میرا ماہی - قسط 11

میرا ماہی

 - قسط 11

کلینک کا کمرہ ایک عجیب سی خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا، مگر رحمان کے سینے کے اندر ایک طوفان سب کچھ برباد کر دے گا۔۔ ڈاکٹر عثمان، جو رحمان کے دیرینہ دوست اور فیملی ڈاکٹر بھی تھے، اس کی حالت دیکھ کر اسے اکیلا چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔ "رحمان! تم اس حالت میں گاڑی نہیں چلا سکتے۔ تمہارے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور رنگ فق ہو رہا ہے،" عثمان نے فکر مندی سے اسے ٹوکا۔ رحمان نے کچھ کہنا چاہا، احتجاج کرنا چاہا، مگر اس کی آواز نے ساتھ نہ دیا۔ عثمان نے اسے بولنے کا موقع دیے بغیر فون اٹھایا اور انیل کا نمبر ملا دیا۔

"انیل بیٹا! ذرا کلینک آ جاؤ، تمہارے پاپا کی طبیعت کچھ بوجھل سی ہے، انہیں گھر لے جاؤ۔" عثمان کی آواز میں بلا کی سنجیدگی تھی۔ دوسری طرف انیل، جو اپنی ماں کے ساتھ میاں جی کے گھر سے واپسی کی تیاری کر رہا تھا، ایک دم پریشان ہو گیا۔ اس نے فوراً نسرین کو مطلع کیا، "مما! پاپا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، عثمان انکل کا فون آیا ہے۔ ہمیں گھر جاتے ہوئے کلینک سے پاپا کو ساتھ لینا ہوگا۔" نسرین کے ماتھے پر فکر کی لکیریں گہری ہو گئیں، وہ خاموشی سے گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔ اس کے ذہن میں ہزاروں سوالات تھے کہ ابھی تو وہ بالکل ٹھیک تھے، پھر اچانک کلینک میں ایسا کیا ہوا؟

دوسری طرف، میاں جی کے گھر کے پرسکون ماحول میں فضا کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب تھیں۔ رحمان کا ذکر سن کر وہ ایک عجیب سی پریشانی میں گھیر گئی تھی۔ وہ کھڑکی کے پاس کھڑی باہر لان کی طرف دیکھ رہی تھی مگر اس کی نظریں ماضی کے جھروکوں میں کھوئی ہوئی تھیں۔ اس کی زندگی ظریف کے ساتھ بہت خوشگوار گزر رہی تھی، اس نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔ فضا کے لیے رحمان کبھی بھی "محبت" نہیں رہا تھا۔ وہ تو اسے محض ایک اچھا دوست اور کلاس فیلو سمجھتی تھی۔ اسے یاد آیا کہ رحمان کی چاہت ہمیشہ یکطرفہ تھی، وہ اس کے پیچھے پاگل رہتا تھا۔ رحمان اکثر اصرار کرتا تھا، "فضا! میں کب اپنی فیملی کو تمہارے گھر بھیجوں؟ مجھے تمہارے جواب کا انتظار ہے۔" مگر فضا ہمیشہ خاموش رہتی یا بات ٹال دیتی۔ اس نے کبھی رحمان کو کوئی امید نہیں دلائی تھی، بلکہ ان ہی دنوں اس کے والد نے برطانیہ کے لیے اپلائی کر رکھا تھا۔ جب ان کے ویزے لگ گئے اور پورے خاندان نے لندن شفٹ ہونے کا فیصلہ کر لیا، تو فضا نے اس بات کا ذکر رحمان سے کرنا بھی ضروری نہ سمجھا، کیونکہ اس کی نظر میں رحمان کے ساتھ اس کا رشتہ صرف دوستی تک محدود تھا اور وہ ایک نئی زندگی کی طرف قدم بڑھا رہی تھی۔

ظریف جب مہمانوں سے فارغ ہو کر کمرے میں آیا تو فضا کو کھڑکی کے پاس کھڑا دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ "تم سوئی نہیں اب تک؟ میں کب سے تمہیں ڈھونڈ رہا تھا،" ظریف نے قریب آکر محبت سے پوچھا۔ فضا نے مڑ کر دیکھا اور دھیمی آواز میں کہا، "بس آپ کا انتظار کر رہی تھی۔" ظریف نے اس کے مرجھائے ہوئے چہرے کا جائزہ لیا، "تم پریشان ہو؟ کیا بات ہے؟ صبح تک تو تم بہت خوش تھیں، پھر اچانک یہ خاموشی؟ کسی نے کچھ کہا ہے کیا؟"

