختیار بھائی کے گھر جانا ہے؟ پچھلے ہفتے وہ ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہسپتال میں تھے، اب وہ گھر آ گئے ہیں اور مکمل بیڈ ریسٹ پر ہیں۔ وہ تمہارے پاپا کے بہترین دوست ہیں، ہمارا جانا بنتا ہے۔" زرون نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا، "ٹھیک ہے مما، میں کوشش کروں گا کہ وقت پر گھر پہنچ جاؤں۔"

دوسری طرف عمارہ کچن میں اپنے والد کے لیے سوپ تیار کر رہی تھی۔ وہ اپنی ملازمہ زرینہ بی بی کو جلدی جلدی ہدایات دے رہی تھی، "زرینہ بی بی! جلدی سے چکن کے ریشے الگ کریں، بابا کی دوائی کا وقت ہو رہا ہے۔" اسی دوران اس کی ماں عالیہ بیگم کچن میں داخل ہوئیں اور بولیں، "عمارہ! جاؤ جا کر کپڑے تبدیل کرو۔ آج رات زرون اور اس کی امی آ رہے ہیں، تمہیں اچھے سے تیار ہونا چاہیے۔" عمارہ نے مسکرا کر کہا، "مما بس دو منٹ، سوپ تیار ہو جائے تو میں مہمانوں کے آنے سے پہلے تیار ہو جاؤں گی۔" عالیہ بیگم نے زرینہ بی بی سے کہا کہ رات کے کھانے کے لیے چکن پلاؤ، کڑاہی، شامی کباب، سلاد اور رائتہ تیار کر لیں۔

کمرے میں بختیار صاحب سوپ پیتے ہوئے پیار سے بولے، "میری بیٹی کو اتنا اچھا سوپ بنانا آتا ہے؟ اگر مجھے پتہ ہوتا تو میں پہلے ہی بیمار ہو جاتا۔" عمارہ نے لاڈ سے ٹوکا، "بابا! آپ کو زیادہ باتیں کرنے سے ڈاکٹر نے منع کیا ہے۔ جب بھی آپ کا دل چاہے، مجھے کہہ دیا کریں، میں بنا دیا کروں گی۔"

عالیہ بیگم نے کمرے میں آتے ہی بختیار صاحب سے دھیمی آواز میں کہا، "زرون اور اس کی ماں آ رہے ہیں۔ آپ زرون کو بہت پسند کرتے ہیں، آج بھابھی سے پوچھیے گا کہ ان کا کیا ارادہ ہے؟ عمارہ کی گریجویشن میں بھی اب صرف ایک سال رہ گیا ہے۔ اگر زرون کی رضامندی ہے تو بات پکی کر لیتے ہیں، اس دوستی کو رشتہ داری میں بدل دینا چاہیے۔"

ادھر زرون میٹنگ روم سے نکلتے ہوئے اپنا فون چیک کر رہا تھا جہاں ماں کی کئی کالز موجود تھیں۔ اس نے اپنی امی کو کال بیک کی، "امی! میں آفس سے نکل رہا ہوں، آپ تیار رہیں، میں آپ کو پک کر لوں گا۔" فون بند کرتے ہی اس نے عائشہ کے میسجز دیکھے، جو تعداد میں دس سے زیادہ تھے۔ عائشہ اس کی یونیورسٹی فیلو تھی اور دونوں کے درمیان گہری دوستی اور انڈرسٹینڈنگ تھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور زندگی بھر کا ساتھ چاہتے تھے۔ زرون نے آج دل میں ٹھان لی تھی کہ وہ اپنی اور عائشہ کی شادی کی بات آج ضرور کرے گا۔

رات کے وقت بختیار صاحب کے گھر قہقہوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ بختیار صاحب اور زرون کی ہنسی باہر تک آ رہی تھی جب عمارہ قہوہ لے کر کمرے میں داخل ہوئی۔ اس نے سب کو قہوہ پیش کیا۔ زرون نے عمارہ کو دیکھتے ہی پوچھا، "سمیسٹر کیسا جا رہا ہے عمارہ؟" عمارہ نے دھیمے لہجے میں جواب دیا، "زرون بھائی! بہت اچھا جا رہا ہے، اب فائنلز ہونے والے ہیں۔"




واپسی پر زرون اپنی ماں سے بات کرنا چاہتا تھا، وہ ذہن میں مناسب الفاظ تلاش کر رہا تھا کہ بات کیسے شروع کرے۔ اتنے میں رخسانہ بیگم خود ہی بول پڑیں، "عمارہ کتنی پیاری لگ رہی تھی نا؟ بختیار بھائی کی تو آنکھوں کی روشنی ہے وہ، اور میں چاہتی ہوں کہ اسی روشنی سے اپنے گھر کی رونق میں بھی اضافہ کروں۔"

یہ سنتے ہی زرون کے دل میں ایک انجانا سا خوف بیٹھ گیا، "مما! آپ کا کیا مطلب ہے؟" اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا۔

رخسانہ بیگم مسکرا کر بولیں، "بیٹا! میرا مطلب ہے کہ تمہاری اور عمارہ کی جوڑی بہت جچے گی۔ میری دلی خواہش ہے کہ میں عمارہ کو اپنے گھر کی دلہن بنا کر لاؤں۔"

یہ سننا تھا کہ زرون نے ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ گاڑی کو بریک لگائی۔ رخسانہ بیگم بری طرح ڈر گئیں، "یا اللہ خیر! بیٹا دیکھ کر گاڑی چلاؤ، کیا ہوا؟"

زرون نے بمشکل اپنے حواس بحال کیے اور جھوٹ بولا، "معذرت مما، وہ اچانک ایک بلی سامنے آ گئی تھی، اسے بچانے کے چکر میں بریک لگ گئی۔"

سارے راستے زرون یہی سوچتا رہا کہ عمارہ کا اس کے ساتھ کوئی جوڑ ہی نہیں۔ کہاں وہ ایک ناپختہ  سی لڑکی اور کہاں عائشہ! "میں عائشہ کو نہیں چھوڑ سکتا، مجھے مما سے بات کرنی ہوگی،" اس نے دل ہی دل میں سوچا۔ پھر اچانک اسے خیال آیا کہ اسے اپنی بڑی بہن، تحسین آپا کی مدد لینی چاہیے۔ تحسین آپا شادی کے بعد کینیڈا شفٹ ہو چکی تھیں اور اپنے دو بچوں کے ساتھ ایک خوشحال زندگی گزار رہی تھیں۔ یہ سوچ کر اسے تھوڑا سکون ملا کہ تحسین آپا کی بات امی کبھی نہیں ٹالتیں۔

دوسری طرف، عمارہ اپنے بابا کی دوائی کا سوچ کر ان کے کمرے کی طرف آ رہی تھی۔ دروازہ تھوڑا سا کھلا تھا، وہ اندر داخل ہونے ہی والی تھی کہ بختیار صاحب کی آواز سن کر رک گئی۔ ان کی آواز معمول سے کچھ بلند تھی: "عمارہ کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوگا! اسے ابھی اپنی پڑھائی مکمل کرنے دیں، اس کے بعد ہی اس موضوع پر بات کریں گے۔ میں نے اسے ابھی ماسٹرز کروانا ہے..."

عمارہ وہیں ساکت کھڑی رہ گئی۔


زرون اپنے کمرے میں آیا تو اس کے ذہن میں صرف ایک ہی بات چل رہی تھی کہ تحسین آپا سے بات کرنی ہے۔ اس نے بیڈ پر بیٹھ کر الفاظ ترتیب دیے اور میسج ٹائپ کرنے لگا۔ اس نے سوچا کہ کینیڈا میں اس وقت آپا مصروف ہوں گی، پہلے میسج کرنا ہی بہتر ہے۔ ابھی میسج بھیجا ہی تھا کہ تحسین آپا کی کال آ گئی۔

پہلی ہی بیل پر زرون نے فون اٹھایا۔ سلام دعا کے بعد آپا چہکتے ہوئے بولیں، "بڑی لمبی عمر ہے تمہاری زرون! میں تمہیں ہی کال کرنے والی تھی۔ ابھی ابھی امی کا فون آیا تھا، وہ بہت خوش لگ رہی تھیں۔ اب بتاؤ میں کب پاکستان آؤں تمہاری شادی کے لیے؟"

یہ سن کر زرون بولا، "آپا! جتنی جلدی آپ کو ہے، اس سے زیادہ مجھے ہے۔" تحسین آپا ہنس پڑیں، "اچھا جی دولہے میاں! کیا بات ہے۔ ویسے کیسی لگی عمارہ؟ میں نے تو برسوں پہلے دیکھا تھا، امی بتا رہی تھیں کہ اب بہت خوبصورت ہو گئی ہے۔ مجھے تو وہ بچپن سے بہت پسند ہے۔"

زرون نے فوراً بات کاٹی، "آپا! آپ کو پسند ہے تو اچھی بات ہے، لیکن مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔ عمارہ کا نام پھر کبھی سنائیے گا۔" تحسین آپا نے حیرت سے پوچھا، "ہاں بتاؤ، کیا بات ہے؟"

زرون نے ہمت مجتمع کی اور کہا، "آپا! آپ امی کو راضی کریں کہ وہ میرا رشتہ عائشہ کے لیے لے کر جائیں۔ اس کے گھر والے اس کی شادی کرنا چاہتے ہیں اور میں اور عائشہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔"

یہ سن کر تحسین آپا کے لہجے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی، "زرون! تم ہوش میں تو ہو؟ یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ امی نے بچپن سے عمارہ کو تمہارے لیے سوچ رکھا ہے، وہ کبھی نہیں مانیں گی۔ اگر میں بات کروں گی تب بھی ان کا دل ہی دکھے گا۔ میری بات مانو اور عائشہ کا خیال دل سے نکال دو۔ امی کی پسند سے شادی کرو، بہت اچھے لوگ ہیں، تم خوش رہو گے۔"

زرون نے تڑپ کر کہا، "آپا! مجھے ایک میچور  لائف پارٹنر چاہیے، عمارہ میرے لیے ابھی بچی ہے۔ میرا دل اور دماغ اسے قبول نہیں کر رہا۔" تحسین آپا کچھ لمحے خاموش رہیں اور پھر بولیں، "اچھا بھائی! اس پر پھر کبھی بات کریں گے، ابھی میرے کچھ مہمان آنے والے ہیں، کھانا بنانا ہے۔ اپنا خیال رکھنا، اللہ حافظ۔"

کال کٹتے ہی زرون کو شدید غصہ آیا۔ "کیا میں اپنی مرضی سے شادی بھی نہیں کر سکتا؟ ساری زندگی میں نے 'جی حضوری' کی، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ میری شریکِ حیات بھی صرف امی کی پسند کی ہو؟" اس نے غصے میں لیمپ آف کیا اور آنکھیں موند لیں۔

دوسری طرف، عمارہ کمرے کے باہر کھڑی اپنی ماں کی باتیں سن رہی تھی۔ عالیہ بیگم بختیار صاحب کو سمجھا رہی تھیں، "بختیار صاحب! اس سے بہتر رشتہ نہیں ملے گا۔ زرون میری نظروں کے سامنے بڑا ہوا ہے۔ باپ کی موت کے بعد اس نے جس طرح گھر اور کاروبار کو سنبھالا ہے، مجھے ایسا ہی ذمہ دار داماد چاہیے۔ وہاں عمارہ پورے گھر پر راج کرے گی۔ ایک نند ہے وہ بھی باہر ہوتی ہے۔ میں اس کے فائنل امتحان کے بعد خود بھابھی سے بات کروں گی۔ شادی کے بعد بھی وہ پڑھتی رہے، بھابھی براڈ مائنڈڈ ہیں، انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔"

عمارہ نے دروازے پر دستک دی تو بختیار صاحب نے اسے اندر بلا لیا، "بیٹا آ جاؤ، مجھے پتا تھا تم دوائی کا پوچھنے آئی ہو، وہ تمہاری امی نے پہلے ہی کھلا دی ہے۔" عمارہ کچھ سوچتی ہوئی خاموش کھڑی تھی تو والد نے پوچھا، "بیٹا سب خیریت ہے؟" "جی بابا سب ٹھیک ہے، میں سونے جا رہی ہوں، شب بخیر۔" عمارہ اپنے کمرے میں آ گئی لیکن اس کا ذہن ان باتوں میں الجھا ہوا تھا۔

امتحانات سر پر تھے اور باپ کی بیماری کی وجہ سے کافی حرج ہو چکا تھا۔ اس نے نوٹس نکالے اور پڑھنے بیٹھ گئی۔ پڑھتے پڑھتے تھکن کی وجہ سے اسے کب نیند آئی، پتا ہی نہ چلا۔ وہ لیمپ آف کرنا بھی بھول گئی۔

رات گئے عالیہ بیگم کچن میں پانی لینے آئیں تو عمارہ کے کمرے کی لائٹ دیکھ کر اندر چلی آئیں۔ عمارہ بیڈ سے ٹیک لگائے، سینے پر نوٹس رکھے سو رہی تھی۔ انہوں نے شفقت سے نوٹس ایک طرف رکھے، عمارہ کو سیدھا لٹایا اور لائٹ آف کر کے باہر آ گئیں۔ اپنے کمرے میں واپس آ کر وہ لیٹیں تو شوہر کی بیماری کا خیال پھر سے ستانے لگا۔ وہ چاہتی تھیں کہ ان کی زندگی میں ہی
                                                                     بیٹیوں کے فرائض سے فارغ ہو جائیں۔


زرون کی آنکھ کھلی تو اس نے الارم بند کیا۔ ساڑھے آٹھ بج رہے تھے۔ اس نے بڑی مشکل سے خود کو بستر سے اٹھایا۔ وہ صبح سویرے اٹھنے، ورزش کرنے اور پھر ناشتہ کر کے آفس نکلنے کا عادی تھا، مگر آج ورزش کا وقت نکل چکا تھا۔ تیسری بار الارم بند کرنے کے بعد اس نے شاور لے کر سیدھا آفس جانے کا سوچا۔

اسے آج کی اہم میٹنگ یاد آئی تو ہدایات دینے کے لیے واٹس ایپ آن کیا۔ عائشہ کی ڈھیروں کالز اور میسجز دیکھ کر وہ حیران رہ گیا کہ وہ یہ سب کیسے بھول سکتا ہے؟ آج عائشہ کی سالگرہ تھی۔ ہر بار کی طرح وہ اسے سب سے پہلے وش  کرتا، پھر وہ باہر کھانا کھاتے اور زرون اسے شاپنگ کرواتا۔ رات کی پریشان کن باتوں نے اس کے ذہن پر اتنا بوجھ ڈال دیا تھا کہ اسے اتنی اہم بات یاد ہی نہ رہی۔ اس نے فوراً مینیجر کو کال کر کے میٹنگ اور تمام اپائنٹمنٹس ملتوی کر دیں، کیونکہ وہ آج آفس سے پہلے عائشہ سے ملنا چاہتا تھا۔ عائشہ کے بغیر اسے اپنی زندگی ادھوری لگتی تھی۔

اس نے پہننے کے لیے نیلا کوٹ پینٹ نکالا، جس کے ساتھ سفید اور نیلی چیک والی شرٹ تھی۔ یہ ساری شاپنگ اس کی امی نے کی تھی اور وہ وہی پہنتا تھا جو وہ لاتی تھیں۔ یہ سوچ کر اس نے ارادہ بدل دیا اور عمارہ کی تحفہ دی ہوئی شرٹ نکالی جو بلیک سوٹ کے ساتھ میچ کر رہی تھی۔ وہ پہن کر وہ واش روم کی طرف بڑھ گیا۔

نیچے رخسانہ بیگم ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ لگوا رہی تھیں۔ وہ آج بہت خوش تھیں کیونکہ کافی عرصے بعد وہ ایک پرسکون نیند سوئی تھیں۔ انہوں نے آج زرون کا پسندیدہ ناشتہ خود تیار کیا تھا۔ زرون کو جلدی میں آتا دیکھ کر وہ بولیں، "آجاؤ بیٹا! ناشتہ بالکل تیار ہے۔"

مگر زرون نے میز سے جوس کا گلاس اٹھایا اور آدھا پینے کے بعد بولا، "مما! بہت لیٹ ہو گیا ہوں، کہیں جلدی پہنچنا ہے۔ کل آپ کے ساتھ ناشتہ کروں گا۔ اپنی میڈیسن یاد سے کھا لیجیے گا اور رات کو کھانے پر میرا انتظار مت کیجیے گا، مجھے دیر ہو جائے گی۔ اللہ حافظ!"

