میرا ماہی — قسط نمبر 5

 

میرا ماہی — قسط نمبر 5

کینٹین سے نکل کر یہ تینوں دوست اپنی کلاس کی طرف جا رہے تھے کہ روہن بولا: "سمرا! تمہاری بات ہوئی ریجا سے؟" ریجا، جو اپنی ہی سوچوں میں گم تھی، چونک کر حاضر دماغ ہوئی اور بولی: "کون سی بات؟" روہن نے جواب دیا: "آج دوسرا دن ہے، انیل یونیورسٹی نہیں آیا اور اس کا فون بھی آف جا رہا ہے۔" تب ریجا نے لاپروائی سے کہا: "اس دن وہ رمشا، جو اس کے بابا کے پارٹنر کی بیٹی ہے، اسے لے گئی تھی۔ اسی کے ساتھ ہوگا، جب فرصت ملے گی تو آ جائے گا۔" یہ کہہ کر ریجا تیز قدموں سے آگے بڑھ گئی۔ سمرا اور روہن اسے جاتے دیکھ کر رک گئے۔ روہن نے دبی آواز میں کہا: "تمہیں نہیں لگتا کہ ان دونوں کے گھر والے زیادتی کر رہے ہیں؟" "جانتی ہوں،" سمرا اداسی سے بولی۔ "ان دونوں فیملیز کی دشمنی آج کی نہیں ہے۔ ریجا میری سکول فیلو رہی ہے، میٹرک بھی ہم نے ساتھ کیا تھا۔ میری مما اور ریجا کی مما آپس میں دوست ہیں۔ ریجا کی مما کو ان کے شوہر اپنی بہن سے ملنے نہیں دیتے، بس ان کے نانا (میاں جی) ہی بلاتے ہیں۔ لیکن جب بھی ان کے شوہر آمنے سامنے ہوں، تو کوئی نیا طوفان کھڑا ہوتا ہے۔ سلمان بھائی نانا میاں کے پاس رہا کرتے تھے، وہ ان کے بھتیجے تھے۔ ان کی شادی پر اتنے ہنگامے ہوئے کہ وہ شادی کے بعد اپنی بیوی کو لے کر کینیڈا شفٹ ہو گئے۔ وہ اس لڑائی جھگڑے کے ماحول سے دور رہنا چاہتے تھے۔" روہن نے پوچھا: "ہاں تم نے بتایا تھا، ریجا کے ایک تایا اور ایک پھوپھو بھی ہیں۔ کیا سراج صاحب ان سے نہیں ملتے؟" سمرا نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا: "ان کی فیملی میں زمینوں کے چکر ہیں، دوسرا سراج صاحب سب کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں۔ ریجا کی پھوپھو بہت نفیس ہیں، میں مل چکی ہوں۔ وہ زرمینے آنٹی کو بھی بہت باتیں سناتے ہیں۔ بیچاری آنٹی اتنے سالوں سے انکل کو کیسے برداشت کر رہی ہیں۔" روہن نے ٹھنڈی آہ بھری: "ایسے حالات میں تو یہ دونوں کبھی مل نہیں پائیں گے۔" سمرا نے امید دلاتے ہوئے کہا: "نانا میاں اور نانی کی پوری کوشش ہے کہ ان دونوں کی شادی ہو جائے۔ میں نے نانو سے بات کی تھی، مجھ سے ریجا کے آنسو دیکھے نہیں جاتے۔ وہ بچپن سے انیل کو پسند کرتی ہے، جب اسے 'محبت' لفظ کے مطلب کا بھی نہیں پتہ تھا۔ انیل بھی اسی سکول میں تھا، پھر اچانک ہی رحمان صاحب نے انیل کا سکول تبدیل کر دیا۔ رمشا کے ساتھ انیل کا جوڑ بالکل میچ نہیں ہوتا۔ انیل کی اپنی پرسنالٹی ہے اور ریجا اس کے مزاج سے واقف ہے۔ رمشا جس ماحول میں رہی ہے، اس کے اندر خودسری اور دولت کا نشہ ہے۔ دیکھا نہیں تھا کیسے آئی تھی انیل کو لینے، جیسے انیل انسان نہیں، اس کی پراپرٹی ہو؟" روہن نے تائید میں سر ہلایا اور دونوں کلاس میں چلے گئے جہاں لیکچر شروع ہو چکا تھا۔

