میرا ماہی - قسط نمبر07

میرا ماہی 

07- قسط  نمبر

تحریر: عشرت زاہد

 میاں جی کی گرجدار آواز جب فضا میں گونجی تو ایک لمحے کو ہر چیز ساکت ہوگئی۔ فضا اور بچے، جو اب تک خوفزدہ تھے، میاں جی کے چہرے کے بدلے ہوئے تاثرات دیکھ کر حیران رہ گئے۔ میاں جی نے فضا اور بچوں کی جانب شفقت بھری نظروں سے دیکھا اور نرمی سے کہا، "فضا! بیٹا پاس آؤ... اور بچوں! کیا تم پہلے اپنے دادا ابو سے نہیں ملو گے؟"

یہ الفاظ جادو کی طرح اثر کر گئے۔ ایک دم سے سب کے چہروں پر خوف کی جگہ خوشی نے لے لی۔ بچے دوڑ کر میاں جی کے گلے لگ گئے اور فضا کی آنکھوں سے تشکر کے آنسو جاری ہوگئے۔ میاں جی نے زریف کو بھی اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا۔ برسوں کی دوری ایک پل میں سمٹ گئی؛ باپ اور بیٹا کافی دیر تک ایک دوسرے کے گلے لگ کر روتے رہے، جیسے بیس سال کا بوجھ آنسوؤں کے ذریعے بہا رہے ہوں۔ جب ذرا سانس بحال ہوئی تو روشن آرا بیگم، جن کی اپنی آنکھیں بھی بھیگی ہوئی تھیں، مسکراتے ہوئے بولیں، "قدوس صاحب! بس بھی کریں، بچے اتنا لمبا سفر کر کے آئے ہیں، انہیں بیٹھنے تو دیں۔ کھانے کا انتظام ہے، مانی! انہیں ان کے کمرے دکھا دو تاکہ یہ تازہ دم ہو کر کھانا کھا سکیں۔" دوسری طرف انہوں نے خانساماں کو اشارہ کیا کہ کھانا گرم کر کے میز پر لگائے۔

زریف نے جیسے ہی اپنے پرانے کمرے کا دروازہ کھولا، یادوں کا ایک طوفان اسے اپنی لپیٹ میں لے گیا۔ دیوار پر لگی اپنی جوانی کی تصویر دیکھ کر وہ ٹھٹک گیا۔ وہ تصویر اس وقت کی تھی جب وہ بے فکر اور جوان تھا۔ آج بیس سال بعد اس کمرے میں قدم رکھتے ہوئے وہ سوچ رہا تھا کہ انسان کو کس بات پر غرور ہوتا ہے؟ سب کچھ تو بدل جاتا ہے۔ جب گیا تھا تو بالوں میں سیاہی تھی، آج سفیدی جھانک رہی تھی۔ مگر اپنے گھر کی خوشبو اور اپنے دیس کے رنگوں کی بات ہی الگ تھی۔ بچوں کو اپنا کمرہ بہت پسند آیا۔ وہ خوشی سے اچھلتے ہوئے پوچھنے لگے، "مانی چچو! کیا یہ کمرہ آپ نے ہمارے لیے سجایا ہے؟" مانی نے فخر سے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "ہاں! یہ ساری ارینجمنٹ اور سجاوٹ میری پسند کی ہے۔ آپ کو اچھی لگی تو میری محنت وصول ہوگئی۔" اتنی دیر میں ملازم سامان لے آیا تو مانی نے ایک طرف رکھوایا اور بچوں سے کہا، "جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر باہر آ جاؤ، میاں جی ڈائننگ ٹیبل پر انتظار کر رہے ہیں۔"

میاں جی نے زرمینہ اور نسرین کو بھی فون کر دیا تھا، وہ دونوں بہنیں بھی اپنے بھائی کی آمد کی خبر سن کر بھاگی چلی آئی تھیں۔ اپنے بھائی اور بھابھی سے مل کر ان کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔ فضا اپنے سسرالیوں سے مل کر بہت خوش ہوئی اور دل ہی دل میں سوچنے لگی کہ وہ اور زریف کتنا ڈرتے تھے کہ پتہ نہیں پاکستان میں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ اسے خوف تھا کہ کہیں زریف کے والدین اسے اس سے الگ نہ کر دیں، لیکن یہاں تو محبت کی برسات ہو رہی تھی۔ دونوں بہنوں سے مل کر زریف اپنے بہنوئیوں کے بارے میں پوچھنے لگا تو دونوں نے بتایا کہ وہ اکیلی آئی ہیں، ان سے رہا نہیں گیا اور وہ ان کے ساتھ بھی آئیں گی جب وہ اپنے آفس سے فارغ ہوں گے۔

