میرا ماہی - قسط نمبر 10

 

میرا ماہی - قسط نمبر 10

فضا کا بی پی ایک دم لو ہو گیا، جس پر مانی جلدی سے جوس لے آیا۔ فضا کو کرسی پر بٹھایا گیا۔ فضا کی طبیعت اچانک خراب ہونے سے سب کی توجہ رحمان صاحب سے ہٹ گئی۔ ظریف نے پاس رکھی کرسی کو مزید نزدیک کیا اور پریشانی سے پوچھا کہ فضا کیا تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں؟ تب فضا نے مدھم آواز میں کہا کہ میں صحیح ہوں، شاید آج بہت زیادہ تھک گئی تھی۔ تب میاں جی بھی فضا کے پاس آئے اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے، "میری بیٹی پہ دعا پڑھ کے پھونکو، اتنی پیاری لگ رہی ہے، اسے کسی کی نظر لگ گئی ہے۔" تب روشن آراء فضا پر دعائیں پڑھ کر دم کرنے لگیں۔

دوسری طرف نسرین نے انیل کو اکیلے آتے دیکھا تو پوچھا کہ رحمان کہاں رہ گئے؟ تب انیل نے بتایا کہ بابا تو چلے گئے۔ نسرین کو سمجھ نہ آیا کہ اب وہ اس بات کو کیسے سنبھالے، رحمان ہمیشہ کچھ نہ کچھ ایسا مسئلہ کھڑا کر دیتے ہیں کہ جس سے محفل کا مزہ کرکرا ہو جاتا ہے۔ وہ بھی اس موقع پر جب اس کے بھائی کے آنے کی خوشی میں اتنی بڑی دعوت رکھی تھی؛ اگر نہیں آنا تھا تو پہلے بتا دیتے، یوں بھائی بھابھی کے سامنے اسے شرمندہ تو نہ ہونا پڑتا۔ اتنے میں زرمینہ بھی پاس آگئی اور پوچھا کہ سب خیریت ہے؟ تب نسرین نے جھنجھلا کر کہا کہ رحمان نے پھر تماشا کیا ہے، آئے اور گیٹ سے ہی واپس ہو گئے۔ زرمینہ نے سن کر نسرین کو تسلی دی کہ یہ کون سا پہلی بار ہوا ہے، وہ ہر دفعہ ہی ایسا کرتے ہیں۔

انیل کی نگاہیں ریجا کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ جب ریجا اسے باہر لان میں نظر نہ آئی تو وہ اسے دیکھنے اندر آیا۔ وہاں اسے مانی مل گیا، مانی نے شرارت سے مسکراتے ہوئے کہا، "جسے آپ کی نظریں ڈھونڈ رہی ہیں وہ فضا ممانی کے پاس ہیں۔ ان کی طبیعت خراب ہو گئی تھی تو انہیں ڈرائنگ روم میں لایا گیا ہے، وہاں اور بھی بزرگ خواتین بیٹھی ہیں، ذرا دھیان سے جائیے گا۔" تبھی انیل نے مانی کے گلے میں ہاتھ ڈالا اور بولا، "تمہیں کیسے پتہ لگ جاتا ہے کہ میں ریجا کو ہی ڈھونڈ رہا ہوں؟" مانی نے جواب دیا، "آپ کی آنکھیں بولتی ہیں، آپ کو منہ سے کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔"

انیل اداسی سے بولا، "ایسے میرے بابا کیوں نہیں دیکھ سکتے؟ انہیں کیوں نہیں میری محبت سمجھ آتی؟ کیا کروں مانی؟" تب مانی نے کہا کہ آپ کے لیے کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک دم سے انیل نے مانی کو چھوڑا اور پوچھا، "مانی! پھر بتاؤ کیا کہہ رہے تھے؟" مانی نے بتایا کہ میاں جی ظریف ماموں سے بات کر رہے تھے کہ "ظریف! یہ کام تم نے کرنا ہے، انیل اور ریجا کو ایک کرنا ہے، تو میری بیٹیاں بھی آپس میں ایک ہو جائیں گی اور جو لڑائی ان کے شوہروں نے ڈالی ہوئی ہے اسے اب ختم ہو جانا چاہیے۔" مانی نے کہا، "یہ باتیں میں نے سنی تھیں تو آپ کو بتا دیں تاکہ آپ کے دل کو تسلی ہو۔" یہ سن کر انیل نے مانی کو گلے لگا لیا، "اوہ مانی! تم سچ میں بہت اچھے ہو، میں اتنا پریشان تھا لیکن تم نے میری آدھی پریشانی دور کر دی۔" وہ اور مانی دونوں باہر آگئے، انیل اب خود کو بہت ہلکا محسوس کر رہا تھا۔

