میرا ماہی- قسط نمبر 12
میرا ماہی
قسط نمبر 12
ظریف کی آواز پر مانی دوڑا چلا آیا۔ "جی ماموں! کیا ہوا؟" ظریف نے پریشانی میں کہا، "جلدی ڈاکٹر کو فون کرو!" مانی فوراً ڈاکٹر کو فون کرنے لگا۔ فضا کے کمرے میں میاں جی اور روشن آرا بھی پہنچ گئیں، سب ایک دم پریشان ہو گئے کہ آخر کیا ہوا ہے۔ میاں جی نے فکر مندی سے کہا، "فضا کا صحیح سے چیک اپ کرواؤ، سمجھ نہیں آ رہا کہ آج پھر اس کی طبیعت کیوں خراب ہو گئی؟"
اتنے میں مانی ڈاکٹر کو لے آیا۔ ڈاکٹر نے تفصیلی معائنہ کیا اور پوچھا، "کیا یہ پہلے بھی کبھی ایسے بے ہوش ہوئی ہیں؟" ظریف نے بتایا، "پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا، بس کل ان کی طبیعت تھوڑی بوجھل تھی اور چکر آ رہے تھے۔" ڈاکٹر نے سر ہلاتے ہوئے کہا، "ایسا تبھی ہوتا ہے انسان بہت زیادہ اسٹرس لے۔ آپ انہیں کل میرے کلینک لے آئیے گا، میں کچھ ضروری ٹیسٹ کروں گی۔ ابھی میں نے انجکشن لگا دیا ہے، یہ تھوڑی دیر میں ہوش میں آ جائیں گی۔" مانی ڈاکٹر کو چھوڑنے باہر چلا گیا۔ میاں جی اور روشن آرا بھی ظریف کو تسلی دے کر اپنے کمرے کی طرف چلے گئے کہ "فضا ٹھیک ہو جائے گی، پریشان نہ ہو"۔
اسی دوران ریجا کا فون روشن آرا کے پاس آیا۔ جب اس نے طبیعت کا پوچھا تو نانو نے بتایا، "فضا کی طبیعت پھر خراب ہو گئی ہے۔ وہ ظریف کے ساتھ رحمان کے گھر جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی، سمجھ نہیں آ رہا بچی کو اچانک کیا ہوا۔" ریجا نے فکر مندی سے کہا، "نانو! ممانی کا فل چیک اپ ہونا بہت ضروری ہے۔" ابھی بات ہو ہی رہی تھی کہ پیچھے سے سراج کی آواز آئی، "ریجا! میری بات سنو۔" ریجا نے نانو سے "بابا بلا رہے ہیں" کہہ کر فون بند کر دیا۔
"جی بابا! آپ نے بلایا؟" ریجا نے کمرے میں آکر پوچھا۔ سراج نے اپنے والٹ سے کچھ پیسے نکال کر ریجا کو دیے اور کہا، "یہ لو، تمہارے ٹرپ کے لیے ہیں۔ اگر کچھ اور چاہیے ہو تو بتا دینا۔" ریجا حیران رہ گئی، "بابا! آپ کو کیسے پتہ کہ میں نے جانا تھا؟" سراج نے دھیمے لہجے میں بتایا، "میرے پاس تمہاری دوست سمرہ کے والد کا فون آیا تھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ریجا کو جانے دیں، میں بھی سمرہ کو اسی لیے اجازت دے رہا ہوں تاکہ دونوں ایک دوسرے کا خیال رکھ سکیں اور تھوڑی تفریح بھی ہو جائے۔ میں نے ان سے کہہ دیا ہے کہ ریجا بھی جائے گی۔"
ریجا اپنے بابا کے منہ سے اجازت کا سن کر خوشی سے نہال ہو گئی۔ اس نے شکریہ ادا کیا اور جانے لگی تو سراج نے پوچھا، "تمہاری مما کدھر ہیں؟" ریجا نے بتایا، "وہ ڈرائیور کے ساتھ باہر گئی ہیں، کچھ سامان لینا تھا۔" سراج نے کہا، "ٹھیک ہے، ایک کپ چائے میرے کمرے میں بھجوا دو۔" ریجا نے کچن میں جا کر خانساماں کو چائے کا کہا اور خود جلدی سے سمرہ کو میسج کرنے لگی: "تمہارے بابا نے کمال کر دیا! بابا کو کیسے منا لیا؟ وہ تو کل سے ویسے ہی بدلے بدلے لگ رہے تھے۔"
سمرہ کا فوراً جواب آیا: "میں نے کہا تھا نا کہ میں تمہارا نام لکھوا دوں گی! میں نے اور روہن نے تمہارا نام پہلے ہی لکھوا دیا تھا۔ مجھے ڈر تھا کہ انکل نہیں مانیں گے، مگر میرے پاپا نے کر دکھایا۔ وہ میرے بیسٹ پاپا ہیں۔" ریجا سمرہ کا میسج پڑھ کر خوش تو ہوئی، مگر "بیسٹ پاپا" والے لفظ پر رک گئی۔ اس نے سوچا، "کاش بابا! آپ بھی بیسٹ پاپا ہوتے۔ میں بھی کہہ سکتی , مما آپ کو اوائڈ کر رہی ہیں، کہیں مما نے وہ ساری باتیں ہسپتال کے کمرے والی سن تو نہیں لیں؟ نہیں، اگر سنی ہوتیں تو وہ ضرور پوچھتیں۔ آخر بابا نے کیوں چھپایا؟ مما پر ٹرسٹ تو کرتے۔"
