میرا ماہی: قسط نمبر 17

 

میرا ماہی

قسط نمبر 17

مانی اپنے کمرے میں بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ اسے صرف ایک فکر نہیں تھی، بلکہ اس کا ذہن کئی رازوں کو لے کر الجھن کا شکار تھا۔ ایک طرف اسے فضا مامی کی فکر تھی جو بہت معصوم تھیں، جبکہ رحمان سے مانی کو کسی اچھائی کی امید نظر نہیں آ رہی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ رحمان کسی بھی وقت ظریف ماموں کو فضا مامی کے خلاف کر سکتا ہے۔ مانی نے سوچا کہ ماموں کو بتا دے، پھر خیال آیا کہ اگر کوئی اختلاف بن گیا اور ان کا گھر خراب ہوا تو وہ کیا کرے گا؟ "پہلے فضا مامی سے بات کرنی چاہیے، انہیں اعتماد میں لے کر کہوں گا کہ وہ ظریف کو خود بتائیں، کیونکہ اگر ظریف ماموں کو کہیں اور سے کچھ پتہ لگا تو انہیں دکھ ہوگا کہ ان پر بھروسہ کیوں نہیں کیا گیا۔"

ادھر نسرین نے رحمان کو کھوجنا شروع کر دیا تھا تاکہ کہیں سے اسے کوئی ثبوت ہاتھ لگے تو وہ بازپرس کر سکے۔ کمرے میں آنے کے بعد رحمان اپنے موبائل میں مصروف تھا، تب نسرین نے پوچھا، "لان میں آپ فضا سے کیا بات کر رہے تھے؟ وہ بہت غصے میں اندر آئی تھی۔" یہ سننا تھا کہ رحمان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ "کک... کیا مطلب؟" رحمان کے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے۔ "کیا کہنا چاہتی ہو تم؟ مجھ پر شک کر رہی ہو؟ میں تو بس ظریف کا پوچھ رہا تھا، وہ اکیلی کھڑی تھی تو خیریت پوچھی، تم ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟" نسرین کی نظریں رحمان پر مرکوز تھیں اور رحمان کی آواز اور اس کی آنکھیں کہیں نہ کہیں جھوٹ بول رہی تھیں۔ اس کا بار بار نظریں ادھر ادھر گھمانا اور چہرے پر اتنی پریشانی دیکھ کر نسرین بولی، "آپ تو ایسے ڈر رہے ہیں جیسے میں نے کوئی چوری پکڑ لی ہو۔"

رحمان نے کچھ کہنے کے بجائے بیڈ سے اٹھ کر اپنا فون چارج پر لگایا اور واش روم چلا گیا۔ اتنے میں موبائل پر وائبریشن ہونے لگی، سکرین پر "عثمان کالنگ" آ رہا تھا۔ نسرین نے فون اٹھا کر کان سے لگا لیا۔ دوسری طرف سے آواز آئی، "رحمان! فون کیوں بند کر دیا تھا؟ کیا بتا رہے تھے فضا کے بارے میں؟ وہ آج گھر کیوں آئی تھی؟" نسرین ششدر رہ گئی! کچھ تو ہے جو وہ نہیں جانتی۔ فضا کا رحمان سے کیا تعلق ہے؟ آخر رحمان کیا چھپا رہا ہے؟ دروازہ کھلنے کی آواز پر نسرین نے لائن کاٹ دی اور فون چارجنگ پر لگا دیا۔ وہ خود ایک طرف ہو کر بیڈ شیٹ صحیح کرنے لگی۔ رحمان نے آ کر سائیڈ ٹیبل سے اپنی دوا نکالی، "اگر تمہاری بیڈ شیٹ صحیح ہو گئی ہو تو لائٹ آف کر دو، میں نے آرام کرنا ہے۔" نسرین لائٹ آف کر کے باہر آ گئی، اسے اندر ویسے بھی گھٹن ہو رہی تھی۔

انیل نیند میں تھا جب اسے لگا کہ اس کا فون بج رہا ہے۔ اس نے سائیڈ پر رکھا فون اٹھایا اور "ہیلو" کہا۔ اسے لگا ریجا کی آواز ہے، مگر دوسری طرف رمشا تھی۔ "انیل کیسے ہو؟ میں نے تمہاری طبیعت کے لیے فون کیا ہے۔" انیل کی آواز نیند میں بوجھل تھی، تب رمشا نے کہا، "تم شاید سو رہے تھے، میں کسی اور وقت کر لوں گی، تم سو جاؤ۔" انیل نے "اوکے" کہہ کر فون رکھ دیا۔ دوسری طرف رمشا نے برا سا منہ بنایا، "سڑیل کہیں کا!"

