میرا ماہی - قسط نمبر 14
میرا ماہی
- قسط نمبر 14
نسرین بار بار گھڑی کی طرف دیکھ رہی تھیں، انیل ابھی تک گھر نہیں آیا تھا۔ انہوں نے گھبراتے ہوئے ظریف کو کال ملائی۔ ظریف نے نیند میں سے اٹھ کر ٹائم دیکھا تو رات کے 12:30 بج رہے تھے، اس نے سوچا کہ اس وقت آپا کی کال کیوں آئی ہے؟ فون اٹھاتے ہی نسرین نے پریشانی میں بتایا کہ رات 10 بجے تم سے بات ہوئی تھی کہ انیل گھر کے لیے نکل گیا ہے لیکن وہ اب تک نہیں پہنچا۔ ظریف بھی پریشان ہو گیا اور کمرے سے باہر نکل آیا تاکہ فضا کی نیند خراب نہ ہو۔ اس نے نسرین کو تسلی دیتے ہوئے پوچھا کہ کیا انیل کے کسی دوست کا نمبر ہے؟ نسرین نے روتے ہوئے کہا کہ اس نے کبھی اتنی دیر نہیں کی، رحمان کے خوف سے وہ 11 بجے تک لازمی گھر ہوتا ہے، اب میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔
ظریف نے کہا کہ آپا تھوڑا صبر کریں، میں کچھ کرتا ہوں، اور فون بند کر دیا۔ اس نے دوبارہ انیل کے نمبر پر کال کی، پچھلی بار جب بات ہوئی تھی تو اس نے کہا تھا کہ بس پہنچنے والا ہوں، آخر وہ گیا کہاں؟ بیل جا رہی تھی کہ دوسری طرف سے ایک لڑکی نے فون اٹھایا۔ ظریف نے حیرت سے پوچھا کہ یہ انیل کا نمبر ہے، ان سے بات کروائیں۔ لڑکی نے پوچھا کہ آپ ان کے کون ہیں؟ ظریف نے بتایا کہ میں ان کا ماموں ہوں، تب اس نے انکشاف کیا کہ وہ ہسپتال کا سٹاف ہے، انیل صاحب کی گاڑی کا بہت برا ایکسیڈنٹ ہوا ہے، انہیں ایمرجنسی میں لائے ہیں اور وہ ابھی انڈر آبزرویشن ہیں، آپ فوری پہنچ جائیں۔
ظریف کا دل دھک سے رہ گیا، وہ بھاگ کر مانی کے کمرے میں گیا اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ مانی نے اندر سے آواز دی کہ کھلا ہے، آ جائیں۔ ظریف نے اندر آ کر لائٹ جلائی تو مانی ہڑبڑا کر اٹھا، ظریف نے کہا کہ مانی جلدی چلو، انیل کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے، راستے سے نسرین آپا کو بھی لینا ہے، ابھی ہسپتال سے فون آیا ہے۔ مانی فوراً اٹھا اور دونوں نسرین کے گھر پہنچے۔ نسرین لاؤنج میں ہی تھیں، گیٹ کھلنے پر انہیں لگا کہ شاید انیل آگیا لیکن ظریف کو دیکھ کر ان کی چیخ نکل گئی، ظریف نے انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھایا اور مانی نے گاڑی ہسپتال والے روڈ پر ڈال دی۔
ہسپتال پہنچ کر مانی ایمرجنسی کی طرف دوڑا، وہاں انیل کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا تھا اور کسی کو ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ ظریف ڈاکٹر سے بات کرنے گیا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ کوئی صاحب اسے یہاں لائے تھے جن کے پاس انیل کا والٹ اور موبائل تھا، اسی موبائل پر کال آنے پر ہم نے اطلاع دی۔ انیل کے سر، بازو اور ٹانگ پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں اور وہ مشینوں میں جکڑا ہوا تھا۔ نسرین شیشے کے باہر سے اپنے بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر بے حال ہو رہی تھیں۔ مانی کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل آئے کیونکہ انیل کے ساتھ اس کی گہری دوستی تھی۔
