میرا ماہی - قسط نمبر 18
میرا ماہی
- قسط نمبر 18
ظریف کے اچانک پوچھنے پر مانی اپنی جگہ ساکت رہ گیا، جیسے اس کے حواس جواب دے گئے ہوں۔ اس نے خود کو سنبھالا اور گھبرائی ہوئی آواز میں کہا، "وہ... ماموں! میں مامی کی طبیعت پوچھنے آیا تھا۔ ان کے سر میں درد تھا تو میں نے سوچا پوچھ لوں، اگر ڈاکٹر کے پاس جانا ہے تو میں حاضر ہوں۔" ظریف نے مانی کی بات سن کر سر ہلایا اور کہا، "تو باہر کیوں کھڑے ہو؟ اندر آ جاؤ۔ میں بھی اسی لیے جلدی آیا ہوں کہ مجھے فضا کی طبیعت صحیح نہیں لگ رہی تھی۔ رات بھی وہ ٹھیک سے سو نہیں پائی تھی۔"
باہر سے آوازیں سن کر فضا نے خود کو سنبھالا اور جلدی سے واش روم میں چلی گئی تاکہ منہ دھو کر خود کو فریش کر سکے۔ وہ اس وقت کسی سے بات کرنے یا صفائیاں دینے کے موڈ میں نہیں تھی۔ جب ظریف اور مانی کمرے میں داخل ہوئے تو مانی نے دیکھا کہ فضا مامی وہاں موجود نہیں تھیں۔ ظریف نے مانی کو صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود فضا کا انتظار کرنے لگا۔
تھوڑی دیر میں فضا واش روم سے نکلی تو مانی نے غور سے ان کے چہرے کو دیکھا۔ آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور چہرہ مرجھایا ہوا تھا۔ اس سے پہلے کہ مانی کچھ کہتا، ظریف بول اٹھا، "فضا! اگر اتنی طبیعت خراب تھی تو مانی کے ساتھ چلی جاتیں۔ دیکھو، یہ بچہ بھی کتنا پریشان ہے۔" فضا نے دھیمی آواز میں جواب دیا، "بس تھوڑا سا ٹمپریچر ہے، ٹھیک ہو جائے گا۔ میں نے میڈیسن لے لی ہے۔" مانی نے فوراً ٹوکا، "مامی! آپ نے خالی پیٹ دوا کھا لی؟ کچھ کھایا بھی نہیں!" ظریف نے فکر مندی سے کہا، "میں خانساماں کو کہہ کر آتا ہوں کہ وہ سوپ بنا دے۔" یہ کہہ کر ظریف کمرے سے باہر نکل گیا، جبکہ مانی اسی موقع کے انتظار میں تھا کہ اسے فضا مامی سے بات کرنے کا وقت ملے۔
فضا نے مانی کی طرف دیکھا اور پوچھا، "مانی! تم کیوں پریشان ہو؟" مانی نے سنجیدگی سے جواب دیا، "میں آپ کے لیے پریشان ہوں۔ کچھ دنوں سے، بلکہ یوں کہیں کہ جب سے وہ دعوت ہوئی ہے، آپ بہت الجھی ہوئی ہیں۔ آپ مجھ سے کہہ سکتی ہیں۔ ظریف ماموں بھی اپنی ہر پرابلم مجھ سے شیئر کرتے آئے ہیں۔ میاں جی جب غصے میں ہوتے تھے اور کسی سے بات نہیں کرتے تھے، تب میں ان کی باتیں سنتا تھا تاکہ ان کے دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے۔" فضا نے ایک گہرا سانس لیا اور بات ٹالتے ہوئے کہا، "مانی! جب کچھ کہنا ہوگا تو بتا دوں گی، ابھی میں آرام کرنا چاہتی ہوں۔" مانی بوجھل دل کے ساتھ کمرے سے باہر آ گیا۔
مانی کے ذہن میں اب خیالات کی کھچڑی پک رہی تھی۔ وہ کسی صورت رحمان کی کسی چال کو فضا مامی کے خلاف کامیاب نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔ اسے رحمان سے شروع سے ہی ایک مسئلہ تھا؛ رحمان باقی سب کی طرح مانی کو گھر کا فرد نہیں بلکہ ایک نوکر یا سپروائزر سمجھتے تھے۔ رحمان صاحب کی نظر میں انسان سے زیادہ پیسے کی اہمیت تھی، اور اسی تناظر میں وہ اپنے بیٹے کا سودا کرنے کا بھی سوچ بیٹھے تھے، اس بات سے بے خبر کہ ان کا بیٹا اپنی مرضی کر چکا ہے۔ مانی سوچ رہا تھا کہ وہ کتنے طوفان سنبھالے بیٹھا ہے: ریجا اور انیل کا نکاح، رحمان صاحب کی فضا مامی کے لیے وہ عجیب سی کشش، اور ریجا کے بابا کا ماضی۔ مانی کا سر چکرانے لگا کہ وہ کرے تو کیا کرے؟