ظریف کمرے میں آیا تو دیکھا فضا آنکھوں پر بازو رکھے لیٹی تھی۔ وہ میاں جی کے ساتھ زمینوں کا حساب دیکھ رہا تھا اس لیے دیر ہو گئی تھی۔ اس نے آواز دی، "فضا!" تو فضا نے دیکھا، "آپ ابھی آئے ہیں؟" ظریف بولا، "ہاں، ذرا حساب دیکھ رہا تھا۔" فضا نے کہا، "آپ کو کیا ضرورت ہے یہ سب ٹینشن پالنے کی؟ مانی اتنے سالوں سے دیکھ تو رہا ہے، اسے ہی کرنے دیں۔ ہم نے باہر جانا ہے، ہم ہمیشہ کے لیے تو نہیں آئے۔" تب ظریف نے کہا، "فضا! اتنے سالوں کے بعد میں اپنے ملک آیا ہوں اور میاں جی عمر کے جس حصے میں ہیں، وہ یہ سب نہیں دیکھ سکتے۔ میں دوبارہ وہ غلطی نہیں کرنا چاہتا۔ میں ابھی دو ماہ یہاں ہوں، پھر باہر کا چکر لگا کر واپس ادھر ہی آنا ہے۔" فضا اٹھ کر بیٹھ گئی، "ظریف! بچوں کی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں، ان کی سکولنگ وہاں کی ہے۔ آپ کا پاکستان سیٹل ہونے کا ارادہ تو نہیں؟" پریشانی نے اسے آ گھیرا۔ ظریف نے بتایا، "یہ ہو بھی سکتا ہے کیونکہ میاں جی بہت بیمار رہتے ہیں۔ میرے بعد امی کا کون ہے؟ مانی کو انہوں نے پالا ہے، یتیم کی پرورش کی ہے، لیکن اصل مالک تو میں اور میری بہنیں ہیں۔"

فضا نے دو ٹوک کہا، "میں اپنے بچوں کے ساتھ باہر رہوں گی، میں یہاں ایڈجسٹ نہیں ہو سکتی۔ میں نے وہاں کافی وقت گزار لیا ہے۔" ظریف نے بات ختم کرتے ہوئے کہا، "ابھی کون کہہ رہا ہے کہ تم اور بچے شفٹ ہو، لیکن مستقبل میں میرے بچوں نے یہیں آنا ہے، اپنے باپ دادا کی زمینیں اور فیکٹری سب انہوں نے ہی دیکھنی ہے۔ اب سو جاؤ، میں تھک گیا ہوں۔" فضا کے لیے ایک نئی آزمائش کا آغاز ہونے لگا تھا۔ وہ تو جلدی جانا چاہتی تھی اور ظریف یہاں رہنے کا پلان بنا کر بیٹھے تھے۔

ظریف تو سو گیا لیکن فضا کے لیے ایک نئی پریشانی کا اضافہ کر گیا۔ وہ ان سب کی چاہت کی مقروض تھی، اتنے دنوں میں ان سب گھر والوں نے اسے عزت، مان، پیار اور مقام دیا تھا، مگر وہ جانتی تھی کہ یہاں رہنے کا مطلب ہے رحمان سے سامنا ہونا۔ اور رحمان نے نہ جانے کتنی بار ہی اسے یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ وہ اس کی پسند تھی۔ فضا کسے یہ سب بتائے؟ اس کے والدین بھی نہیں تھے۔ ظریف کو بتائے مگر کیسے؟ وہ کیا سوچے گا کہ پہلے کیوں نہیں بتایا؟ اور اگر نہیں بتاتی اور رحمان کوئی الٹی حرکت کر دیتا ہے تو اس کے امیج کے ساتھ ظریف کا بھروسہ بھی اٹھ جائے گا۔ وہ کس کس کو صفائیاں دے گی؟ اور پھر یہ رحمان کوئی باہر کا نہیں، ان کی بہن کا ہی شوہر ہے، اس طرح نسرین آپا کی ازدواجی زندگی بھی ڈسٹرب ہوگی۔ "اف! میں کہاں پھنس گئی ہوں، اس سے اچھا تھا پاکستان آتی ہی نہیں، اپنی زندگی میں کتنی خوش تھی، مجھے کیا پتہ تھا کہ رحمان سے یوں سامنا ہو جائے گا۔"

