بہار کے سنگ — قسط نمبر: 02
بہار کے سنگ — قسط نمبر: 02
تحریر: عشرت زاہد
تانیہ اپنے کمرے میں آئی تو اس کے ذہن میں ابھی تک مال کی وہ ملاقات تازہ تھی۔ اس نے بڑے سلیقے سے اپنے نئے ملبوسات الماری میں ہینگ کیے اور بیڈ پر لیٹ گئی۔ المیر کی شخصیت میں ایک عجیب سی کشش تھی جس نے تانیہ کو سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔ بابا کا اسے چھیڑنا بھی یاد آیا تو لبوں پر مسکراہٹ آگئی۔ اس نے سوچا کہ تھوڑی دیر آرام کر کے تازہ دم ہو جائے تاکہ شام کی عبادات یکسوئی سے ادا کر سکے۔
دوسری طرف شہاب صاحب اپنے کمرے میں تھے، جہاں برسوں سے بند ایک دراز آج وا ہوئی تھی۔ اس دراز میں وہ پرانی یادیں تھیں جنہیں انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے لاک کیا تھا۔ وہ جہانگیر کی کوئی تصویر تلاش کر رہے تھے کہ اچانک ان کے ہاتھ ایک پرانا لفافہ لگا۔ صوفیہ کی موجودگی میں انہوں نے کبھی اس لفافے کو کھولنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی، کیونکہ ان کی کل کائنات صوفیہ اور تانیہ ہی تھیں۔ شہاب صاحب نے صوفیہ کو وہی طرزِ زندگی دینے کے لیے دن رات ایک کر دیا تھا جس کی وہ عادی تھی۔ اسی علاقے میں گھر خریدنے کے لیے انہوں نے اپنا آبائی گھر تک بیچ دیا اور اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اب وہ اپنے دوست کے ساتھ مل کر سکول چلا رہے تھے۔ مالی طور پر اب کوئی کمی نہیں تھی، تانیہ ایک بہترین انسٹی ٹیوٹ میں پڑھ رہی تھی، بس کمی تھی تو صوفیہ کی... جسے اپنے بھائی جہانگیر کی بدگمانی کا دکھ اندر ہی اندر کھاتا رہتا تھا۔
شہاب صاحب کو یاد آیا کہ جب صوفیہ کو بھائی کی بہت یاد آتی تو وہ یہی دراز کھول کر بیٹھ جاتی، مگر ان کے آنے پر فوراً اسے بند کر دیتی۔ آج برسوں بعد انہوں نے اسے کھولا تو بچپن کی تصویریں نکلیں۔ صوفیہ کی اپنے بھائی اور والدین کے ساتھ ایک تصویر ان کے ہاتھ لگی ہی تھی کہ تانیہ کی آواز آئی، "بابا!"
شہاب صاحب نے ہڑبڑا کر وہ تصویر دیکھے بغیر واپس لفافے میں رکھی اور دراز مقفل کر دی۔ تانیہ نے کچن سے جھانک کر پوچھا، "ببا! میں پاستا بیک کر رہی ہوں، آپ کھائیں گے؟" شہاب صاحب نے مسکرا کر جواب دیا، "کیوں نہیں بیٹا! اپنی بیٹی کے ہاتھ کا پاستا تو میں ضرور کھاؤں گا۔" وہ تانیہ کے پاس کچن میں آگئے اور دونوں باپ بیٹی پاستا بنانے کی تیاریوں میں مگن ہو گئے۔
ادھر جہانگیر گروپ آف انٹرپرائزز میں صورتحال کافی کشیدہ تھی۔ بورڈ میٹنگ میں شیئر ہولڈرز پریشان تھے کیونکہ مارکیٹ ویلیو گر رہی تھی۔ جہانگیر صاحب کے لیے یہ صورتحال تکلیف دہ تھی، وہ اپنے بنائے ہوئے مقام کو گرتا نہیں دیکھ سکتے تھے۔ ملازمین کی تنخواہوں کا مطالبہ اور کچھ پرانے لوگوں کا کام چھوڑنا مزید ذہنی پریشانی کا باعث بن رہا تھا۔ انہوں نے المیر کو بلایا اور اپنی پریشانی کا ذکر کیا۔ المیر نے فوراً صورتحال کو سنبھالا اور ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کو نئی ہیرنگ کا مشورہ دیا۔ اس کا آئیڈیا تھا کہ تازہ دم ذہنوں کو ہائر کیا جائے اور ان سے تین سال کا بانڈ سائن کروایا جائے تاکہ کمپنی میں استحکام آئے۔ ایچ آر ہیڈ کمال صاحب کو یہ آئیڈیا بہت پسند آیا۔
