ناول: میرا ماہی (قسط نمبر 4)
ناول: میرا ماہی
قسط نمبر4
تحریر: عشرت زاہد
جیسے ہی رحمان صاحب پلٹے، سامنے نسرین کھڑی تھی۔ وہ یہ پوچھنے آئی تھی کہ گھر آتے ہی وہ بغیر کسی سے بات کیے کمرے میں کیوں بند ہو گئے، کیا سب خیریت ہے؟ نسرین کو دیکھ کر رحمان صاحب کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔ ان کے ذہن میں ایک ہی خوف لہرانے لگا؛ کیا اتنے سالوں سے چھپایا ہوا راز آج کھل جائے گا؟ اگر نسرین کو پتہ چل گیا تو ان کی ازدواجی زندگی پر کیا اثر پڑے گا؟ اور سب سے بڑھ کر، ایک جوان بیٹے کے ہوتے ہوئے ان کی ادھوری محبت کی داستان ہر ایک کی زبان پر آ جائے گی۔ نسرین نے جب زمین پر گری ہوئی تصویر اٹھانا چاہی، تو رحمان صاحب نے پھرتی سے جھک کر اسے اٹھایا اور ڈائری میں رکھ کر اسے دراز میں مقفل کر دیا۔
نسرین کی آنکھوں میں شک کی لہر دوڑ گئی۔ "ایسا کیا ہے اس ڈائری میں جو آپ نے آج تک مجھے نہیں دکھایا؟ اور یہ دراز تو آپ کبھی کھولتے ہی نہیں تھے۔ رحمان! ایسا کیا ہے جو آپ نے کبھی مجھ سے شیئر نہیں کیا؟ میں آپ کی شریکِ حیات ہوں، میرا حق ہے کہ مجھے پتہ ہو۔" رحمان صاحب ایک لمحے کے لیے سن ہو گئے، پھر خود کو سنبھالتے ہوئے بولے، "جس بات سے تمہارا کوئی تعلق نہیں، اس کے پیچھے مت پڑو۔ فکر کرنی ہے تو اپنے بیٹے کی کرو۔ ہر جمعہ کو وہ میاں جی کے گھر جاتا ہے جہاں ریجا بھی آئی ہوتی ہے۔ مجھے بالکل پسند نہیں کہ انیل اور ریجا کا سامنا ہو۔ اسے اپنے الفاظ میں سمجھا دینا، ورنہ میں خود اپنے طریقے سے سمجھاؤں گا۔" اس سے پہلے کہ نسرین کچھ کہتی، وہ تیش میں آ کر کمرے سے باہر نکل گئے۔
نسرین وہیں بستر پر بیٹھ کر سوچوں میں پڑ گئی۔ پہلے رحمان صاحب کا میرا میاں جی کے گھر جانا پسند نہیں تھا، حتیٰ کہ میں اپنی ماں سے بھی کم ملتی ہوں۔ اب میرا بیٹا بھی اپنے ننھیال کو ترس جائے گا؟ زرمینہ میری سگی بہن ہے اور ریجا میری بھانجی ہے، کوئی غیر نہیں۔ وہ تو ایک سلجھی ہوئی بچی ہے، پتہ نہیں رحمان اور سراج بھائی کی دشمنی کتنے دلوں کا خون کرے گی۔
دوسری طرف گاڑی کی تیز رفتار سے گھبرا کر انیل نے ٹوکا، "رمشا! تم گاڑی اتنی تیز چلاتی ہو؟ یہ گاڑی ہے، راکٹ نہیں! ابھی ابھی ایکسیڈنٹ ہوتے بچا ہے۔" رمشا نے ایک زوردار جھٹکے سے گاڑی روکی اور غصے سے بولی، "اتنی دیر سے میں تمہاری باتیں سن رہی ہوں، آج تک میں نے کسی کی اتنی باتیں نہیں سنیں۔ تم ابھی اور اسی وقت میری گاڑی سے اترو!" انیل حیرانی سے اسے دیکھنے لگا۔ "تم کیا پاگل ہو؟ ایک تو تم مجھے ہائی وے پر لے آئی ہو، دوسرا میری گاڑی یونیورسٹی میں تھی اسی لیے تم مجھے ساتھ لائی تھی۔" "انیل! اترو میری گاڑی سے!" رمشا چیخی۔ "اپنے ڈرائیور کو بلاؤ کہ تمہاری گاڑی لے آئے اور اس کے ساتھ 'سلو ڈرائیونگ' کرتے ہوئے گھر چلے جانا۔ میں چلی انکل کی طرف۔" انیل غصے سے دروازہ کھول کر اتر گیا اور رمشا گاڑی اڑا کر لے گئی۔ انیل سڑک کنارے کھڑا گاڑی کو غائب ہوتے دیکھتا رہا، پھر ایک لمبی آہ بھر کر ڈرائیور کو لوکیشن سینڈ کی اور اس کا انتظار کرنے لگا۔
ادھر سراج صاحب غصے سے بھرے گھر کے لاؤنج میں آ بیٹھے۔ "زرمینہ! کدھر ہو تم؟" ان کی اونچی آواز سن کر زرمینہ کچن سے باہر بھاگتی ہوئی آئی۔ "سراج صاحب خیر ہے؟ اتنا تیز کیوں بول رہے ہیں؟ گھر میں ملازم ہیں، کیا بات ہے؟" سراج صاحب نے غصے سے پوچھا، "کدھر ہے تمہاری لاڈلی؟" زرمینہ نے جواب دیا، "اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، وہ اپنے کمرے میں سو رہی ہے۔ ہوا کیا ہے؟ بتائیں تو سہی۔" "مجھے پتہ لگا ہے کہ ریجا نانا میاں کے گھر انیل سے ملتی ہے!" سراج صاحب دھاڑے۔ زرمینہ نے ہمت جمع کر کے کہا، "وہ آپس میں کزنز ہیں، اگر کبھی ملاقات ہو گئی تو اس میں غصے والی کیا بات ہے؟" سراج صاحب کا پارہ مزید چڑھ گیا۔ "تمہیں میری عزت کا کوئی خیال نہیں؟ میری بیٹی دشمن کے بیٹے سے ملتی ہے؟ تم ماں بیٹی نے مجھے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑنا!" یہ سن کر زرمینہ رو پڑی۔ "پہلے مجھ پر ملنے کی پابندی تھی، اب ریجا پر بھی لگا دیں۔ اس کے ننھیال والے ہیں، وہ وہاں جائے گی، میں نہیں روکوں گی۔ اپنے اوپر تو میں نے ہر روک ٹوک برداشت کر لی، مگر میری بیٹی کو اپنی دشمنی کی بھینٹ مت چڑھائیں۔"
