میرا ماہی - قسط نمبر 16


میرا ماہی

 قسط نمبر 16 

فضا لان میں کھیلتے بچوں کو دیکھ رہی تھی لیکن اس کا ذہن ہسپتال کے اس کمرے میں الجھا ہوا تھا جہاں زندگی اور موت کی کشمکش جاری تھی۔ وہ انیل کو دیکھنے ایک بار گئی تھی اور شکر تھا کہ وہاں رحمان سے زیادہ سامنا نہیں ہوا، ورنہ اس کی نظروں کا تپتا ہوا لمس فضا کے ضبط کا امتحان لینے کے لیے کافی تھا۔ رحمان اپنے بیٹے کی تکلیف میں اتنا پریشان تھا کہ اسے فضا کی موجودگی کا شاید احساس تک نہ ہوا، یا شاید وہ ایسا ظاہر کر رہا تھا۔ فضا بھی یہی چاہتی تھی کہ رحمان ماضی کی راکھ کو دوبارہ نہ کریدے اور اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ اس زندگی میں خوش رہے جو اس نے خود اپنے لیے چنی تھی۔

اسی اثنا میں مانی فضا کے پاس آیا اور بتایا کہ میاں جی کہہ رہے ہیں کہ سب تیار ہو جائیں، وہ انیل کی عیادت کو جا رہے ہیں۔ فضا نے ایک گہری سانس لی اور بوجھل دل کے ساتھ بچوں کو آواز دی اور خود بھی بے دلی سے تیار ہونے لگی۔ روشن آراء کے بنوائے ہوئے اس ہلکے رنگ کے سوٹ میں وہ آج بھی ویسی ہی پروقار لگ رہی تھی، مگر اب اس کی آنکھوں میں وہ چمک نہیں بلکہ ایک گہرا ٹھہراؤ تھا۔ جب وہ سب پجیرو میں سوار ہو کر رحمان کے گھر کی طرف روانہ ہوئے تو راستے بھر فضا کی نظریں کھڑکی سے باہر جمی رہیں، جیسے وہ ان یادوں سے پیچھا چھڑانا چاہ رہی ہو جو ہر موڑ پر اس کا استقبال کر رہی تھیں۔

رحمان کے گھر پہنچنے پر نسرین نے ان کا بہت پرجوش استقبال کیا، وہ ان سب کو ڈرائنگ روم میں لے آئی۔ اس نے بتایا کہ رحمان ابھی آفس میں ہے، لیکن جلد ہی آ جائے گا۔ فضا نے یہ سن کر گویا ایک نئی زندگی پائی، اسے لگا کہ رحمان کی غیر موجودگی میں وہ کم از کم سکون سے سانس لے سکے گی۔ جب وہ بچوں کو لے کر انیل کے کمرے میں گئی تو کمرے کی روشنی میں انیل کا چہرہ زرد لگ رہا تھا۔ بچوں نے اسے کارڈز اور پھول دیے تو انیل کے لبوں پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ آئی۔ میاں جی نے انیل کی خیریت پوچھی اور اسے حوصلہ دیا، جبکہ فضا ایک کونے میں کھڑی خاموشی سے اس نوجوان کو دیکھ رہی تھی۔

آفس میں موجود رحمان کا دل کسی انجانے خوف سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے اپنے اسسٹنٹ کو تمام میٹنگز منسوخ کرنے کا حکم دیا اور گھر کی طرف نکل کھڑا ہوا۔ جب اس کی گاڑی پورچ میں رکی اور اس نے لان میں کھیلتے بچوں کو دیکھا تو وہ سمجھ گیا کہ فضا بھی یہیں ہے۔ وہ گاڑی سے نکلا تو اس کے قدم خود بخود اس درخت کی طرف بڑھ گئے جہاں فضا سفید پھولوں کو ہتھیلی پر رکھے کسی گہری سوچ میں گم تھی۔ رحمان نے برسوں بعد اسے اتنے قریب سے دیکھا تھا۔