اگلے دن تانیہ اخبار دیکھ رہی تھی کہ اس کی نظر اسی اشتہار پر پڑی۔ اس نے تفصیلات لیں اور آن لائن سی وی سبمٹ کروا دی۔ وہ ایک فریش گریجویٹ تھی اور اگرچہ اسے کوئی مالی ضرورت نہیں تھی، مگر وہ اپنے سکلز کو نکھارنے کے لیے یہ
انٹرنشپ کرنا چاہتی تھی۔ وہ اس حقیقت سے بالکل بے خبر تھی کہ جس آفس میں اس نے اپلائی کیا ہے، وہ المیر کا ہے۔
کمال صاحب نے عینک ٹھیک کرتے ہوئے تانیہ کی فائل پر نظر ڈالی اور پھر اس کے پراعتماد چہرے کو دیکھا۔ "تانیہ شہاب! آپ کی اکیڈمک ہسٹری تو بہت متاثر کن ہے، لیکن ہم یہاں صرف ڈگری نہیں دیکھتے۔ آپ کے خیال میں ایک فریش گریجویٹ ہماری کمپنی کو کیا دے سکتا ہے؟"
تانیہ نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر نہایت سنجیدگی سے جواب دیا، "سر! ڈگری صرف ایک راستہ دکھاتی ہے، لیکن کام کرنے کا جذبہ اور نئی چیزیں سیکھنے کی صلاحیت انسان کو کامیاب بناتی ہے۔ میں یہاں صرف ایک انٹرنی کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسی طالبہ کے طور پر آئی ہوں جو آپ کے تجربے سے سیکھ کر اس ادارے کے لیے کچھ نیا کرنا چاہتی ہے۔ میرا خواب ہے کہ میں ایک ایسی پروفیشنل بنوں جس پر اس کا ادارہ فخر کر سکے۔"
کمال صاحب اس کے جواب سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ "مستقبل کے بارے میں کیا ارادے ہیں؟ پانچ سال بعد خود کو کہاں دیکھتی ہیں؟"
تانیہ کی آنکھوں میں ایک عزم چمکا۔ "سر! میں خود کو کسی بڑے عہدے پر نہیں، بلکہ ایک ایسی شناخت کے ساتھ دیکھنا چاہتی ہوں جہاں میرا کام میری پہچان ہو۔ میں چاہتی ہوں کہ میں اپنی فیملی اور خاص طور پر اپنے بابا کے لیے ایک مثال بنوں کہ ان کی تربیت نے مجھے ایک مضبوط اور خودمختار انسان بنایا ہے۔" کمال صاحب نے مسکراتے ہوئے فائل پر شاندار کا ریمارک لکھ دیا۔
انٹرویوز کے اختتام پر جہانگیر صاحب نے خود تمام منتخب امیدواروں سے ملاقات کی۔ انہوں نے سب کو کمپنی کے قوانین اور نظم و ضبط کے بارے میں ہدایات دیں۔ تانیہ جب جہانگیر صاحب کے سامنے کھڑی تھی، تو اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ وہی شخص ہے جس کے تذکرے نے اس کے باپ کی آنکھوں میں نمی بھر دی تھی۔ جہانگیر صاحب کو بھی تانیہ کی شخصیت میں ایک عجیب سی سنجیدگی اور وقار نظر آیا۔
شام کو جب تانیہ گھر پہنچی تو وہ خوشی سے نہال تھی۔ "بابا! میرے پاس آپ کے لیے ایک بہت بڑا سرپرائز ہے!" اس نے شہاب صاحب کے گلے لگتے ہوئے کہا۔ جب اس نے بتایا کہ اس کی ایک نامور کمپنی میں انٹرنشپ کے لیے سلیکشن ہو گئی ہے اور اب اسے جوائننگ کرنی ہے، تو شہاب صاحب کے چہرے پر فخر اور خوشی کے ملے جلے تاثرات تھے۔ انہوں نے تانیہ کی محنت کو دیکھتے ہوئے اسے خوشی خوشی اجازت دے دی۔
شام کی ڈھلتی ہوئی روشنی کچن کی کھڑکی سے اندر آ رہی تھی جہاں تانیہ بڑے جوش سے پاستا ڈش میں نکال رہی تھی۔ شہاب صاحب میز پر بیٹھے اپنی بیٹی کے چمکتے ہوئے چہرے کو دیکھ رہے تھے، مگر ان کے دل میں ایک انجانا سا خوف گھر کر رہا تھا۔