فضا نے مہارت سے بات سنبھالی، "نہیں، کچھ نہیں ہوا۔ بس تھکاوٹ کی وجہ سے ایسا لگ رہا ہے۔ آپ کے گھر والے بہت اچھے ہیں، سب نے مجھے بہت پیار دیا ہے۔" ظریف چینج کرنے چلا گیا، مگر جب واپس آیا تو فضا پھر سوچوں میں گم تھی۔ "کچھ بات تو ہے فضا! تم کھوئی کھوئی سی ہو۔" فضا نے ہمت جمع کر کے پوچھا، "آپ کی بہنیں بہت اچھی ہیں، مگر ان کے شوہر ان کے ساتھ کچھ 'میچ' نہیں کرتے؟" ظریف نے ایک سرد آہ بھری، "یہ سب بابا کی پسند کے فیصلے تھے۔ میں نے اپنی پسند کی، تو تم فرق دیکھ لو۔ میری بہنیں خوش نہیں ہیں، بس گزارا کر رہی ہیں۔ سراج بھائی تو آنے بھی نہیں دیتے تھے، اب تو پھر بھی ان میں بدلاؤ آیا ہے۔" فضا نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا، "نسرین آپی کے شوہر رحمان صاحب۔۔۔ وہ کوئی رشتہ دار ہیں؟"

ظریف نے بتایا، "رحمان بھائی کے والد میاں جی کے گہرے دوست تھے، اور سراج بھائی کے والد سے بھی ان کی دوستی تھی۔ یہ رشتے دوستی کی بنیاد پر ہی ہوئے تھے۔ رحمان بھائی سے تمہاری ملاقات صحیح سے ہو نہیں سکی، وہ طبیعت کی خرابی کی وجہ سے گیٹ سے ہی چلے گئے تھے۔ خیر، ہم کل ان کے گھر خیریت پوچھنے جائیں گے۔" فضا کا دل ڈوبنے لگا، "ہم ان کے گھر جائیں گے؟ میرا وہاں کیا کام؟" ظریف نے مسکرا کر کہا، "تم میرے ساتھ جاؤ گی، بیمار کی عیادت کرنا اچھا عمل ہے اور نسرین آپا کی وجہ سے ہمارا جانا بنتا ہے۔" فضا خاموش ہو گئی، مگر اس کے اندر ایک خوف بیٹھ گیا تھا۔

نسرین اور انیل جب میاں جی کے گھر سے نکلنے لگے تو میاں جی نے انہیں خاص طور پر روکا۔ "نسرین! رحمان کی طبیعت کی وجہ سے میری وصیت والی بات ادھوری رہ گئی، اب میں ویک اینڈ پر تم دونوں بہنوں کو دوبارہ بلاؤں گا۔ اس بار اپنے شوہروں کو بھی بتا دینا کہ میاں جی نے وصیت پر بات کرنی ہے۔ میں نے وکیل کو اگلے ہفتے کا کہہ دیا ہے، تب تک سب سیٹ ہو جائے گا۔" نسرین نے اثبات میں سر ہلایا اور مین گیٹ کی طرف بڑھ گئی جہاں انیل گاڑی میں اس کا منتظر تھا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی انیل نے پوچھا، "مما! آپ رک کیوں گئی تھیں؟" نسرین نے بتایا، "وہ وصیت کا کہہ رہے تھے، رحمان کی طبیعت کی وجہ سے آج کی ملاقات ملتوی ہو گئی ہے، اب اگلے ویک اینڈ پر بلایا ہے۔" انیل نے شرارت سے کہا، "مما! کیا کچھ آپ کے نام ہونے والا ہے؟ بس یہ حویلی مت لیجیے گا، یہ تھوڑی پرانی ہے۔ وہ والا باغ لے لیجیے گا جہاں سے موسم کے پھل آتے ہیں۔" نسرین نے اسے گھورا، "میں کیوں مانگنے لگی کچھ؟" انیل ہنس پڑا، "مما مذاق کر رہا تھا۔ خیر، نانا میاں کی پراپرٹی ہے جسے چاہیں دیں، بس مجھے 'ریجا' دے دیں۔" نسرین مسکرا دی، "وہ کوئی جائیداد نہیں ہے انیل! اور تمہارے بابا اور سراج بھائی کبھی ایسا نہیں ہونے دیں گے۔" انیل کا لہجہ سنجیدہ ہو گیا، "میں بھی ان ہی کا بیٹا ہوں۔ شادی تو میں ریجا سے ہی کروں گا۔ میں رمشا کو پسند نہیں کرتا، اس میں پتہ نہیں کس بات کا غرور ہے، میری انڈرسٹینڈنگ ریجا کے ساتھ بہت اچھی ہے۔ آپ بابا کو سمجھاتی کیوں نہیں؟" نسرین نے بات کاٹتے ہوئے کہا، "کلینک آ گیا ہے، اب خاموش رہو اور جا کر بابا کو لے کر آؤ۔"

