میرا ماہی قسط نمبر13

میرا ماہی

 قسط نمبر13 

انیل کی آنکھ الارم کی آواز سے کھلی تو اس نے اٹھ کر بیڈ سے ٹیک لگائی اور اپنے میسجز چیک کرنے لگا۔ سب سے اوپر مانی کا میسج تھا: "انیل! آپ وقت سے آئیے گا، میاں جی نے کہا ہے اور ریجا سے بھی رابطے میں رہیے گا۔ میاں جی نے خاص تاکید کی ہے کہ اپنی ماما کو نہیں بتانا اور خاموشی سے پہلے یونیورسٹی جانا ہے۔ وہاں اپنی گاڑی پارک کر کے آپ دونوں نے میاں جی کی گاڑی میں آنا ہے تاکہ کوئی آپ کی گاڑی کے پیچھے نہ آ سکے۔ میاں جی کا دوسرا گھر ہے جو ابھی نیا بنا ہے اور مکمل فرنشڈ ہے، ڈرائیور آپ کو وہاں لے جائے گا۔ وہیں آپ کا اور ریجا کا نکاح ہوگا۔ اس گھر کا سراج اور رحمان، حتیٰ کہ ان کی بیویوں کو بھی نہیں پتا۔ آپ نے سب بہت سمجھداری سے کرنا ہے۔" انیل نے مانی کو ریپلائی کیا اور فریش ہونے چلا گیا۔ آج انیل کی خواہش پوری ہونے جا رہی تھی۔

واش روم سے باہر آ کر انیل کو ایک دم محسوس ہوا کہ جیسے کوئی اس کے کمرے میں آیا ہو۔ اس نے آ کر اپنا فون چیک کیا مگر وہ تو سکرین لاک تھی۔ انیل نے نیلے رنگ کی شرٹ اور جینز پہنی، پرفیوم لگایا اور گنگناتے ہوئے ہیئر برش سے بال بنائے۔ ایک بار آئینے میں خود کو دیکھ کر واچ، والٹ اور موبائل اٹھا کر وہ نیچے آ گیا۔ ڈائننگ ٹیبل پر نسرین اکیلی بیٹھی تھی۔ انیل نے بابا کا پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ابھی نکل گئے ہیں، تمہارا پوچھ رہے تھے کہ یونیورسٹی سے فارغ ہو کر نئی فیکٹری کا کام دیکھنے جانا۔ انیل نے سر ہلا کر جواب دیا اور جوس پی کر اٹھ کھڑا ہوا: "ٹھیک ہے ماما! میری آج ضروری کلاس ہے، میں چلا جاؤں گا۔ اللہ حافظ!"

ریجا نے موبائل پر ٹائم دیکھا اور تیار ہو کر یونیورسٹی نکلی۔ جب ڈرائیور اسے ڈراپ کر کے چلا گیا تو میاں جی کی گاڑی آ کر رکی جس میں انیل بھی بیٹھا ہوا تھا۔ ریجا بھی بیٹھ گئی اور ڈرائیور نے گاڑی میاں جی کے نئے گھر کی طرف موڑ دی۔ انیل نے ریجا سے کہا کہ اپنا سیل فون آف کر لو، میں نے بھی اپنا فون آف کر دیا ہے، بعد میں آن کر لیں گے۔

مانی نے گاڑی میں سارا سامان رکھا اور سب میاں جی کے نئے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ وہاں سب کو چھوڑ کر گاڑی نسرین اور زرمینے کو لینے چلی گئی۔ میاں جی کے ڈرائیور نے جا کر نسرین اور زرمینے کو بتایا کہ میاں جی کی طبیعت ٹھیک نہیں، وہ آپ کو ابھی بلا رہے ہیں۔ راستے سے ناواقف ہوتے ہوئے وہ پوچھنے لگیں کہ یہ کون سا راستہ ہے؟ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ آج اپنے نئے گھر پر ہیں۔ میاں جی نے پیغام دیا ہے کہ ابھی اپنے شوہروں کو فون کر کے نہیں بتانا۔