رخسانہ بیگم کا چہرہ ایک دم اتر گیا۔ انہوں نے کتنے پیار سے یہ سب بنایا تھا، مگر ان کی محنت رائیگاں گئی۔ انہوں نے بجھے دل کے ساتھ ملازمہ کو آواز دی، "یہ سب واپس لے جاؤ، میری چائے میرے کمرے میں ہی لے آنا۔"

کمرے میں آ کر وہ سوچنے لگیں کہ آخر کب تک زرون یونہی راتوں کو لیٹ آئے گا؟ "شاید بیوی آئے گی تو اسے سنبھالے گی، میری تو سنتا ہی نہیں۔ اپنی صحت کی پرواہ نہیں، بس آفس کا کام ضروری ہے۔" رخسانہ بیگم اس بات سے بالکل انجان تھیں کہ ان کا بیٹا اپنی محبت کے حصار میں اتنا گم ہو چکا ہے کہ اسے ماں کی تنہائی کا احساس تک نہیں رہا۔ شوہر کی موت کے بعد وہ بالکل تن تنہا رہ گئی تھیں اور انہوں نے زرون کو ماں اور باپ دونوں کا پیار دینے کی کوشش کی تھی، مگر وہ یہ بھول گئی تھیں کہ اب زرون 13 سال کا بچہ نہیں بلکہ 28 سال کا جوان مرد ہے جس کی اپنی الگ خواہشات ہیں۔

گاڑی چلاتے ہوئے زرون نے عائشہ کو کال کی مگر کوئی جواب نہ ملا۔ اس نے وائس نوٹ بھیجا: "میں ریسٹورنٹ میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں، جلدی پہنچو۔ میں نے ناشتہ بھی نہیں کیا، اس لیے میڈم! ذرا جلدی تشریف لے آئیں۔ لڑائی بعد میں کر لینا۔"

اس نے پھولوں کی دکان سے ایک خوبصورت سا گلدستہ خریدا اور پھر بیکری کی طرف گاڑی موڑ دی۔ اس نے کیک پر 'عائشہ' لکھوایا، کینڈلز لیں اور گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا۔ فون بجنے پر دیکھا تو عائشہ کی کال تھی۔ اس نے فوراً اٹھائی، مگر دوسری طرف عائشہ کے بجائے اس کی امی تھیں: "بیٹا! عائشہ اپنا فون گھر بھول گئی ہے۔ آج اس کی سالگرہ پر اس کی سہیلیوں نے کیفے میں پارٹی رکھی ہے، وہ وہیں گئی ہے۔"

زرون نے شکریہ کہہ کر فون رکھا اور گاڑی کا رخ اس کیفے کی طرف موڑ دیا جہاں عائشہ موجود تھی۔



زرون کیفے پہنچ کر عائشہ کو سرپرائز دینا چاہتا تھا، اس لیے اس نے گلدستہ اور کیک اٹھایا اور اندر داخل ہوا۔ وہ نظروں سے عائشہ کو تلاش کرنے لگا۔ ابھی وہ تھوڑا ہی آگے بڑھا تھا کہ قہقہوں کی آواز نے اس کے قدم روک دیے۔ وہ عائشہ ہی کی آواز تھی، جسے وہ ہزاروں آوازوں میں بھی پہچان سکتا تھا۔

اس نے دیکھا کہ عائشہ اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ میں کھڑی سب کو کیک کھلا رہی تھی۔ یہ دیکھ کر زرون کا دل بیٹھ گیا کہ عائشہ نے اس کا انتظار کیے بغیر ہی کیک کاٹ لیا۔ وہ بوجھل قدموں سے آگے بڑھا اور اسے وش  کیا۔ زرون کو اچانک سامنے دیکھ کر عائشہ ہکا بکا رہ گئی، "تم یہاں کیسے؟"

"میں نے تمہیں بہت کالز کی تھیں، تمہاری امی نے بتایا کہ تم فون گھر بھول آئی ہو،" زرون نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔ عائشہ صفائی دینے لگی، "زرون! میں نے بھی تمہیں بہت میسجز کیے تھے پر تمہارا کوئی جواب نہیں آیا، پھر میری سہیلیاں گھر آ گئیں اور جلدی میں میرا فون وہیں رہ گیا۔"

عائشہ کی بات سن کر زرون کو تھوڑا سکون ملا۔ عائشہ اپنی سہیلیوں سے معذرت کر کے زرون کے ساتھ کیفے سے باہر آ گئی۔ زرون نے اسے بتایا کہ اس نے ناشتہ بھی نہیں کیا کیونکہ وہ اس کے ساتھ کرنا چاہتا تھا۔ عائشہ اسے اپنے اسی پرانے اور پسندیدہ ریستوران لے گئی جہاں وہ اکثر جایا کرتے تھے۔

دوسری طرف، تحسین آپا نے کچھ سوچ کر اپنی ماں کو فون ملایا۔ سلام دعا کے بعد جب انہوں نے حال پوچھا تو رخسانہ بیگم بولیں، "آج طبیعت کچھ گری گری سی ہے، بس آرام کر رہی ہوں۔" "آپ ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں گئیں؟ بی پی چیک کروایا؟" تحسین آپا نے فکرمندی سے پوچھا۔ "نہیں بیٹا! زرون آج کل بہت مصروف ہے، ویک اینڈ پر کہوں گی اسے۔" تحسین آپا نے موقع غنیمت جانا اور بولیں، "مما! آپ جلدی سے زرون کی شادی کر دیں تاکہ آپ کی تنہائی دور ہو۔" رخسانہ بیگم ایک ٹھنڈی آہ بھر کر بولیں، "مجھے بھی بہت ارمان ہیں اس کے سر پر سہرا سجانے کے، مگر وہ مجھ سے بات ہی کہاں کرتا ہے۔ صبح جلدی میں ہوتا ہے اور رات کو لیٹ آتا ہے۔ میں اس کے انتظار میں تھک جاتی ہوں۔" تحسین آپا نے خوشخبری سنائی، "آپ فکر نہ کریں، میں اگلے مہینے پاکستان آ رہی ہوں۔ ہم ساتھ مل کر بختیار انکل کے گھر عمارہ کا رشتہ مانگنے جائیں گے۔ اس بار میں یہ شادی کروا کر ہی جاؤں گی۔" یہ سن کر رخسانہ بیگم کا چہرہ کھل اٹھا، "تم نے تو میری آدھی ٹینشن ہی ختم کر دی۔"

ادھر ریستوران میں بیٹھی عائشہ نے زرون سے سوال کیا، "زرون! ہم کب تک اس طرح چھپ کر ملتے رہیں گے؟ آخر آنٹی ہمارے گھر کب آئیں گی؟" زرون نے اس کا ہاتھ تھام کر تسلی دی، "تم پریشان مت ہو، میں آج ہی گھر جا کر امی سے بات کروں گا۔" وہ اس وقت صرف ان لمحات کا لطف اٹھانا چاہتا تھا۔

بختیار صاحب اپنے کمرے میں اخبار پڑھ رہے تھے جب عمارہ وہاں آئی۔ "بابا! اب آپ کو تھوڑی واک کرنی چاہیے، باہر کھلی فضا میں چلتے ہیں، کچھ گپ شپ بھی ہو جائے گی اور مجھے آپ سے ایک ضروری بات بھی کرنی ہے،" عمارہ نے محبت سے کہا۔ بختیار صاحب نے فکر سے پوچھا، "کوئی پریشانی ہے بیٹا؟" "نہیں بابا! بس کچھ ڈسکس کرنا ہے۔"

عمارہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں لان میں لے آئی۔ کرسی پر بیٹھ کر بختیار صاحب نے گہرا سانس لیا اور پوچھا، "جی میری بیٹی نے کیا بات کرنی ہے؟" عمارہ نے سوال کیا، "بابا! آپ مجھ سے کتنا پیار کرتے ہیں؟" "بے انتہا بیٹا!" انہوں نے جواب دیا۔ "تو کیا آپ میری خوشی کی خاطر میری ایک بات مانیں گے؟ بابا! جب تک میں ماسٹرز مکمل نہ کر لوں، میری شادی کا ارادہ ملتوی کر دیں۔ آپ جانتے ہیں کہ میرے کچھ خواب ہیں، میں اپنی پہچان بنانا چاہتی ہوں۔ میرے لیے شادی زندگی کا ایک حصہ ہے، پوری زندگی نہیں۔ کل میں نے آپ کی اور مما کی باتیں سن لی تھیں۔ میں ابھی صرف اپنی پڑھائی پر فوکس کرنا چاہتی ہوں۔"

بختیار صاحب کے چہرے پر ایک فخریہ مسکراہٹ آئی، "جیسا میری بیٹی چاہے گی، ویسا ہی ہوگا۔ میں بھی تمہیں ایک آزاد اور خود مختار  عورت بنتے دیکھنا چاہتا ہوں۔" عمارہ نے خوشی سے اپنے باپ کو گلے لگا لیا۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس کے دل سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو۔ اس کی منزل صرف ڈگری لینا نہیں تھی، اس نے اپنے کیریئر کے بارے میں بہت کچھ سوچ رکھا تھا، وہ جانتی تھی کہ یہ سب شادی کے بعد اتنا آسان نہیں ہوگا۔


رخسانہ بیگم بار بار گیٹ کی طرف دیکھتیں اور پھر لاؤنج میں چکر لگانے لگتیں۔ آخر تھک کر وہیں بیٹھ گئیں۔ رات کے گیارہ بج چکے تھے مگر زرون کا کچھ پتہ نہ تھا۔ ایسے میں انہیں اپنے مرحوم شوہر کی بہت یاد آئی۔ وہ ماضی کی یادوں کے دریچوں میں کھو گئیں جب وہ دونوں اسی لاؤنج میں بیٹھ کر شطرنج کھیلا کرتے تھے اور زرون اپنے ویڈیو گیمز میں مگن ہوتا تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کا بہترین ساتھ دیتے تھے۔ ان خوبصورت یادوں کا تسلسل تب ٹوٹا جب باہر گاڑی کے ہارن کی آواز سنائی دی۔ وہ زرون کی گاڑی تھی، واچ مین مین گیٹ کھول رہا تھا۔ وہ اپنی سوچوں سے باہر آئیں اور زرون کے اندر آنے کا انتظار کرنے لگیں۔

زرون نے لاؤنج کا دروازہ کھولا اور سامنے صوفے پر ماں کو بیٹھے دیکھ کر پوچھا، "آپ ابھی تک جاگ رہی ہیں؟" وہ ناراضگی سے بولیں، "کیا یہ وقت ہے گھر آنے کا؟ مانا کہ تم بڑے ہو گئے ہو، خود مختار ہو، تمہیں اب ماں کے سہارے کی ضرورت کہاں رہی، جب مرضی چاہے آؤ۔"

زرون ایک پل میں ان کی ناراضگی بھانپ گیا۔ صبح ناشتہ کیے بغیر جانے پر وہ ابھی تک خفا تھیں اور آج انہوں نے اسے کال بھی نہیں کی تھی، ورنہ دن میں دو تین بار وہ ضرور پوچھتی تھیں کہ کب آؤ گے۔ زرون نے ایک گہرا سانس لیا، لیپ ٹاپ ایک طرف رکھا اور ماں کا ہاتھ تھام کر ان کے پاس بیٹھ گیا۔

"مما! آپ کی ضرورت کل بھی تھی، آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ میں ایک میگا پروجیکٹ پر کام کر رہا ہوں، بس اسی کی وجہ سے تھوڑا زیادہ مصروف ہو گیا ہوں۔" زرون رک گیا۔ وہ ابھی عائشہ والی بات نہیں کر سکتا تھا کیونکہ ماں پہلے ہی ناراض تھیں۔

"آپ نے کھانا کھایا؟" اس نے پوچھا۔ رخسانہ بیگم بولیں، "نہیں، بھوک نہیں تھی۔" زرون نے ملازمہ کو آواز دی تو وہ بولی، "صاحب! میں نے دو بار کھانا گرم کیا مگر بیگم صاحبہ نے انکار کر دیا۔" زرون نے کہا، "آپ ٹیبل لگائیں، میں ابھی ہاتھ منہ دھو کر آتا ہوں، آج میں اپنی امی کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاؤں گا اور ساتھ گرین ٹی بھی بناؤں گا، میرا بہت دل کر رہا ہے۔" یہ سن کر رخسانہ بیگم کا موڈ کچھ بہتر ہوا۔

زرون کمرے میں جاتے ہی کشمکش کا شکار ہو گیا۔ ایک طرف عائشہ کا اصرار، دوسری طرف امی کی ناراضگی اور تحسین آپا کا رویہ۔ اسے نہیں لگ رہا تھا کہ کوئی اس کی بات مانے گا۔ اس کے دل و دماغ میں ایک جنگ شروع ہو چکی تھی۔

ڈائننگ ٹیبل پر ماں کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر زرون کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی۔ "ماما! آپ ویک اینڈ پر میرے ساتھ چیک اپ کے لیے چلیں گی، آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔" رخسانہ بیگم بولیں، "میری طبیعت کی اتنی فکر ہے تو اس گھر میں میری بہو کو لے آؤ۔ میں عمارہ کو اس گھر میں دیکھنا چاہتی ہوں، اپنے پوتے پوتیاں دیکھ کر مرنا چاہتی ہوں۔"

زرون دھیما سا مسکرایا، "مما! ابھی مرنے کی باتیں نہ کریں، پاپا کا غم میں ابھی بھولا نہیں ہوں۔" رخسانہ بیگم نے موقع دیکھا تو بولیں، "میری طبیعت عمارہ کے آنے سے ہی ٹھیک ہوگی۔ مجھے تنہائی تکلیف دیتی ہے۔ تم سارا دن ہوتے نہیں، کس سے باتیں کروں؟ عمارہ آئے گی تو میرا دل بھی بہل جائے گا۔"

