میرا ماہی (قسط نمبر 8) تحریر: عشرت زاہد
میرا ماہی
(قسط نمبر 8)
تحریر: عشرت زاہد
زرمیننے گھر آئی تو اس کا دل اپنے بھائی سے مل کر بہت ہلکا تھا۔ اس نے ریجا سے اپنی خوشی بانٹتے ہوئے کہا، "ریجا! تمہارے زریف ماموں اور ان کی بیگم کتنے سادہ مزاج ہیں، ان کے بچے بھی کتنے پیارے ہیں۔" ریجا نے کہا، "ماما! ان کی اردو دیکھی کتنی اچھی ہے، باہر رہنے کے باوجود وہ کتنی صاف اردو بول رہے تھے۔" زرمیننے نے جواب دیا، "میرے بھائی نے خود اپنی جان پر ظلم کیا تھا۔ سب کچھ تو پاکستان میں تھا، پھر زمینیں کس نے سنبھالنی تھیں؟ بس اس وقت باہر جانے کی ضد تھی کہ بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری لینی ہے اور وہاں کام کرنا ہے۔ تب ان کی طبیعت اور تھی، مگر اپنوں سے دوری نے زریف کو آج بہت نرم دل اور باظرف بنا دیا ہے۔" زرمیننے اپنے کمرے میں جانے لگی تو ریجا نے پوچھا، "ماما! نانا میاں کون سی وصیت کا کہہ رہے تھے؟" زرمیننے بولی، "مجھے کچھ نہیں پتہ، یہ تو دعوت پر جائیں گے تب پتہ لگے گا۔ اور ہاں، آج کے جانے کا ذکر سراج کے سامنے مت کرنا۔"
ریجا اپنے کمرے میں آئی اور جیولری اتارتے ہوئے اسے دراز میں وہ لفافہ نظر آیا۔ اسے یاد آیا کہ پھوپھو سے تو پوچھا ہی نہیں۔ اس نے پھوپھو کو کال ملائی، کچھ دیر بیل جاتی رہی پھر پھوپھو نے کال رسیو نہ ہونے پر ریجا نے فون سائیڈ پر رکھ دیا۔ تب دوسری طرف سے پھوپھو کی کال آئی تو ریجا نے فوراً رسیو کی۔ خیریت معلوم کرنے کے بعد ریجا نے پوچھا، "پھوپھو! کیا ماما کی شادی سے پہلے بابا کسی کو پسند کرتے تھے؟" دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔ پھر وہ بولیں، "تم یہ کیوں پوچھ رہی ہو؟" ریجا نے بتایا کہ اسے الماری سے ایک تصویر ملی ہے جس میں بابا کے ساتھ ایک لڑکی ہے جو اس کی ماما نہیں ہیں۔ تب پھوپھو نے بتایا، "وہ بابا کی محبت تھی، ان دونوں نے چھپ کر نکاح کیا تھا جس میں تمہارے دادا دادی کی رضامندی شامل نہیں تھی۔ جب وہ اسے گھر لائے تو تمہارے دادا نے گھر سے نکل جانے کا کہا اور شرط رکھی کہ اسی وقت اسے طلاق دیں ورنہ وہ ساری پراپرٹی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔"
پھوپھو نے بات جاری رکھتے ہوئے بتایا، "تب وہ اپنی بیوی کو لے کر میرے گھر آگئے اور کچھ ماہ میرے پاس رہے۔ اسی دوران ان کی پہلی بیوی کو ٹیومر کی تشخیص ہوئی اور پتا چلا کہ یہ لاسٹ اسٹیج ہے۔ وہ شادی بمشکل 6 ماہ رہی اور ان کی وفات کے بعد تمہارے دادا انہیں اپنے ساتھ لے گئے اور تمہاری امی سے شادی کروا دی جہاں وہ پہلے کروانا چاہتے تھے۔ تمہارے نانا میاں اور میرے والد پرانے دوست تھے، اس لیے پہلی بیوی کا کسی کو پتا بھی نہیں چلا۔ سراج آج تک اس غم سے باہر نہیں نکل سکا۔" ریجا کو لگا جیسے اس کے پیروں سے زمین نکل گئی ہو۔ "تبھی میری ماما کو اور مجھے وہ پیار نہیں ملا،" ریجا کی آواز کانپ رہی تھی۔ پھوپھو نے بتایا کہ سراج نے کہا تھا کہ 'تمہاری امی کی وجہ سے مجھے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا کہا گیا، مجھے اس سے نفرت ہے'۔ یہ سنتے ہی ریجا کو شدید صدمہ پہنچا اور وہ وہیں زمین پر بے ہوش ہو کر گر گئی۔