ظریف نے نسرین کو سہارا دیا اور کہا کہ اللہ پر یقین رکھو، ماں کی دعا میں بہت طاقت ہوتی ہے۔ ظریف نے مانی کو بھی سمجھایا کہ تم سمجھدار ہو، خود کو سنبھالو، تم روؤ گے تو میں آپا کو کیسے سنبھالوں گا؟ مانی نے آنسو صاف کیے اور بوجھل آواز میں کہا کہ ماموں! انیل کو خوشیاں راس نہیں آئیں، جس پر ظریف نے جواب دیا کہ اسے آزمائش سمجھو، اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کو ہی آزماتا ہے۔ دوسری طرف ریجا کی آنکھ ایک دم کھلی جیسے کسی ڈراؤنے خواب سے ڈر گئی ہو۔ اس نے فوراً پانی پیا اور دعا کرنے لگی کہ اللہ کرے انیل خیریت سے ہو، اس نے فیصلہ کیا کہ صبح صدقہ دے گی اور پھر کروٹ بدل کر لیٹ گئی۔
فضا کی آنکھ کھلی تو ظریف کو نہ پا کر پہلے سمجھی کہ وہ باتھ روم میں ہیں، لیکن جب کافی دیر ہوئی تو اس نے ظریف کو کال کی۔ ظریف نے اسے سب بتا دیا اور تاکید کی کہ ابھی میاں جی اور اماں کو کچھ نہ بتانا۔ فضا نے دعا دی کہ سب خیریت ہوگی۔ مانی باہر کھڑا یہی سوچ رہا تھا کہ ان معصوموں کا کیا قصور ہے؟ پہلے بابا راضی نہیں تھے، اب میاں جی کی کوشش سے تعلق بنا تو یہ حادثہ ہو گیا۔ اللہ ان دونوں کو جدا نہ کرنا، ابھی تو انیل کھل کر مسکرایا بھی نہیں تھا۔ اسے فکر تھی کہ انیل کا ہوش کب آئے گا اور ریجا کا کیا حال ہوگا۔
صبح کے 4 بج چکے تھے جب نسرین نے ضد کی کہ میں نے اپنے بیٹے سے ملنا ہے۔ اچانک سٹاف نے بتایا کہ مریض کو ہوش آگیا ہے اور وہ اپنی ماما کو بلا رہا ہے۔ نسرین، ظریف اور مانی فوراً اندر گئے۔ نسرین نے اپنے بیٹے کے سر پر پیار کیا تو ڈاکٹر بھی معائنے کے لیے آگئے۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ سر کی چوٹ کے لیے سیٹی سکین کریں گے تاکہ کوئی میجر ایشو نہ ہو۔ ڈاکٹر نے ظریف کو بتایا کہ یہ تو معجزہ ہے کہ انیل بچ گیا ہے کیونکہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ دباؤ کی وجہ سے دائیں بازو اور ٹانگ پر پٹیاں کی ہیں، کوئی فریکچر نہیں ہے، چند دن میں ٹھیک ہو جائے گا۔
انیل نے دھیمی آواز میں پوچھا کہ بابا نہیں آئے؟ نسرین نے بتایا کہ انہیں ابھی علم نہیں، ابھی کال کرتے ہیں۔ رحمان کا فون وائبریشن پر تھا، وہ دوائی کھا کر سو رہے تھے، ظریف کی کئی کالز کے بعد اس نے ایک وائس نوٹ چھوڑ دیا اور خود نماز پڑھنے چلا گیا۔ ریجا نے فجر کے وقت انیل کو گڈ مارننگ کا میسج کیا لیکن جواب نہ آنے پر سوچا کہ شاید وہ سو رہا ہوگا۔ اتنے میں مانی کی کال آگئی، مانی نے انیل کے ایکسیڈنٹ کی پوری روداد سنائی تو ریجا کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی، اسے سمجھ آگئی کہ وہ خواب میں کیوں ڈری ہوئی تھی۔
ریجا نے مانی سے کہا کہ اسے پل پل کی خبر دیتا رہے، پھر اس نے جائے نماز تہہ کی اور لان میں ٹہلنے لگی جہاں اس کے بابا سراج فجر کی نماز پڑھ کر آ رہے تھے۔ سراج نے اسے اتنی جلدی جاگتے دیکھ کر حیرت سے پوچھا اور ٹرپ کے لیے مزید پیسوں کی پیشکش کی، ریجا نے "جی اچھا" کہہ کر بات ٹالی مگر دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ اب وہ انیل کو چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہے۔ اس نے سوچا کہ وہ سمرہ اور روہن کو بھی انیل کی حالت کے بارے میں بتائے گی۔