زرون سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا جب ماں نے بتایا کہ اگلے ماہ تحسین آپا پوری فیملی کے ساتھ آ رہی ہیں۔ وہ چونک گیا کیونکہ کل رات بات کرتے ہوئے انہوں نے آنے کا تذکرہ تک نہیں کیا تھا۔ "اچھا اب چلیں، آپ ریسٹ کریں، بہت رات ہو گئی ہے۔" وہ انہیں کمرے تک لے گیا اور بیڈ پر لٹا کر کمفرٹر اڑھا دیا۔ جب وہ جانے لگا تو رخسانہ بیگم پھر بولیں، "تحسین آئے گی تو ہم عمارہ کا رشتہ لینے جائیں گے۔" زرون کچھ بولا نہیں، بس لائٹ آف کر کے باہر آ گیا۔

اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے اس کے قدم بہت بوجھل تھے۔ ایک طرف اس کی اپنی محبت اور خوشی تھی، دوسری طرف ماں کی مسکراہٹ۔ وہ ان دونوں کے درمیان الجھ کر رہ گیا تھا۔ اس نے ملازمہ سے کافی کا کہا اور لان میں واک کرنے لگا۔ اسے اپنی بے بسی پر حیرت ہو رہی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ وہ ہر ڈیل جیت سکتا ہے، مگر یہاں زندگی کا سوال تھا۔ اسی سوچ میں وہ کب بیڈ پر گرا اور نیند کی وادی میں اتر گیا، اسے پتہ نہ چلا۔

اگلے دن عمارہ یونیورسٹی میں تھی۔ اس نے لائبریری کی کتابیں واپس کیں اور اپنی اسائنمنٹ سبمٹ کروائی۔ ان سب کاموں میں وہ اتنی مصروف رہی کہ اسے اپنے فون کا ہوش نہ رہا۔ جب فارغ ہو کر فون دیکھا تو بابا کی کئی کالز تھیں۔ "جی بابا! آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟" اس نے فکر مندی سے پوچھا۔ بختیار صاحب بولے، "میں ٹھیک ہوں بیٹا، بس ڈرائیور کافی دیر سے آپ کا انتظار کر رہا تھا۔" "سوری بابا! اسائنمنٹ کی وجہ سے فون وائبریشن پر تھا۔ میں بس ابھی نکل رہی ہوں۔" عمارہ سہیلیوں کو اللہ حافظ کہہ کر گاڑی کی طرف بڑھی۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے آنکھیں موند لیں۔ آج کا دن بہت تھکا دینے والا تھا مگر وہ خوش تھی کہ اب وہ مکمل طور پر اپنے امتحانات پر توجہ دے سکے گی۔

دوسری طرف، عائشہ جب کچن میں آئی تو اس کی امی نے پوچھا، "عائشہ! زرون سے بات ہوئی؟" عائشہ بولی، "جی، وہ جلد اپنی امی سے بات کرے گا۔" امی نے سختی سے کہا، "پانچ سال ہو گئے ہیں، اب کتنا جاننا ہے ایک دوسرے کو؟ اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہو جاؤ۔ میں کب تک تمہارے ابو کو روکوں گی؟ وہ اپنے دوست کے بیٹے کا سوچ رہے ہیں اور اسی سلسلے میں ویک اینڈ پر ان کی فیملی بھی ہمارے گھر آ رہی ہے۔" عائشہ چڑ کر بولی، "ماما! میں زرون کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کروں گی، یہ بات آپ جانتی ہیں۔" اور وہ پیر پٹختی ہوئی کچن سے باہر نکل گئی۔


ایک مہینہ کیسے گزرا، زرون کو احساس ہی نہیں ہوا۔ آفس کی بڑھتی مصروفیت، فارن ڈیلی گیشن کے ساتھ اسلام آباد جانا، پھر کراچی اور لاہور کے مختلف شہروں میں برانڈ لانچ کی میٹنگز—وہ اتنا مصروف ہو گیا کہ عائشہ کو مناسب وقت نہ دے سکا۔ آج ہی کراچی سے لوٹا تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر تحسین آپا پر پڑی تو حیرت سے اس کا چہرہ کھل اٹھا۔ وہ آگے بڑھا اور ان کے گلے لگ گیا۔

"آپا! آپ نے آنے سے پہلے کال یا میسج کیوں نہیں کیا؟" اس نے شکوہ کیا۔ وہ بولیں، "اپنا فون چیک کرو، کالز بھی کیں اور میسجز بھی، لیکن تمہارے پاس ہمارے لیے وقت ہی کہاں!" زرون ہنس پڑا۔ "اب آپ بھی امی کی طرح باتیں کریں گی؟" "نہ صرف باتیں کروں گی بلکہ تمہارے کان بھی کھینچوں گی! تم امی کو بہت ستاتے ہو، پچھلے ایک مہینے سے گھر پر نہیں ہو، سارا کام تم نے ہی ختم کرنا ہے کیا؟" تحسین آپا نے لاڈ سے ڈانٹا۔

زرون نے خفگی مٹاتے ہوئے پوچھا، "بچے اور آفاق بھائی کہاں ہیں؟" "وہ اگلے ہفتے کی فلائٹ سے آئیں گے۔ بچے اندر کمرے میں ہیں، جاؤ مل لو۔" زرون بچوں کے کمرے میں گیا، دونوں اسے دیکھ کر "ماموں!" کہتے ہوئے گلے لگ گئے۔ تحسین آپا کی ساس کی بیماری اور گھر کی ذمہ داریوں کی وجہ سے وہ کافی سالوں بعد پاکستان آئی تھیں۔

رات کے دو بجے زرون اپنے کمرے میں آیا۔ تحسین آپا کا اچانک آنا اسے خوشی کے ساتھ پریشان بھی کر گیا تھا۔ اس نے اپنا واٹس ایپ چیک کیا—تحسین آپا اور عائشہ کی بے شمار کالز تھیں۔ اس نے سب سے پہلے عائشہ کے میسجز کھولے: "زرون! میری مما پوچھ رہی ہیں آنٹی کب آئیں گی؟ پاپا کے دوست کے بیٹے کا پروپوزل آیا ہوا ہے، وہ انگلینڈ میں بزنس کرتا ہے۔ پاپا نہیں مان رہے، تم جلدی بات کرو! تم میری کالز کا ریپلائی کیوں نہیں دیتے؟ ایسی کیا مصروفیت ہے جو مجھ سے بھی زیادہ عزیز ہے؟" زرون نے سوچا کہ صبح عائشہ سے مل کر بات کرے گا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔

صبح ناشتے کی ٹیبل پر تحسین آپا نے زرون کی خوب کلاس لی اور بتایا کہ آج وہ بختیار انکل کی عیادت کے لیے جا رہی ہیں۔ "تمہیں بھی شام میں ہمارے ساتھ چلنا ہے، میں کوئی بہانہ نہیں سنوں گی،" انہوں نے حکماً کہا۔ زرون "جی شام کو بتاؤں گا" کہہ کر آفس نکل گیا۔

دفتر میں وہ کام میں اتنا مگن تھا کہ پانچ بجنے کا احساس ہی نہ ہوا۔ تبھی سیکرٹری نے بتایا کہ کوئی "عائشہ صاحبہ" آئی ہیں۔ زرون حیران رہ گیا۔ عائشہ اس کے آفس میں؟ اس نے انہیں اندر بلایا اور دو بلیک کافی کا آرڈر دیا۔

عائشہ کمرے میں داخل ہوئی تو اس کے تیور بدلے ہوئے تھے۔ "میں تم سے صاف پوچھنے آئی ہوں، تم مجھ سے شادی کرو گے یا نہیں؟" زرون نے کہا، "اس کے لیے آفس آنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہم باہر مل سکتے تھے۔" عائشہ کا موڈ سخت تھا۔ "پانچ سال ہو گئے ہیں زرون! میرے پاپا نے میری بات پکی کر دی ہے۔ یہ دیکھو..." اس نے پرس سے ایک ڈائمنڈ رنگ نکال کر دکھائی۔ "یہ پچھلے ہفتے پاپا کے دوست کے بیٹے نے مجھے پہنائی ہے۔ کہاں تھے تم؟ میں جس زرون کو چاہتی تھی، وہ تو میری محبت میں مر مٹنے والا تھا، لیکن تم تو اب اتنے بیزار لگتے ہو جیسے مجھے جانتے ہی نہیں! دو دن کے اندر اگر تمہاری امی ہمارے گھر نہ آئی، تو آج کے بعد مجھ سے ملنے کی کوشش مت کرنا۔ ہمارے راستے جدا ہیں۔"

یہ کہہ کر وہ تیزی سے باہر نکل گئی۔ پیون کافی لے کر اندر آ رہا تھا کہ اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچا۔ زرون نے غصے میں پیون کو واپس جانے کا اشارہ کیا اور کرسی پر ڈھیر ہو گیا۔ اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ عائشہ اتنی جلدی ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ اس کا مان ٹوٹ گیا تھا۔

دوسری طرف، گھر میں تحسین آپا اور رخسانہ بیگم بختیار صاحب کے گھر جانے کے لیے تیار تھیں۔ رخسانہ بیگم آج بہت خوش تھیں، آخر وہ اپنے بیٹے کا رشتہ لینے جا رہی تھیں۔ جب زرون کا فون "سوئچ آف" ملا، تو تحسین آپا نے آفس لینڈ لائن پر کال کی۔ زرون نے آپریٹر سے کہہ دیا کہ "کہہ دو صاحب میٹنگ میں ہیں، ڈسٹرب نہ کریں۔" تحسین آپا نے ماں کا اترا ہوا چہرہ دیکھا تو بات سنبھالی، "امی، زرون آفس سے سیدھا وہیں پہنچے گا، ہم چلتے ہیں۔"

بختیار صاحب کے گھر ان کا شاندار استقبال ہوا۔ عمارہ کی امی نے عمارہ کو آواز دی۔ عمارہ اندر آئی تو تحسین نے اسے گلے لگا لیا۔ "بالکل گڑیا ہو! اتنی بڑی ہو گئی ہو۔" عمارہ ہنس کر بولی، "آپ بھی تو بڑی ہو گئی ہیں!" عمارہ کی امی نے کہا، "بیٹا، بابا سے کہو کہ تحسین اور بھابھی آئی ہیں۔" "جی میں بتاتی ہوں،" کہہ کر عمارہ اپنے بابا کے کمرے کی طرف چلی گئی، اس بات سے بالکل بے خبر کہ آج یہ مہمان کس مقصد سے آئے ہیں۔


عمارہ نے بابا کے کمرے کی طرف قدم بڑھائے اور سوچنے لگی کہ آج زرون بھائی نہیں آئے؟ وہ تو ہمیشہ ساتھ ہی آتے ہیں، پھر فوراً ہی یہ سوچ کر سر جھٹک دیا کہ "مجھے کیا لینا دینا، وہ آئیں یا نہ آئیں!"

بختیار صاحب اپنے کمرے میں کرسی پر بیٹھے نماز پڑھ کر دعا مانگ رہے تھے۔ ان کی آواز میں اتنا سوز اور التجا تھی کہ کمرے کے دروازے پر کھڑے کسی بھی انسان کو صاف سنائی دے رہی تھی۔ "مالک! میری زندگی اتنی لمبی کر دے کہ میں اپنی بیٹیوں کے فرائض اچھے سے پورے کر سکوں۔ انہیں اعلیٰ تعلیم دلوا سکوں، ان کے کیریئر کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکوں اور ان کی ہر خواہش پوری کر سکوں۔ تو نے مجھے اتنا نوازا ہے کہ میں ہر سانس کے ساتھ تیرا شکر ادا کروں تب بھی حق ادا نہیں ہو سکتا۔ مالک! اپنا فضل تاحیات رکھنا، مجھے صحت والی زندگی عطا فرما تاکہ میں پھر سے اپنے بزنس کو سنبھال سکوں۔"

آمین کہہ کر انہوں نے ہاتھ چہرے پر پھیرے اور جیسے ہی کرسی سے اٹھے، سامنے دروازے پر عمارہ کھڑی نظر آئی۔ عمارہ بولی، "بابا! زرون بھائی کی فیملی آئی ہے آپ کی عیادت کے لیے، کیا آپ ڈرائنگ روم آئیں گے یا انہیں ادھر ہی بلوا لوں؟" تھوڑے توقف کے بعد وہ بولے، "آپ چلو بیٹا، میں ادھر ہی آتا ہوں۔ بس ایک اچھی سی چائے پلوا دو، بڑی دیر سے دل چاہ رہا ہے۔" عمارہ نے ٹوکا، "بابا! آپ کو زیادہ چائے سے ڈاکٹر نے منع کیا ہے۔" بختیار صاحب مسکرائے، "جی ڈاکٹر صاحبہ! بالکل صحیح فرمایا، مگر کبھی کبھی تو پی جا سکتی ہے۔" عمارہ "اچھا جناب" کہہ کر کچن کی طرف چلی گئی اور ملازمہ کو ہدایات دینے لگی۔

ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی تحسین آپا بختیار صاحب کو دیکھ کر کھڑی ہو گئیں اور سلام کیا۔ بختیار صاحب نے پیار دیا اور بولے، "آج تو ہمارے گھر میں رونق لگ گئی ہے۔" بچوں نے آگے بڑھ کر سلام کیا تو انہوں نے انہیں گلے لگایا اور ساتھ بٹھا لیا۔ پھر پوچھا، "زرون نہیں آیا ساتھ؟" تحسین آپا بولیں، "زرون تھوڑی دیر میں آتا ہی ہوگا، آج اس کی ایک ضروری میٹنگ نکل آئی تھی تو اس نے فون کر کے بتایا کہ آپ لوگ جائیں، میں آفس سے وہیں آپ کو جوائن کروں گا۔"

عمارہ نے فریزر سے شامی کباب، نگٹس اور ٹینڈر پاپس نکالے جو بچوں کو پسند تھے، ساتھ ہی سموسے اور رول بھی فرائی کرنے لگی۔ ٹرالی میں چیزیں سیٹ کرتے ہوئے اسے بابا کی دعا کے الفاظ یاد آ رہے تھے کہ اس کے بابا اسے کتنا پیار کرتے ہیں اور اس کے خوابوں کے لیے کتنے فکرمند ہیں۔ "اللہ جی! مجھے اتنی توفیق دینا کہ میں ان کا فخر بن سکوں اور میری وجہ سے انہیں کبھی کوئی پریشانی نہ ہو،" اس نے دل میں دعا کی۔ اتنے میں ملازمہ نے آواز دی، "عمارہ باجی! چائے ریڈی ہے، میں لے جاؤں یا آپ خود لے جائیں گی؟" عمارہ سوچوں سے باہر آئی، "تم میرے ساتھ آؤ، ٹرالی میں لے جاتی ہوں اور چائے کی ٹرے تم لے آنا۔"

اندر بختیار صاحب سب کے ساتھ باتوں میں مگن تھے۔ ان کے چہرے کی خوشی دیکھ کر عمارہ کے اندر سکون اتر گیا اور وہ چیزیں سرو کرنے لگی۔ عمارہ جانے لگی تو تحسین آپا نے اسے روک لیا، "عمارہ! میرے پاس آ کر بیٹھو اور ساتھ چائے پیو۔" "جی شور !" کہتی ہوئی عمارہ صوفے پر بیٹھ گئی۔

اسی دوران تحسین آپا نے بختیار صاحب سے کہا، "انکل! آج آپ سے کچھ مانگنے آئی ہوں۔ آپ کو ہمیشہ بابا کی طرح شفیق پایا ہے اور اسی محبت کی وجہ سے کچھ مانگنے کا دل چاہا ہے۔" بختیار صاحب بولے، "بیٹا! اتنی تمہید کی بجائے کھل کر کہو، کیا چاہیے میری بیٹی کو؟" تحسین آپا نے عمارہ کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھا اور گویا ہوئیں، "آپ عمارہ ہمیں دے دیں... زرون کے لیے۔"

