میرا حصار: عزت یا اذیت؟ قسط نمبر 16 اور 17 (میگا لاسٹ قسط)
میرا حصار: عزت یا اذیت؟
قسط نمبر 16 اور 17 (میگا لاسٹ قسط)
ارسلان جو قریب ہی بیٹھا تھا، فوراً بولا: "جی آنٹی! میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ عریفہ اب اپنی پچھلی تمام تلخیاں بھول کر نئی زندگی شروع کرے۔" فرحان کی والدہ نے اسے شفقت سے سمجھایا: "بیٹا! مایوس نہیں ہوتے۔ تم نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، اللہ تمہارے لیے بھی راستے کھولے گا۔ اپنی بیوی سے بھی جا کر بات کرو، بیٹھ کر بات کرنے سے ہر مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ لڑکا صاحبِ حیثیت ہے، اسے جہیز کی کوئی طلب نہیں۔ وہ بس ایک ایسی لڑکی چاہتا ہے جو اس کی نسل کی اچھی تربیت کرے اور دکھ سکھ کی ساتھی بنے۔"
ارسلان سوچ میں ڈوبا ہوا تھا، پھر کہنے لگا: "آنٹی! جہیز تو ہمارے معاشرے کا ناسور ہے۔ ہم بیٹی والوں پر اتنا بوجھ ڈال دیتے ہیں، جبکہ سب سے قیمتی چیز تو ان کی بیٹی ہوتی ہے۔ لڑکے کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کا نان نفقہ خود اٹھائے۔ لوگ بے جا رسومات پر اتنا پیسہ ضائع کر کے اس مقدس فریضے کو مشکل بنا دیتے ہیں۔" فرحان کی والدہ ارسلان کی یہ پختہ باتیں سن کر مسکرا دیں: "تم میں احساسِ ذمہ داری آ گیا ہے، یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔"
آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے۔ شانزے ٹیرس پر کھڑی بارش کی بوندوں کو دیکھ رہی تھی جب حمزہ دو کپ چائے لیے وہاں آ گیا۔ "کیا سوچ رہی ہیں آپ؟" حمزہ نے ایک کپ اس کی طرف بڑھایا۔ "شانزے! دل کا موسم اچھا ہو تو سب اچھا لگتا ہے، ورنہ بارش بھی اداس کر دیتی ہے۔ آپ اوپر سے جتنا بھی مسکرائیں، اندر سے اداس ہیں۔ ارسلان شرمندہ ہیں، وہ تلافی کرنا چاہتے ہیں۔ ایک موقع تو بنتا ہے۔ خوشیاں آپ کے دروازے پر دستک دے رہی ہیں، ان سے منہ نہ موڑیں۔" شانزے "اچھا" کہہ کر لاؤنج میں آ گئی جہاں بابا، دادو اور جنت بی کی گپ شپ چل رہی تھی۔ وہ بھی ان کے پاس بیٹھ گئی، مگر حمزہ کی باتیں اس کے دل میں دستک دے رہی تھیں۔
شمع بیگم اب فزیو تھراپی کی مدد سے تھوڑی دیر سہارے کے ساتھ بیٹھنے لگی تھیں۔ ارسلان نرس کے ساتھ مل کر پوری کوشش کرتا کہ ڈاکٹرز کی ہدایات کے مطابق انہیں ورزش کروائے۔ چھ ماہ کے اس کٹھن وقت نے ان کے اندر کا نخرہ اور ہٹ دھرمی دفن کر دی تھی۔ وہ سوچ رہی تھیں: "جیسے ہی میں بولنے کے قابل ہوئی، میں نوشین، شانزے اور ان کے والدین سے معافی مانگوں گی۔" انہیں احساس ہو گیا تھا کہ ظلم اتنا ہی کرنا چاہیے جتنا انسان خود برداشت کر سکے، کیونکہ مکافاتِ عمل برحق ہے۔