انیل کا سیٹی سکین ہونے کے بعد اسے پرائیویٹ روم میں شفٹ کر دیا گیا۔ وہ اب بہتر محسوس کر رہا تھا۔ اس نے ظریف اور مانی سے گھر جانے کا کہا لیکن انہوں نے اسے ڈسچارج کروا کر ہی جانے کا فیصلہ کیا۔ رحمان کی آنکھ کھلی تو ظریف کی اتنی کالز دیکھ کر اس نے کال بیک کی اور اسے حادثے کا پتا چلا۔ رحمان نے معذرت کی کہ میں دوائی کھا کر سو گیا تھا اور نسرین نے بھی مجھے نہیں جگایا۔ رحمان نے فوراً فارم ہاؤس فون کر کے رمشا کے ساتھ انیل کے نکاح کا پروگرام فی الحال ملتوی کر دیا اور خود ہسپتال کے لیے نکل پڑا۔
ہسپتال میں سمرہ، روہن اور ریجا کے بتانے پر کئی کلاس فیلوز پھول اور فروٹ لے کر پہنچ چکے تھے۔ رحمان جب کمرے میں داخل ہوا تو وہاں لگے گلدستوں کا ڈھیر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس نے انیل سے کہا کہ گاڑی آرام سے چلایا کرو، تب انیل نے بتایا کہ مجھے لگ رہا تھا کوئی میرا پیچھا کر رہا ہے، اسی دوران ایک گاڑی سامنے آگئی اور ٹکر ہو گئی۔ رحمان نے غصے سے کہا کہ یہ تم پر حملہ ہوا ہے، میرے دشمنوں کا کام ہے، اب سے تم گارڈ کے بغیر باہر نہیں جاؤ گے اور میں اس کی انویسٹی گیشن کرواؤں گا۔
ریجا جو باہر کھڑی یہ باتیں سن رہی تھی، شاکڈ رہ گئی۔ جب رحمان ڈاکٹر سے ملنے باہر نکلے تو ریجا اندر آگئی۔ انیل کو دیکھ کر اس کے آنسو نکل آئے، انیل نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ ریجا تم میری طاقت ہو، کمزور مت پڑو۔ ریجا نے کہا کہ میں اب جاتی ہوں، یونیورسٹی کا کہہ کر آئی تھی اور نہیں چاہتی کہ یہاں کوئی تماشا ہو۔ باہر نکلتے ہی ریجا کو زرمینہ اور ظریف نظر آئے، وہ انیل سے مل کر نکلی ہی تھی, کہ رحمان بھی واپس آگیا اور وہ تینوں انیل کے کمرے کی طرف چلے گئے۔
ریجا سارے راستے یہی سوچتی رہی کہ انیل پر کس نے حملہ کروایا ہوگا؟ ریجا کو اب سمجھ آگئی تھی کہ یہ ایکسیڈنٹ کس نے کروایا ہے، یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ رحمان انکل سے بدلہ لیا گیا ہے۔ "اوہ بابا! یہ آپ نے کیا کیا؟ آپ اس حد تک بھی جا سکتے ہیں؟ آپ نے کیوں کیا ایسا؟ آپ کی اور رحمان انکل کی دشمنی میں اگر انیل کی جان چلی جاتی تو میرا کیا بنتا، میں کیسے جیتی؟ آپ کو رشتوں کا پاس بھی نہیں ہے۔"
وہ یونیورسٹی جانے کی بجائے سیدھا اپنے بابا کے آفس کی طرف آگئی۔ اس نے ڈرائیور کو کہا کہ بابا کے آفس کی طرف گاڑی موڑ لو۔ آفس پہنچ کر اس نے ڈرائیور کو انتظار کا کہا اور خود ریسیپشن سے پوچھتی ہوئی سیدھی سراج کے کیبن میں داخل ہوگئی۔ جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا، سراج کی نظر ریجا پر پڑی اور وہ حیرت سے اپنی سیٹ سے کھڑے ہو گئے کیونکہ ریجا پہلے کبھی آفس نہیں آئی تھی۔ ریجا نے اندر آتے ہی کہا: "آخر آپ نے اپنی کر ہی لی بابا! آپ نے انیل کو مروانا چاہا مگر اللہ نے اسے بچا لیا۔ آپ کے بھیجے ہوئے بندے نے تو پوری کوشش کی تھی مگر انیل کی زندگی لکھی تھی۔ بابا آپ کیسے ایسا کر سکتے ہیں؟ آپ رحمان انکل کو نیچا دکھانا چاہتے تھے، آپ کو ان سے بدلہ لینا تھا۔ اب وہ پولیس میں کمپلین لکھوا رہے ہیں اور میں گواہی دوں گی کہ یہ کام آپ کے بندے نے کیا ہے!"
