میرا ماہی - قسط نمبر 15

 

میرا ماہی  - قسط نمبر 15

رحمان نے اپنے ایک قریبی دوست، جو پولیس میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھا، کو فون کیا اور انیل کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ اپنے دوست کے مشورے پر انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب اس معاملے میں پولیس کو باقاعدہ شامل کرنا ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ یہ محض ایک حادثہ تھا یا کوئی سوچی سمجھی سازش۔ کچھ ہی دیر میں پولیس کے اہلکار بیان لینے کے لیے ہسپتال پہنچ گئے۔ ہسپتال کا عملہ انہیں انیل کے کمرے میں لے آیا، جہاں رحمان کی موجودگی میں انیل نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ بیان مکمل ہونے کے بعد پولیس آفیسر نے رحمان سے پوچھا، "سر! کیا آپ کو کسی پر شک ہے جس نے آپ کے بیٹے سے دشمنی نکالی ہو؟" رحمان نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا، "یہ پتا لگانا تو اب آپ کا کام ہے کہ کون میرے بیٹے کی جان لینا چاہتا تھا۔ میں بس مجرم کو سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتا ہوں۔"

پولیس اہلکار رخصت ہوئے ہی تھے کہ ظریف اور فضا کمرے میں داخل ہوئے۔ دونوں نے انیل کی خیریت پوچی اور اسے حوصلہ دیا۔ ظریف کے پوچھنے پر رحمان نے سنجیدگی سے بتایا، "ظریف! میں نے انویسٹی گیشن شروع کروا دی ہے۔ مجھے اپنے بیٹے کی زندگی بہت عزیز ہے اور میں اس حملے کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔" ظریف نے رحمان کے غصے کو محسوس کیا لیکن خاموشی سے انیل سے باتیں کرنے لگا، مگر اس کے ذہن میں بار بار سراج کا خیال آ رہا تھا۔

دوسری طرف، زرمیننے جب ریجا کے کمرے میں آئی تو دیکھا کہ وہ جائے نماز پر بیٹھی روتے ہوئے دعا مانگ رہی تھی۔ زرمیننے صوفے پر بیٹھ گئی اور ریجا کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگی۔ جیسے ہی ریجا نے سلام پھیرا، زرمیننے نے بتایا، "ریجا! ابھی ظریف کا فون آیا تھا، انیل کے ساتھ واقعی بہت برا حادثہ ہوا ہے۔" ریجا نے نم آنکھوں سے کہا، "ماما! مجھے مانی نے سب بتا دیا ہے۔ میرا دل ہسپتال جانے کے لیے تڑپ رہا ہے، مگر بابا کبھی اجازت نہیں دیں گے۔"

زرمیننے نے کچھ سوچتے ہوئے کہا، "تم پریشان نہ ہو، میں کچھ کرتی ہوں۔ تم سمرہ کو فون کرو کہ وہ تمہیں اپنے ساتھ ہسپتال لے جائے۔ میں سراج سے کہہ دوں گی کہ تم سمرہ کے گھر گروپ اسٹڈی کے لیے گئی ہو۔" یہ سن کر ریجا کی آنکھیں چمک اٹھیں، اس نے فوراً ماں کو گلے لگا لیا، "ماما! آپ دنیا کی سب سے اچھی ماں ہیں۔" زرمیننے نے اسے پیار کیا اور تاکید کی کہ سراج کے آنے سے پہلے جلدی سے نکل جائے۔ ریجا نے فوراً سمرہ کو فون کر کے سارا پلان سمجھا دیا تاکہ کوئی گڑبڑ نہ ہو۔

ادھر سراج نے اپنے خاص آدمی 'یٰاور' کو فون ملایا۔ دوسری طرف سے یٰاور نے پوچھا، "جی سر! کیسے یاد کیا؟" سراج نے کھرج دار آواز میں پوچھا، "یٰاور! کیا رحمان کے بیٹے پر حملہ تم نے یا تمہارے کسی بندے نے کروایا ہے؟" یٰاور نے فوراً صفائی دی، "سر! آپ کے منع کرنے کے بعد میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہم میں سے کوئی اس میں شامل نہیں ہے۔" یٰاور نے مزید کہا، "سر! اگر آپ کہیں تو میں پتا لگواؤں کہ یہ کس کی کارستانی ہے؟" سراج نے فوراً حامی بھر لی، "میں یہی چاہتا ہوں، پتا لگواؤ کہ وہ کون ہے جو ہماری دشمنی کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔" یٰاور نے دو دن میں رپورٹ دینے کا یقین دلایا۔ سراج نے فون رکھ کر ایک لمبا سانس لیا، اسے امید تھی کہ اگر اصل مجرم سامنے آ گیا تو ریجا کا اس پر یقین بحال ہو جائے گا۔

