ناول: میرا ماہی (قسط نمبر 1)
ناول: میرا ماہی (قسط نمبر 1)
تحریر: عشرت زاہد
جامعہ کے فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ کی فضا ہمیشہ کی طرح رنگوں اور کینوس کی خوشبو سے مہک رہی تھی، لیکن ریجا کا دل آج ان رنگوں میں نہیں لگ رہا تھا۔ "سمرا! چلیں؟" ریجا نے اپنی دوست کو مخاطب کیا، جس کا ہاتھ ابھی بھی ایک کینوس پر فنکارانہ مہارت سے چل رہا تھا۔ ابھی سمرا جواب دینے ہی لگی تھی کہ روہن بھی وہاں آن پہنچا۔ "کیا ہو رہا ہے بھئی؟" سمرا نے مسکراتے ہوئے اپنی چیزیں سمیٹیں، کینوس اٹھایا اور روہن سے باتیں کرتی باہر کی طرف بڑھنے لگی۔ ریجا خاموشی سے ان کے ساتھ چل رہی تھی، مگر اس کی توجہ باتوں پر نہیں بلکہ اپنے بیگ میں رکھے موبائل فون پر تھی۔ اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ واٹس ایپ آن کیا، اس امید پر کہ شاید 'انیل' کا کوئی پیغام آیا ہو، مگر وہاں کوئی پیغام موجود نہ تھا۔
وہ تینوں اب یونیورسٹی کے 'مین کیفے' کی طرف آ گئے تھے، جہاں مختلف ڈیپارٹمنٹس کے طلبہ کا میلہ لگا رہتا تھا۔ ریجا نے ایک گہری سانس لی اور خالی میز دیکھ کر بیٹھ گئی۔ ابھی وہ بیٹھے ہی تھے کہ انیل اپنے دوستوں کے ساتھ کیفے میں داخل ہوا۔ ریجا نے جان بوجھ کر ایسی جگہ کا انتخاب کیا تھا جہاں سے سامنے سے آنے والا ہر شخص نظر آ سکے۔ مگر انیل اپنی ہی دھن میں مگن تھا، اس کی نظر ایک لمحے کے لیے بھی ریجا کی میز کی طرف نہیں اٹھی۔ ریجا کے دل میں ایک ٹیس سی اٹی، اسے لگا جیسے انیل نے اسے دیکھ کر بھی نظر انداز کر دیا ہے۔ اسے کیا معلوم تھا کہ اس لاپرواہی کے پیچھے کتنا خوف چھپا ہے۔
جب میز پر گرما گرم سموسے اور دہی بڑے آ گئے، تو روہن نے ریجا کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھ کر پوچھا، "کوئی پریشانی ہے ریجا؟" ریجا نے بات ٹال دی، مگر سمرا سب جانتی تھی۔ "میں جانتی ہوں! اجی انیل صاحب نے آج اسے دیکھا تک نہیں، اب میڈم سمجھ رہی ہیں کہ انہیں اگنور کیا گیا ہے۔" سمرا نے بات جاری رکھی، "ارے بھئی، وہ اپنے باپ سے کتنا ڈرتا ہے تم جانتے ہو۔ یہ دونوں کزنز تو ہیں، پر ان کے والدین کی آپس میں بنتی کہاں ہے؟" روہن نے ہنستے ہوئے مشورہ دیا، "تو ان دونوں کی شادی کروا دیتے ہیں، لڑائی خود ہی ختم ہو جائے گی۔" سمرا نے نفی میں سر ہلایا، "ممکن ہی نہیں! میں ابھی نانو کے گھر گئی تھی، وہاں جو بحث میں نے دیکھی... توبہ! اتنے میچور ہونے کے باوجود وہ بچوں کی طرح لڑ رہے تھے۔ وہ تو نانا اور نانو نے خاموش کروا دیا ورنہ سلمان بھائی کی منگنی کی تقریب کا مزہ ہی کرکرا ہو جاتا۔"