کلینک کے اندر ڈاکٹر عثمان نے انیل کو دیکھتے ہی خیریت پوچھی اور پھر تاکید کی، "یہ ادویات وقت پر دینا، مسئلہ بڑھ سکتا ہے۔ رحمان نے بہت زیادہ اسٹریس لیا ہے جس کی وجہ سے یہ حال ہوا۔" انیل نے خاموشی سے دوائیاں لیں اور رحمان صاحب کا ہاتھ تھام کر انہیں گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بٹھایا۔ نسرین پہلے ہی پچھلی نشست پر منتقل ہو چکی تھی۔ گھر تک کا راستہ خاموشی سے کٹ گیا۔ گھر پہنچ کر انیل نے بابا کو ان کے کمرے تک چھوڑا اور خود اپنے کمرے میں چلا گیا، مگر اس کا دماغ اب بھی اسی ایک نقطے پر گھوم رہا تھا کہ بابا کو فضا ممی کو دیکھتے ہی کیا ہوا تھا؟

رات گئے انیل نے ڈاکٹر عثمان کو فون ملا دیا۔ "بولو انیل! سب خیریت ہے؟ رحمان کی طبیعت کیسی ہے؟" عثمان نے فون اٹھاتے ہی پوچھا۔ انیل نے تفصیل بتائی، "آج بابا نے دعوت پر بہت عجیب برتاؤ کیا۔ فضا ممی کو دیکھتے ہی وہ واپس مڑ گئے۔ میں دور سے دیکھ رہا تھا، وہ ان کا نام لے رہے تھے اور کہہ رہے تھے 'فضا! نہیں یہ کیسے ممکن ہے'۔ عثمان انکل، کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو کیسے جانتے ہیں؟" عثمان سوچ میں پڑ گیا کہ سچ بتائے یا نہیں۔ "نہیں بیٹا، یہ تمہارا وہم ہے۔ رحمان اپنی زمین کے سودے کو لے کر تھوڑا پریشان تھا، بس وہی ڈسکس کر رہا تھا۔" انیل نے شکریہ ادا کر کے فون بند کر دیا، مگر اسے یقین تھا کہ ڈاکٹر عثمان کچھ چھپا رہے ہیں۔

اگلی صبح رحمان صاحب کی آنکھ کھلی تو نسرین ناشتہ لے کر کمرے میں آ گئی۔ رحمان فریش ہو کر صوفے پر بیٹھے تو نسرین نے ویک اینڈ والی وصیت کی بات دہرائی۔ رحمان نے ناشتہ کرتے ہوئے پوچھا، "کیا خیال ہے، جاؤ گی؟" نسرین نے کہا، "جانا تو ہوگا، میاں جی نے خاص طور پر بلایا ہے۔" رحمان نے ناشتہ کیا اور دوبارہ لیٹ گئے۔ "میں آج آفس نہیں جاؤں گا، ریسٹ کروں گا،" انہوں نے نسرین سے کہا۔ نسرین ملازم سے برتن اٹھوا کر کچن کی طرف چلی گئی تاکہ رحمان کے لیے سوپ تیار کروا سکے۔

