میرا ماہی (قسط نمبر 9)

                 میرا ماہی (قسط نمبر 9)

زرمینے نے جب دونوں کو خاموش دیکھا تو باہر آ گئی اور کمرے کا دروازہ کھول کر وہ نماز پڑھنے کی جگہ کا پوچھ کر نماز پڑھنے لگی۔ اس کے آنسو اس کی پلکوں سے گرے جا رہے تھے؛ اسے سمجھ نہیں آیا کہ یہ شکر کے آنسو ہیں یا اعتبار ٹوٹنے کے۔ سراج اور وہ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں، جسے سراج نے اس قابل بھی نہیں سمجھا تھا کہ وہ اسے سچ بتا دیتے۔ "میں ریجا کو کیسے فیس کروں گی؟" سجدے سے اٹھی اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی: "یا اللہ! مجھے ہمت دے کہ میں اس صدمے کو برداشت کر سکوں۔" سراج سے بات کرنا، اس کے ساتھ رہنا، ایک کمرے میں اتنے سالوں کے ساتھ کوئی ایسے کیسے کر سکتا ہے؟ "میرا کوئی ماضی ہوتا اور سراج کو پتا لگتا تو کیا سراج معاف کر دیتے؟" یہ سوال اس کے ذہن میں گھوم رہا تھا۔ وہ اٹھی اور نیت شروع کی۔ نماز سے فارغ ہو کر اپنی بیٹی کی صحت یابی کے لیے دعا کر کے واپس روم میں آ گئی اور سراج کو ریجا کے پاس بیٹھے دیکھا۔ وہ سامنے صوفے پر تسبیح پکڑ کر بیٹھ گئی اور دونوں کی طرف نہیں دیکھا۔ سراج اور ریجا دونوں نے زرمینے کو دیکھا اور نوٹ کیا کہ وہ معمول سے زیادہ چپ ہیں۔ تب ریجا نے پوچھا، "ماما! آپ کی طبیعت صحیح ہے؟" تب زرمینے نے بس "ہوں" کہہ کر بات کا جواب دیا۔

سراج زرمینے کے چہرے کو دیکھ رہے تھے۔ زرمینے کے نقوش بہت خوبصورت تھے، کوئی غور سے دیکھتا تو تعریف کیے بغیر نہ رہتا۔ میں نے شاید پہلے کبھی غور نہیں کیا۔ میں اپنے غم میں ایسا ڈوبا کہ دو جانوں کو بھی اذیت دی اور دو لوگوں کی زندگیوں کو اپنی انا کی بھینٹ چڑھا دیا۔ زرمینے مجھے معاف نہیں کرے گی کیونکہ میں نے اسے کبھی اس کی معمولی سی غلطی پر بھی اتنی باتیں سنائیں، اس کے والدین کے گھر جانے پر بھی سختی کی اور ریجا کو منع کرتا رہا کہ اپنے نانا کے گھر نہ جایا کرے۔ اب میں ریجا کو کس منہ سے روکوں گا کہ وہ نہ جائے؟ میرا اپنا بھی تو ماضی ہے، کس طرح میں اسے انیل سے روکوں؟ ایک بار میں نے بھی تو محبت کی تھی اور ریجا کی رگوں میں بھی میرا خون ہے، میں تو نہیں رک سکا تھا۔ انہی سوچوں میں گم تھے کہ نرس نے دروازے پر دستک دی۔ سراج صاحب نے دروازہ کھولا، نرس روٹین چیک اپ کے بعد بولی، "آپ کی مریضہ اب اسٹیبل ہیں، آپ کہیں تو ڈاکٹر سے کہہ کر ڈسچارج سلپ بنوا دوں؟" تب سراج نے ریجا سے پوچھا کہ گھر چلیں؟ ریجا نے کہا، "جی، میں گھر جانا چاہتی ہوں۔"

