بہار کے سنگ (قسط نمبر: 01

 بہار کے سنگ 


قسط نمبر:1


فجر کی ٹھنڈی ہوا کھڑکی کے پردوں کو چھو کر کمرے میں داخل ہو رہی تھی جب دور مسجد سے بلند ہوتی اللہ اکبر کی صدا تانیہ کے کانوں میں رس گھولنے لگی۔ اس نے بوجھل آنکھوں کے ساتھ ہاتھ بڑھا کر تکیے کے پاس رکھا موبائل اٹھایا، سکرین پر "5:00 AM" جگمگا رہا تھا۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اور بیڈ سے پیر نیچے ٹکائے۔ آج کی صبح عام صبحوں جیسی نہیں تھی، آج تانیہ کے دل کی دھڑکنیں کچھ زیادہ ہی تیز تھیں۔ آج اسے دیکھنے کے لیے لوگ آنے والے تھے۔

وضو کرتے ہوئے جب ٹھنڈا پانی اس کے چہرے سے ٹکرایا تو اسے وہ دن یاد آگیا جب اس کی ملاقات المیر سے ہوئی تھی۔ وہ ملاقات جو شاید اتفاق تھی، یا شاید قدرت کا کوئی خوبصورت منصوبہ۔

لاہور کے ایک معروف شاپنگ مال میں عید کی گہما گہمی عروج پر تھی۔ تانیہ ایک بڑے برانڈ کے آؤٹ لیٹ سے شاپنگ کر کے نکل رہی تھی کہ اچانک ایک شخص سے اس کی ٹکر ہوئی۔ تانیہ کا توازن بگڑا اور اس کے ہاتھ میں موجود شاپنگ بیگز زمین پر جا گرے۔

"Oh, I am so sorry! انتہائی معذرت، میں نے دیکھا نہیں،" ایک پروقار اور مدھم مردانہ آواز تانیہ کے کانوں سے ٹکرائی۔ تانیہ نے نظریں اٹھائیں تو سامنے ایک خوش شکل جوان کھڑا تھا جس کے چہرے پر ندامت کے سچے اثرات تھے۔ اس نے فوراً جھک کر تانیہ کے گرے ہوئے ڈریسز اٹھائے اور بڑے سلیقے سے اسے پکڑائے۔

"کوئی بات نہیں، اٹس اوکے،" تانیہ نے دھیمے لہجے میں جواب دیا، مگر اس اجنبی کے تمیز دار رویے نے اسے متاثر کیا۔ وہ شخص معذرت کرتا ہوا اندر داخل ہوا، اور تانیہ، جو نکلنے والی تھی، نجانے کیوں دوبارہ اسی سٹور کے اندر چلی گئی جیسے کوئی ان جانی کھینچ اسے اندر لے گئی ہو۔

اندر المیر (جس کا نام تانیہ کو بعد میں معلوم ہوا) خواتین کے کپڑوں کے ڈھیر کے سامنے کھڑا سر کھجا رہا تھا۔ کبھی وہ ایک سوٹ اٹھاتا، کبھی دوسرا۔ اس کے چہرے کی الجھن دور سے ہی نظر آرہی تھی۔ تانیہ خاموشی سے کچھ فاصلے پر کھڑی نئے ڈیزائن دیکھ رہی تھی کہ المیر اس کی طرف مڑا۔

"Excuse me! کیا میں آپ سے ایک چھوٹی سی مدد لے سکتا ہوں؟" المیر نے جھجھکتے ہوئے پوچھا۔

تانیہ نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا، "جی بالکل، کہیے کیا مدد چاہیے؟"

المیر نے ایک لمبا سانس لیا، "سچی بات یہ ہے کہ میں اپنی ماما اور آپی کے لیے شاپنگ کرنے نکلا تو ہوں، لیکن یہاں اتنے رنگ اور ڈیزائن دیکھ کر میرا دماغ گھوم گیا ہے۔ میں ہمیشہ ماما کے ساتھ آتا تھا، مگر اس بار وہ کافی بیمار ہیں اور میں نے انہیں زبردستی آرام کا کہہ کر بھیجا ہے۔ اب سمجھ نہیں آ رہا کہ ان کی پسند کا کیا لوں؟"

تانیہ کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی، "یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ آپ ان کا اتنا خیال رکھ رہے ہیں۔ بتائیے، انہیں کس طرح کے کپڑے پسند ہیں؟ کچھ آئیڈیا دیں تو میں شاید بہتر مشورہ دے سکوں۔"

