ناول: میرا ماہی قسط نمبر 3:

میرا ماہی


قسط نمبر: 3

سورج کی تمازت دھیرے دھیرے کم ہو رہی تھی، مگر میاں جی کے ڈرائنگ روم میں تپش بڑھتی جا رہی تھی۔باہر لان میں پرندوں کی چہچہاہٹ کے برعکس اندر کا ماحول بوجھل تھا۔ رحمان صاحب، جن کے چہرے پر ہمیشہ ایک مخصوص کاروباری سختی رہتی تھی، آج ضرورت سے زیادہ مضطرب دکھائی دے رہے تھے۔ "میاں جی! میں یہاں کسی پرانی رشتہ داری کی دہائی دینے نہیں آیا،" رحمان صاحب نے چائے کی پیالی میز پر رکھتے ہوئے کہا، ان کے لہجے میں کڑواہٹ صاف جھلک رہی تھی۔ "سراج اپنی حدیں پار کر رہا ہے۔ جس جگہ میں نے اپنی نئی ٹیکسٹائل فیکٹری کا سنگِ بنیاد رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اس کے بالکل برابر والی زمین پر اس نے اپنی نظریں گاڑ لی ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ یہ میرے بزنس کا پھیلاؤ ہے، مگر وہ جان بوجھ کر میرے کام میں ٹانگ اڑا رہا ہے۔" میاں جی نے عینک کے پیچھے سے رحمان صاحب کو دیکھا اور تحمل سے بولے، "رحمان! زمینیں تو آتی جاتی رہتی ہیں، پرانے تعلقات کا پاس کرنا سیکھو۔ سراج بھی تو اسی خاندان کا حصہ ہے۔" "خاندان؟" رحمان صاحب طنزیہ ہنسے۔ "خاندان وہ ہوتا ہے جو ساتھ دے، وہ نہیں جو ہر موڑ پر رکاوٹ بنے۔ میاں جی! آپ اسے سمجھا دیں کہ وہ اس زمین کا خیال اپنے دل سے نکال دے، ورنہ میں کوئی ایسا سخت قدم اٹھاؤں گا کہ وہ اپنی باقی زمینوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا۔"

بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ رحمان صاحب نے دوسرا وار کیا۔ "اور ایک بات اور... انیل کا یہاں آن جانا مجھے اب ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ میں جانتا ہوں کہ ریجا بھی یہاں آتی ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ میرا بیٹا اس دشمنی کی آگ میں جھلسے یا کسی ایسے رشتے میں بندھے جو ہمیں مزید کمزور کر دے۔ میں نے انیل کا مستقبل طے کر لیا ہے۔ میرے پارٹنر کی بیٹی 'رمشا' لندن سے تعلیم مکمل کر کے واپس آ رہی ہے۔ میں نے اس کی شادی رمشا سے کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ میرا بزنس بھی محفوظ رہے اور انیل بھی ان فضول جذباتی رشتوں سے بچ جائے۔

 

" میاں جی کی خاموشی رحمان صاحب کو فتح کا احساس دلا رہی تھی، مگر جیسے ہی وہ جانے کے لیے اٹھے، میاں جی کی آواز گونجی۔ "رحمان! غصہ تھوک دو... ظریف واپس آ رہا ہے، اپنی اہلیہ فزا اور بچوں کے ساتھ۔" یہ نام سنتے ہی رحمان صاحب کے قدم جیسے فرش سے چپک گئے۔ 'فزا'... یہ صرف ایک نام نہیں تھا، بلکہ ان کے ماضی کا وہ ادھورا باب تھا جسے وہ برسوں پہلے بند کر چکے تھے۔ ان کے ذہن میں ایک دم سے وہ سرد شامیں اور فزا کا وہ اچانک چلے جانا گھوم گیا۔ غصہ ہوا ہوا اور ایک عجیب سی کسک نے ان کے دل کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ وہ کچھ کہے بغیر، اپنی انا کا بوجھ اٹھائے کمرے سے باہر نکل گئے۔ 