یہ سنتے ہی عمارہ کے ہاتھ سے جیسے چائے کا کپ گرتے گرتے بچا، اس نے حیرت سے بختیار صاحب کی طرف دیکھا اور "ایکسکیوز می" کہتی ہوئی تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔


باب: بے حسی کی قیمت

عمارہ کمرے میں آ کر ایک دم اپنی سماعت پر غور کرنے لگی کہ اس نے جو سنا ہے وہ حقیقت ہے یا وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے۔ یہ سوچتے ہوئے وہ بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی، اتنے میں اس کے موبائل کی رنگ بجنے لگی۔ اسکرین پر نام دیکھ کر اس نے فوراً فون اٹھا لیا۔ "شاہینہ باجی! آپ کو کتنا مس کر رہی تھی، اب تو ابراڈ جا کر بھول ہی گئی ہیں۔" دوسری طرف سے جواب آیا، "میں بہت سے مسئلوں میں الجھی ہوئی تھی، سب بتاتی ہوں، تم مجھے بولنے کا موقع تو دو۔" شاہینہ باجی عمارہ کی ماموں زاد اور بہترین دوست تھیں۔ چار سال پہلے ان کی شادی ہوئی تھی اور تب سے اب تک بمشکل دو تین بار ہی بات ہو سکی تھی۔ شاہینہ نے بتایا کہ ان کے شوہر جواد کا شدید ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ ہسپتال اور گھر کے چکروں میں ماری ماری پھر رہی تھیں۔ سسرال والوں کے طعنے اور رویے نے انہیں مزید توڑ دیا تھا۔ شاہینہ کی روئداد سن کر عمارہ کے دل کی بات دل میں ہی رہ گئی۔ اس نے شاہینہ کی تھکی ہوئی آواز سے محسوس کر لیا کہ پسند کی شادی کے باوجود وہ کتنی مشکل زندگی گزار رہی ہے۔

دوسری طرف، بختیار صاحب نے تحسین آپا کی بات سن کر کہا، "اس میں کوئی شک نہیں کہ زرون سے بہتر میری عمارہ کے لیے کوئی نہیں ہو سکتا، مجھے انکار نہیں ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ پہلے وہ اپنی پڑھائی مکمل کر لے، اور عمارہ کی رائے جاننا بھی ضروری ہے۔" تحسین آپا بار بار فون دیکھ رہی تھیں، زرون نے کال بیک نہیں کیا تھا اور اب رات کے کھانے کا وقت ہو رہا تھا۔ رخسانہ بیگم، زرون کے نہ آنے سے بہت بدمزہ اور پریشان تھیں، ان کا بی پی بھی ہائی ہو رہا تھا۔ انہوں نے کھانے سے معذرت کی اور تحسین کے ساتھ گھر کے لیے روانہ ہو گئیں۔

گاڑی میں تحسین آپا مسلسل زرون کی خود سری اور لاپرواہی کے بارے میں سوچ کر شرمندہ ہو رہی تھیں۔ گھر پہنچتے ہی رخسانہ بیگم صوفے پر ڈھیر ہو گئیں۔ تحسین نے دیکھا کہ ماں ہوش سے بیگانہ ہو رہی ہیں۔ انہوں نے فوراً گارڈ کو آواز دی اور ملازمہ کی مدد سے ماں کو گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹا کر فاروق ہسپتال کی طرف دوڑ پڑیں۔ انہوں نے زرون کو فون کیا مگر فون بند تھا۔ آخر کار ایک وائس میسج چھوڑا: "زرون! جب تم اپنی دنیا سے نکلو تو فاروق ہسپتال پہنچ جانا، امی بے ہوش ہو گئی ہیں اور میں انہیں ایمرجنسی میں لے جا رہی ہوں۔"

ہسپتال میں ڈاکٹر نے بتایا کہ اگر وقت پر نہ لاتی تو اسٹروک  ہو سکتا تھا۔ رخسانہ بیگم کو انڈر آبزرویشن رکھ لیا گیا۔ تحسین آپا جب وارڈ میں داخل ہوئیں تو ماں کا زرد چہرہ دیکھ کر ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ وہ دل ہی دل میں دعا کرنے لگیں، "اللہ! میری ماں کو صحیح سلامت لوٹا دے، میں انہیں پھولوں کی طرح رکھوں گی۔" ایک طرف ماں کی یہ حالت تھی اور دوسری طرف بھائی کی بے حسی جس نے تحسین کو اندر سے کاٹ کر رکھ دیا تھا۔

ادھر رات کے ساڑھے گیارہ بجے جب پیون نے زرون کو بتایا کہ کافی دیر ہو گئی ہے، تب زرون نے اپنا فون آن کیا اور گاڑی گھر کی طرف موڑی۔ گھر پہنچا تو بچے جاگ رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا، "نانو کیسی ہیں؟ آپ کے ساتھ کیوں نہیں آئیں؟" زرون کا دماغ گھوم گیا۔ ملازمہ نے بتایا کہ بیگم صاحبہ کی طبیعت خراب ہونے پر تحسین باجی انہیں ہسپتال لے گئی ہیں۔ زرون نے فوراً فون چیک کیا تو تحسین آپا کا وائس میسج اس کے کانوں میں گونجا۔ اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اسے اپنی بے حسی پر شدید پچھتاوا ہوا اور اس نے پوری رفتار سے گاڑی فاروق ہسپتال کی طرف دوڑا دی، وہ جلد سے جلد وہاں پہنچنا چاہتا تھا۔


باب: اعتراف اور ندامت

ہسپتال میں گاڑی پارک کرتے ہی زرون تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ کاؤنٹر سے راستہ پوچھ کر وہ ایمرجنسی کی طرف مڑا۔ اندر داخل ہوتے ہی سامنے ویٹنگ ایریا میں اسے تحسین آپا نظر آئیں۔ وہ تیزی سے ان کی طرف بڑھا ہی تھا کہ ایک نرس تحسین آپا کے پاس آئی اور انجکشن کا پرچہ تھماتے ہوئے بولی، "یہ کچھ انجکشن ہیں، فوراً منگوا لیں۔"

تحسین آپا پرچہ لے کر آگے بڑھیں تو سامنے زرون کھڑا تھا۔ زرون نے گھبرا کر پوچھا، "کیسی ہیں امی اب؟" تحسین آپا نے ایک گہری افسردہ نظر زرون پر ڈالی اور بولیں، "تمہارے بھروسے امی کو چھوڑ کر گئی تھی، دیکھو کیا حال ہو گیا ہے ان کا!" زرون نے ان کے ہاتھ سے پرچہ لیا اور بولا، "میں لے کر آتا ہوں، آپ بس امی کے پاس رہیں۔"

وہ میڈیکل اسٹور سے انجکشن لے کر واپس پہنچا تو تحسین آپا ڈاکٹر سے بات کر رہی تھیں۔ ڈاکٹر انہیں ہدایات دے رہا تھا، "ذرا سی بھی ٹینشن ان کا بی پی بڑھا سکتی ہے، اسٹروک کے چانسز ہیں اور وہ کوما میں بھی جا سکتی ہیں۔ آپ کو بہت خیال رکھنا ہوگا۔ ہم ابھی انجکشن دے کر ان کا بی پی مانیٹر کر رہے ہیں، تھوڑی دیر تک انہیں روم میں شفٹ کر دیں گے۔"

یہ سب سن کر زرون کے اندر احساسِ ندامت بڑھ گیا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اپنی ماں کی طبیعت کو لے کر اتنا لاپروا کیسے ہو گیا؟ پتا نہیں وہ اپنے دل میں کیا کیا سوچیں لے کر بیٹھی تھیں جو آج اس مقام پر آ گئیں۔ نرس کو انجکشن پکڑا کر زرون ماں کو دیکھنے اندر آیا اور ان کے پاؤں کے پاس کھڑا ہو کر انہیں دیکھنے لگا۔ کبھی اس کی ماں زندگی سے بھرپور ہوا کرتی تھی۔ وہ اور بابا جب شطرنج کی بازی لگاتے تو وہ انہیں ہنستا دیکھ کر اپنی ویڈیو گیم میں کھو جاتا۔ اسے اپنی فیملی مکمل لگتی تھی، کوئی دکھ، کوئی محرومی نہیں تھی۔

بابا کے جانے سے جو خلا زرون کی زندگی میں آیا، وہ چاہ کر بھی پُر نہ ہو سکا۔ اسے ہر جگہ باپ کی کمی محسوس ہوتی تھی پر وہ اپنے دل کی بات کسی سے کہہ نہ سکا۔ وہ رونا چاہتا تھا، بتانا چاہتا تھا کہ "مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے، مجھے بھی سہارے کی ضرورت ہے! مما! آج بھی آپ کی گود چاہیے، آپ کا زرون اکیلا ہے، بہت اکیلا... مما! زرون بہت کمزور ہے۔ آپ نے ہمیشہ اسے طاقت دی، اب بھی آپ کی ضرورت ہے۔ مما! میں کیسے بتاؤں کہ عائشہ کا یوں جانا مجھے کتنا دکھ دے گیا، مجھ سے یہ برداشت نہیں ہو رہا۔ مما! میں آپ کے گلے لگ کر رونا چاہتا ہوں۔ مما! مرد رویا نہیں کرتے، لیکن میں کس کے آگے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کروں؟"

اتنے میں ماں کی ہلکی سی آواز آئی، "زرون..." وہ فوراً آگے بڑھا، "جی مما! آپ ٹھیک ہیں نا؟" رخسانہ بیگم نحیف آواز میں بولیں، "میں کہاں ہوں؟ یہ میرا گھر تو نہیں ہے؟" "مما! آپ ہسپتال میں ہیں، آپ بے ہوش ہو گئی تھیں، آپ کا ٹریٹمنٹ چل رہا ہے۔" انہیں کچھ یاد نہیں آ رہا تھا۔ وہ بولیں، "میرا سر بھاری ہو رہا ہے۔" زرون نے کہا، "میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں۔"

ڈاکٹر نے آ کر انہیں چیک کیا اور تسلی دی، "ابھی میڈیسن کے زیرِ اثر ہیں، انہیں ہوش آنا اچھی بات ہے۔ ابھی تھوڑی دیر تک مکمل ہوش میں آ جائیں گی تو ہم انہیں روم میں شفٹ کر دیں گے، آپ پریشان مت ہوں۔"

آگے کیا ہوگا؟ یہ جاننے کے لیے دیکھیے اگلا حصہ


باب: ندامت کی رات اور خاموش فیصلے

رخصانہ بیگم کو روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔ تحسین آپا کو گھر بھیجنے کے لیے زرون نے ڈرائیور کو بلوا لیا تھا، وہ چاہتا تھا کہ رات وہ امی کے پاس رکے اور تحسین آپا گھر جا کر آرام کر لیں۔ تحسین آپا نے زرون کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا، وہ ہسپتال میں کوئی بدمزگی پیدا کرنا نہیں چاہتی تھیں، وہ بس چاہتی تھیں کہ زرون کو اپنی بے حسی کا احساس ہو، اسی لیے وہ اپنے رویے کو سخت کیے بیٹھی تھیں۔

انہوں نے دو بار ملازمہ کو فون کر کے بچوں کا پوچھا۔ ملازمہ نے بتایا کہ بچے کھانا کھا کر سو چکے ہیں اور وہ ان کے کمرے میں نیچے بستر بچھا کر لیٹی ہوئی ہے۔ تحسین آپا نے اسے صبح امی کے لیے سوپ بنا کر ڈرائیور کے ہاتھ بھیجنے اور بچوں کو ناشتہ کروانے کی ہدایات دیں اور ریلیکس ہونے کے لیے صوفے پر ہی آنکھیں بند کر کے سر ٹکا لیا۔ رخصانہ بیگم ابھی انجکشن کے زیرِ اثر تھیں، انہیں سکون کی ضرورت تھی اس لیے ڈاکٹر نے نیند کے انجکشن میں سکون کی دوائی بھی شامل کر دی تھی تاکہ جب وہ جاگیں تو ان کے اعصاب پرسکون ہوں۔

زرون ماں کے بیڈ کے پاس پاؤں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا ہوا تھا اور بچپن کی باتیں اسے ایک ایک کر کے یاد آ رہی تھیں۔ کیسے انہوں نے ہر مقام پر زرون کو سنبھالا اور آگے بڑھایا تھا۔ بلاشبہ وہ ایک بہترین ماں ثابت ہوئی تھیں لیکن زرون کو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ایک اچھا بیٹا نہیں بن سکا، وہ خود کو ایک نامکمل انسان سمجھ رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس کی محبت میں کمی تھی تبھی تو وہ عائشہ کو نہ سمجھ سکا جو اس کے دل کے ٹوٹنے کی پروا کیے بغیر چلی گئی اور اب ماں بھی اس کی وجہ سے اس حال میں تھی۔ تحسین آپا کا گلہ صحیح تھا، وہ ایک کمزور اور ٹوٹا ہوا انسان ہے جسے عائشہ چاہتی تو اپنی محبت سے مکمل کر دیتی، لیکن اب زرون کی پروا ہے ہی کسے؟ تحسین آپا بھی تو اس سے خوش نہیں تھیں۔

"مجھے اب مما کو ناراض نہیں کرنا،" یہ سوچ زرون کے دماغ پر حاوی تھی۔ ایک بار مما نارمل ہو جائیں وہ جیسا چاہیں گی ویسا ہی کرے گا۔ گھر پر ان کے ساتھ وقت گزارے گا اور وہ جہاں چاہیں گی وہاں اس کی شادی کروا دیں، وہ یہ شادی صرف ان کی خوشی اور ان کی تنہائی دور کرنے کے لیے کرے گا۔ اس کا اب کسی اور پر اعتبار کرنے کا دل نہیں تھا۔ عائشہ نے اس کے ساتھ بہت برا کیا تھا کہ اس اسٹیج پر پہنچا کر ساتھ چھوڑ دیا جب وہ اسٹینڈ لینے والا تھا۔

ایسی سوچوں سے زرون کا دماغ دکھ رہا تھا۔ آنکھیں بند ہوتے ہی اسے جھونکے آنے لگے۔ اس نے خود کو سنبھالا اور پاس رکھی چیئر پر بیٹھ گیا۔ سارے دن کی تھکن الگ اور رویوں کی تھکن الگ، اس سب نے زرون کو اندر سے بوڑھا کر دیا تھا۔ بظاہر وہ نوجوان نظر آ رہا تھا مگر اندر سے تھکن سے چور تھا، اسے سہارے کی ضرورت تھی مگر کون دے گا اسے یہ سہارا؟