کھانے کی میز پر جب سب اکٹھے ہوئے تو میاں جی کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو آ گئے۔ "آج میرا مکان پھر سے گھر بن گیا ہے، ہرا بھرا ہو گیا ہے،" انہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔ کھانے کے بعد بچے لان میں چلے گئے اور ریجا بھی ان کے پیچھے آگئی۔ کچھ دیر بعد مانی بھی وہاں پہنچ گیا۔ "ریجا! مجھے انیل کی کمی محسوس ہو رہی ہے،" مانی نے شرارت سے کہا۔ "پر آپ فکر نہ کریں، میں زریف ماموں سے کہوں گا کہ آپ کی انیل سے بات کروائیں۔" ریجا شرما کر مسکرائی تو مانی بولا، "مجھے پتہ ہے آپ انیل کو پسند کرتی ہو، اس نے بتایا نہیں پر مجھے اندازہ ہے۔ محبت چیز ہی ایسی ہے، چھپتی نہیں۔" ریجا نے مانی کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا، "مانی! کیا آپ کو کبھی محبت ہوئی؟" مانی کی آنکھوں میں ایک پل کے لیے اداسی آئی۔ "مجھ سے کوئی کیوں محبت کرے گا ریجا؟ محبت تو امیر اور پیسے والے لوگ کرتے ہیں۔" ریجا نے مانی کی آنکھوں میں اداسی دیکھی، "نانو اور نانا میاں تو آپ سے بہت پیار کرتے ہیں!" مانی بولا، "ان کے پیار پر ہی تو زندہ ہوں، زریف ماموں اور سب نے مجھے بہت پیار دیا، کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ میں اس فیملی کا حصہ نہیں ہوں۔"

انیل جب گھر پہنچا تو اسے خاموشی محسوس ہوئی۔ اسے ملازمہ سے پتہ چلا کہ سب نانا میاں کے گھر گئے ہیں۔ وہ فوراً گاڑی موڑ کر وہاں پہنچ گیا۔ لان میں اسے ریجا نظر آئی۔ ریجا اسے دیکھ کر کھل اٹھی۔ انیل نے ریجا کا ہاتھ پکڑ کر کہا، "میرے ساتھ اندر آؤ۔" ریجا کا دل زور سے دھڑکا، اسے لگا کاش یہ ہاتھ ہمیشہ کے لیے اس کے ہاتھ میں رہے اور وہ زندگی کا سفر یوں ہی طے کریں۔ اندر پہنچ کر انیل نے سب کو سلام کیا۔ زریف نے اسے دیکھتے ہی کہا، "یہ تو بالکل نسرین باجی کی کاپی ہے!" سب ہنس پڑے۔ انیل نے اپنی ماں کو برسوں بعد یوں کھل کر ہنستے دیکھا تھا۔

شام ڈھلے نسرین اور زرمیننے نے واپسی کی تیاری کی۔ میاں جی نے اعلان کیا، "پرسوں میں ایک بڑی دعوت رکھ رہا ہوں، خاندان کے سب لوگ مدعو ہوں گے۔ میں رحمان سے خود بات کر لوں گا۔" نسرین تھوڑی پریشان تھی کیونکہ رمشا کے معاملے پر رحمان کا موڈ کچھ ٹھیک نہیں تھا، اس لیے اس نے گھر جانے میں ہی عافیت سمجھی۔ زرمیننے نے ریجا کو روکنے کی کوشش کی مگر ریجا نے کشمیر ٹرپ کی شاپنگ کا بہانہ بنا کر بات ٹالی، حالانکہ سراج صاحب سے ابھی اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ میاں جی انیل اور زریف کو باتیں کرتے دیکھ کر سوچ رہے تھے کہ اب وقت آگیا ہے کہ انیل اور ریجا کے رشتے کی بات کی جائے تاکہ پرانی دشمنیاں ختم ہوں۔

دعوت میں جب فضا، زریف کی بیوی کے روپ میں رحمان کو نظر آئے گی تو کیا رحمان خود کو روک پائے گا؟ کیا ریجا اپنی پھوپھو سے پوچھے گی اس تصویر کے بارے میں؟ کیا ریجا اور انیل ایک ہو پائیں گے؟ اس دعوت میں ایسا کیا اعلان ہونے والا تھا؟ میاں جی اسی دعوت میں اپنی وصیت کا بھی اعلان کریں گے۔ یہ سب دیکھنے کے لیے جڑے رہیے، دیکھیے "میرا ماہی" کی اگلی قسط کل رات میرے بلاگ پہ۔

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں اس ناول "میرا ماہی" کی تمام تحریر، کردار اور پلاٹ مصنفہ عشرت زاہد کی تخلیق ہیں۔ مصنفہ کی اجازت کے بغیر اس تحریر کا کوئی بھی حصہ کسی دوسرے ویب پیج، سوشل میڈیا پلیٹ فارم یا کسی بھی صورت میں کاپی یا شائع کرنا قانونی جرم ہے۔

ڈسکلیمر : یہ ایک افسانوی تحریر ہے جس کے تمام کردار اور واقعات فرضی ہیں۔ اس کا مقصد کسی بھی فردِ واحد، ادارے، یا کسی بھی طبقہ فکر کی دل آزاری کرنا ہرگز نہیں ہے۔ کسی بھی نام یا واقعے کی مماثلت محض اتفاقیہ سمجھی جائے۔


Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22