المیر نے بتایا کہ اس کی والدہ کی عمر تھوڑی زیادہ ہے اور وہ ہلکے، نفیس رنگ پسند کرتی ہیں۔ جبکہ اس کی بہن کو شوخ رنگ پسند ہیں، لیکن وہ زیادہ کام والے کپڑے نہیں پہنتی، اسے صرف دھاگے کی کڑھائی  پسند ہے۔

تانیہ نے پروفیشنل انداز میں کیٹلاگز دیکھنا شروع کیں اور المیر کو نیو ارائیول   کے سیکشن کی طرف لے گئی۔ وہاں ایک خوبصورت لائٹ بلو   رنگ کا سوٹ تھا جس پر سفید دھاگے کی نفاست بھری کڑھائی تھی۔

"یہ رنگ آپ کی والدہ پر بہت جچے گا،" تانیہ نے مشورہ دیا۔ المیر کی آنکھیں چمک اٹھیں، "واہ! یہ تو واقعی پرفیکٹ ہے۔ ماما کو بلو بہت پسند ہے۔"

المیر نے وہ سوٹ اپنی والدہ کے لیے فائنل کر لیا، لیکن اب اس کی نظریں اپنی آپی (بڑی بہن) کے لیے بہترین لباس کی تلاش میں بھٹک رہی تھیں۔ تانیہ نے اس کی الجھن بھانپ لی اور مشورہ دیا، "یہاں پاس ہی کچھ اور برانڈز کے آؤٹ لیٹس بھی ہیں، وہاں کی کلیکشن بہت منفرد ہوتی ہے، ہمیں ایک بار وہاں بھی دیکھ لینا چاہیے۔" تانیہ کے کہنے پر وہ دوسرے آؤٹ لیٹس کا وزٹ کرنے لگے۔ آخر ایک سوٹ پر تانیہ رک گئی اور المیر سے کہا، "یہ رہا آپ کی پسند کے مطابق آپ کی آپی کے لیے سوٹ!"

المیر نے حیرت سے کہا، "مجھ سے زیادہ تو اچھی سلیکشن مجھ سے نہ ہو پاتی، یہ آپ نے بہت ہی اچھی کروا دی۔" المیر نے وہ سوٹ نکلوا کر کاؤنٹر پر پیمنٹ کی اور برانڈ سے باہر آگیا۔ باہر آکر اس نے تانیہ کا شکریہ ادا کیا جس پر تانیہ نے کہا، "آپ کا کام ہو گیا، جب آپ کی والدہ پہنیں گی تو میرے لیے دعا کروائیے گا۔" المیر نے جواب دیا، "میں ضرور آپ کا ذکر ان سے کروں گا۔"

المیر نے شکریہ کے ساتھ کہا، "اتنی دیر سے آپ کے ساتھ ہوں میں نے اپنا بتایا بھی نہیں، میرا نام المیر ہے اور میں جہانگیر گروپ اینڈ انٹرپرائزز کے اونر کا بیٹا ہوں اور وائی بلاک میں رہتا ہوں۔" جس پر تانیہ نے کہا، "Nice to meet you! میں تانیہ ہوں۔ میرے پاپا کوئی بڑی شخصیت نہیں، ایک اسکول کے پرنسپل ہیں اور اپنا اسکول چلاتے ہیں۔ رہتے ہم بھی وائی بلاک میں ہی ہیں۔" جس پر المیر ہنسا، "واقعی؟ حیرت ہے کبھی اتفاقیہ ملاقات بھی نہیں ہوئی۔" پھر المیر تانیہ سے کہنے لگا، "ماما کو میڈ کے آسرے پر چھوڑ کر آیا ہوں، میں چلتا ہوں وہ ویٹ کر رہی ہوں گی۔ آپ نے بہت اچھی شاپنگ کروائی، انفیکٹ  لیڈیز کی شاپنگ میرا ڈیپارٹمنٹ نہیں ہے، بٹ آپ نے بہت جلدی شاپنگ کروا دی۔ ایسے لوگ لیڈیز کو بدنام کرتے ہیں کہ صبح سے شام ہو جاتی ہے ان کی شاپنگ ختم نہیں ہوتی۔"