اس کی آنکھ لگ گئی اور پتہ ہی نہ چلا جب نرس نے دروازے پر دستک دی۔ تحسین آپا نے دروازہ کھولا، نرس نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب راؤنڈ پر آ رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے آ کر زرون سے پوچھا، "اور ینگ مین! کیسی رہی طبیعت آپ کی والدہ کی؟" زرون نے بتایا کہ وہ ساری رات سے سو رہی ہیں۔ ڈاکٹر نے جواب دیا، "یہ بہت گہرے اسٹریس  کی وجہ سے بے ہوش ہوئی تھیں، عام طور پر کوئی اور انسان ہوتا تو اب تک اسٹروک یا کوما میں جا چکا ہوتا۔ یہ تو اللہ کا خاص فضل ہے کہ یہ ہوش میں آ گئیں۔ دوا کا اثر ختم ہوتے ہی یہ نارمل طریقے سے جاگ جائیں گی۔ ای سی جی  نارمل ہے لیکن خطرہ پوری طرح ٹلا نہیں، معمولی سا ڈپریشن بھی دوبارہ اسٹروک کا سبب بن سکتا ہے۔ بس آپ ان کا ماحول پرسکون رکھیں اور انہیں اکیلا نہ رہنے دیں۔"

ڈاکٹر کے جانے کے بعد زرون کو یاد آیا کہ تحسین آپا نے رات سے کچھ نہیں کھایا۔ وہ خود بھی چائے پی کر تازہ دم ہونا چاہتا تھا۔ وہ کیفے ٹیریا گیا اور چائے، سینڈوچز، بسکٹ اور کیک لے کر آیا۔ جب وہ کمرے میں پہنچا تو تحسین آپا امی کے پاس بیٹھی تھیں۔ زرون نے آواز دی، "آپا! چائے پی لیں، تھکن ہو رہی ہوگی، آپ اپنا خیال نہیں کریں گی تو امی کو کیسے دیکھیں گی؟"

تحسین آپا کچھ کہے بغیر صوفے پر آ کر زرون کے ساتھ بیٹھ گئیں اور چائے کے سپ لینے لگیں۔ زرون نے سینڈوچ آگے کیا توانہوں نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا۔ زرون نے اصرار نہیں کیا اور خود کھانے لگا۔


خاموش سزا اور بدلتے رویے

رخصانہ بیگم کی آنکھیں آہستہ آہستہ کھلیں تو کمرے کی سفید روشنی نے ان کے اعصاب کو جھنجھوڑ دیا۔ زرون، جو ابھی چائے کا کپ رکھ کر ان کے قریب ہی بیٹھا تھا، فوراً جھک کر ان کا ہاتھ تھامنے لگا۔ "مما! آپ کیسی ہیں؟ آپ کو ہوش آ گیا، اللہ کا شکر ہے!" زرون کی آواز میں خوشی اور ندامت کا ملا جلا تاثر تھا۔

رخصانہ بیگم نے دھیرے سے اپنی نظریں گھمائیں اور سامنے کھڑے اپنے بیٹے کو دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں وہ تڑپ اور پیار نہیں تھا جو ہمیشہ زرون کو دیکھتے ہی امڈ آتا تھا۔ انہوں نے کمالِ ضبط سے اپنا ہاتھ زرون کی گرفت سے چھڑا کر بستر کی چادر میں چھپا لیا اور چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔ "تحسین۔۔۔" انہوں نے نحیف سی آواز میں اپنی بیٹی کو پکارا، جیسے زرون وہاں موجود ہی نہ ہو۔ زرون وہیں بت بنا کھڑا رہ گیا۔ ماں کا یوں ہاتھ چھڑا لینا اس کے دل پر کسی خنجر کی طرح لگا تھا۔

کچھ دیر بعد ڈاکٹر راؤنڈ پر اندر داخل ہوا۔ "کیسی ہیں اب ہماری پیشنٹ؟" ڈاکٹر نے مسکرا کر پوچھا اور تمام رپورٹیں چیک کیں۔ "بی پی اب نارمل ہے، لیکن یاد رہے کہ انہیں مکمل بیڈ ریسٹ اور ذہنی سکون کی ضرورت ہے۔ ہم انہیں ڈسچارج کر رہے ہیں، لیکن گھر پر بھی ماحول پرسکون رکھیے گا۔" رخسانہ بیگم نے زرون کی بات کا جواب دینا تو دور، اس کی طرف دوبارہ دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔ "تحسین! بیٹا دیکھو ڈاکٹر سے کہو اگر چھٹی دے سکتے ہیں تو گھر چلیں۔ میرا یہاں دم گھٹ رہا ہے۔"

تحسین آپا نے ضروری کاغذات پر دستخط کیے اور ڈسچارج کا عمل مکمل کیا۔ ہسپتال سے نکلتے وقت جب زرون نے آگے بڑھ کر ان کی وہیل چیئر تھامنا چاہی، تو رخصانہ بیگم نے سختی سے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا اور تحسین کا ہاتھ پکڑ لیا۔ زرون کی آنکھوں میں نمی تیر گئی، مگر اس نے خود کو سنبھالا۔ وہ اپنی ماں کے اس بدلے ہوئے روپ سے خوفزدہ ہو رہا تھا۔ گاڑی میں واپسی کے سفر کے دوران بھی وہی جان لیوا خاموشی برقرار رہی۔ گھر پہنچ کر جب زرون نے سہارا دے کر انہیں کمرے تک لے جانا چاہا، تو انہوں نے تحسین سے کہا، "بیٹا! ملازمہ کو بلا لو، وہ مجھے کمرے تک چھوڑ آئے گی۔ تم تھک گئی ہو گی، آرام کرو۔"

زرون کے لیے یہ جملہ کسی تازیانے سے کم نہ تھا۔ وہ اپنے ہی گھر میں ایک اجنبی بن گیا تھا۔ اس نے کمرے کے دروازے پر کھڑے ہو کر دیکھا کہ تحسین آپا اور ملازمہ نے امی کو بستر پر لٹایا۔ رخصانہ بیگم نے آنکھیں موند لیں، جیسے وہ اس دنیا اور خاص طور پر زرون سے اپنا ناتا توڑ چکی ہوں۔ زرون اپنے کمرے میں آ کر بیڈ پر ڈھیر ہو گیا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ کتنا خود غرض ہو گیا تھا۔ عائشہ کے غم میں وہ یہ بھول گیا تھا کہ ایک اور ہستی بھی ہے جو اس کی بے حسی کی وجہ سے اندر ہی اندر مر رہی ہے۔

اس نے فوراً موبائل نکالا اور بختیار انکل کا نمبر تلاش کر کے ملانے لگا تاکہ اپنی غلطی کی معافی مانگ کر ماں کا وقار بحال کر سکے۔ دوسری طرف سے بختیار انکل نے سلام کیا، جس کا جواب زرون نے مؤدبانہ انداز میں دیا۔ خیریت دریافت کرنے کے بعد زرون نے اس دن نہ آنے پر معذرت کی اور ہسپتال سے گھر واپسی تک کی تمام تفصیل بتائی۔ بختیار صاحب بولے، "بیٹا! اب انہیں آپ کی توجہ کی زیادہ ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنی جوانی کا ایک بڑا حصہ تم دونوں بچوں پر لگا دیا، اب یہ تمہارا فرض ہے کہ تم انہیں وقت دو۔" زرون نے وعدہ کیا کہ وہ اب مما کا بھرپور خیال رکھے گا۔

دوسری طرف، ملازمہ سوپ لے کر آئی جو تحسین آپا امی کو پلانے لگیں۔ تحسین نے بچوں کو جگانے کا کہا تاکہ وہ نانو کے پاس آئیں۔ اتنے میں رخسانہ بیگم کے فون کی بیل بجی۔ عالیہ آنٹی کی کال تھی۔ جب تحسین نے کال بیک کی تو عالیہ بیگم بولیں، "ابھی زرون کی کال آئی تھی، وہ نہ آنے پر معذرت کر رہا تھا۔ بڑا ہی سعادت مند بچہ ہے، رخسانہ نے بہت اچھی تربیت کی ہے۔" یہ سن کر تحسین آپا کو دلی سکون ہوا کہ شکر ہے زرون کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انہوں نے سوچا کہ وقت کے ساتھ سمجھداری آ ہی جاتی ہے، اور جب عمارہ آئے گی تو زرون خود ہی ذمہ دار ہو جائے گا۔

عالیہ بیگم سے بات کرنے کے بعد تحسین بولیں، "امی! زرون اپنے رویے پر شرمندہ ہے، اب جب وہ آئے تو آپ اس سے بات کیجیے گا۔" رخسانہ بیگم نے کچھ سوچ کر سر ہلا دیا اور سونے کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔ تحسین آپا باہر آئیں اور ناشتہ کرنے کے بعد زرون کے کمرے میں گئیں۔ وہاں لیمپ کی مدھم روشنی میں دیکھا کہ زرون کا بازو بیڈ سے نیچے لٹک رہا ہے اور وہ گہری نیند میں ہے۔ انہوں نے پیار سے اس کا بازو سیدھا کیا اور کمفرٹر اڑھایا۔ پہلی دفعہ وہ اپنے بھائی سے اس قدر ناراض ہوئی تھیں، مگر اب اس کی حالت دیکھ کر ان کا دل پگھل رہا تھا۔

اچانک انہیں آفاق کا خیال آیا کہ وہ اس قدر الجھ گئی تھیں کہ ان کی فلائٹ کا پوچھنا ہی ذہن سے نکل گیا۔ انہوں نے اپنا فون اٹھایا اور آفاق کو واٹس ایپ کال کرنے کا سوچنے لگیں۔۔

"کیا آفاق کال پر تحسین آپا کو کوئی ایسی بات بتائے گا جو کہانی کا رخ بدل دے؟"



 تحسین آپا نے صوفے پر بیٹھ کر دھڑکتے دل کے ساتھ آفاق کا نمبر ملایا۔ آفاق کی مانوس آواز ابھری تو تحسین کے تھکے ہوئے اعصاب کو جیسے سکون مل گیا۔ جب تحسین نے امی کی بیماری اور ہسپتال کی صورتحال بتائی، تو آفاق نے بڑے صبر سے سننے کے بعد کہا، "تحسین! شاید اللہ نے تمہاری پریشانی کا حل نکال لیا ہے۔ جس کمپنی میں یہاں کام کر رہا ہوں، وہ اسلام آباد میں اپنا آفس کھول رہی ہے اور انہوں نے مجھے وہاں کا 'ہیڈ' بن کر جانے کی پیشکش کی ہے۔ میں تمہاری مرضی کے بغیر فیصلہ نہیں کرنا چاہتا تھا، لیکن اگر ہم پاکستان شفٹ ہو جائیں تو تم جب چاہو گی لاہور جا کر امی کا خیال رکھ سکو گی۔"

تحسین کے دل سے جیسے بوجھ ہٹ گیا۔ اسے آفاق پر بہت پیار آیا جس نے اتنے بڑے فیصلے میں اس کی مرضی کو مقدم رکھا۔ وہ فوراً امی کے کمرے میں گئیں اور انہیں یہ خوشخبری سنائی۔ رخسانہ بیگم کے مرجھائے ہوئے چہرے پر رونق آ گئی۔ "کیا سچ کہہ رہی ہو؟ کیا اب میری بیٹی میرے قریب ہو گی؟" انہوں نے تحسین کا چہرہ چوما۔ اسی دوران زرون بھی وہاں آگیا، ماں کی خوشی دیکھ کر اس کی آنکھیں بھر آئیں اور اس نے رخسانہ بیگم کے گھٹنوں پر سر رکھ کر معافی مانگی۔ کمرے کی فضا، جو کل تک بوجھل تھی، اب امید سے بھر گئی تھی۔ زرون نے وہی بیٹھے فیصلہ کر لیا کہ اب وہ ماں کی ہر خواہش پوری کرے گا، چاہے وہ عمارہ سے شادی ہی کیوں نہ ہو۔

آفاق کے پاکستان پہنچتے ہی گھر کی رونقیں لوٹ آئیں۔ ابھی اسے آئے دو ہی دن ہوئے تھے کہ بختیار صاحب اور عالیہ بیگم عیادت کے لیے پہنچے۔ باتوں باتوں میں آفاق نے زرون اور عمارہ کے رشتے کی بات چھیڑی۔ بختیار صاحب نے مسکرا کر زرون کی طرف دیکھا اور کہا، "میں تو پہلے ہی اس رشتے کے حق میں تھا، بس زرون کی آمادگی کا انتظار تھا۔ اب سمجھو بات پکی ہے!" ڈرائنگ روم کے ایک کونے میں منال (عمارہ کی چھوٹی بہن جو فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی) عمارہ کے کان میں شرارت سے بولی، "باجی! دیکھ لیں اب تو پاپا نے بھی ہری جھنڈی دکھا دی ہے۔" منال کی چھیڑ چھاڑ نے ماحول کو مزید خوشگوار بنا دیا اور جلد ہی شادی کی تاریخ طے پا گئی۔

عمارہ بہت خوش تھی، اسے امید تھی کہ اس کا خلوص زرون کو بدل دے گا، مگر شادی کی پہلی رات ہی زرون نے اس کے خواب چکنا چور کر دیے۔ اس نے سرد لہجے میں واضح کر دیا، "میں نے یہ شادی صرف مما کی خاطر کی ہے۔ تم سے محبت یا کسی تعلق کی توقع مت رکھنا۔ ہم اس کمرے میں اجنبیوں کی طرح رہیں گے، اور اگر یہ بات باہر گئی تو اس کی ذمہ دار تم خود ہوگی۔"

شادی کا پہلا سال عمارہ کے لیے اذیت ناک تھا۔ باہر وہ ایک خوش جوڑا تھے، مگر کمرے میں زرون ایک پتھر بن جاتا۔ وہ کبھی ماں کے کہنے پر اسے باہر لے بھی جاتا تو ریسٹورنٹ یا شاپنگ مال میں اس کا رویہ توہین آمیز ہوتا۔ ایک شام، جب وہ ڈنر پر تھے، اچانک وہاں عائشہ آگئی۔ وہی عائشہ جس کے پیچھے زرون پاگل تھا۔ اس نے طنزیہ لہجے میں بتایا کہ اس نے طلاق لے لی ہے اور اب ایک کمپنی میں جاب کر رہی ہے۔ زرون اسے دیکھ کر عمارہ کو بالکل بھول گیا۔ عائشہ نے جاتے جاتے زرون کے کان میں کہا، "میں اب آزاد ہوں، ہم پھر ایک ہو سکتے ہیں۔"

گھر واپسی پر زرون کا ذہن اسی بات میں الجھا رہا۔ کمرے میں جا کر اس نے دروازہ بند کیا اور عائشہ سے فون پر بات کرنے لگا۔ عمارہ جو باہر کھڑی تھی، اس نے زرون کو کہتے سنا، "عائشہ! میرا دل آج بھی تمہارے لیے دھڑکتا ہے، میں نے یہ شادی صرف مما کے دباؤ میں کی تھی۔ ہم دوبارہ ملیں گے، میں تمہیں نہیں کھونا چاہتا۔"

عمارہ کے لیے یہ آخری ضرب تھی۔ جس شخص کے لیے اس نے اپنی انا قربان کی تھی، وہ اسے ایک بوجھ سمجھ رہا تھا۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اب اس تماشے کا حصہ نہیں رہے گی۔ اس نے خاموشی سے ایک چھوٹے بیگ میں اپنے چند کپڑے رکھے، کوئی زیور یا مہنگی چیز نہیں اٹھائی۔ رخسانہ بیگم کی طبیعت کا سوچ کر اس نے انہیں نہیں جگایا۔