ادھر رحمان کے سر میں شدید درد ہو رہا تھا، اس نے ڈرائیور سے کہا کہ گاڑی کلینک کی طرف لے چلو، میری طبیعت عجیب ہو رہی ہے۔ یہ کلینک ان کے فیملی فزیشن عثمان کا تھا۔ چیک اپ کے بعد عثمان نے پوچھا کہ کس بات کا اسٹریس لیا ہے تم نے؟ تمہارا بی پی کافی ہائی ہے، تمہیں میڈیسن کھانی ہوگی اور جب بی پی نارمل ہو جائے گا تب ہی میں تمہیں گھر جانے کی اجازت دوں گا۔ عثمان نے کہا، "میں انیل کو فون کرتا ہوں۔" رحمان نے فوراً منع کیا، "نہیں! باقی فیملی دعوت پر ہے، سالوں بعد زرمینہ کا بھائی آیا ہے اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بچے بھی آئے ہیں۔ اس کی بیوی کو دیکھا تو بس طبیعت خراب ہو گئی۔"

عثمان نے حیرت سے پوچھا، "ایسا کیا ہوا؟ مجھ سے کھل کے کہو، میں ڈاکٹر کے ساتھ تمہارا دوست بھی ہوں۔" تب رحمان نے اعتراف کیا، "یونیورسٹی کے زمانے میں جس لڑکی سے میں شادی کرنا چاہتا تھا، وہ اچانک یوکے شفٹ ہو گئی تھی۔ اس کے لیے میں بہت تڑپا تھا، بڑی مشکل سے دل پر پتھر رکھ کے نسرین سے شادی کی تھی۔ آج وہ سامنے آئی تو دل پہ قابو نہیں رہا۔ وہ میرے سالے کی بیوی کے روپ میں آئی ہے... فضا کو دیکھ کر بس برداشت نہیں ہوا۔" عثمان نے سنجیدگی سے کہا، "رحمان! اب تم عمر کے اس حصے میں ہو کہ ذرا سا دباؤ دل پہ لیا تو ہارٹ کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ خود کو سنبھالو اور اس بات کا ذکر کسی سے مت کرنا ورنہ تم جانتے ہو قیامت آ سکتی ہے۔" رحمان نے تائید میں سر ہلایا۔ عثمان نے کہا، "خیر، میں تمہاری دوا لکھ رہا ہوں جو تم روزانہ لو گے، میں انیل کو بھی فون کر کے اس کا پوچھوں گا۔"

باہر سراج میاں جی کے پاس بیٹھا تھا اور ظریف بھی وہیں باقی خاندان کے مردوں کے ساتھ تھا۔ اتنے میں سرفراز نے پوچھا کہ سراج! آپ جو زمین لے رہے تھے اس کا کیا بنا؟ سراج نے جواب دیا کہ وہ ڈیل نہیں ہو سکی، وہ رحمان نے لے لی ہے۔ وہ اس کی فیکٹری کے سامنے تھی اور رحمان نے اس کی ڈبل قیمت دے کر وہ ڈیل کر لی ہے۔ تب ظریف نے کہا کہ سراج آپ کو اور اچھی جگہ مل جائے گی، ویسے بھی ایک اور لوکیشن کا میں آپ کو بتاؤں گا، میرا بھی ارادہ ہے۔ سراج نے ظریف سے کہا کہ چلو مل کے وزٹ کریں گے۔ ان دونوں کی دوستانہ باتوں پر میاں جی کو ڈھارس ہوئی کہ اس بار سراج نے کوئی ہنگامہ نہیں کیا اور کسی بات کا ایشو نہیں بنایا۔ میاں جی نے مانی سے پوچھا کہ رحمان باہر ہی ہے؟ تب مانی نے بتایا کہ ان کی طبیعت خراب ہو گئی تھی تو وہ ڈرائیور کے ساتھ چلے گئے۔ سراج نے سکون کا سانس لیا کیونکہ رحمان کی موجودگی میں وہ کسی سے کھل کر بات نہیں کر سکتا تھا، اسے یوں فیملی کے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کا موقع کم ہی ملتا تھا۔