رحمان نے دراز سے دوائی نکالی ہی تھی کہ عثمان کی کال آ گئی۔ "رحمان، رات انیل کا فون آیا تھا۔ اسے تم پر شک ہو گیا ہے۔ وہ بار بار فضا کا پوچھ رہا تھا۔ میں نے اسے ٹال تو دیا ہے، مگر وہ تمہارا بیٹا ہے، بات کی تہہ تک ضرور جائے گا۔" رحمان کے دماغ کی رگیں دکھنے لگیں۔ "عثمان، یہ تو اچھا نہیں ہوا۔ انیل میری طرح ضدی ہے، وہ سچ نکال کر ہی رہے گا۔ مجھے خود کو سنبھالنا ہوگا ورنہ یہ طوفان سب بہا لے جائے گا۔"

یونیورسٹی میں ریجا اپنے دوستوں سامرہ اور روہن کے ساتھ بیٹھی تھی۔ سامرہ نے ٹرپ کے بارے میں پوچھا، "ریجا! کل لاسٹ ڈیٹ ہے، کیا تم نے بابا سے پوچھا؟" ریجا نے ایک لمبی سانس لی، "میں پوچھنا بھول گئی، گھر میں اتنی ٹینشنز چل رہی تھیں۔" روہن نے مشورہ دیا، "ہم تمہارا نام لکھوا دیتے ہیں، بعد میں دیکھا جائے گا۔" ریجا نے فوراً منع کر دیا، "نہیں، میں بابا سے پوچھے بغیر کہیں نہیں جا سکتی، تم لوگ سمجھنے کی کوشش کرو۔" اتنے میں انیل بھی وہاں آ گیا اور ریجا سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی۔ "ریجا! کیسی ہو؟" ریجا نے تیکھے لہجے میں جواب دیا، "ویسی ہی ہوں جیسی پہلے تھی۔" ان کی ہنسی مذاق کے درمیان روہن نے سموسوں کا آرڈر دے دیا۔

میاں جی کے گھر میں فضا اب بھی اسی کشمکش میں تھی کہ رحمان سے سامنا کیسے ٹالے؟ وہ کمرے میں اکیلی خود سے باتیں کر رہی تھی، "میں نہیں جانا چاہتی، میں ظریف کو کیسے روکوں؟" اچانک ظریف پیچھے سے آ گیا، "کس سے باتیں کر رہی ہو فضا؟ یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے۔" فضا بوکھلا گئی، "کسی سے بھی نہیں۔" ظریف نے مسکرا کر کہا، "نسرین آپا سے بات ہوئی ہے، وہ آج گھر پر ہی ہیں۔ چلو، چل کر ان کا حال پوچھ لیتے ہیں۔" رحمان کا نام سنتے ہی فضا کے چہرے کا رنگ پیلا پڑ گیا۔ اسے چکر آتا دیکھ کر ظریف نے فوراً اسے سہارا دے کر بیڈ پر لیٹایا اور گھبرا کر مانی کو آواز دی، "مانی! جلدی آؤ!"

کیا فضا اپنی گھبراہٹ پر قابو پا سکے گی؟ کیا رحمان اور فضا کا آمنا سامنا ان کی زندگیوں میں نیا طوفان لے آئے گا؟ جاننے کے لیے ملتے ہیں کل کی قسط میں۔

(جاری ہے...)


نوٹ اور کاپی رائٹ (Disclaimer & Copyright)

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں

ڈسکلیمر: اس ناول کے تمام کردار، مقامات اور واقعات فرضی ہیں۔ اس کا مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی حقیقی واقعے کی عکاسی کرنا نہیں ہے۔ اگر کسی کردار یا واقعے سے کوئی مماثلت پائی جاتی ہے تو اسے محض ایک اتفاق سمجھا جائے۔

کاپی رائٹ وارننگ: اس تحریر کے تمام حقوق عشرت زاہد کے پاس محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی اجازت کے بغیر اس کہانی کے کسی بھی حصے کو کاپی کرنا، کسی دوسرے پلیٹ فارم پر اپنے نام سے شائع کرنا یا اس میں رد و بدل کرنا اخلاقی اور قانونی جرم ہے۔ اگر آپ اسے شیئر کرنا چاہتے ہیں تو براہِ کرم اصل لنک کے ساتھ شیئر کریں۔

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22