 سائیڈ پر کھڑے مانی کو دیکھے بغیر وہ تیز تیز قدم اٹھاتے گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے۔ مانی تب اتنی تیزی سے نکلا اور اپنے روم میں آ کر فون اٹھا کر نمبر ملانے لگا۔ انیل اسی کے فون کا منتظر تھا اور پہلی بیل پہ کال رسیو کی۔ "ہاں بولو مانی! کیا بات ہوئی؟ کیوں آئے تھے بابا وہاں؟" مانی نے بتایا کہ رحمان صاحب کا جھگڑا چل رہا ہے فیکٹری والی زمین کو لے کر، سراج صاحب کو وہاں سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔ "اور دوسری نیوز یہ ہے کہ ظریف ماموں آ رہے ہیں۔" فزا ممانی کا نام سن کر ان کا غصہ تو بیٹھ گیا، اس کی جگہ ان کا دل بیٹھا ہوا لگ رہا تھا۔ مان لو کوئی چکر ہے تبھی تو وہ نکال کر چلے گئے۔ مانی نے ہنسی روکتے ہوئے کہا، "ایک بات اور، آپ کو مبارک ہو! آپ نے بتایا بھی نہیں کہ آپ کی رمشا سے بات ہوئی ہوئی ہے۔ تو ریجا کو کیا کہیں گے آپ؟ اس سے بس ٹائم پاس کر رہے ہیں؟" انیل تپ کر بولا، "کیسی باتیں کر رہے ہو، میں کیوں کرنے لگا رمشا سے شادی؟" مانی نے کہا، "تیور تو ایسے ہی تھے آپ کے والدِ محترم کے۔" مانی نے ہنسی مشکل سے روکی، انیل کو تاپ چڑھی۔ "مانی اور کوئی بات ہے؟" مانی نے کہا، "ساری تو سنا دی،" تب انیل نے فون بند کر دیا۔ تب مانی بڑبڑایا، "اللہ حافظ تو کہہ دیتے۔ بس اپنا مخبر بنایا ہوا ہے سب کو، خبر چاہیے۔"

ریجا اپنے روم میں بیٹھی رائٹنگ ٹیبل پہ نوٹس بنا رہی تھی تب ہی فون بجنے لگا، سائیڈ پہ دیکھا تو 'نانو کالنگ' آ رہا تھا۔ ریجا نے اٹھا لیا۔ تب روشن آرا بولی، "بتائے بغیر مانی کو کہہ کر چلی گئی، اور جو میں نے بریانی بنوائی تھی اور چکن کڑاہی، وہ کس کے لیے تھی؟" تب ریجا نے بتایا، "نانو سوری! وہ خالو کا سن کر وہاں رک نہیں سکی۔ وہ پھر بابا کے بارے میں اتنا الٹا سیدھا بولتے ہیں۔ بابا جیسے بھی ہیں، میں بیٹی ہوں، نہیں سن سکتی۔" روشن آرا یہ سن کر رکی، پھر بولی، "کرتی ہوں کچھ اس سراج کا بھی۔ میں اپنی بیٹی کو بھی ملنے کو ترستی رہتی ہوں، جب ساتھ لے کر آتا ہے تو مجال ہے جو دو گھڑی ماں بیٹی اکیلے میں بیٹھ کر بات کر لیں۔" تو ریجا بولی، "نانو! دو گھڑی تو وہ ماما ہمیں بھی نہیں دیتی۔ گھر کے کام اور پھر ان کے بعد بابا کے ساتھ وقت کا پتہ ہی نہیں لگتا۔ کہوں گی ماما کو آپ کو فون کریں۔