"بابا! آپ کو یقین نہیں آئے گا، وہاں کا ماحول کتنا پروفیشنل ہے،" تانیہ نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔ "اور آپ کو پتہ ہے؟ جہانگیر صاحب نے خود ہم سب سے ملاقات کی اور ہمیں گائیڈ کیا۔ وہ بہت با رعب شخصیت ہیں،۔"
شہاب صاحب کے ہاتھ میں موجود کانٹا ایک لمحے کے لیے رک گیا۔ انہوں نے نظریں جھکا لیں تاکہ تانیہ ان کی آنکھوں میں چھپی لرزش نہ دیکھ سکے۔ "اچھا؟ تو... کیا تم وہاں کام کر کے خوش ہو؟" انہوں نے دھیمی آواز میں پوچھا۔
تانیہ نے ان کا ہاتھ تھام لیا۔ "بہت خوش ہوں بابا! میں چاہتی ہوں کہ میں اپنی پہچان خود بناؤں۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ کو مجھ پر فخر ہو۔ لیکن اگر آپ کو لگتا ہے کہ مجھے یہ نہیں کرنا چاہیے، تو میں ابھی استعفیٰ دے دوں گی۔ میری خوشی آپ کی اجازت میں ہے۔"
شہاب صاحب نے تانیہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔ ان کے ذہن میں صوفیہ کا وہ چہرہ گھوم گیا جو ہمیشہ اپنے بھائی کی محبت کے لیے ترستی رہی تھی۔ انہوں نے سوچا کہ اگر آج وہ تانیہ کو روک دیں گے، تو شاید وہ بھی صوفیہ کی طرح ادھوری رہ جائے۔
"نہیں میری جان! میں تمہیں کبھی نہیں روکوں گا،" شہاب صاحب نے ایک لمبا سانس بھرتے ہوئے کہا۔ "تمہاری صوفیہ مما بھی یہی چاہتی تھیں کہ تم ایک آزاد اور باوقار زندگی جیو۔ بس ایک بات یاد رکھنا تانیہ... دنیا بہت بے رحم ہے، یہاں لوگ اپنوں کو بھی نہیں بخشتے۔ تم اپنی سچائی اور محنت پر قائم رہنا، باقی اللہ بہتر کرے گا۔"
تانیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے، اس نے شہاب صاحب کے ہاتھ پر بوسہ دیا۔ "شکریہ بابا! میں آپ کا بھروسہ کبھی نہیں ٹوٹنے دوں گی۔"
شہاب صاحب مسکرا تو دیے، مگر ان کا دل جانتا تھا کہ تانیہ جس راستے پر چل پڑی ہے، وہ اسے سیدھا اسی ماضی کی طرف لے جا رہا ہے جس سے وہ اسے عمر بھر چھپاتے رہے۔
تانیہ جب اپنے پہلے دن آفس پہنچی، تو اس کے دل کی دھڑکنیں غیر معمولی طور پر تیز تھیں۔ سفید فارمل سوٹ اور ہلکے سے میک اپ میں وہ بلا کی پراعتماد لگ رہی تھی۔ کمال صاحب نے اسے اس کے ڈیسک تک پہنچایا اور قریب ہی بیٹھی ایک لڑکی، 'سارہ' سے اس کا تعارف کروایا۔
سارہ ایک زندہ دل لڑکی تھی، اس نے مسکرا کر تانیہ کا استقبال کیا۔ "ویلکم ٹو دی جہانگیر گروپ، تانیہ! یہاں کام کا پریشر تو بہت ہوتا ہے، مگر سیکھنے کو بہت کچھ ملتا ہے۔" تانیہ نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا اور اپنا لیپ ٹاپ سیٹ کرنے لگی۔ لنچ بریک کے دوران، کیفے ٹیریا میں دیگر ساتھی ملازمین بھی اس کے گرد جمع ہو گئے۔ "سنا ہے تم ٹاپ 5 کینڈیڈیٹس میں آئی ہو؟" ایک لڑکے، احسن نے پوچھا۔