دونوں لفٹ کی طرف گئے، لفٹ میں بھی ساتھ بیسمنٹ کا بٹن پریس کیا اور ساتھ ہی بیسمنٹ میں گئے اور دونوں ایک دوسرے کو اللہ حافظ کہتے ہوئے اپنی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔ گاڑی میں بیٹھے ہوئے المیر کو ایک عجیب سا احساس ہوا، یہ تانیہ سے ملاقات اس کے حواسوں پر ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح تاثر چھوڑ گئی تھی۔ وہ جو بس اپنے آپ سے کام رکھنے والا انسان تھا، جس نے کبھی کوئی دوست بھی نہیں بنانی تھی یونیورسٹی لائف میں، اور کوئی فی میل فرینڈ نہ ہونے پر اکثر فرینڈ سرکل میں اسے خشک اور بور مانا جاتا تھا۔

یہ تربیت ہی تو تھی آسیہ بیگم اور جہانگیر صاحب کی۔ ان کی تربیت اور بیٹے کی پرورش پر گہری نگاہ رہی، اکلوتی اولاد ہونے کے باوجود المیر کی سرگرمیوں پر جہانگیر اور آسیہ گہری نگاہ رکھتے تھے۔ وہ المیر کے فرینڈ سرکل سے بھی آگاہ تھے اور المیر بھی ہائی سوسائٹی میں رہنے کے باوجود بگڑا ہوا نواب بالکل نہیں تھا، سلجھا ہوا میچور انسان بن کر سب کے سامنے تھا۔ اس کی پرسنلٹی اتنی سحر انگیز تھی کہ کوئی بھی لڑکی اس کی دیوانی ہو سکتی تھی، اس پر اس کے اخلاق، بات کرنے کا اسٹائل اور عورت کی عزت کرنا اور مینرز یہ سب اسے ورثے میں ملا تھا۔

بیسمنٹ سے گاڑیاں اوپر جا رہی تھیں۔ مین روڈ پر گاڑی آتے ہوئے اس نے اپنی گاڑی کو آگے والی لائن میں لے جانے کے لیے جیسے ہی آگے بڑھانا چاہا، اسے تانیہ نظر آئی جو کہ گاڑی کے بونٹ کا ڈھکن کھول کر اسے دیکھ رہی تھی۔ المیر نے گاڑی سائیڈ پر روکی اور اتر کر تانیہ کے پاس آیا اور کہا، "میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں؟" جس پر تانیہ بولی،  ابھی تو صحیح تھی، کچھ دن پہلے ہی سروس کروائی ہے، پتہ نہیں چلتے ہوئے ایک دم کیوں بند ہو گئی۔" المیر نے کہا، "آپ مجھے جگہ دیں میں ذرا چیک کروں۔" المیر کسی ماہر مکینک کی طرح دیکھنے لگا اور اس نے تانیہ سے گاڑی اسٹارٹ کرنے کو کہا۔ تانیہ نے اسٹارٹ کی تو وہ ہو گئی۔ المیر نے کہا، "ابھی بھی اس میں کام باقی ہے، آپ مکینک کو دکھا دیجیے گا، ابھی کے لیے یہ چلے گی، گھر تک پہنچ جائے گی۔" جس پر تانیہ نے اس کا شکریہ ادا کیا اور چل پڑی۔ المیر بھی اپنی گاڑی میں آ بیٹھا اور اپنے گھر کی طرف آگیا۔

گیٹ پر ہارن دینے پر گیٹ اوپن ہوا اور گاڑی پورچ میں داخل ہوئی۔ بیک سے شاپنگ بیگز نکالنے کے بعد المیر سیدھا ماں کے روم میں آیا تو لیمپ کی روشنی میں ماما بستر پر لیٹی ہوئی نظر آئیں۔ اس نے مزید دروازہ کھولنے کے بجائے اپنے روم کی طرف قدم بڑھا دیے۔ اسے نماز بھی ادا کرنی تھی، المیر دین پر بھی کاربند تھا، کوشش کرتا تھا کہ کوئی نماز قضا نہ ہو۔ اتنے میں ملازم نے آکر اطلاع دی کہ "بڑے صاحب آ گئے ہیں، آپ کو بلا رہے ہیں۔" المیر نے جائے نماز تہہ کر کے ریک پر رکھی اور باہر آگیا اور اپنے پاپا سے ان کی افطار پارٹی کے بارے میں پوچھنے لگا۔ آج ان کی دوسرے شیئر ہولڈرز کے ساتھ ایک بزنس کے سلسلے میں میٹنگ بھی تھی اور ساتھ افطار پارٹی بھی۔ وہ گھر آئے تو گھر میں خاموشی محسوس ہوئی جس پر ملازم سے المیر نے پوچھا اور وہ دونوں باپ بیٹا لاؤنج میں باتیں کرنے لگے اور المیر ان سے میٹنگ کا احوال پوچھنے لگا۔