انہیں سوچوں میں وہ چائے لے کر بابا کے کمرے کی طرف آئی۔ دستک دے کر چائے سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور جانے لگی کہ اچانک بابا کے فون پر وائبریشن ہوئی۔ ایک نامعلوم نمبر سے کال آ رہی تھی۔ ریجا نے مسلسل بجنے پر فون اٹھا لیا۔ دوسری طرف سے کوئی بول رہا تھا، "سراج صاحب! آپ کے کام کا کہہ دیا ہے۔ رحمان کو صرف سمجھانا ہے یا راستے سے ہی ہٹانا ہے؟ آپ کچھ بول کیوں نہیں رہے؟"
ریجا نے گھبرا کر لائن کاٹ دی۔ واش روم کا دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے جلدی سے فون واپس رکھ دیا۔ سراج صاحب باہر آئے اور بولے، "چائے آپ لے آئیں؟" ریجا نے ہمت جمع کی اور پوچھا، "بابا! آپ رحمان انکل کے ساتھ کیا کرنے والے ہیں؟" سراج نے چونک کر کہا، "کچھ نہیں بیٹا، تم سے کس نے کہا؟" ریجا نے تڑپ کر کہا، "بابا! میں اب صرف سچ سننا چاہتی ہوں۔ کیا آپ رحمان انکل کو نقصان پہنچانے کا سوچ رہے ہیں؟"
سراج نے اعتراف کیا، "نہیں، میرا مقصد نقصان پہنچانا نہیں، بس اسے ڈرانا ہے تاکہ وہ زیادتی نہ کرے۔ اس زمین پر میری نظر تھی، اس نے مجھے نیچا دکھانے کے لیے ڈبل قیمت دے کر وہ زمین اپنے نام کر لی۔ پہلے ڈیل میں نے کی تھی، اس نے میری ڈیل کینسل کروائی، اسے ایک سبق سکھانا ضروری ہے۔" ریجا نے دہائی دی، "بابا! پہلے ہی اتنا کچھ تو ہے، کیوں آپ اتنی دشمنی مول لے رہے ہیں؟ مت کریں ایسا! جس کا فون آیا تھا اسے ابھی منع کریں۔ اگر آپ نے کچھ بھی کیا تو میں جا کر مما اور میاں جی کو سارا سچ بتا دوں گی۔" سراج ایک دم چونک گئے، انہیں ریجا سے اس قدر صاف گوئی کی امید نہیں تھی۔
ظریف جانے لگا تو فضا نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "ظریف! میرے دل پر بہت بوجھ ہے۔" ظریف نے قریب آ کر کہا، "وہ تو میں جانتا ہوں کہ تم کسی الجھن میں ہو، ڈاکٹر بھی یہی کہہ رہی تھی۔" فضا نے پوچھا، "آپ کو مجھ پر کتنا ٹرسٹ ہے؟" ظریف نے مسکرا کر کہا، "مجھ سے زیادہ تمہیں کون جانتا ہے؟ تم میری شریکِ حیات ہو، مجھے تم سے محبت ہے۔ ایسا کیوں پوچھ رہی ہو؟"
فضا نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا، "میں ڈرنے لگی ہوں کہ کوئی آپ کو مجھ سے بدگمان نہ کر دے۔ میں نے اپنی زندگی میں آپ کے علاوہ کسی کو نہیں چاہا، آپ میری پہلی اور آخری محبت ہیں۔" ظریف نے پیار سے اس کا ہاتھ تھاما، "اس میں کوئی شک نہیں کہ تم میری وفادار بیوی ہو۔ کسی کے کہنے پر میں تم پر شک نہیں کروں گا۔" فضا نے ایک گہرا سانس لیا، جیسے کوئی بوجھ اتر گیا ہو۔
ظریف وہاں سے میاں جی کے کمرے میں آیا تو مانی بھی وہاں موجود تھا۔ "میاں جی! ماموں! مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔" مانی کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔ "مجھے ابھی انیل کا فون آیا ہے۔ رحمان صاحب انیل کا خفیہ نکاح فارم ہاؤس لے جا کر رمشا کے ساتھ کروانا چاہتے ہیں، یہ بات انیل کو آفس کے کسی بندے نے بتائی ہے۔ انیل نے مجھ سے کہا ہے کہ کسی طرح میاں جی کو بتائیں کہ وہ انیل کا نکاح ریجا سے کروا دیں تاکہ ریجا بھی سیکیور ہو جائے اور رمشا بھی خالی ہاتھ لوٹ جائے۔" ظریف اور میاں جی سوچ میں پڑ گئے کہ واقعی اب جلد ہی کچھ بڑا کرنا ہوگا۔