دوسری طرف، روشن آرا نے ظریف کا کمرہ کھلوایا جو کہ ہر ہفتے مانی سے کہہ کر صاف کروا دیتی تھیں۔ آج وہ خود معائنے کے لیے آئیں اور بولیں: "مانی! میرا خیال ہے پردے تبدیل کروا دوں۔ میں چاہتی ہوں ظریف اتنے سال بعد آ رہا ہے تو اسے اپنا کمرہ بالکل نیا لگے۔" تب مانی مسکراتے ہوئے بولا: "اماں جی! میں نے تو آرڈر بھی دے دیا تھا، آپ کو شاید بتانا بھول گیا۔ مجھے پتا ہے ظریف ماموں کو کون سی کلر سکیم پسند ہے۔ اور ایک کام اور بھی کیا ہے، یہ پرانا بیڈ میں گیسٹ روم میں رکھوا رہا ہوں اور ان کے لیے نئے فرنیچر کا آرڈر بھی دے دیا ہے۔ یہ سب نانا میاں کے کہنے پر ہوا ہے۔" روشن آرا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں: "ناراض اتنے ہیں لیکن اندر سے اب بھی اتنی فکر کرتے ہیں؟" مانی بولا: "وہ بس وقتی غصہ ہے اماں جی، ایک بار وہ ظریف ماموں کو گلے لگا لیں گے تو سب ناراضگیاں ختم ہو جائیں گی۔" روشن آرا نے بے چینی سے پوچھا: "اب کتنے دن باقی ہیں؟" مانی نے جواب دیا: "صرف دو دن! کل پردے بھی آ جائیں گے اور فرنیچر بھی۔ آپ بے فکر رہیں، مانی سب سیٹ کر دے گا۔" روشن آرا نے شفقت سے مانی کے سر پر ہاتھ پھیرا: "ظریف کے بعد کوئی میرا اپنا ہے تو وہ تم ہو مانی! ورنہ اپنی بیٹیاں پاس ہوتے ہوئے بھی نہیں آتیں۔ مہینوں ہوئے انہیں دیکھے ہوئے، بتول کے بیٹے کی شادی میں دیکھا تھا پر وہاں بھی ٹھیک سے بات نہ ہو پائی۔ دونوں اپنے شوہروں کے آگے مجبور ہیں، ان کی چلتی نہیں، اس لیے میں بھی چپ ہو جاتی ہوں کہ بس اپنے گھروں میں خوش رہیں۔ وہ خود نہیں آتیں تو اپنے بچوں کو بھیج دیتی ہیں، میرے لیے یہی کافی ہے۔" مانی نے موقع دیکھ کر کہا: "اماں جی! ایک بات کہوں؟ ریجا انیل کے لیے بہت اچھی ہے، اس کے رشتے کی بات کریں نانا میاں سے، ان کی بات کوئی نہیں ٹالے گا۔" روشن آرا سوچتے ہوئے بولیں: "ہاں، میں کچھ کرتی ہوں، پہلے ظریف کو آنے دو، شاید اسے دیکھ کر سب کے دل نرم پڑ جائیں۔ اب نماز کا وقت ہے، میں چلتی ہوں، تم باقی سب دیکھ لینا۔"