دوسری طرف، سراج صاحب اور ان کی اہلی زرمینہ لاؤنج میں بیٹھے گفتگو کر رہے تھے۔ سراج صاحب کے ماتھے پر فکر کی لکیریں واضح تھیں۔ "ریجا کے دو سمسٹر باقی ہیں۔ زرمینہ! میں چاہتا ہوں کہ اب وہ گھر داری پر بھی توجہ دے۔ میری طبیعت کا کیا بھروسہ؟ میں چاہتا ہوں کہ اس کی شادی جلد از جلد کسی اچھی جگہ کر دوں۔" سراج صاحب نے توقف کیا اور پھر کینہ پرور لہجے میں بولے، "آخر رحمان کو بھی تو دکھانا ہے کہ میں نے اپنی بیٹی کی کتنی اونچی جگہ شادی کی ہے۔" زرمینہ نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔ وہ اپنے بہنوئی رحمان کے بارے میں یہ باتیں ہزار بار سن چکی تھیں، مگر سراج کے دل سے وہ گرہ کبھی نہ کھل سکی جو برسوں پہلے ایک معمولی بات پر پڑی تھی۔ بات صرف اتنی سی تھی کہ شادی کے کارڈ پر 'بڑا بھائی' ہونے کے ناطے سراج اپنا نام پہلے لکھوانا چاہتے تھے، جبکہ شادی رحمان کی بیوی نسرین کی پہلے ہوئی تھی۔
رحمان صاحب بھی کسی سے کم نہ تھے، وہ ہر وقت اسی موڈ میں رہتے تھے کہ نسرین کو نیچا دکھا سکیں کہ 'دیکھ لو کرتوت'۔ دونوں پڑھے لکھے گھرانے تھے، مگر ضد نے انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا تھا۔ حالانکہ ان کی بیویاں سگی بہنیں تھیں اور بچے بھی ایک دوسرے سے چھپ چھپا کر ملنا چاہتے تھے۔ یہ بچے صرف 'میاں قدوس' صاحب کے گھر ہی مل پاتے تھے، جہاں میاں جی اور روشن آرا بیگم کا رعب ایسا تھا کہ کسی کی مجال نہ تھی کہ زبان کھولے۔ "جب تک میں زندہ ہوں، اتوار کو سب یہاں اکٹھے ہوں گے، میرے مرنے کے بعد جو مرضی کرنا!" میاں جی کی یہ ایک بات سب کو خاموش کروانے کے لیے کافی تھی۔
اسی گھر میں 'مانی' بھی رہتا تھا، جو میاں قدوس کے ایک عزیز کا نواسہ تھا۔ جس کے سر سے بچپن میں ہی والدین کا سایہ اٹھ گیا تھا۔ وہ اس گھر کی رونق تھا اور اپنی باتوں سے سب کا دل بہلاتا تھا۔ میاں جی کا اپنا بیٹا ظریف تو بزنس کے سلسلے میں ملک سے باہر گیا اور پھر وہیں کا ہو کر رہ گیا؛ اس نے وہیں اپنی پسند سے شادی کر لی اور اپنی الگ زندگی بسا لی، جس کے بعد وہ پلٹ کر پاکستان نہ آیا۔ اولاد کی کمی کو مانی نے اپنے ہنسی مذاق سے پورا کرنے کی کوشش کی تھی، مگر بیٹے کی جدائی کا دکھ میاں جی کسی کو بتاتے نہیں تھے۔ اب کہانی میں ایک نیا موڑ آنے والا تھا، کیونکہ 20 سال بعد ظریف ماموں کی واپسی ہو رہی تھی۔ ایک ایسی واپسی جو بہت سے پرانے رازوں سے پردہ اٹھانے والی تھی۔ رحمان صاحب، جو سراج سے نفرت میں مصروف تھے، انہیں کیا معلوم تھا کہ ظریف کی بیوی کی صورت میں ان کی 'پرانی محبت' ان کے سامنے آنے والی ہے۔ وہی کلاس فیلو جو برسوں پہلے بنا بتائے ملک چھوڑ گئی تھی۔ اب جب نئی اور پرانی نسل کا ٹکراؤ ہوگا، تو کئی نئے طوفان جنم لیں گے۔
(جاری ہے...)
ڈس کلیمر (Disclaimer)
یہ کہانی ایک افسانوی تحریر ہے جس کے تمام کردار اور واقعات فرضی ہیں۔ اس کا کسی بھی زندہ یا مردہ شخص یا حقیقی واقعے سے تعلق محض اتفاقیہ ہوگا کیونکہ یہ صرف تفریح اور اصلاح کے مقصد سے لکھی گئی ہے۔
جملہ حقوق محفوظ (Copyrights)
تمام جملہ حقوق بحق مصنفہ 'عشرت زاہد' محفوظ ہیں۔ اس تحریر کو مصنفہ کی اجازت کے بغیر کسی بھی ویب سائٹ، سوشل میڈیا پیج یا یوٹیوب چینل پر شیئر کرنا قانونی جرم ہے۔
Comments
Post a Comment