افضل صاحب بھی اب مکمل مطمئن تھے۔ گھر کی فضا پرسکون ہو چکی تھی۔ جمیلہ افضل صاحب کے لیے سوپ بنا کر لائیں تو وہ کہنے لگے: "جمیلہ! میں سوچ رہا ہوں کہ محسن کی شادی کے بعد ہم حج پر جائیں۔" جمیلہ نے تائید کی: "آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ میں نے ہمیشہ دکھاوے کو ہی سب کچھ سمجھا، لیکن اصل خوشی تو سادگی اور رب کو راضی کرنے میں ہے۔ ہم لوگوں کو اپنی ملکیت سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ سب کی ڈور اللہ کے ہاتھ میں ہے۔" افضل صاحب نے مسکرا کر جمیلہ کو دیکھا: "صبح کا بھولا شام کو گھر آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ اب ارسلان کو کہو کہ جا کر اپنی بیوی کو لے آئے۔"
ارسلان نے پورے گھر کی کایا ہی پلٹ دی تھی۔ لاؤنج میں نیا فرنیچر آ چکا تھا اور اس نے ڈائننگ ایریا اور لاؤنج کو خوبصورتی سے الگ کر دیا تھا۔ یہ سب کر لینے کے بعد ارسلان عریفہ کے کمرے میں داخل ہوا اور رشتے کے بارے میں پوچھا۔ ارسلان کی بات سنتے ہی عریفہ بھائی کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ "بھائی! مجھے معاف کر دیں، میں لالچ میں اندھی ہو گئی تھی۔ مجھے احساس ہو گیا ہے کہ ایک کھیل ہم کھیلتے ہیں اور ایک قدرت! اور ہوتا وہی ہے جو قدرت چاہتی ہے۔" ارسلان نے اس کے آنسو پونچھے: "عریفہ! انسان خطاؤں کا پتلا ہے، اگر تم نے اپنی غلطیوں سے سیکھ لیا ہے تو اب پیچھے مڑ کر نہ دیکھو۔" عریفہ نے کہا: "بھائی! میں راضی ہوں، لیکن میں پہلے شانزے سے معافی مانگنا چاہتی ہوں۔ کیا آپ مجھے وہاں لے کر جائیں گے؟"
اگلے ہی روز ارسلان اور عریفہ شانزے کے گھر پہنچ گئے۔ عریفہ نے سب کے سامنے شانزے کے ہاتھ تھام لیے۔ "شانزے! میں آج سب کے سامنے تم سے معافی مانگنے آئی ہوں۔ میں نے اپنے لالچ اور حسد میں تم پر وہ الزام لگایا جو ایک عورت کے لیے موت سے بدتر ہوتا ہے۔" شانزے کے بابا نے کہا: "عریفہ بیٹی! معافی مانگ لینا اعلیٰ ظرفی کی نشانی ہے، اس سے کوئی چھوٹا نہیں ہو جاتا۔ اصل بہادری یہ ہے کہ اپنی غلطی تسلیم کر کے اپنی اصلاح کی جائے اور اسے دوبارہ نہ دہرایا جائے۔" شانزے نے عریفہ کو گلے سے لگا لیا۔
دوسری طرف جمیلہ نے ماریہ کے گھر والوں کا دل سے خیر مقدم کیا۔ محسن جذباتی ہو کر ماں کے گلے لگ گیا؛ وہ بچپن سے جس ممتا اور گھرانے کی تمنا کر رہا تھا، آج اسے وہ مل گیا تھا۔ وعدے کے مطابق اس نے ماریہ کے لیے الگ گھر کا انتظام کیا جہاں وہ اپنی مرضی سے زندگی بسا سکے۔
واپسی پر گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ارسلان نے پوچھا: "شانزے! امی والے گھر جاؤ گی یا 'ہمارے' گھر؟ میں نے ایک چھوٹا سا اپارٹمنٹ لیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی پسند سے اسے سجاؤ۔ امی کے لیے نرس رکھ لی ہے، تمہیں ان کی خدمت کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔" عریفہ نے بھی پیچھے سے کہا: "بھابھی! آپ کی ذمہ داری بس بھائی ہیں، باقی سب کام میں خود سیکھ رہی ہوں۔" ارسلان نے گاڑی روک کر گجروں کے دو جوڑے لیے؛ ایک شانزے اور ایک عریفہ کو دیا۔ گجروں کی خوشبو نے برسوں کی اداسی ختم کر دی۔ ارسلان سمجھ چکا تھا کہ مرد کی اصل ذمہ داری رشتوں میں 'بیلنس' رکھنا ہے۔