 اچھا نانو یہ بتائیں کوئی لڑائی تو نہیں ہوئی؟ مانی نے تو ڈرا دیا تھا کہ اب تم لوگوں کی خیر نہیں، تم لوگ پکڑے گئے۔" تب روشن آرا ہنس پڑی، "وہ ایسے ہی ڈراتا ہے، کسی کو نہیں پتہ لگنے دیتے، پھر وہ تم سے ملنے تھوڑی آتا ہے ہم سے باتیں کرنے آتا ہے۔" تب ریجا بولی، "جی نانو! مانی کے منہ سے سنا تھا ظریف ماموں کا، کیا وہ پاکستان آ رہے ہیں؟ ویسے نانو جو البم میں نے دیکھی تھی اس میں تو ظریف ماموں بہت خوبصورت ہیں، کیا اب بھی ویسے ہی ہوں گے؟" تب روشن آرا بولی، "آنکھیں ترس گئیں اسے دیکھنے کو، آئے گا تو بتاؤں گی کیسا لگ رہا ہے۔ ایک ہی بیٹا تھا، منتوں مرادوں سے مانگا تھا، دونوں بہنوں کا لاڈلا تھا۔ چھوٹا تھا ضدی ہو گیا تھا، پڑھنے کی ضد تھی، پھر باہر کام کرنے اور پھر ایسا گیا کہ اسے نہ ماں کی یاد آئی نہ اپنے بابا کی۔" ریجا نے اداس ہوتے دیکھا تو موضوع بدل دیا۔

 "نانو ایک بات بتائیں، کیا آپ مانی کی کہیں شادی کروائیں گی؟" تب وہ بولی، "وہ پہلے کچھ کرنے کے قابل تو ہو! ہزار بار کہا ہے کالج میں ایڈمیشن لے مگر نہ جی، میٹرک اتنی مشکل سے کیا، اب سارا دن ملازموں پہ حکومت کرتا ہے جیسے وہ رعایا ہو اور وہ خود راجہ۔" ریجا نے دیکھا کہ نانو نارمل ہو گئیں تو کہنے لگی، "نانو اب میں پڑھتی ہوں کل میرا ٹیسٹ بھی ہے،" تب نانو نے کہا، "بہت دل لگا کے پڑھنا۔" تب ریجا بولی، "نانو دل تو لگا ہوا ہے بس صحیح سے لگ جائے۔" تب روشن آرا بولی، "بس باز نہ آنا اپنی ان مسخریوں سے، پڑھائی پہ توجہ دو۔ ہمارے وقت میں لڑکیاں اپنے بڑوں سے محبت کی باتیں تک نہیں کرتی تھیں، ایک تم لوگوں کا زمانہ ہے۔" ریجا ہنستے ہوئے بولی، "کیا آپ نے میاں جی کو دیکھا تھا شادی سے پہلے؟" روشن آرا نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا اور اللہ حافظ کہہ کر لائن ڈسکنکٹ ہو گئی۔

کینٹین میں میز پہ چاروں سر جوڑے اس مسئلے کا حل ڈھونڈ رہے تھے کہ ظالم سماج کے درمیان سے ان دونوں لیلیٰ مجنوں کو کس طرح ملوا دیا جائے اور دونوں خاندانوں کی دشمنی دوستی میں بدل جائے۔ ریجا جو انیل کو دیکھے جا رہی تھی، اتنے میں وائٹ سوک آ کے رکی۔ ایک لڑکی اتری، شارٹ شرٹ اور جینز کے ساتھ اس نے تیز میک اپ کیا ہوا تھا، گاڑی میں میوزک فل والیم میں لگا تھا۔ وہ سیدھا ان کی میز پہ آئی اور بولی، "انیل! آر یو دیئر؟" رمشا نے بتایا کہ آج صبح ہی آئی ہے اور ڈائریکٹ ملنے آ گئی۔ "یو نو، مجھے دیکھنا تھا کہ پاپا نے میرے لیے کوئی کارٹون تو پسند نہیں کر لیا، بٹ ماننا پڑے گا تم کافی ڈیشنگ ہو۔" رمشا نے انیل کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے گئی۔