یہ کہہ کر ریجا جانے لگی تو سراج نے گرجدار آواز میں اسے روکا: "جانے سے پہلے یہ سنتی جاؤ کہ یہ کام میں نے نہیں کیا۔ میں نے اسی دن منع کر دیا تھا۔ میری دشمنی رحمان سے ہے، اس کے بیٹے کو نقصان پہنچانے کا میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ ریجا! کیا تم اپنے بابا کو اتنا برا سمجھتی ہو؟" ریجا نے مڑ کر دیکھا تو اسے اپنے بابا کے چہرے پر ایک کرب نظر آیا۔ سراج بولے: "میں ایک بار اپنی محبت کو کھو چکا ہوں اور دوسری بار اپنی محبت کو نہیں کھونا چاہتا۔ ہاں بیٹا! تم ہو میری محبت۔ میں ایک بیٹی کا باپ ہوں اور میں جتنا درد میں نے سہا جب تم ہسپتال میں تھی، میں جانتا ہوں کہ محبت کیا ہوتی ہے۔ میں نے ماضی میں بہت کچھ غلط کیا لیکن اب میں خود کو کبھی معاف نہیں کر سکوں گا اگر میں نے ایسا کچھ کیا ہو۔"
وہ آگے بڑھے اور بھرائی ہوئی آواز میں کہا: "میرا یقین کرو، میں نے واقعی رحمان کے بیٹے کو مروانے کے لیے کسی کو نہیں بھیجا، میں اس بار سچ بول رہا ہوں۔ پھر بھی چاہو تو میرے ساتھ چلو اور میرے خلاف پولیس میں رپورٹ کروا دو، شاید اس سے تمہاری تسلی ہو جائے۔" ریجا اپنے بابا کی آنکھوں میں دیکھنے لگی جہاں اسے سچائی نظر آئی، لیکن اس دل کا کیا کرتی جو انیل کی حالت دیکھ کر تڑپ اٹھا تھا۔ "میں نے یقین کر لیا بابا، اب پولیس اپنی انویسٹی گیشن کرے گی تو سچ سامنے آجائے گا۔ مگر یاد رکھیے گا بابا، اگر اس میں آپ کا ہاتھ ہوا تو آپ مجھے کھو دیں گے۔" یہ کہہ کر ریجا آفس سے چلی گئی اور سراج ریجا کی بات پر الجھ کر رہ گئے کہ اگر یہ میں نے نہیں کیا، تو پھر آخر کس نے انیل پر حملہ کروایا؟ "میں بھی پتا کرواتا ہوں..." انہوں نے فون اٹھاتے ہوئے سوچا۔
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں اس ناول "میرا ماہی" کی تمام تحریر، کردار اور پلاٹ مصنفہ عشرت زاہد کی تخلیق ہیں۔ مصنفہ کی اجازت کے بغیر اس تحریر کا کوئی بھی حصہ کسی دوسرے ویب پیج، سوشل میڈیا پلیٹ فارم یا کسی بھی صورت میں کاپی یا شائع کرنا قانونی جرم ہے۔
ڈسکلیمر : یہ ایک افسانوی تحریر ہے جس کے تمام کردار اور واقعات فرضی ہیں۔ اس کا مقصد کسی بھی فردِ واحد، ادارے، یا کسی بھی طبقہ فکر کی دل آزاری کرنا ہرگز نہیں ہے۔ کسی بھی نام یا واقعے کی مماثلت محض اتفاقیہ سمجھی جائے۔

Comments
Post a Comment