میرا ماہی قسط نمبر: 06

 میرا ماہی  

قسط نمبر:  06    

تحریر: عشرت زاہد

رحمان صاحب آفس سے نکلنے سے پہلے ہی نسرین کو فون کر کے مطلع کر چکے تھے کہ وہ رمشا کو ساتھ لا رہے ہیں، لہٰذا کھانے کا اچھا اہتمام کیا جائے اور انیل کو بھی گھر پر ہی روکا جائے۔ جب وہ رمشا کے ساتھ گھر پہنچے تو اسے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر نسرین کو آوازیں دینے لگے۔ نسرین کچن سے نکل کر آئی تو رمشا نے سلام کرنے کے بجائے ایک سرسری سے انداز میں "ہیلو آنٹی" کہا۔ نسرین اسے دیکھ کر کوئی خاص خوش نہ ہوئیں۔ رحمان صاحب فریش ہونے اپنے کمرے میں چلے گئے جبکہ رمشا ڈرائنگ روم کے انٹیریئر کا جائزہ لینے لگی۔ اس کمرے کی کلر سکیمنگ اور ڈیکوریشن پر خاصی توجہ دی گئی تھی، مگر رمشا کو ہر چیز میں کیڑے نکالنے کی عادت تھی۔ وہ فوراً بولی، "آنٹی! آپ کا ڈرائنگ روم بہت پرانے فیشن کا ہے، آپ کا دل نہیں کرتا کہ اسے تھوڑا ماڈرن لک دیا جائے؟" نسرین نے بدمزہ ہو کر جواب دیا، "یہ سب رحمان نے اپنی مرضی سے ڈیزائنر بلوا کر کروایا ہے۔" رمشا خاموش ہونے کے بجائے انیل کے بارے میں پوچھنے لگی۔ نسرین نے بتایا کہ وہ لیٹ آئے گا کیونکہ اس کی اپنے دوستوں کے ساتھ گیٹ ٹوگیدر ہے۔ یہ سنتے ہی رمشا کا موڈ بگڑ گیا، "پھر یہاں میرے رکنے کا کیا فائدہ؟ میں چلتی ہوں، انکل سے آفس میں ہی بات کر لوں گی۔" وہ نسرین کی بات سنے بغیر اپنا پرس اٹھا کر باہر نکل گئی اور ڈرائیور سے اسے ڈیفنس چھوڑنے کا کہہ کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔ رحمان صاحب جب ڈرائنگ روم میں آئے تو رمشا کو نہ پا کر نسرین سے پوچھا۔ نسرین نے تیکھے لہجے میں جواب دیا، "وہ چلی گئی! یہ ہے آپ کی پسند انیل کے لیے؟ جسے نہ بات کرنے کی تمیز ہے نہ بڑوں کا ادب۔ انیل کی طبیعت اس سے بالکل میچ نہیں کرتی۔" رحمان صاحب غصے سے بولے، "نسرین! کان کھول کر سن لو، اگر رمشا نہیں تو ریجا بھی نہیں آئے گی اس گھر میں۔"

دوسری طرف فضا نے بچوں کے کمرے کی لائٹ آن دیکھی تو اندر آ گئی۔ بچے بہت پرجوش تھے، "ماما! ہم پہلی بار اپنے کزنز اور دادا دادی سے ملیں گے، مانی چچو بھی وہاں ہوں گے۔" فضا ان کی باتوں پر مسکرا دی اور انہیں جلدی سونے کا کہا کیونکہ صبح سات بجے کی فلائٹ تھی اور دو گھنٹے پہلے ایئرپورٹ پہنچنا تھا۔ جب فضا اپنے کمرے میں آئی تو زریف سو چکے تھے۔ فضا خود بھی بہت ایکسائٹڈ تھی، یہ اس کا سسرال سے پہلا واسطہ تھا۔ اسے وہ وقت یاد آیا جب ماں باپ کے انتقال کے بعد زریف نے اسے سہارا دیا تھا۔ پاکستان میں لاہور والا گھر وہ کرائے پر دے چکی تھی اور کبھی پلٹ کر جانے کا سوچا نہ تھا کیونکہ پیچھے کوئی اپنا تھا ہی نہیں۔ زریف کے والدین ان کی شادی پر ناراض تھے، اب وہ اسے قبول کریں گے یا نہیں، اسی کشمکش میں وہ بھی سائیڈ لیمپ آف کر کے لیٹ گئی۔

روشن آرا بیگم پورے گھر کی صفائی ستحرائی میں مصروف تھیں۔ وہ مانی کو آوازیں دیتے ہوئے زریف کے کمرے کی طرف آئیں جہاں مانی فرنیچر سیٹ کروا چکا تھا اور پردے بھی لگ چکے تھے۔ دیوار پر زریف کی ایک بڑی تصویر لگی تھی جو میاں جی کے دکھ کی وجہ سے اسٹور میں رکھ دی گئی تھی۔ مانی کی محنت اور جوش دیکھ کر روشن آرا کا دل بھر آیا، وہ سگا بیٹا نہ ہو کر بھی زریف کی واپسی پر اتنا خوش تھا جیسے اس کے اپنے سگے ماموں آ رہے ہوں۔