آسیہ بیگم کی آنکھ کھلی تو انہیں رات کا احساس ہوا تو وہ اٹھ گئیں اور ساتھ ہی باہر بھی آگئیں۔ ان کو دیکھ کر المیر بھی اٹھا اور ان کے پاس آگیا۔ "ماما! آپ ریسٹ کرتیں،" جس پر آسیہ بیگم نے کہا، "تم کب آئے؟ مجھے اٹھایا کیوں نہیں؟" جس پر المیر نے کہا، "میں آ گیا تھا، آپ کے روم کا دروازہ کھلا تھا، آپ نیند میں تھیں اس لیے آواز دیے بغیر میں وہاں سے اپنے روم میں گیا، نماز ادا کی تو پاپا آگئے۔" المیر سے پوچھنے لگیں، "کھانا کھایا ہے؟" المیر نے کہا، "افطار کے بعد میں آپ کو میڈیسن دے کر رخصانہ میڈ کو کہہ کر گیا تھا کہ ماما کا خیال رکھنا، میں ذرا مال سے ہو کر آتا ہوں۔" آسیہ نے کہا، "میں سو گئی تھی، ابھی اٹھی ہوں، اور تم بتاؤ شاپنگ ہو گئی تمہاری؟" المیر نے کہا، "ایک منٹ، لے کر آتا ہوں، آپ کو شاپنگ دکھاتا ہوں۔"

شاپنگ بیگز سے سوٹ نکال کر المیر ماما کو دکھانے لگا۔ اس کی ماما کے لیے کلر کمبینیشن اور سلیکشن ہر لحاظ سے ان کی پسند کے مطابق تھی، اور پھر اپنی بہن کے لیے اتنا اچھا سوٹ لانے پر وہ المیر کو پیار کرنے لگیں اور ساتھ ہی حیرت بھی تھی، "تم نے کب سے اتنی اچھی شاپنگ کرنا سیکھ لی؟ تم تو جاتے ہی نہیں تھے، مہربانو اتنا کہتی تھی کہ ماما! المیر کو ساتھ لے کر جایا کریں تاکہ اسے بھی لینا آئے، کل کو اس کی بیوی آئے گی تو یہ کیا کریں گے؟ میں اپنے گھر سے روز روز نہیں آ سکتی۔" المیر ہنسا اور بولا، "ماما! میں نے نہیں کی یہ سلیکشن، سب تانیہ کی ہے۔"

جس پر المیر کے والدین چونکے کہ "یہ تانیہ کون ہے؟ جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے ہمارے بیٹے کی تو کوئی گرل فرینڈ ہے نہیں!" المیر مسکرایا اور سارا احوال بتایا کہ کس طرح تانیہ سے ملاقات ہوئی اور اس نے تانیہ سے فیور  مانگا اور تانیہ نے اسے یہ شاپنگ کروائی۔ آسیہ بیگم باقاعدہ اپنے بیٹے کے چہرے کا جائزہ لے رہی تھیں۔ پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ ان کا بیٹا کسی لڑکی کے بارے میں اتنے اچھے سے بات کر رہا ہے۔ "پھر اور کیا بات ہوئی تانیہ سے؟" جہانگیر صاحب نے پوچھا۔ المیر جھینپ سا گیا، "اور تو کچھ نہیں ہوئی، پھر وہ چلی گئی۔" المیر اٹھ کر کچن میں کافی کا بول کر لان میں چلا گیا۔

تانیہ سے ایک ملاقات اس کے حواسوں پر چھا گئی تھی۔

تانیہ جب گھر پہنچی تو لان میں اس کے فادر (شہاب صاحب) بڑے بے چینی سے اس کا انتظار کر رہے تھے۔ تانیہ کے ہاتھ میں شاپنگ بیگز دیکھ کر وہ مسکرائے، مگر تانیہ کا چہرہ کچھ اترا ہوا تھا۔