نسرین نے ٹائم دیکھا تو اسے یاد آیا کہ بہن کو فون کر کے بھانجی کی خیریت پوچھے، پھر خیال آیا کہ انیل تو وہیں تھا، اسی سے پوچھ لیتی ہوں۔ وہ اس سے بات کرنے اس کے روم میں آئی مگر انیل وہاں نہیں تھا۔ وہ سمجھی باتھ روم میں ہوگا، آوازیں دینے لگی، ہینڈل گھمایا تو اندر روم خالی تھا۔ اس کا اپنے کمرے میں نہ ہونا پریشانی کا سبب بن رہا تھا۔ وہ واپس آئی اور موبائل سے انیل کا نمبر پریس کرنے لگی، بیل جا رہی تھی مگر انیل فون پک نہیں کر رہا تھا۔ زرمینے نے مانی کو فون ملایا تو پتا لگا کہ وہ تو فجر کے وقت آ گئے تھے، انیل تو ادھر نہیں آیا اور ریجا اب بہتر ہے، اسے ڈسچارج کر رہے ہیں۔ یہ سن کر نسرین کو تسلی ہوئی۔ پھر انیل کا فون آیا: "میں ضروری کام سے باہر ہوں، سب خیریت ہے، ابھی اسپتال جا رہا ہوں۔ آپ سو رہی تھیں، گھر بھی جب آیا تو سیدھا سونے چلا گیا، اب گھر آؤں گا تو بتاؤں گا۔"

ریجا نے اپنے سہارے اٹھنا چاہا تو زرمینے نے آگے بڑھ کر اسے بٹھایا اور پوچھا، "چکر تو نہیں آ رہے؟" ریجا نے ماں کو مسکرا کر دیکھا۔ وہ اپنی ماں کو کچھ بھی بتا کر دکھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ اپنی ماں کی بے رونق آنکھوں کو دیکھ رہی تھی جہاں کوئی چمک نہیں تھی۔ ماما نے بہت صبر سے وقت گزارا تھا اور بابا کی ہر زیادتی کو برداشت کیا تھا۔ ریجا کو بیٹھا دیکھ کر نسرین چیزیں سمیٹنے لگی، اتنے میں انیل پھول لے کر آیا اور ریجا کو کارڈ دیا جسے دیکھ کر ریجا مسکرا اٹھی۔ اسے اس وقت انیل کے ساتھ کی ضرورت تھی، وہ اس سے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتی تھی مگر ماما کے سامنے نہیں کہنا چاہتی تھی۔ ڈاکٹر کے ساتھ سراج اندر آئے اور ریجا کو سمجھایا: "حالات جیسے بھی ہوں، آپ نے مقابلہ نہیں چھوڑنا۔" ریجا کو ڈاکٹر کی باتوں سے حوصلہ ملا۔ ریجا زرمینے کا ہاتھ پکڑ کر روم سے باہر آئی۔ انیل دوائیاں اور رپورٹس ہاتھ میں لیے پیچھے آ گیا اور سامان گاڑی میں رکھا۔ سراج نے اس بار انیل کا شکریہ ادا کیا: "تم ٹائم پر ریجا کو لے آئے، تمہارا شکریہ۔" انیل اپنے خالو کے اس بدلے ہوئے روپ کو سمجھنے سے قاصر تھا۔ اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور اپنی منزل کی طرف چل دیا جہاں نسرین انتظار کر رہی تھی۔ گھر داخل ہونے کے بعد ملازم بھی ریجا کی خیریت پوچھنے لگے۔ ریجا اپنے روم میں جانا چاہتی تھی، وہ ماں کے سہارے بیڈ پر لیٹ گئی۔ زرمینے جانے لگی تو ریجا نے کہا، "ماما! آج رات میرے پاس رک جائیں، میرا دل گھبرا رہا ہے۔" زرمینے اس کے پاس آ گئی اور سر پر پیار کیا: "میں یہی ہوں، سامنے چیئر پر بیٹھتی ہوں۔" ریجا نے کہا، "ماما! میرے پاس بیڈ پر آئیں، میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر سوؤں گی۔"