دبے پاؤں سیڑھیاں اترتے ہوئے اس نے ایک آخری نظر اس گھر پر ڈالی۔ "عزت کے بغیر محبت ممکن ہے، لیکن محبت کے بغیر عزت ممکن نہیں۔ جہاں میری عزت نہیں، وہاں میرا قیام گناہ ہے،" اس نے سوچا اور رات کے اندھیرے میں اندھیری سڑک پر نکل گئی۔ زرون کی بند کمرے کی سرگوشیاں اب اس کا پیچھا نہیں کر سکتی تھیں۔ عمارہ نے اپنی زندگی کا سب سے مشکل مگر سب سے بڑا فیصلہ کر لیا تھا۔

"کیا زرون کو عمارہ کی قدر اس کے جانے کے بعد ہوگی، یا عائشہ اس کی زندگی کو مکمل طور پر تباہ کر دے گی؟"


 ادھوری وفاؤں کا بوجھ اور اجنبی راستے

گیٹ کھلنے کی آواز پر منال نے بے اختیار کھڑکی کا پردہ ہٹایا۔ اسے حیرت ہوئی کہ اس وقت کون آیا ہے۔ جیسے ہی اس کی نظر عمارہ پر پڑی، اس کے منہ سے نکلا، "آپی! اس وقت؟ وہ بھی اکیلی؟" زرون کے بغیر اور ہاتھ میں بیگ دیکھ کر منال کا ماتھا ٹھنکا۔ وہ فوراً لاؤنج میں آئی اور دروازے پر ہی عمارہ کو جالیا۔ "آپی! سب خیریت ہے؟" اس نے آواز دھیمی رکھی تاکہ اندر امی پاپا کی آنکھ نہ کھل جائے، پاپا پہلے ہی دل کے مریض تھے۔

منال بیگ پکڑ کر اسے اپنے کمرے میں لے آئی، جو کبھی ان دونوں کا مشترکہ کمرہ ہوا کرتا تھا۔ عمارہ خاموشی سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ منال نے پانی کا گلاس دیا تو عمارہ نے ایک ہی سانس میں خالی کر دیا، جیسے برسوں کی پیاسی ہو۔ "آپی! ریلیکس ہو کر بتائیں کیا ہوا ہے؟ کیا آپ گھر چھوڑ آئی ہیں؟" منال چھوٹی ہونے کے باوجود عمارہ کا حلیہ دیکھ کر سمجھ گئی تھی کہ کچھ بہت غلط ہوا ہے۔ عمارہ نے صرف اتنا کہا، "منال! مجھے تھوڑا آرام کرنے دو، صبح بات کریں گے۔" یہ کہہ کر وہ بیڈ کے دوسرے سرے پر لیٹ گئی، مگر نیند کہاں آنی تھی۔

مارہ کی آنکھوں کے سامنے ایک فلم سی چل رہی تھی۔ رشتے سے لے کر اب تک، اسے لگا جیسے اس کا صرف استعمال ہوا  ہو۔ "تحسین آپا اور آنٹی سب جانتی تھیں کہ زرون کہیں اور دلچسپی رکھتا ہے، پھر کیوں مجھے اس رشتے کی آگ میں جھونکا؟ میں بھی کتنی بیوقوف تھی جو محبت کے جال میں آگئی۔ زرون! تم نے میرا محبت سے اعتبار اٹھا دیا ہے۔" وہ ساری رات اسی کرب میں تڑپتی رہی۔ دور کہیں سے فجر کی اذان کی آواز آئی تو وہ اٹھی، وضو کیا اور جائے نماز پر کھڑی ہوگئی۔ ابھی دو سنتیں ہی پڑھی تھیں کہ ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اور وہ اپنے رب کے آگے پھٹ پڑی۔

"یا الہیٰ! میرا کیا قصور تھا؟ میں نے تو اسے محرم سمجھ کر چاہا، میرے دل کی حالت تو تو جانتا ہے۔ میں کیسے سب کا سامنا کروں گی؟ کیسے بتاؤں گی کہ ایک ایک رات مجھ پر کتنی بھاری گزری؟ میں سمجھتی تھی میں اپنی محبت سے زرون کا دل جیت لوں گی، مگر میں بھول گئی تھی کہ اس کے پاس دل ہے ہی نہیں، وہ تو اپنا دل پہلے ہی کسی کو دے چکا ہے۔" رو رو کر دل کا بوجھ ہلکا ہوا تو نماز مکمل کی۔ پیچھے منال کھڑی تھی، "آپی! آپ ٹھیک تو ہیں؟" عمارہ نے اسے گلے لگا کر کہا، "بتاؤں گی منال، پہلے تم نماز پڑھ لو۔"

دوسری طرف، تحسین آپا نماز کے بعد دعا کر رہی تھیں۔ انہیں سکون تھا کہ اب وہ پاکستان میں ہوں گی۔ انہوں نے کچن میں جا کر چائے کی پتی ڈالی ہی تھی کہ ملازمہ آگئی۔ اتنے میں زرون کچن میں داخل ہوا۔ وہ رات بھر عائشہ کے ساتھ باتوں کے خمار میں تھا، اسے احساس ہی نہیں تھا کہ عمارہ رات سے کمرے میں موجود نہیں ہے۔ اس نے خاموشی سے جوس کا گلاس اٹھایا اور باہر نکل گیا۔

ناشتے کی میز پر سب جمع تھے، سوائے عمارہ کے۔ رخسانہ بیگم نے پوچھا، "تحسین! عمارہ نظر نہیں آ رہی، وہ تو سب سے پہلے جاگتی ہے۔" تحسین نے کہا، "شاید رات دیر سے آئے تھے اس لیے سو رہی ہوگی۔" جب زرون اکیلا میز پر آیا تو رخسانہ بیگم نے پھر پوچھا، "عمارہ کہاں ہے؟" زرون نے بیزاری سے جواب دیا، "گھر میں ہی ہوگی۔" تحسین آپا کو دھچکا لگا، "رات تم دونوں کمرے میں گئے تھے، میں نے دیکھا تھا، اب وہ کہاں ہے؟" ملازمہ نے آ کر بتایا کہ بی بی گھر میں کہیں نہیں ہیں۔ تحسین نے فوراً عمارہ کا نمبر ملایا، مگر فون سائلنٹ پر ہونے کی وجہ سے کسی نے رسیو نہیں کیا۔

دھر عمارہ اپنے پرانے کمرے میں بیٹھی سوچ رہی تھی کہ باہر جا کر بابا کا سامنا کیسے کرے؟ وہ باہر نکل کر ڈائننگ روم تک جانے کی ہمت جمع کر رہی تھی مگر بابا کی طبیعت کا خوف اسے روک رہا تھا۔ آخر کار دل کڑا کر کے وہ باہر آئی۔ بختیار صاحب اور عالیہ بیگم اسے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ "کب آئی میری بیٹی؟ آؤ ناشتہ کرو، زرون باہر کیوں نہیں آیا؟" عمارہ نے بمشکل جواب دیا، "میں اکیلی آئی ہوں۔" عالیہ بیگم نے محبت سے اس کی پسند کا ناشتہ منگوایا۔ عمارہ سوچنے لگی، "ماضی میں یہاں میری ہر پسند کا خیال رکھا جاتا تھا، پھر میرا شریکِ حیات چنتے وقت مجھ سے اتنا بڑا دھوکہ کیسے ہو گیا؟" وہ اسی سوچ میں گم تھی کہ بختیار صاحب کی آواز آئی، "بیٹا! ناشتہ کرو ٹھنڈا ہو رہا ہے۔" عمارہ خیالوں سے باہر آئی اور کانپتے ہاتھوں سے نوالہ توڑنے لگی۔


باب: کرب کے گیارہ مہینے اور ایک فیصلہ کن صبح

عمارہ ناشتے کی میز پر خاموشی سے بیٹھی تھی کہ اس کی نظر ٹیبل پر پڑے اپنے فون کی سکرین پر پڑی۔ تحسین آپا کی کئی مسڈ کالز اور پیغامات چمک رہے تھے۔ "عمارہ تم کہاں چلی گئی ہو؟ جواب دو!" عمارہ نے کچھ دیر سوچا، پھر لرزتے ہوئے لیکن مضبوط ارادے کے ساتھ میسج ٹائپ کیا:

"میں اپنے گھر آگئی ہوں اور خیریت سے ہوں۔ میرا انتظار مت کیجیے گا، میں اب اس گھر میں کبھی واپس نہیں آؤں گی۔ میرا ایک پیغام زرون کو دے دیجیے گا کہ وہ جب چاہے عائشہ سے شادی کر سکتا ہے، میں جلد ہی خلع لے لوں گی۔ اگر آپ لوگوں نے مجھے پہلے بتا دیا ہوتا تو میں ان دونوں کے بیچ کبھی نہ آتی۔ اور پلیز، میرے بابا کو فون کر کے پریشان مت کیجیے گا، یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔"

پیغام بھیج کر اس نے فون دوبارہ سائلنٹ پر رکھا اور چائے پینے لگی۔ بختیار صاحب یہ سب خاموشی سے دیکھ رہے تھے مگر انہوں نے فی الحال کچھ پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔ وہ چاہتے تھے کہ عمارہ کو تھوڑا وقت ملے تاکہ وہ خود بات شروع کرے۔ وہ دوسرے باپوں کی طرح نہیں تھے جو بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے، ان کے لیے عمارہ کی خوشی اور مرضی سب سے مقدم تھی۔

ناشتہ کر کے وہ لاؤنج میں آگئے، تھوری دیر بعد عالیہ بیگم ان کی ادویات لے کر آئیں اور دبی آواز میں کہنے لگیں، "عمارہ سے پوچھیں تو سہی، کیا وہ لڑ کر آئی ہے؟" بختیار صاحب نے انہیں ٹوک دیا، "صبر کرو، اسے تھوڑا وقت دو، وہ خود بتا دے گی۔" عالیہ بیگم خاموش ہو گئیں اور ادویات کا باکس رکھ کر چلی گئیں۔ عمارہ کچھ دیر بعد لاؤنج میں آئی اور ایسے برتاؤ کرنے لگی جیسے سب نارمل ہو، دونوں باپ بیٹی ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔ بختیار صاحب نے عالیہ بیگم کو آواز دے کر کہا، "آج لنچ عمارہ کی پسند کا بنوائیے گا، میری بیٹی بڑے دنوں بعد آئی ہے۔" پھر عمارہ کی طرف دیکھ کر پوچھا، "بیٹا! سناؤ زرون ڈنر پر ہمیں جوائن کرے گا یا تم ابھی یہیں رہو گی؟"

یہ سوال سنتے ہی عمارہ کا ضبط جواب دے گیا۔ "بابا! میں ہمیشہ کے لیے آگئی ہوں۔" پھر اس نے وہ سب بیان کر دیا جو گیارہ مہینوں سے اس کے دل پر بوجھ تھا۔ "زرون کی زندگی میں پہلے سے عائشہ نامی کوئی لڑکی تھی جس سے وہ شادی کرنا چاہتے تھے، میں ان کی پسند نہیں تھی۔ مجھے اس گھر میں صرف آنٹی کے لیے لایا گیا تھا۔ زرون کو مجھ میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور یہ بات وہ پہلی رات ہی بتا چکے تھے۔ بابا، مجھے لگا میں اپنی محبت سے ان کا دل جیت لوں گی، مگر میں غلط تھی۔ وہ مجھے بیوی کا مقام دینے کو تیار ہی نہیں تھے۔ آنٹی اور تحسین آپا نے مجھ سے یہ سب چھپایا۔ بابا! کیا اپنے ایسے ہوتے ہیں؟ میرا استعمال ہوا ہے، انہیں صرف ایک 'کیئر ٹیکر' چاہیے تھی جو ان کی ماں کی تنہائی دور کر سکے۔"

عمارہ روتے ہوئے کہتی گئی، "میں نے گیارہ مہینے صبر کیا، میں کبھی آپ کو نہ بتاتی لیکن اب میں اپنی مزید تذلیل نہیں کروا سکتی۔ کل رات عائشہ سے ملاقات ہوئی تو یہ راز کھلا کہ وہ آج بھی اسی کے اسیر ہیں۔ آنٹی مجھے اپنے گھر میں صرف ایک 'شو پیس' بنا کر لے گئی تھیں۔"

بختیار صاحب ساکت کھڑے سب سنتے رہے۔ عمارہ کے گیارہ مہینوں کی تھکن آج اس کی آواز میں جھلک رہی تھی۔ وہ اٹھے، عمارہ کے پاس آکر اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور شفقت سے بولے، "اپنے کمرے میں جا کر آرام کرو، پھر بات کریں گے۔ اپنے بابا پر بھروسہ رکھو، آپ کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوگا۔ ابھی تمہارا باپ زندہ ہے، میں تمہارے ساتھ کسی کو زیادتی نہیں کرنے دوں گا۔"

یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے، مگر ان کا ذہن اپنے قانونی مشیر سے رابطہ کرنے کا سوچ رہا تھا۔ وہ عمارہ پر ایک بار اپنی مرضی کر چکے تھے، مگر عمارہ کی آنکھوں کی سچائی نے انہیں ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اب وہ زرون کے اگلے قدم کے منتظر تھے تاکہ کسی حتمی فیصلے تک پہنچ سکیں۔

تحسین آپا تھکے ہوئے قدموں کے ساتھ اپنے کمرے میں آئیں، ان کا دل اندر سے بری طرح کانپ رہا تھا۔ ان کے ذہن میں بار بار یہ خیال آ رہا تھا کہ بختیار انکل کو فون کر کے پوچھیں کہ کیا عمارہ وہاں پہنچ گئی ہے؟ مگر ان کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔ وہ ان سے کیا کہیں گی؟ اگر عمارہ وہاں نہ ہوئی تو وہ کیا جواب دیں گی؟ کیا وہ عمارہ کا خیال نہیں رکھ سکیں؟

اسی کشمکش میں انہوں نے واٹس ایپ کھولا تو سامنے ہی عمارہ کا پیغام موجود تھا۔ پیغام پڑھتے ہی تحسین آپا کا دل بیٹھنے لگا، انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ انہوں نے دوبارہ پیغام پڑھا اور پھر تاسف سے بولیں، "زرون! تم نے ایک معصوم لڑکی کا دل دکھایا ہے۔ مجھے لگا تم عائشہ کو بھول گئے ہو گے، اتنی پیاری، نیک اور شریف بیوی تو ہر مرد کی خواہش ہوتی ہے۔ تم نے اپنے ہاتھوں اپنی جنت برباد کر لی۔" انہیں ایک طرف سکون بھی ہوا کہ انہوں نے بختیار انکل کو فون نہیں کیا، ورنہ وہ ان کے سوالوں کا کیا جواب دیتیں؟ اب انہیں امی کا خیال آیا، ایک نیا امتحان ان کے سامنے تھا۔


تحسین آپا سوچنے لگیں، "زرون! تم راضی نہیں تھے، یہ تب کی بات تھی، میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا دل سے راضی ہو؟ تب تم نے خود بتایا تھا کہ عائشہ کی شادی ہو گئی ہے اور اب تمہاری زندگی میں کوئی نہیں ہے۔ تم نے مجھ سے بھی چھپایا۔ میں کیسے سامنا کروں گی عمارہ کا؟ وہ تو یہی سمجھے گی کہ یہ سب میں نے جان بوجھ کر کیا ہے۔ یا اللہ! میری اور میری فیملی کی عزت رکھنا۔"