زرمیننے جب کمرے میں آئی تو ریجا کو بے ہوش دیکھ کر اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ سراج کا فون بند تھا، چنانچہ اس نے روتے ہوئے انیل کو فون کیا جو فوراً زریف ماموں کے ساتھ ہسپتال پہنچ گیا۔ ڈاکٹرز نے بتایا کہ ریجا کو کوئی گہرا ذہنی صدمہ پہنچا ہے اور اگلے 24 گھنٹے اہم ہیں۔ اسی دوران سراج جب گھر پہنچا اور اسے صورتحال کا علم ہوا تو وہ بھی ہسپتال بھاگا۔ وہاں اسے اپنی بہن کی کال آئی، سراج نے غصے میں کہا، "آپ نے ریجا کو سب کیوں بتایا؟ جس راز کو میں نے چھپا کر رکھا تھا، آپ کی وجہ سے آج میری بیٹی ہسپتال میں ہے۔" یہ سن کر پاس کھڑا انیل سوچنے لگا کہ آخر ایسا کون سا راز ہے جو ریجا برداشت نہ کر سکی۔
پرائیویٹ روم میں شفٹ ہونے کے بعد زریف نے سراج سے کہا، "آئیں سراج بھائی، اندر چلتے ہیں ریجا کو دیکھتے ہیں۔" سراج کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اگر ریجا نے سب کے سامنے کچھ پوچھ لیا تو وہ کیا جواب دیں گے۔ وہ کھڑے تو ہو گئے لیکن ان کے قدم ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ زریف نے ہاتھ پکڑ کر پوچھا، "بھائی آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟" سراج بولے، "ہاں صحیح ہوں زریف۔" زریف کو لگا کہ شاید ریجا کی حالت دیکھ کر سراج کا یہ حال ہوا ہے، جبکہ سراج اس شرمندگی سے گھبرا رہے تھے کہ راز کھلنے پر کیا صفائی دیں گے۔ وہ زریف کے ساتھ کمرے میں گئے جہاں انیل بھی موجود تھا۔ سراج کو انیل کی آنکھوں میں ایک خوف سا محسوس ہوا جو انہیں عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ ریجا نے دیکھتے ہی پکارا، "بابا!" سراج نے آگے بڑھ کر پہلی بار اسے اتنی شفقت سے پیار کیا۔ ریجا حیران تھی کہ بابا نے پہلی بار اتنے آرام سے بات کی ہے۔ سراج بولے، "جلدی ٹھیک ہو جاؤ، حویلی میں دعوت ہے، میاں جی نے بتایا تھا سب نے آنا ہے۔ صحیح ہو گی تو جاؤ گی۔" سراج کے اس بدلتے روپ پر جہاں ریجا حیران تھی، وہاں زرمیننے کو بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ انہیں ریجا کی اتنی فکر کب سے ہونے لگی اور میاں جی کی دعوت پر جانے کا شوق کیسے چرایا؟ پہلے تو وہ جانے کے لیے منتیں کرواتے تھے۔ خیر وہ پرسکون بھی ہوئی کہ بھائی کے سامنے ان کا بھرم رہ گیا اور سراج نے کوئی بدمزگی نہیں کی۔
ڈاکٹرز نے بتایا کہ تمام رپورٹس کلیئر ہیں اور وہ رات تک اسے گھر لے جا سکتے ہیں۔ سب نے سکون کا سانس لیا۔ زرمیننے نے انیل اور زریف کو گھر جا کر آرام کرنے کا کہا۔ انیل کا دل تو نہیں تھا پر خالہ کے کہنے پر مجبوراً جانے لگا۔ زریف نے ریجا سے کہا، "جلدی صحیح ہو جاؤ تاکہ ہم سب مل کر باتیں کریں گے۔" انیل جانے لگا تو پیچھے سے ریجا کی آواز آئی، "انیل! بات سنو۔" انیل اتنی تیزی سے تڑپ کر مڑا کہ سب نے نوٹ کیا، خاص طور پر زریف نے۔ ریجا نے کہا، "خالہ کو کہنا کہ وہ بھی میاں جی کے ہاں آئیں۔" انیل نے یقین دلایا کہ وہ انہیں ساتھ لائے گا اور پھر وہ دونوں باہر نکل گئے۔ رات کے جاگے ہوئے دونوں نیند سے نڈھال تھے، انیل نے زریف کو میاں جی کے گھر چھوڑا اور پھر خود گھر آ کر سیدھا اپنے کمرے میں لیٹ گیا۔
ہسپتال میں زرمیننے شکرانے کے نوافل کے لیے وضو کرنے باتھ روم کی طرف گئیں تو پیچھے ریجا نے سراج کو پکارا، "بابا!" سراج نے ڈرتے ہوئے کہا، "بولو بیٹا!" تب ریجا نے وہ سوال کر ڈالا جس نے فضا ساکت کر دی، "آپ ماما سے کیوں نفرت کرتے ہیں؟ اپنی پہلی بیوی کی وجہ سے؟" باتھ روم سے نکلتی زرمیننے کے لیے یہ الفاظ نہیں بلکہ ایٹم بم تھے!
آگے کیا ہوگا؟ دیکھیے اگلی قسط میں...
جملہ حقوق محفوظ: اس تحریر کے تمام جملہ حقوق بحق مصنفہ 'عشرت زاہد' محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی اجازت کے بغیر اس تحریر کو کسی بھی ویب سائٹ، سوشل میڈیا پیج، یا یوٹیوب چینل پر شیئر کرنا قانونی طور پر جرم ہے۔

Comments
Post a Comment