 انیل جب گاڑی میں بیٹھا تو اس کا چہرہ غصے سے تمتما رہا تھا۔ رمشا نے جیسے ہی گاڑی ریورس کی، انیل پھٹ پڑا، "رمشا! تمہیں یونیورسٹی آنے کی کیا ضرورت تھی؟ تمہیں اندازہ بھی ہے تم نے کیا کیا ہے؟" رمشا نے لاپروائی سے ایک زوردار قہقہہ لگایا، "اوہ کم آن انیل! میں تو تمہیں سرپرائز دینا چاہتی تھی۔ تم بھول گئے؟ لندن میں جب تم اپنی چھٹیوں میں گھومنے آئے تھے، تب تو تم بڑے 'جولی' ہوا کرتے تھے۔ میرے ساتھ پورا لندن گھومے، تب تو تمہیں میرا ساتھ بہت اچھا لگتا تھا، اب پاکستان واپس آ کر تم اتنے بورنگ کیوں ہو گئے ہو؟" انیل نے سرد لہجے میں کہا، "وہ وقت الگ تھا رمشا، میں وہاں صرف سیر سپاٹے کے لیے آیا تھا۔ یہ میرا شہر ہے، میری یونیورسٹی ہے، یہاں میری ایک ساکھ ہے اور کچھ رشتے ایسے ہیں جنہیں میں تکلیف نہیں پہنچانا چاہتا۔" رمشا نے طنزیہ نظروں سے انیل کو دیکھا، "انیل، حقیقت پسند بنو، ہم فیوچر پارٹنرز بننے جا رہے ہیں۔" انیل نے اپنا ہاتھ سختی سے مٹھی میں بھینچ لیا، اس کے ذہن میں صرف ریجا کا وہ نمناک چہرہ گھوم رہا تھا۔


کینٹین میں بیٹھے ثمرہ اور روہن ریجا کی طرف دیکھ رہے تھے۔ "چلو ریجا ہم بھی چلتے ہیں،" ریجا نے خاموشی سے اپنی چیزیں اٹھائیں اور پارکنگ کی طرف آ گئی۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے شیشے سے باہر دیکھنا شروع کر دیا تاکہ ڈرائیور اس کے بہتے ہوئے آنسو نہ دیکھ سکے۔ راستے بھر وہ بار بار اپنی آنکھیں صاف کرتی رہی، مگر ہر بار انیل کا رمشا کے ساتھ جانا اس کے دل کو چھلنی کر رہا تھا۔ جب وہ گھر پہنچی تو اس کا دل بوجھل تھا۔ جیسے ہی وہ لاؤنج سے گزری، وہاں بیٹھی زرمینہ (ریجا کی ماں) کی نظر اس کے اتری ہوئے چہرے پر پڑی۔ وہ سوچنے لگیں کہ آج ضرور کچھ ہوا ہے، ریجا کی طبیعت ایسی تو کبھی نہیں تھی۔ ریجا نے ایک لمبی آہ بھری اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

دوسری طرف رحمان صاحب آ کے اپنے روم میں بیٹھ گئے اور ماضی میں گھوم گئے۔ کبھی وہ فزا کی ایک جھلک کے دیوانے تھے۔ اب اپنے سالے کی بیوی کے روپ میں فزا کو دیکھنا... ان کا دل بیٹھ سا گیا۔رحمان صاحب نے اپنے لاک والے دراز (یا مقفل دراز) سے وہ ڈائری نکالی جسے انہوں نے کافی سال پہلے چھپا دیا تھا۔ انہوں نے ڈائری کھولی اور ایک ایک ورق ان کے ذہن میں گھوم رہا تھا۔ ایک دم   
انہیں احساس ہوا کسی کے آنے کا، ایک تصویر ان کی ڈائری سے گری اور پھر وہ پیچھے مڑ گئے 

جاری ہے...


قانونی انتباہ اور کاپی رائٹ

اعلامیہ : یہ کہانی مکمل طور پر ایک افسانوی تخلیق ہے۔ اس کے تمام کردار، نام اور واقعات مصنفہ کے تخیل کا نتیجہ ہیں۔ کسی بھی حقیقی شخص یا واقعے سے مماثلت محض اتفاقیہ تصور کی جائے گی۔

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026 عشرت زاہد اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو مصنفہ کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی شکل میں (بشمول فوٹو کاپی، ریکارڈنگ، سوشل میڈیا پر کاپی پیسٹ، یا کسی دوسرے الیکٹرانک طریقے سے) دوبارہ شائع، تقسیم یا منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ کسی بھی قسم کی غیر قانونی نقل یا چوری کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

 

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22