ادھر ریجا یونیورسٹی میں بہت خوش تھی کیونکہ فائنل ایگزام سے پہلے کشمیر ٹرپ کا نوٹس لگ چکا تھا۔ روہن، انیل، سمرہ اور ریجا سب مل کر جانے کا پلان بنا رہے تھے۔ ریجا نے کہا کہ وہ ایک بار بابا سے اجازت لے کر کل نام لکھوائے گی۔ جب وہ گھر آئی تو دیکھا کہ سراج صاحب گھر پر ہی تھے اور زرمینہ بیگم ان کے لیے خاص لنچ تیار کروا رہی تھیں۔ ریجا نے دیکھا کہ سراج ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ہی تھے کہ ان کا موبائل بجا، فون سنتے ہی ان کے ہاتھ رک گئے اور وہ کھانا چھوڑ کر تیزی سے کمرے کی طرف چلے گئے۔ ریجا کو حیرت ہوئی مگر زرمینہ نے اسے ٹال دیا کہ کوئی دفتری معاملہ ہوگا۔ ریجا نے سوچا کہ بابا رات کو دیر سے آتے ہیں، ابھی موقع ہے کہ ٹرپ کی اجازت لے لوں۔

وہ بابا کے کمرے کی طرف آئی تو دروازہ کھلا تھا۔ اندر کوئی نہیں تھا مگر پورے کمرے میں روشنیاں جگمگا رہی تھیں۔ ریجا نے باتھ روم کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر وہاں بھی کوئی نہ تھا۔ وہ مڑنے لگی تو اس کی نظر الماری کے کھلے دروازے پر پڑی۔ اسے بند کرنے کے لیے جب وہ آگے بڑھی تو اس کے پاؤں کے نیچے کوئی چیز آئی۔ اس نے دیکھا تو وہ ایک تصویر تھی—سراج صاحب کی جوانی کی تصویر، مگر ان کے ساتھ بیٹھی دلہن اس کی ماما نہیں بلکہ کوئی اور خاتون تھیں۔ ریجا کے ہوش اڑ گئے، اس کا سر چکرانے لگا۔ بابا کے ماضی کا یہ کون سا راز تھا جس سے وہ اور اس کی ماں بے خبر تھے؟ اس نے جلدی سے وہ تصویر اپنے دوپٹے میں چھپائی اور الماری بند کر کے باہر آ گئی۔ اسے یاد آیا کہ اس دن پھوپھو بابا کے بارے میں کچھ کہہ رہی تھیں، اب صرف پھوپھو ہی اس کے سوالوں کا جواب دے سکتی تھیں۔

ایئرپورٹ پر زریف کی فیملی لینڈ کر چکی تھی۔ مانی دو گھنٹے سے ان کا انتظار کر رہا تھا۔ جب زریف سامنے آیا تو مانی نے اسے پہچان لیا اور ہاتھ ہلا کر اشارہ کیا۔ گاڑی میں بیٹھ کر جب وہ گھر کی طرف روانہ ہوئے تو زریف کھڑکی سے باہر لاہور کی بدلی ہوئی شکل دیکھ کر حیران بھی تھے اور اداس بھی کہ وہ بیس سال اپنوں سے دور رہے۔ جب گاڑی گھر کے گیراج میں داخل ہوئی تو زریف کی آنکھوں میں پرانی یادیں گھوم گئیں۔ لان کو دیکھ کر ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اندر لاؤنج میں روشن آرا بیگم نے ان کا والہانہ استقبال کیا، نوکروں نے پھول نچھاور کیے۔ زریف جب ماں کے گلے لگے تو دونوں کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ زریف نے ادھر ادھر دیکھا مگر میاں جی کہیں نظر نہ آئے۔ روشن آرا نے بتایا کہ وہ اپنے کمرے میں ہیں۔ جب زریف نے دستک دی اور پکارا، "میاں جی! ہم آ گئے ہیں،" تو میاں جی باہر آئے۔ بیس سال بعد اپنے بیٹے کو دیکھ کر وہ جیسے اپنی جگہ ساکت رہ گئے۔ زریف نے معافی مانگی، "میاں جی! ایک بار معاف کر دیں، میں اب سمجھا ہوں کہ اپنوں کے بغیر زندگی صرف وقت گزارنا ہے، جینا نہیں۔" فضا نے بھی ڈرتے ہوئے پوچھا کہ کیا میاں جی انہیں معاف کر دیں گے؟ روشن آرا نے اسے تسلی دی کہ میاں جی کو 

         سنبھلنے میں تھوڑا وقت لگے گا، اتنی لمبی جدائی کا زخم بھرنے میں دیر تو لگتی ہے۔

جب زریف معافی مانگنے کے لیے قدم آگے بڑھایا تو میاں جی کی گرج دار آواز گونجی، "وہی رک جاؤ زریف!"

یہ سن کر سب کے قدم وہیں تھم گئے اور زریف کی آنکھوں میں چھپا پچھتاوا خوف میں بدل گیا۔ آخر میاں جی نے زریف کو اپنے قریب آنے سے کیوں روکا؟ کیا وہ اسے کبھی معاف نہیں کریں گے؟

جاننے کے لیے جڑیے رہیے "میرا ماہی" کی اگلی قسط کے ساتھ، جو کل میرے بلاگ پر شائع ہو گی!

(جاری ہے...)


کاپی رائٹ اور ڈسکلیمر

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ عشرت زاہد محفوظ ہیں (2026ء) اس کہانی کے تمام حقوق قانونی طور پر مصنفہ عشرت زاہد کے پاس محفوظ ہیں۔ اس تحریر کے کسی بھی حصے کو مصنفہ کی اجازت کے بغیر کسی بھی پلیٹ فارم، ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پر کاپی کرنا، چوری کرنا یا شائع کرنا قانونی جرم ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ڈسکلیمر (اعلانِ دستبرداری): یہ ایک افسانوی تحریر ہے۔ اس کے تمام کردار، مقامات اور واقعات مصنفہ کے تخیل کی تخلیق ہیں۔ کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا مردہ) یا حقیقی واقعے سے مماثلت محض اتفاقی ہوگی۔

Ishratdigitalcreation@gmail.com 

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22