"بنتِ شہاب! آج اتنی دیر؟" شہاب صاحب نے محبت سے پوچھا۔

تانیہ نے ایک لمبا سانس لیا اور بتایا، "بابا! آج گاڑی پھر بیچ سڑک پر رک گئی تھی۔ آپ مکینک سے کہیے گا کہ دو دن گاڑی پاس رکھ کر اس نے کیا کام کیا ہے؟ وہ تو بھلا ہو المیر کا، جنہوں نے مدد کی اور میں صحیح سلامت گھر پہنچ گئی۔"

شہاب صاحب کے ماتھے پر فکر کے آثار ابھرے، "میں سمجھ گیا بیٹا، کل ہی اسے دیکھتا ہوں۔ مگر... یہ المیر کون ہے؟"

تانیہ نے بیگ صوفے پر رکھتے ہوئے ساری تفصیل بتائی کہ کس طرح مال میں المیر سے ٹکر ہوئی، کیسے اس نے معذرت کی اور پھر اپنی والدہ اور بہن کی شاپنگ کے لیے تانیہ سے مدد مانگی۔ تانیہ جب المیر کی شخصیت اور اس کے سلجھے ہوئے انداز کی تعریف کر رہی تھی، تو شہاب صاحب اسے غور سے دیکھ رہے تھے۔

"اچھا! تو دیکھنے میں کیسا تھا وہ المیر؟" انہوں نے شرارت سے پوچھا۔

تانیہ نے اس کی پرسنلٹی کی تعریف کی تو شہاب صاحب محظوظ ہوئے، "رہتا کہاں ہے یہ نوجوان؟ کیا موبائل نمبر دیا اس نے؟"

تانیہ اپنے بابا کی شرارت سمجھ گئی اور شرما کر بولی، "بابا! آپ مجھے تنگ کرنے کے موڈ میں ہیں، میں اپنے روم میں جا رہی ہوں۔"

شہاب صاحب ہنستے ہوئے اس کے پیچھے آئے، "بیٹا! تمہاری والدہ تو اب ہیں نہیں، یہ کام بھی مجھے ہی کرنا ہے۔ اگر تمہیں لڑکا پسند ہے تو بتاؤ، میں پورے وائی بلاک کے ہر گھر میں جا کر اس المیر کو ڈھونڈ لوں گا۔"

تانیہ نے چلتے چلتے جواب دیا، "وہ 'جہانگیر گروپ آف انٹرپرائزز' کے اونر کا بیٹا ہے۔"

یہ نام سنتے ہی شہاب صاحب کے قدم وہیں جم گئے۔ "جہانگیر..." یہ نام ان کے کانوں میں کسی دھماکے کی طرح گونجا۔ تانیہ تو اپنے کمرے میں چلی گئی، مگر شہاب صاحب ماضی کے دریچوں میں کھو گئے۔

"کیا یہ وہی جہانگیر ہے؟ صوفیہ کا بھائی؟" ان کا ذہن یادوں کی گرد جھاڑنے لگا۔ جب ان کا صوفیہ سے نکاح ہوا تھا، تب جہانگیر پڑھائی کے سلسلے میں ملک سے باہر گیا ہوا تھا۔ صوفیہ نے کتنی کوشش کی تھی کہ اپنے بھائی سے رابطہ کرے، مگر ہر بار ایک ہی جواب ملتا کہ 'جہانگیر باہر ہے'۔

شہاب صاحب اپنی محبت میں کھرے نکلے تھے۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ صوفیہ کے تایا کے گھر رشتہ لے کر گئے تھے، مگر صوفیہ کے تایا نے ان کا اسٹیٹس کم ہونے کی وجہ سے نہ صرف رشتہ مسترد کیا بلکہ شہاب کے والدین کی سخت تذلیل بھی کی۔ صوفیہ یہ برداشت نہ کر سکی اور اپنے تایا تائی کے سامنے کھڑی ہو گئی کہ "میں شہاب کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کروں گی۔"