"یہ وہی پھول ہیں فضا، جو تمہیں کالج کے دنوں میں بہت پسند تھے،" رحمان کی آواز نے خاموشی کو چیر دیا۔ فضا یکدم چونکی، اس کے ہاتھ سے پھول گرتے گرتے بچے۔ رحمان کی نظروں میں ایک عجیب سی بے بسی تھی، وہ کہہ بیٹھا، "تم آج بھی اتنی ہی خوبصورت ہو!" مگر فضا نے اسے ٹوکتے ہوئے دو ٹوک لہجے میں کہا، "رحمان صاحب! میں اب ظریف کی بیوی ہوں اور اس سے محبت کرتی ہوں۔ میری زندگی میں اب ماضی کی کسی غلط فہمی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔" یہ کہہ کر وہ تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گئی، پیچھے رحمان کو تنہا چھوڑ دیا۔

نسرین کچن کی کھڑکی سے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ اسے دور سے رحمان کے جھکے ہوئے کندھے اور فضا کے تیز قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔ اسے لگا جیسے رحمان کوئی ایسی بازی ہار کر آ رہا ہے جس پر اس نے اپنی زندگی لگا دی تھی۔ جب رحمان اندر آیا تو وہ میاں جی کے سامنے اس طرح بیٹھ گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، مگر نسرین کے اندر ایک بے چینی سی بھر گئی تھی۔ وہ سوچنے لگی کہ وہ کون سا راز ہے جو رحمان نے اس سے چھپا رکھا ہے۔

اسی دوران مانی جو کہ گاڑی سے پھل کی پیٹیاں نکلوا رہا تھا، اچانک رک گیا۔ اسے پیچھے گیلری سے کسی کی دبی دبی آواز آئی۔ وہ رحمان تھا جو فون پر اپنی محرومی کا ذکر کر رہا تھا۔ "میں نے نسرین کو قبول تو کر لیا تھا مگر میری چاہت آج بھی فضا ہے اور رہے گی،" رحمان کے یہ الفاظ مانی کے کانوں میں دھماکے کی طرح لگے۔ مانی ششدر رہ گیا، اسے اب سمجھ آیا کہ فضا مامی کیوں اس گھر میں آنے سے کتراتی تھیں۔ اسے لگا جیسے وہ کسی بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے۔ مانی وہاں سے ہٹ گیا اور یہ سوچنے لگا کہ اب وہ اس سچ کا کیا کرے۔

گھر واپسی پر مانی نے ریجا کو فون کیا تو باتوں باتوں میں ریجا نے ایک اور انکشاف کر دیا۔ اس نے بتایا کہ اس کے بابا (سراج) کی زندگی میں بھی ماضی کا کوئی ایسا راز ہے جس سے وہ اور اس کی ماں لاعلم تھے۔ مانی کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ ایک طرف رحمان کا سچ اور دوسری طرف سراج کی زندگی کا پوشیدہ پہلو—مانی کو لگا کہ اس کے گرد موجود تمام بڑے اپنی اپنی زندگیوں میں کسی نہ کسی عشق کے مجرم رہے ہیں۔ مانی نے فون بند کیا تو اس کا سر چکرا رہا تھا۔ اگر ظریف ماموں کو رحمان کی اس حقیقت کا پتہ چل گیا تو شاید یہ خاندان کبھی دوبارہ ایک نہ ہو سکے گا۔

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ 

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ "عشرت زاہد" محفوظ ہیں۔ اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو مصنفہ کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی پلیٹ فارم، ویب سائٹ، فیس بک پیج، یوٹیوب چینل یا آڈیو بک کی صورت میں شیئر کرنا قانونی جرم ہے۔ ایسا کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔

ڈسکلیمر 

نوٹ: یہ ناول "میرا ماہی" ایک افسانوی تحریر ہے۔ اس کے تمام کردار، مقامات اور واقعات محض تخیل کی پیداوار ہیں۔ اس کا مقصد کسی بھی زندہ یا مردہ شخص، ادارے یا مذہب کی دل آزاری کرنا ہرگز نہیں ہے۔ کسی بھی قسم کی مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی۔

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22