گھر پہنچ کر شانزے نے شمع بیگم کے کمرے کا رخ کیا۔ اسے دیکھتے ہی شمع بیگم نے کپکپاتے ہاتھ سے اشارہ کیا اور ٹوٹے لفظوں میں کہا: "ما... معافی!" شانزے نے ان کا ہاتھ تھام لیا: "امی! میں نے سب کو معاف کیا۔ میں آپ کا گھر چھیننے نہیں، بس آپ کا پیار چاہتی تھی۔" اتنے میں جمیلہ، افضل صاحب اور محسن بھی مٹھائی لے کر آ گئے۔ افضل صاحب نے محسن کی شادی کی خبر دی تو ارسلان نے بتایا کہ اسی ماہ کے آخر میں عریفہ اور شہباز کا نکاح بھی طے پا گیا ہے۔ عریفہ نے اپنی ماں کے پاس آ کر کہا: "ماں! مجھے اپنی دعاؤں میں رخصت کرنا۔" شانزے نے عریفہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا: "اللہ معاف کرنے والا ہے، امی خود تمہیں رخصت کریں گی۔"
اختتام : محسن اور ماریہ کی شادی کی تقریب میں پورا خاندان ایک ساتھ تھا۔ ایک خوبصورت 'گروپ فوٹو' لی گئی جس میں سب کے چہروں پر حقیقی مسکراہٹ تھی۔ رات کو جب شانزے کمرے میں اپنی جیولری اتار رہی تھی، ارسلان پیچھے سے آیا اور کہا: "آنکھیں بند کرو!" اس نے شانزے کے گلے میں ایک نازک سی چین پہنائی جس میں 'A' کا پینڈنٹ چمک رہا تھا۔ "یہ حقیقت ہے یا خواب؟" شانزے نے پوچھا۔ "یہ تمہاری منہ دکھائی ہے، بس ذرا دیر ہو گئی۔" ارسلان نے محبت سے کہا۔ شانزے مسکرائی: "دیر آئے، درست آئے۔"
ہر کہانی کا اختتام ہیپی ہونا چاہیے۔ ہم دوسروں کو سکون سے جینے دیں تو معاشرے میں امن پیدا ہوگا۔ ہر انسان اپنے حصے کی ذمہ داری اٹھائے۔ اب شانزے کے پاس جو حصار ہے، وہ ارسلان کی سچی محبت کا ہے جس میں کوئی دکھاوا نہیں ہے۔
حاصلِ کلام (Moral of the Story)
ناول "میرا حصار" ہمیں زندگی کے چند اہم حقائق کی طرف متوجہ کرتا ہے:
مصنفہ کی جانب سے ایک پیغام (Author's Note)
میرے پیارے قارئین!
آج میرا ناول "میرا حصار: عزت یا اذیت؟" اپنی آخری منزل کو پہنچا۔ اس پورے سفر میں آپ سب نے جس طرح میری تحریر کو سراہا، مجھ سے جڑے رہے اور ہر قسط کا بے صبری سے انتظار کیا، اس کے لیے میں آپ سب کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔
ایک لکھاری کے لیے سب سے بڑا انعام اس کے قارئین کی محبت اور ان کی طرف سے ملنے والی رائے ہوتی ہے۔ آپ لوگوں کے تبصروں اور ساتھ نے مجھے ہمیشہ بہتر لکھنے کا حوصلہ دیا۔ امید ہے کہ اس کہانی کے کرداروں اور اس کے پیغام نے آپ کے دلوں پر کوئی مثبت اثر چھوڑا ہوگا۔
مجھ سے جڑے رہنے اور میری تحریر کو پڑھنے کا بہت بہت شکریہ۔ انشا اللہ، بہت جلد ایک نئی کہانی، نئے کرداروں اور ایک نئے احساس کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گی۔ تب تک اپنا اور اپنے پیاروں کا بہت خیال رکھیے گا۔
آپ کی دعا گو، عشرت زاہد

Comments
Post a Comment