دوسری طرف، زرون آفس میں لیپ ٹاپ پر مصروف تھا جب انٹرکام کی بیل بجی۔ ریسپشنسٹ ایشیا نے بتایا کہ کوئی خاتون ملنا چاہتی ہیں۔ زرون نے غصے سے کہا، "ایشیا! میں نے تم سے کہا تھا کہ مجھے ڈسٹرب نہ کرنا۔" ایشیا نے جواب دیا، "سوری سر! میں نے انہیں منع کیا تھا مگر مس عائشہ بہت اصرار کر رہی ہیں۔" عائشہ کا نام سنتے ہی زرون کا لہجہ بدل گیا، "انہیں اندر بھیج دو اور ساتھ دو کافی بھی، اور اب کسی کو مت بھیجنا میں مصروف ہوں۔"

عائشہ بڑے غرور سے کمرے میں داخل ہوئی اور کرسی پر بیٹھ گئی۔ "پہلے تم سنگل تھے اب تم شادی شدہ ہو۔ اس دن میرا تمہاری ٹیبل پر آنا تمہاری بیوی کو اچھا نہیں لگا ہوگا، وہ مجھے کچھ مڈل کلاس اور اولڈ فیشن لگی۔" زرون نے گہری سانس لی، "وہ آپا اور امی کی پسند ہے۔" اتنے میں چپراسی کافی لے کر آیا اور بتایا کہ راشد صاحب بورڈ روم میں میٹنگ کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔ زرون کو اپنی میٹنگ یاد آئی تو اس نے عائشہ سے معذرت کی، "عائشہ! ہم ویک اینڈ پر باہر ملتے ہیں، ابھی مجھے ضروری میٹنگ میں جانا ہے، امید ہے تم برا نہیں مانو گی۔" عائشہ نے جاتے جاتے طنز کیا، "زرون! اپنی ڈریسنگ سینس  بہتر کر لو، تم پروفیشنل نہیں لگ رہے۔" عائشہ کے جاتے ہی زرون نے خود کو دیکھا، مس میچ  کپڑوں میں نہیں بلکہ اس کی لائف پارٹنر میں تھا۔ زرون لیپ ٹاپ اٹھا کر بورڈ روم کی طرف مڑ گیا۔

تحسین آپا تھکے قدموں کے ساتھ ماں کے کمرے میں آئیں تو رخسانہ بیگم انہیں دیکھ کر بولیں، "تحسین! مجھے بتاؤ عمارہ کہاں ہے؟ مجھ سے کچھ مت چھپانا، میری طبیعت اب سنبھل گئی ہے، میں سچ سننا چاہتی ہوں۔" تحسین نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ زرون کی وجہ سے گھر چھوڑ کر چلی گئی ہے اور اس کا میسج آیا ہے۔

رخسانہ بیگم جیسے ٹوٹ کر رہ گئیں۔ "پتہ نہیں یہ لڑکا کیا چاہتا ہے۔ میں بختیار بھائی کی بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھ کر لائی تھی، انہیں کیا جواب دوں گی؟ زرون نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا، اس عمر میں یہ بھی دیکھنا لکھا تھا۔ بختیار بھائی نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا، ہمارے بزنس کو سنبھالا، کبھی ظاہر نہیں ہونے دیا کہ ہم سگے نہیں ہیں۔ وہ تمہارے بابا کے بہترین دوست اور بھائی تھے۔" انہوں نے دکھ سے سر پر ہاتھ رکھا تو تحسین فکر مند ہو گئیں، "مما! آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟"

رخسانہ بیگم نے سختی سے کہا، "مجھے چھوڑ دو! اتنی بے عزتی کے بعد جینا کون چاہے گا؟ زرون کو فون کرو اور اسے فوراً گھر بلاؤ۔ میں ابھی بختیار بھائی کے گھر جاؤں گی اور جو بھی گلہ شکوہ ہے اسے دور کر کے عمارہ کو واپس لے کر آؤں گی۔" تحسین نے زرون کا نمبر ملایا مگر وہ بند  جا رہا تھا۔ آفس فون کیا تو ریسپشنسٹ نے بتایا کہ سر میٹنگ میں مصروف ہیں۔

زرون جب آفس سے واپس آیا تو اسے گھر کی فضا میں ایک عجیب سا تناؤ محسوس ہوا۔ رخسانہ بیگم اور تحسین آپا کے سامنے جب اس کی حقیقت کھلنے لگی، تو اس نے اپنی مکارانہ فطرت کا استعمال کرتے ہوئے پینترا بدل لیا۔ وہ کسی صورت اپنی ماں کی نظر میں گرنا نہیں چاہتا تھا، اس لیے اس نے اپنی بے وفائی چھپانے کے لیے الٹا عمارہ پر ہی الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ اس نے بڑی ڈھٹائی سے کہا کہ عمارہ کبھی اس گھر کو اپنا سمجھتی ہی نہیں تھی اور وہ جب بھی خاندان مکمل کرنے یا ذمہ داری کی بات کرتا، عمارہ انکار کر دیتی۔ اس کی اس مکاری کا مقصد صرف یہ تھا کہ خود کو "مظلوم شوہر" ثابت کر کے ماں اور بہن کے غصے سے بچ جائے اور سارا ملبہ عمارہ کے سر ڈال دے۔

رخسانہ بیگم نے زرون کی ایک نہ سنی اور اسے زبردستی اپنے ساتھ لے کر بختیار صاحب کے گھر پہنچ گئیں تاکہ وہ اپنی غلطیوں کی معافی مانگے اور عمارہ کو منا کر واپس لائے۔ مگر زرون کے ذہن میں تو کچھ اور ہی چل رہا تھا۔ بختیار صاحب کے گھر پہنچتے ہی وہ اپنی جھوٹی توبہ سے مکر گیا اور وہاں بھی اپنے گھٹیا منصوبے پر عمل کرنے لگا۔ اس نے بختیار صاحب کے سامنے ایسی باتیں کیں کہ وہ بھی ایک لمحے کے لیے الجھن  کا شکار ہو گئے کہ کیا واقعی ان کی بیٹی میں کوئی کمی ہے؟ زرون نے بڑی مہارت سے عمارہ کی ہر قربانی کو اس کی کمزوری بنا کر پیش کیا اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ عمارہ خود ہی اس رشتے سے بھاگنا چاہتی ہے۔

آخر کار، زرون نے وہ بات کہہ دی جس کی توقع کسی کو نہ تھی، مگر عمارہ اور بختیار صاحب ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہو چکے تھے۔ زرون نے سب کے سامنے صاف کہہ دیا کہ وہ اب عمارہ کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا اور اسے چھوڑنا چاہتا ہے۔ یہ سن کر رخسانہ بیگم اور تحسین آپا پر جیسے بجلی گر پڑی۔ جہاں پورا خاندان اس ٹوٹتے رشتے کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا، وہیں زرون نے اپنی خود غرضی کی انتہا کر دی اور اپنی ناپسندیدگی کا سارا بوجھ عمارہ کے رویے پر ڈال کر خود کو آزاد کرنے کا راستہ چن لیا۔ عمارہ نے خاموشی سے اسے دیکھا، اس کی آنکھوں میں اب دکھ نہیں بلکہ ایک عزم تھا—وہ عزم جو ایک عورت کو ٹاکسک رشتے سے نکل کر اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کی طاقت دیتا ہے۔


کرب سے کامیابی تک — عمارہ کا سفر


عمارہ کی زندگی میں یونیورسٹی دوبارہ جوائن کرنے کے بعد آزمائشوں کا ایک نیا باب کھلا۔ اسے لگا تھا کہ زرون سے علیحدگی کے بعد شاید زندگی اسے سکھ کا سانس لینے دے گی، مگر قسمت نے اس کے لیے کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا۔ اس کی بہترین دوست فاطمہ کی والدہ، سلمیٰ آصف، عمارہ کی سادگی اور بختیار صاحب کی بے پناہ دولت سے مرعوب ہو گئیں۔ انہوں نے اپنے نکمے بیٹے محسن کے لیے عمارہ کو ایک "آسان ہدف" اور "سونے کی چڑیا" سمجھا تاکہ اس کی دولت کے ذریعے اپنے گھر کے مالی حالات بدل سکیں۔ محسن، جو آوارہ گردی اور بری لٹوں کا شکار تھا اور کبھی ایک نوکری پر نہیں ٹکا تھا، اپنی ماں کے ساتھ مل کر عمارہ کو جذباتی ہمدردی کے جال میں پھنسانے کے منصوبے بنانے لگا۔ اسے لگا کہ ایک طلاق یافتہ لڑکی کو سہارے کی ضرورت ہوگی، اور اسی ضرورت کا فائدہ اٹھا کر وہ بختیار صاحب کے کاروبار پر قابض ہو جائے گا۔

عمارہ کی زندگی کا یہ دوسرا نکاح پہلے سے بھی زیادہ بھیانک اور روح فرسا ثابت ہوا۔ شادی کے چند ہی دنوں بعد محسن کا اصلی چہرہ سامنے آگیا۔ محسن کی لالچی فطرت اور اس کی ماں کے زہریلے طعنے عمارہ کے لیے جانی عذاب بن گئے۔ سلمیٰ آصف جو پہلے محبت نچھاور کرتی تھیں، اب بات بات پر عمارہ کو "طلاق یافتہ" ہونے کا طعنہ دیتیں اور اسے جتاتی تھیں کہ انہوں نے اسے اپنا کر اس پر احسان کیا ہے۔ محسن نہ صرف عمارہ سے اس کے زیورات اور پیسے چھینتا بلکہ اسے شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بناتا۔

اسی دوران عمارہ کے سر سے اس کے مہربان والد، بختیار صاحب کا سایہ اٹھ گیا، جس نے محسن کو جیسے کوئی کھلی چھوٹ دے دی ہو۔ اب اسے روکنے والا کوئی نہ تھا؛ اس نے یتیم بیٹی کی جائیداد پر قبضہ کرنے کے لیے ظلم کی تمام حدیں پار کر دیں۔ محسن عمارہ سے گاڑی کی چابیاں اور بزنس کے کاغذات پر دستخط کروانے کے لیے اسے کمرے میں بند کر کے مارتا پیٹتا۔ ایک رات جب عمارہ نے اپنی خودداری کا سودا کرنے سے انکار کیا، تو محسن نے اسے بدترین تشدد کے بعد نیم مردہ حالت میں گھر سے باہر نکال دیا۔ وہ زخمی جسم اور ٹوٹی ہوئی روح کے ساتھ جب اپنے گھر پہنچی، تو دروازہ کھولتے ہی سامنے کھڑی ماں کی گود میں گر پڑی۔۔ 

 تو عالیہ بیگم کی چیخ حلق میں ہی دب گئی۔ انہوں نے کانپتے ہاتھوں سے عمارہ کا چہرہ اٹھایا، جو زخموں اور آنسوؤں سے پہچانا نہیں جا رہا تھا۔ "عمارہ! میری بچی۔۔۔ یہ کس نے کیا؟" عالیہ بیگم کی آواز لرز رہی تھی۔ عمارہ کچھ بولنا چاہتی تھی، مگر اس کے لبوں سے صرف ایک سسکی نکلی اور وہ بے ہوش ہو گئی۔

عالیہ بیگم کا ذہن جیسے سن ہو گیا۔ وہ بیٹی کے لہولہان ہاتھوں کو دیکھ رہی تھیں جن پر ابھی بختیار صاحب کی دی ہوئی انگوٹھی چمک رہی تھی—وہ باپ جو ہمیشہ اپنی بیٹی کو پھولوں کی طرح رکھتا تھا۔ اچانک عالیہ بیگم کو محسوس ہوا جیسے ان کا اپنا سانس اکھڑ رہا ہے۔ سینے میں اٹھنے والا درد اتنا شدید تھا کہ وہ وہیں صوفے پر ڈھیر ہو گئیں۔ منال جو ابھی ابھی کمرے سے باہر آئی تھی، اپنی ماں اور بہن کو اس حال میں دیکھ کر دہل گئی۔

ہسپتال کے سفید گلیارے میں منال اکیلی کھڑی تھی جب ڈاکٹر باہر آئے۔ "ہم نے عمارہ بی بی کی مرہم پٹی کر دی ہے، وہ خطرے سے باہر ہیں، لیکن عالیہ بیگم۔۔۔" ڈاکٹر نے ایک گہرا سانس لیا۔ "صدمہ بہت گہرا تھا، ان کا دماغ اس بوجھ کو سہہ نہیں سکا اور وہ 'ڈیپ کومہ'  میں چلی گئی ہیں۔ اب سب کچھ معجزے اور ان کی جینے کی چاہ پر منحصر ہے۔"

جب عمارہ کو ہوش آیا اور اسے پتہ چلا کہ اس کی وجہ سے اس کی ہنستی کھیلتی ماں اب ایک مشین کے سہارے سانس لے رہی ہے، تو اس نے رونا چھوڑ دیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جگہ ایک پتھریلا عزم آ گیا۔ اس نے اپنی چھوٹی بہن منال کا ہاتھ تھاما اور آئی سی یو  کے شیشے سے اپنی ماں کو دیکھتے ہوئے عہد کیا: "ماما! میں ہار نہیں مانوں گی۔ محسن نے مجھ سے میرا گھر، میری دولت اور میرے والدین چھینے ہیں، لیکن وہ مجھ سے میرا حوصلہ نہیں چھین سکا۔ اب میں روؤں گی نہیں، اب میں لڑوں گی!"