میاں جی کا یہ گھر آرکیٹیکچر کا شاندار نمونہ تھا۔ ظریف نے گھر کو دیکھا اور اس کی بہت تعریف کی۔ میاں جی نے ظریف سے پوچھا کہ مولوی صاحب کب تک آئیں گے؟ ظریف نے بتایا کہ وہ پہنچنے والے ہیں۔ انیل اور ریجا بھی پہنچ چکے تھے اور فضا ریجا کو تیار کرنے لے گئی۔ جب نسرین اور زرمینے پہنچیں تو روشن آرا نے انہیں میاں جی کے کمرے میں بھیجا۔ روہن اور سمرہ بھی اپنے کچھ اور دوستوں کے ساتھ میاں جی کے گھر پہنچ گئے، جن کو مانی نے ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا۔ وہاں مولوی صاحب بھی آ چکے تھے۔

ظریف نے بتایا کہ انیل اور ریجا کا نکاح میاں جی اس نئے گھر میں کروا رہے ہیں۔ جب نسرین اور زرمینے نے اس ایمرجنسی کی وجہ پوچھی تو میاں جی نے بتایا کہ رحمان خفیہ نکاح کا پلان بنا کر بیٹھا تھا، بس اس کے پلان کو فیل کیا ہے۔ انیل، ریجا کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کے بعد میاں جی کی اجازت سے نکاح شروع ہوا۔ ریجا نے ماں کی طرف دیکھا تو زرمینے نے سر ہلایا اور ریجا نے "قبول ہے" کہہ دیا۔ انیل نے بھی نسرین کی مسکراہٹ دیکھ کر مطمئن ہو کر "قبول ہے" کہا اور نکاح کے پیپرز پر دستخط کر دیے۔

نکاح کے بعد دعا ہوئی تو ریجا کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ انیل نے ہلکی آواز میں کہا: "ابھی رخصتی تھوڑی ہو رہی ہے، رخصتی پر لڑکیاں روتی ہیں۔" روہن نے چھیڑا کہ انیل بھائی اب صبر کریں، آپ کی ہی ہے۔ سب ہنس پڑے۔ نسرین اور زرمینے بھی گلے مل کر رونے لگیں کہ آج میاں جی نے ان بہنوں کو ایک کر دیا جنہیں ان کے شوہر ملنے نہیں دیتے تھے۔ میاں جی نے بتایا کہ یہ گھر ان کے لیے نکاح کا تحفہ ہے۔ انیل اور ریجا نے ایک دوسرے کو دیکھا تو میاں جی بولے: "پہلے میری بات پوری سن لو، پھر ایک دوسرے کو دیکھتے رہنا" جس پر وہ دونوں شرما گئے۔ میاں جی نے مانی سے وکیل کا پوچھا تو پتا چلا کہ ان کی والدہ کی طبیعت خراب ہے، میاں جی نے کہا چلو پھر کسی دن وصیت سنا دوں گا۔

دوسری طرف رحمان عثمان کے کلینک پر تھا اور بتا رہا تھا کہ وہ انیل کا نکاح زبردستی رمشا سے کروائے گا ورنہ اسے جائیداد سے عاق کر دے گا اور اس کی ماں کو طلاق کی دھمکی دے گا۔ عثمان نے اسے سمجھایا کہ تم بھی اپنے باپ کی طرح زیادتی کرو گے؟ تمہارے ساتھ بھی تو زبردستی ہوئی تھی، تم فضا کو چاہتے تھے مگر نسرین سے شادی کروا دی گئی۔ رحمان سوچ میں پڑ گیا۔