ریجا کچن میں بیکنگ کی تیاری کر رہی تھی کہ اس کی پھوپھو کی کال آ گئی۔ ریجا نے فوراً فون اٹھایا۔ "کیسی ہو میری جان؟" پھوپھو نے پیار سے پوچھا۔ ریجا نے بتایا: "پھوپھو! ابھی کچن میں ہوں، سوچ رہی ہوں براؤنیز بناؤں اور پھر آئس کریم کے ساتھ مزے سے کھاؤں گی۔" پھوپھو نے سراج اور زرمینے کا پوچھا تو ریجا کا موڈ تھوڑا آف ہو گیا: "بابا تو آفس میں ہوں گے اور ماما اپنی فرینڈ کے گھر گئی ہیں۔ ان کی امی کی ڈیتھ ہوئی تھی تو ماما تب جا نہیں سکی تھیں، آج تعزیت کے لیے گئی ہیں۔ بابا نے تو ہر وقت کوئی نہ کوئی ایشو کھڑا کیا ہوتا ہے۔ پہلے انہیں ماما کے جانے پر اعتراض تھا، اب میرے جانے پر۔ پھوپھو! آپ تو نانا میاں سے ملی ہوئی ہیں، کیا وہ واقعی اتنے برے لوگ ہیں؟" پھوپھو نے آہستگی سے کہا: "سراج اتنا سخت مزاج پہلے نہیں تھا۔ وہ تو بہت نرم دل اور ہنسنے کھیلنے والا شوخ سا انسان تھا۔ پتا نہیں کیوں ایسا ہو گیا... شاید کسی کے چلے جانے سے انسان اپنے اوپر خوشیوں کے دروازے بند کر لیتا ہے۔" ریجا چونکی: "کیا مطلب پھوپھو؟ بابا کے ماضی میں کیا ہوا تھا؟ کون گیا تھا ان کی زندگی سے؟ پلیز مجھے کھل کر بتائیں!" دوسری طرف پھوپھو کو احساس ہوا کہ وہ جذبات میں کچھ زیادہ بول گئی ہیں۔ انہوں نے فوراً بات بدلی: "کچھ نہیں بیٹا، میں نے تو ویسے ہی کہہ دیا۔ تم بس براؤنیز بناؤ، جب میں ویک اینڈ پر آؤں گی تو مجھے بھی کھلانا۔ اپنا خیال رکھنا، اللہ حافظ۔" فون بند ہو گیا لیکن ریجا کو گہری سوچ میں ڈال گیا۔ کیا بابا ہمیشہ سے ایسے نہیں تھے؟ کیا کوئی ایسا راز ہے جو ماما یا پھوپھو چھپا رہی ہیں؟ اس نے کبھی اپنے والدین کو ایک رومانٹک کپل کی طرح خوش ہوتے نہیں دیکھا تھا۔ "اب میں یہ سب کس سے پوچھوں؟ کون دے گا میرے سوالوں کے جواب؟ نانا میاں یا پھر ماما؟"

انیل اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا۔ آج دوسرا دن تھا کہ وہ یونیورسٹی نہیں گیا تھا۔ نسرین اس کی حالت دیکھ کر بہت پریشان تھیں۔ وہ نہ ناشتے پر آیا تھا اور نہ ڈنر پر۔ رحمان صاحب کو تو شاید فرق نہیں پڑ رہا تھا، مگر ماں کا دل تڑپ رہا تھا۔ وہ ملازم کے ساتھ ناشتے کی ٹرے لے کر کمرے میں آئی۔ اندر اندھیرا دیکھ کر جیسے ہی لائٹ جلائی، انیل نے بیزاری سے آنکھیں موند لیں: "ماما! پلیز لائٹ بند کر دیں۔" نسرین نے پردے ہٹاتے ہوئے سختی سے کہا: "حقیقت سے نظریں چرانے سے کچھ نہیں ہوگا انیل، جو حالات ہیں انہیں فیس کرنا سیکھو۔ اٹھو، فریش ہو اور ناشتہ کرو۔ میں نے بھی تمہارے انتظار میں صبح سے کچھ نہیں کھایا۔" وہ مزید بولی: "انیل! تمہارے بابا ہمیشہ اپنی مرضی مسلط کرتے ہیں۔ میں کبھی ان سے ناراض ہوئی تو انہوں نے مجھے کبھی منایا نہیں۔ وہ بس ایک پیسہ کمانے والی مشین بن چکے ہیں۔ میری زندگی کا واحد مقصد اور جینے کی وجہ تم ہو انیل! بس تم کبھی 'دوسرا رحمان' مت بننا۔" انیل اٹھ کر بیٹھ گیا اور دکھ سے بولا: "ماما! کیا سب کے بابا ایسے ہوتے ہیں؟ میرے دوستوں کے فادرز اتنے فرینڈلی ہیں کہ ان سے بات کر کے مزہ آتا ہے۔ مگر میرے بابا کے پاس میرے لیے تھوڑا سا وقت بھی نہیں ہے۔" نسرین نے اداسی سے اس کا ماتھا چوما: "وہ بس اپنی مرضی کے مالک ہیں۔ ان کے ماضی کو میں بھی پوری طرح نہیں جانتی، بس اتنا جانتی ہوں کہ تم میرا سب سے قیمتی تحفہ ہو۔" انیل نے تڑپ کر ماں کو گلے لگا لیا: "ماما! میرا سہارا صرف آپ ہیں۔ آئیے، ساتھ ناشتہ کرتے ہیں۔"