روہن اور سمرہ ریجا کے گھر آگئے تھے۔ ریجا آج بھی یونیورسٹی نہیں گئی تھی، تب زرمینے نے ان دونوں کو ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا اور خود کچن میں چائے کا کہنے چلی گئی۔ ریجا ان دونوں کو دیکھ کر خوش ہو گئی، وہ دونوں اس سے گلہ کرنے لگے کہ ٹرپ پر جانا بھی کینسل کر دیا اور یونیورسٹی بھی نہیں آ رہی۔ "فائنل اسیسمنٹ ہونی ہے، پراجیکٹ مکمل ہو گئے؟" ریجا نے پوچھا۔ روہن نے کہا، "کلاس کے سب لوگوں نے جمع کروا دیے ہیں، اب تم کل آؤ، آج آنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ اپنی سٹڈیز پر سیریس ہو جاؤ۔ تم نے اتنی اچھی پینٹنگ بنائی تھی، سر نے بہت تعریف کی تھی۔ آرٹ گیلری میں ایگزیبیشن بھی ہے اور سر نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے آرٹ کے سیمپلز وہاں رکھنے کا موقع بھی ملے گا۔" ریجا باتوں میں مگن تھی کہ ملازمہ چائے کی ٹرالی لے آئی۔ روہن نے پوچھا، "انیل کے گھر جا رہے ہیں یہاں سے واپسی پر، تم ساتھ چلو گی؟" ریجا نے کہا، "میں کیسے جا سکتی ہوں بابا کی پرمیشن کے بغیر؟" تب سمرہ نے کہا، "یہ اب بھی مجبور ہیں، میڈم کے نکاح ہونے کے بعد بھی!" ریجا نے اسے ٹوکا، "خاموش رہو! ابھی یہاں کسی ملازم کو بھی نہیں پتہ۔"

سمرہ کے خاموش ہو جانے پر روہن نے آہستہ سے کہا، "کب تک چھپاؤ گی؟ ایک نہ ایک دن تو پتہ لگے گا، تب کیا ہوگا؟" ریجا نے کہا، "تب کی تب دیکھی جائے گی، ابھی تو پریشان نہ کرو اور یہ رول سموسے کھاؤ، ہماری کک بہت مزے کے بناتی ہے۔" تب وہ دونوں چائے اور لوازمات سے لطف اندوز ہونے لگے۔

عثمان کی مسڈ کالز دیکھ کر رحمان صاحب نے کال بیک کی۔ عثمان نے کہا، "کل بھی تمہیں فون کیا، تم نے ریسیو نہیں کیا اور بات پوری سنے بغیر کال کاٹ دی۔" رحمان نے کہا، "کل بس ایک بار ہی بات ہوئی تھی، وہ بھی دن میں، رات میں تم نے کال نہیں کی۔" عثمان نے کہا، "اپنی فون ہسٹری چیک کرنا۔" رحمان نے دیکھا تو واقعی کالز آئی ہوئی تھیں۔ "اگر میں نے ریسیو نہیں کی تو کس نے کی؟ میں کل روم میں تھا... اوہ اچھا! جب میں چارج پر لگا کر گیا تھا تب کال آئی ہوگی، کیا وہ کال نسرین نے ریسیو کی؟" اس نے دوبارہ عثمان کو کال ملائی، "کل جب تم نے کال ملائی تو کیا کہا تھا؟ کیونکہ میں نہیں تھا، وہ کال نسرین نے ریسیو کی ہوگی، مجھے یقین ہے اس وقت روم میں وہی تھی۔" عثمان نے کہا، "میں نے فضا کا پوچھا تھا کہ وہ کیوں آئی تھی۔"