سراج نے لاؤنج میں قدم رکھا تو خاموشی تھی۔ اس نے پہلے زرمینے کو آواز دی پھر ریجا کو، اتنے میں میڈ آ گئی۔ سراج نے غصے سے پوچھا کہ سب کہاں گئے ہیں؟ میڈ نے بتایا کہ بی بی جی میاں جی کی طبیعت کا سن کر چلی گئی ہیں۔ ریجا کہاں ہے؟ وہ بولی وہ بھی نہیں آئی ہیں۔ سراج کو یاد آیا کہ شاید وہ ٹرپ کے لیے کچھ لینے گئی ہو، وہ یہ سوچتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے۔

شام ڈھلنے لگی تو زرمینے گھر پہنچی۔ لاؤنج میں سراج کو غصے میں ٹہلتے دیکھ کر وہ ایک پل کو گھبرائی مگر پھر خود کو سنبھالا۔ سراج نے کڑک دار آواز میں پوچھا: "کہاں رہ گئی تھیں تم؟ اور ریجا کہاں ہے؟" زرمینے نے صفائی دیتے ہوئے کہا, میاں جی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے، میں وہیں تھی۔ ریجا بھی وہیں میاں جی کے پاس ہے، وہ کل آئے گی۔" سراج نے تیکھی نظروں سے زرمینے کو دیکھا اور خاموش ہو گیا، "چلو ایک رات کی بات ہے" یہ سوچ کر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ دوسری طرف نسرین کا بھی یہی حال ہوا، رحمان غصے میں تھا کہ فون کیوں آف تھا، مگر نسرین نے بھی میاں جی کی طبیعت کا بہانہ بنا کر بات سنبھال لی۔

ہویلی میں سب دوستوں کے جانے کے بعد میاں جی نے بتایا کہ ابھی صرف نکاح ہوا ہے، رخصتی پڑھائی مکمل ہونے اور انیل کے بزنس سیٹ ہونے کے بعد ہوگی۔ انیل نے رخصت ہونے سے پہلے ریجا سے بات کرنے کی خواہش کی۔ وہ ریجا کے پاس گیا جو دلہن کے روپ میں کسی خواب جیسی لگ رہی تھی۔ انیل نے مسکرا کر کہا: "اتنا پیارا لگ رہا ہوں؟" ریجا نے آنکھیں جھکا لیں۔ انیل نے اس کی خوبصورتی کی تعریف کی اور کہا: "فائنلی ہم ایک ہو گئے۔ اب میں چلتا ہوں، گھر پہنچنا ضروری ہے۔"

ریجا نے میاں جی سے مل کر ان کا شکریہ ادا کیا کہ آپ نہ ہوتے تو ہم کبھی ایک نہ ہوتے۔ میاں جی نے اس کی اور انیل کی ذمہ داری کا احساس دلایا اور پڑھائی پر توجہ دینے کا کہا۔ انیل گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا کہ اسے لگا کوئی اس کا تعاقب کر رہا ہے۔ اس نے رفتار بڑھائی مگر موڑ مڑتے ہی ایک گاڑی سامنے آئی۔ انیل نے بچنے کی کوشش کی مگر اس کی گاڑی دوسری گاڑی سے زور دار دھماکے سے ٹکرا گئی۔ اس ہولناک
حادثے میں کیا ہوا؟جاننے کے لیے اگلی قسط کا انتظار کیجیے

قانونی انتباہ اور جملہ حقوق

جملہ حقوق بحق مصنفہ عشرت زاہد (عشرت خانم) محفوظ ہیں۔ اس تحریر کا کوئی بھی حصہ مصنفہ کی اجازت کے بغیر کسی بھی شکل میں دوبارہ شائع، کاپی یا کہیں اور استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

ڈسکلیمر (دستبرداری): یہ ایک افسانوی تحریر ہے جس کا مقصد صرف تفریح ہے۔ اس کے تمام کردار، مقامات اور واقعات فرضی ہیں۔ کسی بھی حقیقی شخص یا واقعے سے مشابہت محض اتفاقیہ ہوگی۔


Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22