تانیہ نے نہایت عاجزی سے جواب دیا، "بس اللہ کا کرم ہے، میں یہاں صرف اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے آئی ہوں۔" اسے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ آفس کا ہر ملازم المیر صاحب کے ڈسپلن اور جہانگیر صاحب کے رعب سے کتنا ڈرتا ہے۔ سارہ نے اسے سرگوشی میں بتایا، "المیر سر بہت 'پرفیکشنسٹ' ہیں، ان کے سامنے غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی، لیکن وہ محنتی لوگوں کی قدر بھی بہت کرتے ہیں۔" تانیہ نے خاموشی سے یہ بات سنی، مگر اسے کیا معلوم تھا کہ وہ اسی 'سخت گیر' شخص سے پہلے ہی ایک خوشگوار ملاقات کر چکی ہے۔
المیر اپنے کیبن میں بیٹھا فائلز دیکھ رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر کوریڈور میں گزرتی ہوئی ایک جھلک پر پڑی۔ وہ وہیں منجمد ہو گیا۔ "وہ یہاں؟" اس کے ذہن میں ایک دم دھماکہ سا ہوا۔ وہ مال والی لڑکی، جس کی سادگی نے اس کے دل کے کسی گوشے میں ہلچل مچا دی تھی، اب اسی کے آفس میں ایک انٹرنی کے طور پر موجود تھی۔
اس کے اندر ایک عجیب سی کشمکش شروع ہو گئی۔ ایک طرف اس کا پیشہ ورانہ غرور تھا جو کہتا تھا کہ اسے ایک عام ملازم کی طرح ٹریٹ کرو، اور دوسری طرف وہ کشش تھی جو اسے بار بار تانیہ کی طرف مائل کر رہی تھی۔ "کیا یہ محض اتفاق ہے یا تقدیر کا کوئی کھیل؟" اس نے سوچا کہ اگر پاپا کو پتہ چلا کہ یہ وہی لڑکی ہے جس کا میں نے ذکر کیا تھا، تو ان کا ردعمل کیا ہوگا؟
وہ بار بار اپنے کیبن کے شیشے سے باہر تانیہ کو دیکھتا، جو بڑی توجہ سے اپنا کام کر رہی تھی۔ اس کا جھکا ہوا سر اور کام میں مگن انداز المیر کو ایک انجانے سحر میں مبتلا کر رہا تھا۔ اس نے غصے سے فائل بند کی اور خود سے مخاطب ہوا، "المیر! ہوش میں آؤ، وہ یہاں صرف ایک انٹرنی ہے، تمہاری توجہ صرف کام پر ہونی چاہیے۔" مگر دل تھا کہ ماننے کو تیار نہیں تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ابھی تانیہ کے سامنے نہیں جائے گا، بلکہ دور رہ کر اس کی کارکردگی کا جائزہ لے گا، لیکن اس کی آنکھیں تانیہ کے ڈیسک سے ہٹ نہیں رہی تھیں۔
"المیر نے ابھی تانیہ کے ڈیسک سے نظریں ہٹائی ہی تھیں کہ اس کے کیبن کا دروازہ کھلا اور جہانگیر صاحب اندر داخل ہوئے۔ ان کے ہاتھ میں وہی لسٹ تھی جس میں تانیہ کا نام سب سے اوپر تھا۔ 'المیر! اس لڑکی کی پرفارمنس کمال ہے، میں چاہتا ہوں کہ تم اسے پرسنل اسسٹنٹ کے طور پر ٹرین کرو۔' المیر کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ کیا وہ تانیہ کو اپنے اتنا قریب برداشت کر پائے گا، یا یہ نزدیکی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگی؟"
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں۔ اس ناول کے تمام جملہ حقوق عشرت زاہد کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر کا کوئی بھی حصہ کسی بھی شکل میں (بشمول فوٹو کاپی، ریکارڈنگ، یا کسی دوسرے الیکٹرانک یا مکینیکل طریقے سے) دوبارہ شائع، تقسیم یا منتقل نہیں
کیا جا سکتا۔
وضاحت / ڈسکلیمر: یہ ایک افسانوی تحریر ہے۔ اس میں شامل تمام نام، کردار، کاروبار، مقامات اور واقعات مصنفہ کے تخیل کی پیداوار ہیں۔ کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا مردہ) یا حقیقی واقعات سے مماثلت محض ایک اتفاقیہ عمل ہو گا، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

Comments
Post a Comment