سراج روم میں آنے کے بعد لیٹ تو گئے مگر نیند کوسوں دور تھی۔ ایک طرف بیٹی کے آگے ماضی کا کھل جانا، دوسرا کیا زرمینہ کو پتا چلے گا؟ دعوت دو دن آگے کر دی گئی تھی۔ سراج زرمینے کا انتظار کرنے لگے، جب کافی دیر ہوئی تو دیکھا کہ زرمینہ ریجا کے پاس ہے، اسے دعائیں پڑھ کر سنا رہی ہے۔ سراج یہ منظر دیکھ کر واپس آ گئے، آج کی رات انہیں اکیلے گزارنی تھی۔ فجر کی اذان ہوئی تو انہوں نے نماز پڑھنے کا سوچا؛ برسوں پہلے پہلی بیوی کی موت پر نماز چھوڑی تھی، آج ریجا کی وجہ سے وہ تعلق پھر جڑ گیا۔ زرمینہ جب کچن جانے لگی تو سراج کو سوتا دیکھ کر جائے نماز تہہ کی اور لائٹ آف کر دی۔ میاں جی کی حویلی میں دعوت کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ فضا کو میاں جی نے سمجھایا کہ وہ اب اس فیملی کا حصہ ہے۔ فضا کا خوف جاتا رہا۔ شام ہوئی تو مہمان آنے لگے، فضا بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ استقبالیہ پر ظریف اور فضا کھڑے تھے کہ رحمان کی گاڑی آئی۔ نسرین اندر چلی گئی، پھر رحمان اندر آئے۔ فضا کا نام رحمان کے منہ سے سن کر وہ شاکڈ رہ گئی۔ رحمان نے پوچھا، "تم کہاں چلی گئی تھیں؟" تب ظریف آیا اور بولا، "تعارف کروائیں، یہ میری بیوی ہے فضا۔"

رحمان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی، اسے لگا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ ظریف کے الفاظ "یہ میری بیوی ہے" اس کے کانوں میں ہتھوڑوں کی طرح بج رہے تھے۔ فضا کے چہرے پر خوف اور حیرت کے بادل تھے، وہ بت بنی کھڑی رحمان کو دیکھ رہی تھی جس کی آنکھوں میں برسوں کا کرب اور سوالات تیر رہے تھے۔ رحمان کا دم گھٹنے لگا، اس نے کانپتے ہاتھوں سے ماتھے کا پسینہ صاف کیا اور بغیر کسی کو کچھ کہے پلٹ گیا۔ انیل نے باپ کو اس حال میں دیکھا تو پیچھے لپکا، "بابا! کیا ہوا؟" مگر رحمان کے لبوں پر صرف ایک ہی نام لرز رہا تھا، "فضا۔۔۔" انیل الجھ گیا، "بابا فضا مامی تو اندر ہیں، آپ کو کیا ہوا ہے؟" رحمان نے انیل کا ہاتھ جھٹک دیا اور تیز قدموں سے گاڑی کی طرف بڑھ گیا، جیسے وہ کسی سائے سے بھاگ رہا ہو۔ اندر ہال میں نسرین اور ظریف رحمان کے اچانک جانے پر پریشان تھے، جبکہ فضا کی خاموشی ایک طوفان کا پتہ دے رہی تھی۔ نسرین نے انیل سے پوچھا، "تمہارے بابا کو کیا ہوا؟" مگر انیل کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ فضا نے جب کانپتی آواز میں رحمان کی خیریت پوچھی تو پورے ہال میں سناٹا چھا گیا۔ سب کی نظریں فضا پر تھیں، جو رحمان کے جانے والے راستے کو یوں تک رہی تھی جیسے اس کا سب کچھ لٹ گیا ہو۔ رحمان اور فضا کا وہ کیا راز تھا جو برسوں بعد حویلی کی اس دیواروں کے درمیان ایک دھماکے کی طرح پھٹا تھا؟ کیا رحمان کا ماضی اب سب کے سامنے آنے والا تھا؟

جاری ہے...


کاپی رائٹ اور ڈس کلیمر: اس تحریر کے تمام جملہ حقوق مصنفہ عشرت زاہد (عشرت خانم) کے پاس محفوظ ہیں۔ اس کہانی کو مصنفہ کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے پلیٹ فارم، یوٹیوب چینل یا بلاگ پر شائع کرنا قانونی جرم ہے۔ یہ ایک افسانوی تحریر ہے جس کے تمام کردار اور واقعات فرضی ہیں۔ کسی بھی زندہ یا مردہ شخص سے مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی۔

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22