ریجا نے مانی کو فون کیا تو اس نے بتایا کہ وہ اس وقت گھر پر ہے جبکہ ظریف اور فضا ہسپتال میں ہیں۔ "ریجا! تم آ سکتی ہو، رحمان انکل بڑوں کی موجودگی میں تمہیں کچھ نہیں کہیں گے۔" مانی کی بات سن کر ریجا نے اطمینان کا سانس لیا اور ڈرائیور سے کہا کہ اسے سمرہ کے گھر چھوڑ دے۔ وہاں پہنچ کر ریجا نے سمرہ کے ساتھ مل کر کیب بلوائی اور ہسپتال روانہ ہو گئی۔ ہسپتال پہنچ کر اسے ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں رحمان انکل سے سامنا نہ ہو جائے، مگر اتفاق سے اسے راہداری میں ظریف ماموں نظر آگئے۔ ظریف نے ریجا کی پریشانی بھانپ لی اور تسلی دی، "ڈرو مت ریجا! رحمان ابھی کسی کام سے باہر گئے ہیں۔ اندر صرف نسرین اور فضا ہیں، تم سکون سے انیل سے ملو۔"

جیسے ہی ریجا کمرے میں داخل ہوئی، انیل کا مرجھایا ہوا چہرہ کھل اٹھا۔ ظریف نے چٹکلا چھوڑا، "لو جی! جس کا انتظار تھا وہ آ گئی، اب تو مسکراہٹ رک نہیں رہی۔" نسرین اور فضا بھی انیل کو چھیڑنے لگیں۔ ظریف نے اشارہ کیا اور سب کمرے سے باہر آ گئے تاکہ ان دونوں کو بات کرنے کا موقع مل سکے۔ ریجا انیل کے لیے پھول لائی تھی، مگر انیل نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ "ریجا! تمہیں ان سب کی کیا ضرورت تھی؟" انیل نے دھیمی آواز میں کہا۔ جب اس نے حرکت کی تو بازو میں درد کی لہر اٹھی۔ "ابھی زور مت دو انیل!" ریجا نے فکر مندی سے کہا۔ انیل نے اسے پولیس کے بیان کے بارے میں بتایا۔ ریجا خاموش رہی، وہ اسے کیا بتاتی کہ اس نے اپنے ہی باپ پر شک کیا تھا، جبکہ سراج نے اسے اپنی بے گناہی کا یقین دلایا تھا۔

ریجا نے بتایا کہ وہ سمرہ کے گھر کا کہہ کر آئی ہے اس لیے اسے جلدی نکلنا ہوگا۔ انیل کا دل تو نہیں تھا کہ وہ جائے، مگر حالات کے پیشِ نظر اسے ماننا پڑا۔ ریجا نے بتایا کہ وہ اب یونیورسٹی ٹرپ پر نہیں جا رہی کیونکہ اس کا دل انیل کی حالت دیکھ کر نہیں مان رہا۔ انیل نے اسے سمجھایا کہ وہ جائے اور انجوائے کرے، مگر ریجا کا فیصلہ اٹل تھا۔ انیل نے مسکراتے ہوئے کہا، "میں کتنا خوش نصیب ہوں کہ تمہیں میری اتنی فکر ہے۔" کچھ دیر بعد سب اندر آ گئے اور ظریف نے ریجا کو واپسی پر گھر چھوڑنے کی ذمہ داری لی۔

دوسری طرف رحمان کے آفس میں میٹنگ ختم ہوئی تو رمشا بڑے رعب سے اندر داخل ہوئی۔ "انکل! آپ نے نکاح کینسل کیوں کیا؟" اس نے سخت لہجے میں پوچھا۔ رحمان نے جب اسے انیل کے ایکسیڈنٹ کا بتایا تو رمشا کے چہرے پر ذرہ برابر بھی پریشانی یا دکھ کے آثار نہ آئے۔ رحمان کو پہلی بار رمشا کا یہ رویہ بہت برا لگا۔ اسے توقع تھی کہ رمشا ہسپتال جانے کی بات کرے گی، مگر وہ بس اپنے نکاح کے بارے میں فکر مند تھی۔ فون آنے پر رحمان بات کرنے لگا اور رمشا بغیر کچھ کہے وہاں سے نکل گئی۔ رحمان اسے جاتا دیکھ کر سوچ میں پڑ گیا کہ کیا یہ لڑکی انیل کے لیے صحیح بھی ہے؟

میاں جی نے مانی کو بلا کر ظریف اور فضا کے بارے میں پوچھا تو مانی نے انیل کے ایکسیڈنٹ کی پوری روداد سنا دی۔ میاں جی یہ سن کر سخت ناراض ہوئے کہ ان سے یہ بات چھپائی گئی۔ جب ظریف اور فضا واپس آئے تو میاں جی نے انہیں خوب ڈانٹا اور انیل کی خیریت پوچھی۔ ظریف نے انہیں اطمینان دلایا کہ انیل اب بہتر ہے اور کل اسے ڈسچارج کر دیا جائے گا۔