رمشا نے رحمان صاحب کے آفس کے سامنے اپنی چمچماتی گاڑی روکی۔ گاڑی سے اترتے ہوئے وہ بلند و بالا عمارت کو فاتحانہ نظروں سے دیکھنے لگی۔ بلا شبہ یہ رحمان صاحب کی محنت تھی، مگر رمشا کے پاپا کا اس میں 30 فیصد شیئر تھا اور وہ ان کے بزنس پارٹنر تھے۔ رمشا کو پاکستان لانے کا اصل مقصد ہی یہی تھا کہ رحمان کی یہ پوری ایمپائر آخرکار انیل کی ہونی ہے، اور انیل سے شادی کا مطلب تھا اس سب کی مالکن بن جانا۔ پاپا نے اسے سمجھایا تھا کہ نئی فیکٹری بھی انیل کے نام سے شروع کرنے کا پلان ہے، اسی لیے رمشا نے انیل میں کوئی خاص دلچسپی نہ ہونے کے باوجود اسے حاصل کرنے کا سوچا تھا۔ اس کا مزاج انیل سے بالکل مختلف تھا، لیکن وہ اپنے پاپا کے مشن پر تھی۔ وہ بڑی شان سے اندر آئی اور سیدھا رحمان صاحب کے کیبن کی طرف بڑھنے لگی۔ جب پیون نے اسے روکنے کی کوشش کی تو وہ اس سے بدتمیزی کرتی ہوئی زبردستی اندر گھس گئی۔ اندر رحمان صاحب اپنے کلائنٹس کے ساتھ میٹنگ میں تھے۔ پیون نے گھبراتے ہوئے کہا: "سر! میں نے انہیں روکا تھا مگر یہ نہیں مانیں۔" رحمان صاحب نے پیون کو جانے کا اشارہ کیا اور کلائنٹس سے معذرت کر کے میٹنگ ختم کی۔ ان کے جانے کے بعد رحمان صاحب اپنی سیٹ سے اٹھے: "آؤ رمشا! کیا بات ہے، اتنا غصہ کیوں؟" رمشا نے تلملاتے ہوئے کہا: "انکل! میں پاپا کے کہنے پر صرف انیل کے لیے یہاں آئی ہوں، مگر انیل کو تو بات کرنے کی تمیز ہی نہیں ہے۔ میں اسے سرپرائز دینے یونیورسٹی گئی تھی، مگر اس نے میرا سارا موڈ خراب کر دیا۔" رحمان صاحب نے اسے تسلی دی: "بیٹا! میں انیل سے بات کروں گا۔" رمشا نے شکایت جاری رکھی: "انکل! اس کا فون بھی آف ہے، اسی لیے میں گھر جانے کے بجائے سیدھا یہاں آ گئی ہوں۔" رحمان صاحب نے اپنی فائل بند کی اور بولے: "ٹھیک ہے، تم میرے ساتھ ہی چلو۔ میں بھی تھوڑی دیر تک گھر جا رہا ہوں۔ آج ڈنر ساتھ کریں گے، تم انیل کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ لگانا اور باہر گھومنے پھرنے کا پلان بنانا۔"


کاپی رائٹ اور ڈسکلیمر (Copyright & Disclaimer)

Copyright © 2026 Ishrat Zahid. All Rights Reserved. 

اس کہانی کے تمام جملہ حقوق مصنفہ عشرت زاہد کے نام محفوظ ہیں۔ اس تحریر کا کوئی بھی حصہ مصنفہ کی اجازت کے بغیر کسی بھی پلیٹ فارم، ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پر کاپی، چوری یا دوبارہ شائع کرنا قانونی جرم ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ڈسکلیمر: یہ ایک افسانوی کہانی ہے جس کے تمام کردار، مقامات اور واقعات محض تخیلاتی ہیں۔ اس کا کسی بھی زندہ یا مردہ شخص یا حقیقی واقعے سے تعلق محض اتفاقیہ ہوگا۔ کہانی کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا یا کسی مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22