دوسری طرف ریجا نے انیل کو فون کیا۔ انیل نے اسکرین دیکھے بغیر چڑ کر کہا، "رمشا! جب میں کہہ چکا ہوں کہ میں تم سے بعد میں بات کروں گا، تو بار بار فون کیوں کر رہی ہو؟" ریجا نے ہنستے ہوئے کہا، "انیل! میں ریجا بات کر رہی ہوں۔" انیل نے جلدی سے فون کان سے لگایا، "اوہ ریجا! تم کیسی ہو؟ ہسپتال کے بعد سے نہ فون کیا نہ ملنے آئیں، مجھے تو لگا تم بھول گئی ہو۔" ریجا نے اداسی سے کہا، "انیل! اتنی پریشانیاں ہیں کہ سنو گے تو حیران رہ جاؤ گے۔" پھر ریجا نے اسے اپنے بابا کی پہلی شادی اور اپنی ماں کے ساتھ ان کے رویے کی ساری کہانی سنا دی۔
انیل نے ریجا کا دکھ محسوس کیا اور اسے تسلی دیتے ہوئے کہا، "ریجا! وہ شادی زبردستی کی تھی، اس لیے ایسا ہوا۔ لیکن ہم ایک دوسرے کے ساتھ ایسا نہیں کریں گے۔ اگر بابا نے کہا کہ جائیداد چھوڑنی پڑے گی، تو میں چھوڑ دوں گا لیکن تمہارا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ تمہارا پیار میری رگوں میں دوڑتا ہے۔ تم ٹینشن فری ہو جاؤ۔" ریجا کا دل تھوڑا ہلکا ہوا۔ اس نے بتایا کہ کل سے اسے یونیورسٹی جانا ہے کیونکہ اسائنمنٹس جمع کروانی ہیں۔ انیل نے اسے خوشخبری سنائی کہ اس ماہ کے آخر تک اس کا پلاسٹر بھی کھل جائے گا اور وہ بھی ایگزام دے سکے گا۔ ابھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ریجا کو اپنے بابا کی آواز سنائی دی اور اس نے جلدی سے فون رکھ دیا۔
سراج صاحب نے ریجا کے کمرے پر دستک دی اور پوچھا، "تمہاری مما کہاں ہیں؟ پورے گھر میں دیکھ لیا، کہیں نظر نہیں آرہیں۔" ریجا بھی حیران رہ گئی کیونکہ اس کی ماں اسے بتائے بغیر کہیں نہیں جاتی تھیں۔ انہوں نے پورے گھر اور لان میں ڈھونڈا، یہاں تک کہ سرونٹ کوارٹر کی طرف گئے۔ وہاں پتہ چلا کہ زرمینے گارڈ کے کمرے میں تھیں، جہاں اس کا بیٹا شدید بخار میں رو رہا تھا۔ زرمینے نے رحم دلی دکھاتے ہوئے گارڈ کو ڈاکٹر کے پاس بھیجا تھا اور خود اس کی بیوی کو سمجھا رہی تھیں۔
سراج صاحب نے یہ سب دیکھا اور طنزیہ لہجے میں کہا، "اگر آپ کا سوشل ورک ختم ہو گیا ہو تو اندر چلیں۔" زرمینے جب اندر آئیں تو کہنے لگیں، "آپ دونوں مجھے کیوں ڈھونڈ رہے تھے؟ میں کب سے آپ لوگوں کے لیے اتنی اہم ہو گئی؟" ریجا نے ماں کو گلے لگایا، "مما! میرے لیے آپ سب سے اہم ہیں۔" سراج صاحب نے اچانک زرمینے کا ہاتھ پکڑا اور کہا، "اہم تو ہیں آپ۔" زرمینے حیران رہ گئیں کہ سراج اتنے آرام سے کیسے بات کر رہے ہیں۔ اس نے پوچھا، "کیا واقعی میں آپ کے لیے اہم ہوں؟ کیا میں آپ کی زندگی میں آنے والی پہلی اور آخری عورت ہوں؟" سراج چلتے چلتے رک گئے اور بولے، "نہیں۔۔۔" ریجا کا سانس رک گیا کہ کیا بابا سچ بتانے والے ہیں؟ مگر سراج نے بات پلٹتے ہوئے کہا، "تمہارے بعد ریجا آ گئی تھی، تو میری زندگی میں دو خواتین ہو گئیں۔" ریجا نے سکھ کا سانس لیا اور زرمینے مسکراتی ہوئی کچن میں چلی گئیں۔
ادھر رمشا اپنے بابا کو فون ملا رہی تھی، مگر مسلسل فون مصروف جا رہا تھا جس کی وجہ سے وہ شدید کوفت اور جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہو رہی تھی۔ آخر کار بیزار ہو کر اس نے فون ایک طرف رکھا اور سوچا کہ باہر آؤٹنگ پر چلی جائے، کہ اچانک موبائل کی اسکرین پر "پاپا کالنگ" چمکنے لگا۔
رمشا نے فون اٹھاتے ہی گلے بھرے لہجے میں کہا، "پاپا! میں کب سے فون کر رہی ہوں، آپ کہاں مصروف تھے؟" دوسری طرف سے اس کے بابا نے جواب دیا، "بیٹا! میں ایک بہت ضروری بات کر رہا تھا۔" رمشا نے تجسس سے پوچھا، "کون تھا جس کے ساتھ آپ اتنے مصروف تھے؟"