انیل کی کال دوبارہ آئی تو ریجا نے اسے ریسیو کیا۔ دوسری طرف انیل نے پوچھا، "ریجا! پاس کوئی ہے تو نہیں؟" ریجا نے کمرے کا جائزہ لیا، "نہیں، میں اپنے کمرے میں اکیلی ہوں اور دروازہ بھی بند ہے، تم بتاؤ کیا بات ہے؟" انیل نے لمبا سانس لے کر انکشاف کیا، "ریجا! مجھے پاپا کے آفس کے ایک بندے نے پکی خبر دی ہے کہ بابا مجھے فارم ہاؤس لے جا کر میرا خفیہ نکاح رمشا سے کروانے کا پلان بنا کر بیٹھے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مجھے مجبور کر کے یہ رشتہ پکا کر دیں، مگر میں نے ان کا یہ منصوبہ خاک میں ملانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔"
ریجا کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا، "وہ کیسے انیل؟" انیل نے براہِ راست سوال کیا، "ریجا! کیا تم میرا ساتھ دو گی؟" ریجا نے بنا کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا، "ہاں انیل! میں تمہارا ساتھ دوں گی، بس تم بتاؤ کہ کرنا کیا ہے؟" انیل نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا، "میں نے مانی کو سب بتا دیا ہے اور اس نے ماموں ظریف اور میاں جی کو بھی اعتماد میں لے لیا ہے۔ میں نے میاں جی سے مدد مانگی ہے کہ وہ ہمارا نکاح پڑھوا دیں۔ میاں جی کے آگے کون بولے گا؟ نہ نسرین (میری ماما) کو اعتراض ہے، نہ زرمینے خالہ (تمہاری ماما) کو، اور ظریف ماموں بھی راضی ہیں۔ میاں جی اور نانو سب ہمارے حق میں ہیں، مسئلہ صرف ہمارے باپوں کی انا کا ہے جو ہماری خوشیوں سے کھیل رہے ہیں۔"
ریجا نے الجھن میں پوچھا، "مگر انیل، یہ سب ہوگا کیسے؟" انیل نے مکمل منصوبہ سمجھایا، "ہمیں کل ہی یہ قدم اٹھانا ہوگا۔ میں یونیورسٹی کے ٹائم پر میاں جی کے گھر پہنچ جاؤں گا اور تمہیں بھی وہیں پہنچنا ہے۔ مانی نے مولوی صاحب کا بندوبست کر لیا ہے اور وکیل کو بھی میاں جی نے بلوا لیا ہے۔ کل صبح تم حسبِ معمول کیژول کپڑوں میں یونیورسٹی کے لیے نکلنا۔ ڈرائیور تمہیں یونیورسٹی چھوڑ کر چلا جائے گا، وہاں میاں جی کا ڈرائیور پہلے سے موجود ہوگا جو تمہیں پک کر کے حویلی لے آئے گا۔ وہاں تمہاری جیولری اور کپڑے پہلے سے تیار ہوں گے، فضا ممانی تمہیں تیار کر دیں گی۔ یاد رکھنا، ابھی کسی کو کچھ نہیں بتانا۔ سمرہ اور روہن بھی وہاں موجود ہوں گے اور میرے گارڈین ظریف ماموں اور میاں جی خود ہوں گے۔"
ابھی ریجا کچھ کہنا ہی چاہتی تھی کہ باہر سے زرمینے کی آواز آئی، "ریجا! کھانے کے لیے آ جاؤ، کیا ابھی تک اسائنمنٹ بن رہی ہے؟" ریجا نے گھبرا کر فون رکھا اور بلند آواز میں کہا، "بس مما! ہو گئی ہے، آپ چلیں میں آ رہی ہوں۔" زرمینے کے جانے کے بعد ریجا نے ایک گہرا سانس لیا اور خود کو بحال کیا۔ اس کے ذہن میں ایک ہی سوچ رقص کر رہی تھی کہ کل میاں جی کی سرپرستی میں وہ اور انیل ہمیشہ کے لیے ایک ہو جائیں۔
قانونی انتباہ اور جملہ حقوق
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ عشرت زاہد (عشرت خانم) محفوظ ہیں۔ اس کہانی کے تمام کردار، نام اور واقعات فرضی ہیں۔ اس تحریر کا کوئی بھی حصہ مصنفہ کی اجازت کے بغیر کاپی، چوری یا کسی بھی دوسرے پلیٹ فارم (سوشل میڈیا یا ویب سائٹ) پر شائع کرنا قانونی جرم ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ڈسکلیمر (دستبرداری): یہ ایک افسانوی کہانی ہے جس کا مقصد صرف تفریح ہے۔ اس کا کسی بھی زندہ یا مردہ شخص یا حقیقی واقعے سے تعلق محض اتفاقیہ ہوگا۔

Comments
Post a Comment