ہسپتال کے اس سرد اور خاموش کمرے میں، جہاں صرف مانیٹر کی 'بیپ بیپ' سنائی دے رہی تھی، عمارہ اپنی ماں کے بیڈ کے پاس بیٹھی تھی۔ اس کے اپنے زخم ابھی بھرے نہیں تھے، مگر روح کا زخم اسے بیٹھنے نہیں دے رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ بختیار صاحب کے جانے کے بعد بینک بیلنس تیزی سے کم ہو رہا ہے اور محسن جیسے درندے سے پیچھا چھڑانے کے لیے اسے قانونی جنگ بھی لڑنی ہے۔

منال نے کمرے میں داخل ہوتے ہی دبی آواز میں کہا، "آپّہ! ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ اگلے مہینے کے علاج کے لیے مزید پیسوں کا انتظام کرنا ہوگا۔" عمارہ نے خاموشی سے ماں کا ہاتھ چوما اور اپنا پرانا لیپ ٹاپ کھول لیا۔ اسے یاد تھا کہ یونیورسٹی میں اس کی ایک ٹیچر نے 'ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آن لائن فری لانسنگ' کے بارے میں بتایا تھا۔

عمارہ نے راتوں کی نیندیں حرام کر دیں۔ ایک طرف وہ ماں کو ادویات دیتی، ان کی تھراپی کرتی اور دوسری طرف یوٹیوب اور مختلف کورسز کے ذریعے گرافک ڈیزائننگ اور سوشل میڈیا مینجمنٹ سیکھنے لگی۔ کئی راتیں اس نے صرف کافی پی کر گزاریں۔ شروع میں اسے کئی بار ریجیکشن ملی، مگر اس نے ہار نہیں مانی۔

آخر کار، ایک غیر ملکی کلائنٹ نے اسے ایک چھوٹا سا پروجیکٹ دیا۔ عمارہ نے اپنی تمام تر صلاحیتیں اس کام میں جھونک دیں۔ جب کام مکمل ہوا تو اس کے اکاؤنٹ میں اس کی زندگی کی پہلی آن لائن کمائی آئی۔ یہ رقم شاید بہت بڑی نہیں تھی، مگر عمارہ کے لیے یہ کروڑوں سے بڑھ کر تھی کیونکہ یہ اس کی اپنی محنت اور خود مختاری کا پہلا ثبوت تھا۔

اگلی صبح جب وہ میڈیکل اسٹور پر پہنچی اور اپنی پہلی کمائی سے ماں کے لیے ادویات خریدیں، تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر وہ آنسو کمزوری کے نہیں بلکہ فخر کے تھے۔ اس نے ہسپتال واپس آکر اپنی بے ہوش ماں کے کان میں سرگوشی کی: "ماما! آج میں نے اپنی پہلی کمائی سے آپ کی دوا لی ہے۔ میں اب کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گی۔ میں آپ کو اور منال کو وہ زندگی دوں گی جس کا خواب پاپا نے دیکھا تھا۔"

عمارہ کی انگلیوں میں اب قلم اور کی بورڈ کی طاقت تھی، اور اس کے دل میں وہ یقین جو اسے دنیا کی ایک کامیاب ڈیجیٹل مارکیٹر بنانے والا تھا۔

عمارہ اب بدل چکی تھی۔ اسے سمجھ آ چکا تھا کہ اس کے حقوق کیا ہیں اور اس کی اصل طاقت کسی مرد کا ساتھ نہیں، بلکہ اس کا اپنا آپ اور خود اعتمادی ہے۔ اس نے عارضی اور جھوٹے سہاروں کی تمنا کرنا چھوڑ دی تھی۔ اس کے لیے اب سب سے اہم اس کا "سکونِ قلب" تھا، جسے اس نے بڑی مشکل سے ایک ٹاکسک  رشتے سے نکل کر حاصل کیا تھا۔

وہ اپنے لیپ ٹاپ پر ایک بڑی مہم ڈیزائن کرنے میں مصروف تھی کہ اچانک گھر کے باہر شور سنائی دیا۔ یہ محسن تھا، جو ایک بار پھر جائیداد میں حصے اور پیسوں کے لیے دھونس جمانے آیا تھا۔ منال سہم کر عمارہ کے پاس آئی، "آپّہ! یہ پھر آگیا ہے، پتا نہیں اب کیا تماشا کرے گا۔"

عمارہ پرسکون انداز میں اٹھی۔ پہلے وہ ایسے موقعوں پر روتی تھی یا کمرے میں چھپ جاتی تھی، مگر اب وہ خوفزدہ نہیں تھی۔ اس نے گیٹ کھولا اور سرد مہری سے محسن کی طرف دیکھا، جو چیخ چیخ کر جائیداد کے کاغذات مانگ رہا تھا۔

"محسن! تمہارا مجھ پر یا اس گھر پر کوئی حق نہیں ہے۔ تم نے مجھے گھر سے نکال کر خود ہی تمام رشتے ختم کر دیے تھے،" عمارہ کی آواز میں ایک ایسی چٹان جیسی سختی تھی کہ محسن ایک لمحے کے لیے ٹھٹک گیا۔

"تم ایک طلاق یافتہ عورت ہو، اکیلی کیا کر لو گی؟ تمہیں میری ضرورت پڑے گی،" محسن نے اپنا آخری ہتھیار پھینکنا چاہا۔

عمارہ تلخی سے مسکرائی، "ضرورت کمزوروں کو پڑتی ہے محسن، اور میں اب کمزور نہیں ہوں۔ میں نے تمہارے خلاف جسمانی تشدد اور ہراساں کرنے کی ایف آئی آر  درج کروا دی ہے اور اپنے وکیل کو تمام ثبوت دے دیے ہیں۔ اگر تم نے ایک قدم بھی مزید آگے بڑھایا، تو اگلی رات تم حوالات میں گزارو گے۔"

محسن نے عمارہ کی آنکھوں میں وہ بے خوفی دیکھی جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ وہ پرانی عمارہ نہیں ہے جسے وہ دبا سکتا تھا۔ وہ پیر پٹختا ہوا وہاں سے چلا گیا۔

عمارہ نے گہری سانس لی اور گیٹ بند کر دیا۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس کے اندر سے ایک اور بوجھ ہٹ گیا ہو۔ اس نے منال کی طرف دیکھ کر کہا، "منال! کبھی کسی کو یہ حق مت دینا کہ وہ تمہارے سکون کو برباد کر سکے۔ ہماری جنگ ہمیں خود ہی لڑنی ہوتی ہے۔"

اس واقعے کے بعد عمارہ نے اپنی پوری توجہ اپنے کام پر لگا دی۔ منال اس کی اسسٹنٹ بن گئی اور دونوں بہنوں نے مل کر سوشل میڈیا پر ایک ایسی کمیونٹی بنائی جہاں وہ دوسری عورتوں کو بھی خود مختار بننے کا حوصلہ دینے لگیں۔ عمارہ کی شہرت اب اس کے دکھوں کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کے ہنر اور اس کی ہمت کی وجہ سے پھیل رہی تھی۔

وہ ایک انتہائی خاموش رات تھی۔ ہسپتال کے کمرے میں صرف مشینوں کی دھیمی آوازیں گونج رہی تھیں۔ عمارہ اور منال اپنی ماں کے بیڈ کے دونوں طرف بیٹھی ان کا ہاتھ تھامے ہوئے تھیں۔ اچانک مانیٹر پر چلنے والی لکیر سیدھی ہو گئی اور وہ مسلسل 'بیپ' کی آواز کمرے کے سناٹے کو چیرتی چلی گئی۔ عالیہ بیگم ان دونوں بہنوں کو اس بے رحم دنیا میں اکیلا چھوڑ کر جا چکی تھیں۔

عمارہ نے کوئی چیخ نہیں ماری، نہ ہی وہ دھاڑیں مار کر روئی۔ اس نے بس خاموشی سے اپنی ماں کے ٹھنڈے ہوتے ماتھے پر بوسہ دیا اور منال کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ وہ دونوں جانتی تھیں کہ ان کی ماں اب ایک ایسی جگہ چلی گئی ہے جہاں کوئی محسن انہیں دکھ نہیں دے سکے گا اور نہ ہی کوئی زرون ان کے مان کو توڑ پائے گا۔ ماں کی موت نے عمارہ کے دل سے خوف کا آخری ذرہ بھی نکال دیا تھا۔ اب اس کے پاس کھونے کو کچھ نہیں تھا، سوائے اپنی بہن کے مستقبل اور اپنے مقصد کے۔

تدفین کے بعد، دونوں بہنوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر یہ عہد کیا کہ وہ اپنی زندگی کو صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ ان جیسی ہزاروں بے سہارا عورتوں کے لیے ایک مثال بنائیں گی۔ ان کا سفر اب رکنے والا نہیں تھا۔ عمارہ نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں اپنی تمام تر صلاحیتیں جھونک دیں اور منال نے گرافکس اور مینجمنٹ میں اس کا بھرپور ساتھ دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کا چھوٹا سا سیٹ اپ ایک بڑے "ڈیجیٹل اسٹوڈیو" میں بدل گیا، جہاں وہ صرف کلائنٹس کا کام نہیں کرتی تھیں بلکہ بیوہ اور طلاق یافتہ عورتوں کو مفت ہنر بھی سکھاتی تھیں۔

وقت گزرتا گیا اور عمارہ کا نام انڈسٹری میں ایک "برانڈ" بن گیا۔ ایک دن عمارہ کے سب سے بڑے کلائنٹ، مسٹر ایاز، کا فون آیا۔ وہ اپنی کمپنی کی کامیابی کی خوشی میں ایک بڑی پارٹی دے رہے تھے۔ "عمارہ! آپ کو اور منال کو اس پارٹی میں ضرور آنا ہے۔ آپ ہماری کامیابی کا اہم حصہ ہیں،" ایاز نے بڑے اصرار سے کہا۔

عمارہ نے پہلے تو معذرت کرنا چاہی، کیونکہ وہ ایسی محفلوں سے دور ہی رہتی تھی جہاں دکھاوا زیادہ ہو۔ مگر جب ایاز نے بار بار اصرار کیا اور کہا کہ وہاں کئی نئے انٹرپرینیورز  آپ سے مل کر حوصلہ لینا چاہتے ہیں، تو عمارہ نے ہامی بھر لی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ اس پارٹی میں زندگی اسے ایک ایسے موڑ پر لے آئے گی جہاں ماضی اور حال کا آمنا سامنا ہونے والا تھا۔ اس نے ایک گہری سانس لی اور اپنی بہن سے کہا: "منال! تیاری کر لو، ہمیں اس دعوت میں جانا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا دیکھے کہ بختیار صاحب کی بیٹیاں گر کر اٹھنا جانتی ہیں۔"

 ہال روشنیوں اور قہقہوں سے گونج رہا تھا، مگر جیسے ہی ہال کے بڑے دروازے کھلے، ہر نظر اسی سمت اٹھ گئی۔ عمارہ نے    سیاہ رنگ کا ایک انتہائی باوقار لباس زیب تن کر رکھا تھا، اس کے چہرے پر وہی پرسکون سنجیدگی تھی جو اب اس کی پہچان بن چکی تھی۔ اس کے ساتھ منال تھی، جو اپنی بڑی بہن کی کامیابی پر فخر سے سر اٹھائے چل رہی تھی۔ اب وہ کسی کی "طلاق یافتہ" بیٹی یا "بے سہارا" عورت نہیں تھی، وہ "عمارہ بختیار" تھی—ایک کامیاب ڈیجیٹل کریئیٹر اور سینکڑوں عورتوں کی مسیحا جس کے ایک اشارے پر ہزاروں فالوورز متحرک ہو جاتے تھے۔

ہال کے ایک کونے میں زرون اپنی بیوی عائشہ کے ساتھ کھڑا تھا۔ جیسے ہی اس کی نظر عمارہ پر پڑی، اس کے ہاتھ سے جوس کا گلاس چھوٹتے چھوٹتے بچا۔ وہ اپنی جگہ ساکت رہ گیا۔ اس کے سامنے وہی لڑکی تھی جسے اس نے "مڈل کلاس" اور "اولڈ فیشن" کہہ کر ٹھکرایا تھا، مگر آج اس کی چمک کے سامنے عائشہ کا بناؤ سنگھار بھی ماند پڑ گیا تھا۔

مسٹر ایاز نے آگے بڑھ کر عمارہ کا استقبال کیا اور اسے اپنے حلقہ احباب کی طرف لے گئے، جہاں زرون بھی موجود تھا۔ "زرون! آئیے، میں آپ کا تعارف اپنی سب سے بہترین بزنس پارٹنر اور اس دور کی کامیاب ترین خاتون سے کرواؤں،" ایاز نے فخر سے کہا۔

عمارہ کی نظریں جب زرون سے ملیں، تو زرون کو لگا جیسے وہ کسی گہری کھائی میں گر رہا ہو۔ اس نے سوچا تھا کہ عمارہ کی آنکھوں میں نفرت یا گلہ دیکھے گا، مگر وہاں تو صرف "بے نیازی" تھی۔ ایک ایسی خاموشی جو ہزاروں لفظوں سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔

زرون نے لرزتی آواز میں صرف اتنا کہا، "عمارہ۔۔۔ تم؟"

عمارہ کے لبوں پر ایک ہلکی سی، مگر فاتحانہ مسکراہٹ آئی۔ اس نے بڑے اعتماد سے جواب دیا، "جی زرون صاحب! وقت اور حالات انسان کو وہ کچھ بنا دیتے ہیں جو وہ خود بھی نہیں سوچ سکتا۔ مجھے خوشی ہے کہ زندگی نے مجھے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھا دیا۔"

زرون نے ایک نظر عائشہ پر ڈالی جو اکتاہٹ سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی، اور پھر عمارہ کو دیکھا جس کے گرد لوگوں کا ہجوم اس سے مشورے لینے کے لیے بے تاب تھا۔ اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی ہار کا احساس ہو چکا تھا۔ اس نے ایک ہیرے کو پتھر سمجھ کر پھینک دیا تھا اور اب اس کے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں تھا۔

عمارہ نے بڑی نزاکت سے معذرت کی اور دوسرے کلائنٹس کی طرف مڑ گئی۔ اسے اب کسی بدلے کی ضرورت نہیں تھی، اس کی کامیابی ہی اس کا سب سے بڑا بدلہ تھی۔ اس نے منال کا ہاتھ تھاما اور ہال سے باہر کی طرف قدم بڑھا دیے، جہاں ایک روشن مستقبل اس کا منتظر تھا۔ زرون وہیں کھڑا رہا—تنہا، خالی ہاتھ اور اپنی انا کے ملبے تلے دبا ہوا۔


"عمارہ کو اپنی منزل مل چکی تھی۔ اس نے ثابت کر دیا کہ اگر عورت خود پر یقین رکھے، تو وہ ٹاکسک رشتوں کی راکھ سے بھی ایک نیا گلستان کھلا سکتی ہے۔ زندگی کسی کے جانے سے ختم نہیں ہوتی، بلکہ کبھی کبھی کسی کا جانا ہی ایک نئی اور بہتر زندگی کی شروعات ہوتا ہے۔" 


"عمارہ کا یہ سفر یہیں تمام ہوتا ہے، مگر یہ کہانی ان تمام عورتوں کے لیے ایک نئی شروعات ہے جو خود کو تنہا اور بے

 سہارا سمجھتی ہیں۔ یاد رکھیے، آپ کی ہمت ہی آپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔"

.آپ کو عمارہ کا یہ سفر کیسا لگا؟ کیا زرون کا انجام عبرت ناک تھا؟ اپنی قیمتی رائے سے کمنٹس میں ضرور آگاہ کیجیے گا!


"کرب سے کامیابی تک" محض ایک کہانی نہیں بلکہ عورت کی خودداری، ہمت اور ناقابلِ تسخیر عزم کی ایک ایسی داستان ہے جو معاشرے کے فرسودہ رویوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ مصنفہ نے عمارہ کے کردار کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ زندگی میں جب مخلص سہارے چھن جاتے ہیں اور اپنے ہی سائے دھوکہ دے جاتے ہیں، تو انسان کو اپنی طاقت خود بننا پڑتا ہے۔

ناول کی اہم خصوصیات:

  • سماجی شعور: یہ کہانی ان لڑکیوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو ٹاکسک (Toxic) رشتوں کو ہی اپنی تقدیر سمجھ لیتی ہیں۔

  • کردار نگاری: زرون کا پچھتاوا اور محسن کا عبرت ناک انجام یہ بتاتا ہے کہ ظلم کی رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، حق کی صبح اسے ختم کر کے رہتی ہے۔

  • جدید پیغام: روایتی مظلومیت کے بجائے 'ڈیجیٹل مارکیٹنگ' اور 'سیلف گروتھ' جیسے جدید موضوعات کو کہانی کا حصہ بنانا ایک منفرد قدم ہے۔

یہ ناول ہمیں سکھاتا ہے کہ جب آپ اپنے خوابوں کے لیے خود کھڑے ہوتے ہیں، تو رب کی ذات بھی آپ کے لیے نئے راستے کھول دیتی ہے۔ عمارہ کا سفر ہر اس عورت کی جیت ہے جو ہار ماننے سے انکار کر دے۔


ختم شد

Ishrat Zahid Novels

Ishratdigitalcreation@gmail.com

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22