ریجا نے باہر آنے کا سوچا تو اس کی کزن فرح بھی ساتھ آگئی۔ فرح ان کی مما کے ریلیٹو کی بیٹی تھی۔ دونوں لان میں واک کرنے لگیں، ساتھ ہی باربی کیو کی سیٹنگ ہو رہی تھی اور تھوڑی دیر میں کھانا کھلنے والا تھا۔ پٹورے، باربی کیو، پلاؤ، چکن تکہ، سیخ کباب، گاجر کا حلوہ اور لبِ شیریں جیسی کافی چیزوں کا انتظام تھا۔ یہ ساری تفصیلات اسے ظریف ماموں کے بچے آ کر دے رہے تھے کیونکہ ان کے لیے یہ ساری ڈشز نئی تھیں اور وہ سب یہ پہلی بار کھانے والے تھے۔

فرح کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے ریجا کو مانی کے ساتھ انیل نظر آیا۔ مانی نے انیل سے کہا کہ موقع اچھا ہے جا کر بات کر لیں، تو انیل مسکراتا ہوا ریجا کے پاس آگیا۔ فرح انیل کی خیریت پوچھنے لگی، اتنے میں مانی بھی وہاں آگیا اور کہا، "فرح جی! آپ کو تو اماں جی بلا رہی ہیں۔" یوں مانی نے دونوں کو ملنے کا موقع دیا جس پر انیل نے مانی کو تشکر بھری نظروں سے دیکھا۔

"ریجا کیسی ہو؟" انیل نے پوچھا۔ ریجا نے شرارت سے کہا، "کیسی لگ رہی ہوں؟" تب انیل نے اسے چھیڑتے ہوئے بتایا کہ "ایک دم چڑیل لگ رہی ہو۔" ریجا نے مصنوعی خفگی کا منہ بنایا اور بولی، "تو پھر میرے پاس کیا کر رہے ہیں؟" انیل ہنسنے لگا، "مذاق کر رہا تھا، سیریس کیوں ہو رہی ہو؟ بہت اچھی لگ رہی ہو۔ تبھی تو مانی سے کہا کہ ملوا دے۔ میں اندر آیا تو آپ جناب بڑی خواتین کے بیچ بیٹھی ہوئی تھیں۔" ریجا نے کہا، "میں نے دیکھا تھا آپ اور مانی کچھ باتیں کر رہے تھے۔"

اچانک ریجا نے دیکھا کہ اس کے بابا ظریف ماموں کے ساتھ باہر کی طرف آ رہے ہیں۔ ریجا نے جلدی سے انیل کو جانے کا کہا، تو انیل نا چاہتے ہوئے بھی دوسری طرف چلا گیا۔ سراج صاحب باتیں کرتے ہوئے اسی سائیڈ پر آگئے۔ ظریف نے ریجا سے اس کی طبیعت پوچھی اور پھر سب کو کھانے کے لیے بلانے کو کہا کہ اندر سے ساری لیڈیز کو بلوا لو، باہر لان میں کھانا ریڈی ہے۔

فضا ممانی اور باقی سب کو بلانے ریجا اندر گئی تو لاؤنج میں کسی چیز سے اس کا پاؤں اٹک گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ زمین پر گرتی، انیل نے (جو وہیں کہیں موجود تھا) اسے اپنی باہوں میں تھام لیا۔ دونوں کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اتنے میں کسی کے ہنسنے کی آواز آئی، دیکھا تو سامنے ظریف ماموں کے بچے کھڑے تھے۔ ریجا شرما کر فورا ہٹی اور اندر ڈرائنگ روم کی طرف چلی گئی۔

(جاری ہے...)

قانونی انتباہ اور کاپی رائٹ

اعلامیہ: یہ کہانی مکمل طور پر ایک افسانوی تخلیق ہے۔ اس کے تمام کردار، نام اور واقعات مصنفہ کے تخیل کا نتیجہ ہیں۔ کسی بھی حقیقی شخص یا واقعے سے مماثلت محض اتفاقیہ تصور کی جائے گی۔

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026 عشرت زاہد

اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو مصنفہ کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی شکل میں (بشمول فوٹو کاپی، ریکارڈنگ، سوشل میڈیا پر کاپی پیسٹ، یا کسی دوسرے الیکٹرانک طریقے سے) دوبارہ شائع، تقسیم یا منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ کسی بھی قسم کی غیر قانونی نقل یا چوری کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22