رحمان نے ماتھا پیٹا، "اچھا! میں سمجھ گیا، تبھی نسرین بار بار مجھ سے فضا کا پوچھ رہی تھی، اسے مجھ پر شک ہو گیا ہے۔" عثمان نے کہا، "میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ تمہارا رویہ کسی دن تمہیں مروا دے گا۔ جوان بیٹی کے باپ ہو، ہوش کرو! اتنی اچھی بیوی ملی ہے، کیوں پھر سے فضا کا چیپٹر کھول بیٹھے ہو؟ سوائے رسوائی کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ میں دوست ہوں، سمجھا رہا ہوں، اگر نسرین کو یقین ہو گیا تو تم ریجا اور نسرین دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔ مجھے پتہ ہے نسرین بھابھی بہت کیئرنگ اور وفا شعار ہیں، کبھی تمہاری الٹی باتوں کا جواب بھی نہیں دیا۔ تم اب اس عمر میں کوئی ایسی حرکت نہ کرنا کہ سارے زمانے میں تماشہ بن جاؤ۔ تم نے اپنی بیٹی کی شادی بھی کرنی ہے، بیٹی کو طعنے ملیں گے، سدھر جاؤ میرے دوست!" عثمان کے کہنے پر رحمان نے گہری سانس لی جیسے اس پر کوئی اثر نہ ہوا ہو، بس "اچھا" کہہ کر فون رکھ دیا۔

فضا نے رو رو کر اپنی آنکھیں سجا لی تھیں۔ اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا اور وہ بستر پر بیٹھی خود کلامی کر رہی تھی۔ اسی دوران مانی، جو اتفاقاً کمرے کے پاس سے گزر رہا تھا، فضا کی سسکیوں کی آواز سن کر وہیں رک گیا۔

"ماما، پاپا! آپ کیوں اتنی جلدی چلے گئے؟ میں اتنی مشکل میں ہوں، میں کیا کروں؟ میں کیسے خود کو اس رحمان سے محفوظ رکھوں؟" فضا کی آواز میں بے پناہ کرب تھا۔ "ماضی میں بھی میں اس میں ذرہ برابر انٹرسٹڈ نہیں تھی اور اب تو ہم دونوں کی اپنی فیملیز ہیں۔ کیا میں مانی سے بات کروں؟ ہو سکتا ہے وہ میری بات سنے اور میری مدد کر سکے۔۔۔"

مانی اپنا نام سن کر ششدر رہ گیا! اس کے پیر زمین میں گڑھ گئے۔ "مامی مجھ سے کیا بات کرنا چاہتی ہیں؟ اور رحمان کا ماضی سے کیا تعلق ہے؟" ابھی وہ ان ہی سوچوں میں گم تھا اور صدمے کی کیفیت میں وہیں کھڑا تھا کہ پیچھے سے ظریف کی آواز آئی۔

"مانی! تم یہاں کمرے کے باہر کیا کر رہے ہو؟"

ظریف ماموں کی اچانک آواز سن کر مانی کے جیسے ہوش اڑ گئے۔ وہ وہیں ساکت کھڑا ظریف کو دیکھنے لگا، جبکہ اندر سے فضا کی سسکیاں ابھی بھی سنائی دے رہی تھیں۔ مانی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ اب کیا جواب دے۔

آگے کیا ہوا؟ دیکھیے "میرا ماہی" کی اگلی قسط، صرف میرے بلاگ پر!

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ "عشرت زاہد" محفوظ ہیں۔ اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو مصنفہ کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی پلیٹ فارم، ویب سائٹ، فیس بک پیج، یوٹیوب چینل یا آڈیو بک کی صورت میں شیئر کرنا قانونی جرم ہے۔ ایسا کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔

ڈسکلیمر (Disclaimer)

نوٹ: یہ ناول "میرا ماہی" ایک افسانوی تحریر ہے۔ اس کے تمام کردار، مقامات اور واقعات محض تخیل کی پیداوار ہیں۔ اس کا مقصد کسی بھی زندہ یا مردہ شخص، ادارے یا مذہب کی دل آزاری کرنا ہرگز نہیں ہے۔ کہانی میں کسی بھی قسم کی مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی۔

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22