ناول: میرا ماہی — قسط نمبر 2
میرا ماہی
ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ باہر گاڑی کا ہارن سنائی دیا۔ مانی نے دیکھا کہ انیل آ گیا ہے۔ انیل کا اکثر یہاں آنا محض میاں جی سے ملنا نہیں ہوتا تھا بلکہ ریجا سے ملاقات کا بہانہ ہوتا تھا۔ انیل نے گاڑی کھڑی کی اور مانی سے گلے مل کر اپنے دل کا حال سنایا، "یار مانی! آج میں میاں جی سے ریجا اور اپنے بارے میں بات کرنے آیا ہوں، ہم کب تک اپنے باپوں کی ضد سے ڈرتے رہیں گے؟" ابھی وہ اندر گیا ہی تھا کہ ایک گرے کرولا اندر داخل ہوئی۔ مانی سمجھ گیا کہ ریجا بھی آ پہنچی ہے۔ ریجا کو دیکھ کر مانی مسکرایا تو وہ چڑ کر بولی، "مانی! کیا میں تمہیں جوکر لگ رہی ہوں؟" مانی ہنستے ہوئے بولا، "نہیں جی، بس آپ دونوں کے اترے ہوئے چہرے دیکھ کر ہنسی آ گئی کہ محبت کے اظہار کا وقت ہی نہیں ملتا۔" ریجا جھینپ گئی جیسے چوری پکڑی گئی ہو اور نانو کا پوچھتی ہوئی اندر بھاگ گئی۔ مانی مسکراتے ہوئے سوچنے لگا کہ یہ سب اسے کتنا بے وقوف سمجھتے ہیں۔
اندر کی طرف جاتے ہوئے انیل کے ذہن میں خیالات کا ایک طوفان تھا کہ میاں جی سے بات کہاں سے شروع کرے۔ شرم، لحاظ اور بڑوں کا ادب ہمیشہ آڑے آ جاتا تھا۔ ہر جمعہ کو تمام بچے یہاں اکٹھے ہوتے تھے، مگر میاں جی کو ریجا اور انیل سے خاص لگاؤ تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہی وہ دو وجود ہیں جو خاندان کی برسوں پرانی دشمنی کو ختم کر کے اسے دوبارہ جوڑ سکتے ہیں۔ وہ دونوں کے دلوں کے راز سے واقف تھے، بس صحیح وقت کے منتظر تھے کہ جب انیل خود کو کسی قابل بنا لے تو وہ ان کے والدین سے بات کریں۔ انہوں نے دونوں کو باہر کہیں ملنے سے سختی سے منع کر رکھا تھا، اسی لیے میاں جی کا گھر ان کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ تھی جہاں وہ اپنی تربیت اور حدود میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے بات کر سکتے تھے۔
"میاں جی! کیسے ہیں آپ؟" سلام کے بعد انیل ان کے قریب بیٹھ گیا تو میاں جی کا چہرہ کھل اٹھا۔ "میں ابھی تمہارا ہی پوچھنے والا تھا کہ آج جمعہ ہے اور انیل اب تک کیوں نہیں آیا؟" انیل نے بتایا کہ یونیورسٹی سے واپسی پر والد صاحب نے فیکٹری کے کام سے بھیج دیا تھا، وہاں سے فارغ ہو کر سیدھا آپ ہی کے پاس آ رہا ہوں۔ میاں جی مسکرائے، "میرے پاس یا ریجا کو دیکھنے؟" انیل نے شرم سے آنکھیں جھکا لیں۔ تب میاں جی سنجیدگی سے بولے، "محبت کرنا بری بات نہیں، اسے نبھانا بڑی بات ہے۔ میں نے بھی تمہاری دادی سے محبت کی تھی اور آج تک نبھا رہا ہوں۔" روشن آرا بیگم شرما گئیں، "آپ بھی بچوں کے سامنے کیسی باتیں کرتے ہیں۔" مگر میاں جی نہ رکے، "اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ سات پردوں میں چھپ کر محبت کی جائے۔ آج کا دور نیا ہے، بچے دل کے سچے ہیں، بس بڑوں کو عقل کرنی چاہیے۔ رشتے زبردستی نہیں بنتے، بچوں کی مرضی پوچھنا ضروری ہے۔"
اسی اثنا میں ریجا "نانو!" کہتی ہوئی اندر آئی اور روشن آرا بیگم سے لپٹ گئی۔ میاں جی سے پیار لینے کے بعد اس نے لاڈ سے پوچھا، "آج کیا بنایا ہے؟ جلدی بتائیں بھوک لگی ہے۔" نانو نے مانی کو آواز دی کہ بوا سے کہو بچوں کے لیے جو چیزیں بنوائی ہیں وہ میز پر لگا دیں، ہم سب وہیں چائے پئیں گے۔ مانی، جسے گھر کے تمام ملازم اپنا لیڈر مانتے تھے، فوراً کچن کی طرف لپکا۔
چائے کے بعد لان میں ٹہلتے ہوئے ریجا نے بے چینی سے پوچھا، "انیل! ہم کب تک نانا میاں کے گھر چھپ کر ملتے رہیں گے؟" انیل نے ٹھنڈی آہ بھری، "شکر کرو یہاں کی اجازت ہے، باہر تو سخت پابندی ہے۔ تم جانتی ہو ہمارے باپ ایک دوسرے کے کتنے بڑے دشمن ہیں۔ پتا نہیں یہ ضد کب ختم ہوگی۔" ابھی وہ بات کر ہی رہے تھے کہ مانی وہاں پہنچا۔ انیل نے مذاقاً کہا، "تمہاری ہی کمی تھی۔" مگر مانی کے چہرے پر سنجیدگی تھی، اس نے بتایا کہ رحمان صاحب (انیل کے والد) کسی ضروری کام سے یہاں آ رہے ہیں۔
والد کا نام سنتے ہی انیل کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ مانی اس کی حالت دیکھ کر ہنس پڑا، "آپ تو ایسے ڈر رہے ہیں جیسے ہٹلر آ رہا ہو۔" انیل نے وقت ضائع کیے بغیر اندر جا کر میاں جی سے اجازت لی اور گاڑی لے کر وہاں سے نکل گیا کہ کہیں کوئی نیا ہنگامہ نہ کھڑا ہو جائے۔ ریجا نے بھی ڈرائیور کے ساتھ گھر جانے میں ہی عافیت سمجھی، وہ بھی رحمان خالو کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی۔
(جاری ہے...)
قانونی انتباہ اور جملہ حقوق
ڈسکلیمر (اعلانِ لاتعلقی): > یہ کہانی مکمل طور پر ایک افسانوی تحریر ہے۔ اس کے تمام کردار، نام اور واقعات مصنفہ کے تخیل کی تخلیق ہیں۔ کسی بھی حقیقی شخص یا واقعے سے مماثلت محض اتفاقی تصور کی جائے گی۔
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026 عشرت زاہد اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو مصنفہ کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی صورت میں (بشمول فوٹو کاپی، ریکارڈنگ، یا کسی بھی دوسرے الیکٹرانک یا مکینیکل طریقے سے) نقل، شائع یا تقسیم کرنا قانونی جرم ہے۔

Comments
Post a Comment