سراج صاحب غصے میں وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئے۔ اصل میں غصہ صرف انیل اور ریجا کی ملاقات کا نہیں تھا، بلکہ اس زمین کا تھا جسے وہ خریدنا چاہتے تھے۔ اس پارٹی نے اچانک ان سے ڈیل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ پتہ کروانے پر معلوم ہوا کہ اس زمین کو اب رحمان صاحب خریدنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ وہاں فیکٹری لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ رحمان صاحب نے ساتھ والی زمین کا سودا کرنے کے لیے بھی مالک سے رابطہ کر رکھا تھا اور زیادہ قیمت کی پیشکش کر رکھی تھی۔ جب سراج صاحب کو اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے رحمان سے بھی زیادہ قیمت لگا کر اس زمین کو حاصل کرنے کا سوچ لیا۔ یہی وہ کاروباری رقابت تھی جس کا غصہ وہ گھر آ کر زرمینہ اور ریجا پر اتار رہے تھے۔ وہ اب بھی نقشوں پر نشانات لگا رہے تھے۔ ان کی نظریں اس زمین پر تھیں، مگر دماغ میں رحمان کا وہ چہرہ گھوم رہا تھا جو ہمیشہ ان کے ہر منصوبے کے آڑے آتا تھا۔ "رحمان! میں تمہیں یہ زمین کبھی نہیں لینے دوں گا، چاہے اس کے لیے مجھے آخری حد تک ہی کیوں نہ جانا پڑے۔" انہوں نے اپنے فون سے کسی کو میسج کیا اور فون میز پر پٹخ دیا۔
جبکہ پاکستان سے ہزاروں میل دور، لنڈن کے ایک پرسکون گھر میں فضا بالکل مختلف تھی۔ یہاں کسی دشمنی کا سایہ نہیں تھا، بلکہ چاروں طرف خوشی اور جوش و خروش پھیلا ہوا تھا۔ ظریف اور فضا کے بچے پاکستان جانے کی خوشی میں کمرے میں اچھلتے کود رہے تھے۔ "ماما! کیا میں یہ والا کھلونا بھی دادو کے لیے رکھ لوں؟" چھوٹے بیٹے نے جوش سے پوچھا۔ فضا اور ظریف اپنے بچوں کی اس معصومانہ خوشی کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ پاکستان جانے کی فلائٹ میں اب صرف دو دن باقی تھے، اس لیے آج ہر صورت میں پیکنگ مکمل کرنی تھی۔ بیڈ پر کپڑوں اور تحائف کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ ظریف نے فخر سے ان پیکٹوں کی طرف دیکھا جن میں انہوں نے دادی، دادو اور دونوں پھوپھو کے لیے خاص تحائف لیے تھے۔ "بچوں، جلدی سے یہ گفٹس بھی سوٹ کیس میں سیٹ کر دو، پھر ہمیں ایئرپورٹ کے لیے بھی تیاری کرنی ہے،" ظریف نے خوش دلی سے کہا۔ فضا نے ایک گہری سانس لی، اسے اپنے وطن کی مٹی کی خوشبو یاد آ رہی تھی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ پاکستان میں اس وقت خاندان کے بڑے کس قدر تلخیوں میں گھرے ہوئے ہیں، وہ تو بس اپنے پیاروں سے ملنے کے خواب آنکھوں میں سجائے پیکنگ میں مصروف تھی۔
تقدیر کی بساط پر مہرے اپنی چالیں چل رہے تھے، اور اس کھیل میں سب سے زیادہ نقصان ان معصوم دلوں کا ہونا تھا جو اب تک ان سازشوں سے بے خبر ایک دوسرے کی طرف کھنچے چلے جا رہے تھے۔
(جاری ہے...)
نوٹ اور کاپی رائٹ
(Disclaimer & Copyright)
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں
ڈسکلیمر: اس ناول کے تمام کردار، مقامات اور واقعات فرضی ہیں۔ اس کا مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی حقیقی واقعے کی عکاسی کرنا نہیں ہے۔ اگر کسی کردار یا واقعے سے کوئی مماثلت پائی جاتی ہے تو اسے محض ایک اتفاق سمجھا جائے۔
کاپی رائٹ وارننگ: اس تحریر کے تمام حقوق عشرت زاہد کے پاس محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی اجازت کے بغیر اس کہانی کے کسی بھی حصے کو کاپی کرنا، کسی دوسرے پلیٹ فارم پر اپنے نام سے شائع کرنا یا اس میں رد و بدل کرنا اخلاقی اور قانونی جرم ہے۔ اگر آپ اسے شیئر کرنا چاہتے ہیں تو براہِ کرم اصل لنک کے ساتھ شیئر کریں۔
شکریہ، عشرت زاہد

Comments
Post a Comment