تب رمشا کے پاپا نے انکشاف کیا، "میں ہاشم اینڈ گروپ کے اونر سے بات کر رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ سراج کے کسی آدمی نے اس کے اس خاص بندے کو پکڑوا دیا ہے جس نے انیل پر حملہ کیا تھا۔" رمشا حیرت سے بولی، "پاپا! آپ کا ہاشم سے کیا لینا دینا؟"
وہ بولے، "بیٹا! بزنس میں ایسے تعلقات رکھنے پڑتے ہیں، تم ابھی بچی ہو۔ کل کو جب انیل کی صورت میں سب تمہارا ہو جائے گا، تو میں ہاشم کے ساتھ کام کروں گا اور رحمان کو بیچ میں سے نکال دوں گا۔ میں نے اسے بہت کہا کہ ہاشم سے دوستی کا رابطہ بڑھائے، مگر وہ نہیں مانا۔ یہ حملہ ہاشم نے ہی کروایا تھا۔ وہ ہائی وے والی زمین کو لے کر میں نے رحمان کو سمجھایا بھی تھا کہ وہ طاقتور لوگ ہیں، تم ان سے مت الجھو، مگر وہ نہیں مانا۔ دیکھو، اب مارکیٹ میں ہاشم کے شیئرز کتنی تیزی سے اوپر جا رہے ہیں اور رحمان کی کمپنی نیچے کی طرف گر رہی ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ رحمان کی کمپنی سے اپنا حصہ نکال کر ہاشم کی کمپنی میں لگا دوں، لیکن اس کے لیے مجھے صبر کرنا ہے اور تمہیں میرا ساتھ دینا ہوگا۔"
"وہ کیسے پاپا؟" رمشا نے الجھن میں پوچھا۔
تب وہ بولے، "تم انیل کو اپنی محبت کے جھوٹے جال میں پھنساؤ۔ جب ہمارا کام ہو جائے گا تو تم اسے چھوڑ دینا، میں کون سا تمہیں ساری زندگی اس کے ساتھ رہنے کو کہہ رہا ہوں۔" رمشا نے بیزاری سے کہا، "لیکن پاپا! وہ سیدھے منہ بات نہیں کرتا، وہ تو ریجا کے پیچھے مرا جا رہا ہے۔"
تب رمشا کے بابا کے لہجے میں سفاکی آگئی، "میں کچھ کرتا ہوں۔ اس ریجا نامی کانٹے کو بھی راستے سے ہٹانا ہی پڑے گا۔ اسے میں ہٹا دوں گا تو تمہارا راستہ خود بخود صاف ہو جائے گا۔ آج ہی میں رحمان سے تمہاری اور انیل کی شادی کی بات کرتا ہوں۔ یہ شادی بس ایک 'ڈیل' ہوگی۔ جیسے ہی انیل سب کچھ تمہارے نام کرے گا، میں اپنا سرمایہ نکال لوں گا اور جو رحمان کا ہے وہ بھی تمہارے نام ہو چکا ہوگا۔ پھر تمہاری مرضی ہوگی، چاہے تم طلاق لے لو یا انیل کے ساتھ رہو۔"
رمشا نے ڈرتے ہوئے پوچھا، "پاپا! اگر اس سب کا کسی کو پتہ لگ گیا تو؟" تب اس کے پاپا کی پراعتماد آواز آئی، "میں نے پوری پلاننگ سے رحمان کو شیشے میں اتارا ہوا ہے، اور رحمان کے آفس میں میرے بھی بااعتماد لوگ کام کرتے ہیں جو مجھے پل پل کی رپورٹ دیتے ہیں۔ تم بس دیکھتی جاؤ اپنے پاپا کے کام... اب بس ریجا کو غائب کرنا ہے!"
(جاری ہے...)
قانونی انتباہ اور جملہ حقوق
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ: اس ناول "میرا ماہی" کے تمام حقوق بحقِ مصنفہ عشرت زاہد (عشرت خانم) محفوظ ہیں۔ اس تحریر کا کوئی بھی حصہ، کہانی کا کوئی بھی موڑ یا مکالمہ مصنفہ کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی ویب سائٹ، سوشل میڈیا پیج (فیس بک، انسٹاگرام، ایکس)، یوٹیوب چینل یا آڈیو بک کی صورت میں شیئر کرنا قانونی جرم ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ڈسکلیمر (دستبرداری): یہ ایک افسانوی کہانی ہے جس کا مقصد صرف اور صرف تفریح ہے۔ اس کہانی کے تمام کردار، نام، مقامات اور واقعات مصنفہ کے تخیل کی پیداوار ہیں۔ اس کا کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا مردہ) یا حقیقی واقعے سے تعلق
محض اتفاقیہ ہوگا۔
Comments
Post a Comment