ادھر سراج کو یٰاور کا فون آیا جس نے ایک اہم خبر دی۔ یٰاور نے اس شخص کو پکڑ لیا تھا جس نے حملہ کیا تھا۔ "اسے سنبھال کر رکھو، میں ابھی آتا ہوں، ہم اسے لے کر رحمان کے پاس جائیں گے۔" سراج نے جوش میں کہا۔ یٰاور نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے 'ہاشم' کے ایک آدمی کو پکڑ لیا تھا۔ سراج نے جب اس سے سختی سے پوچھا تو اس نے اعتراف کیا کہ ہاشم نے ہی یہ سب کروایا تھا تاکہ ہائی وے والی زمین کا ٹینڈر حاصل کر سکے۔ وہ چاہتا تھا کہ سراج اور رحمان ایک دوسرے میں الجھ جائیں اور وہ خاموشی سے اپنا کام نکال لے۔ سراج اسے لے کر پولیس اسٹیشن پہنچا اور ایس پی فخر کو ساری صورتحال بتائی۔ پولیس نے فوراً رحمان کو بھی وہاں بلوا لیا۔

جب رحمان پولیس اسٹیشن پہنچا اور اسے پتا چلا کہ سراج نے خود مجرم کو ڈھونڈ نکالا ہے، تو وہ دنگ رہ گیا۔ رحمان نے سراج کا شکریہ ادا کیا۔ سراج نے آگے بڑھ کر رحمان کو گلے لگایا اور کہا، "کاروباری دشمنی اپنی جگہ، مگر بچوں پر آنچ آئے تو ہم سب ایک ہیں۔" رحمان نے پہلی بار سراج کی بات سے اتفاق کیا۔ دونوں نے ہاشم کے آدمی کو پولیس کے حوالے کیا اور باہر آ گئے۔ رحمان نے ایک بار پھر سراج کا شکریہ ادا کیا اور دونوں اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہو گئے۔

میاں جی نے رحمان کو فون کر کے انیل کا پوچھا تو رحمان نے سراج کے تعاون کا سارا قصہ سنایا۔ میاں جی یہ سن کر بہت خوش ہوئے کہ بچوں کی خاطر ہی سہی، ان دونوں کے دلوں کی برف تو پگھلی۔ ظریف نے میاں جی سے اس زمین کے بارے میں پوچھا تو میاں جی نے بتایا کہ وہ زمین مستقبل میں بہت قیمتی ہونے والی ہے کیونکہ وہاں سے ایئرپورٹ کی طرف نیا راستہ نکل رہا ہے۔

رحمان دوبارہ ہسپتال پہنچا اور انیل کو ہاشم کی سازش کے بارے میں بتایا۔ انیل کو یہ جان کر سکون ملا کہ سراج اس میں شامل نہیں تھے۔ ڈاکٹرز نے معائنے کے بعد انیل کو اگلے دن گھر جانے کی اجازت دے دی۔ رحمان نے نسرین سے کہا کہ وہ گھر جا کر آرام کرے، مگر نسرین نے انکار کر دیا، "میں کل اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر ہی جاؤں گی۔" رحمان نے نسرین کی ممتا دیکھی اور پھر اسے رمشا کی بے حسی یاد آ گئی۔ اس نے انیل سے پوچھا، "کیا رمشا کا فون آیا یا وہ ملنے آئی؟" انیل نے نفی میں سر ہلایا۔ رحمان گہری سوچ میں ڈوب گیا کہ شاید وہ اب تک غلط فیصلے کر رہا تھا۔


ڈس کلیمر : یہ کہانی ایک افسانوی تحریر ہے جس کے تمام کردار، مقامات اور واقعات مصنفہ کے تخیل کا نتیجہ ہیں۔ اس کا کسی بھی حقیقی شخص، گروہ یا واقعے سے تعلق محض اتفاقیہ ہوگا۔ اس تحریر کا مقصد صرف تفریح اور معاشرتی اصلاح ہے۔

جملہ حقوق محفوظ : اس تحریر کے تمام جملہ حقوق بحق مصنفہ 'عشرت زاہد' محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی اجازت کے بغیر اس کہانی کے کسی بھی حصے کو کسی دوسرے ویب بلاگ، سوشل میڈیا پیج (فیس بک، انسٹاگرام)، واٹس ایپ گروپ یا یوٹیوب چینل پر ویڈیو کی شکل میں شیئر کرنا قانونی طور پر جرم ہے اور اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔


Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22