تایا نے غصے میں صوفیہ کو گھر سے نکل جانے کا کہہ دیا۔ اس وقت جہانگیر باہر تھا اور اسے یہی بتایا گیا کہ صوفیہ کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے اور خاندان کی عزت کا جنازہ نکال گئی ہے۔ یہ سن کر جہانگیر کا خون کھول اٹھا اور اس نے اپنی بہن سے ہر قسم کا تعلق توڑ لیا۔ یہی تو تائی چاہتی تھی! آسیہ ان کی اکلوتی بیٹی تھی اور وہ چاہتی تھی کہ صوفیہ کا راستہ صاف ہو جائے تاکہ آسیہ ہی تمام جائیداد کی وارث بنے جو جہانگیر اور صوفیہ کے والدین ان کے لیے چھوڑ گئے تھے۔

آسیہ اپنے والدین سے بالکل مختلف تھی، معصوم ذہن کی مالک جسے سیاست نہیں آتی تھی۔ وہ زیادہ تر گھر کی ملازمہ کے پاس رہتی تھی جو اسے اچھی باتیں سکھاتی تھی۔

جہانگیر سے رابطہ نہ ہونے پر تائی نے صوفیہ کو دو دن کا وقت دیا: "یا تو ہمارے لائے ہوئے رشتے پر مان جاؤ، یا گھر سے نکل جاؤ۔" صوفیہ نے مجبوراً شہاب سے رابطہ کیا اور کورٹ میرج کی بات کی۔ شہاب کے والدین اپنی شرافت کی وجہ سے ایک بار پھر صوفیہ کے تایا کے پاس گئے کہ شاید وہ مان جائیں، مگر تایا نے ایک کڑی شرط رکھ دی۔

"صوفیہ اس گھر سے جا سکتی ہے، مگر اسے اپنا سب کچھ چھوڑنا ہوگا! اپنی والدہ کے زیورات، وہ پراپرٹی جو اس کے والدین نے اس کے نام کی، سب کچھ! اگر تمہیں خالی ہاتھ لڑکی منظور ہے تو لے جاؤ۔"

شہاب کے والد نے فخر سے جواب دیا، "ہم حیثیت میں آپ سے کم ضرور ہیں، لیکن عزت دار ہیں۔ میرا بیٹا اتنا کماتا ہے کہ وہ صوفیہ کو عزت کی زندگی دے سکے۔ ہمیں صوفیہ کے مال و دولت کی ضرورت نہیں، وہ خود ہماری عزت بن کر رہے گی۔"

تائی نے طنز کیا، "دیکھتی ہوں یہ شادی دو دن کیسے چلتی ہے! صوفیہ جن آسائشوں کی عادی ہے، وہ تمہارے چھوٹے سے گھر میں نہیں رہ پائے گی۔ آج کے بعد اس گھر کے دروازے اس پر ہمیشہ کے لیے بند ہیں۔"

صوفیہ اپنی جگہ سے اٹھی اور پختہ لہجے میں بولی، "مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے۔" تایا نے اسی وقت مولوی صاحب کو بلوایا اور جس جوڑے میں صوفیہ بیٹھی تھی، اسی میں اسے شہاب کے ساتھ رخصت کر دیا۔

شہاب صاحب آج بھی وہ لمحہ نہیں بھولے تھے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، "اگر المیر جہانگیر کا بیٹا ہے... تو کیا تقدیر ان دو دلوں کو دوبارہ جوڑ پائے گی یا ماضی کی یہ دیوار ان کے درمیان حائل ہو جائے گی؟"

جملہ حقوق محفوظ اور اعلانِ لاتعلقی

تمام جملہ حقوق بحقِ مصنفہ "عشرت زاہد" محفوظ ہیں۔ اس ناول "بہار کے سنگ" کی تمام تر کہانی، کردار، مکالمے اور منفرد خیالات کی ملکیت صرف اور صرف مصنفہ عشرت زاہد کے پاس ہے۔ مصنفہ کی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں نقل کرنا، دوبارہ شائع کرنا، کسی دوسرے پلیٹ فارم یا یوٹیوب پر اپ لوڈ کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔

یہ ایک خالصتاً افسانوی تحریر ہے جس کے تمام کردار اور واقعات مصنفہ کے تخیل کا نتیجہ ہیں۔ اس کہانی میں موجود کسی بھی نام یا واقعے کی کسی بھی زندہ یا مردہ شخص یا اصل زندگی کے واقعے سے مماثلت محض ایک اتفاق ہوگی۔ اس تحریر کا مقصد کسی بھی فرد، ادارے، مذہب یا فرقے کی دل آزاری کرنا نہیں بلکہ یہ صرف ادبی ذوق کی تسکین کے لیے لکھی گئی ہے۔

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22