بہار کے سنگ — قسط نمبر: 03
بہار کے سنگ — قسط نمبر: 03
تحریر: عشرت زاہد
المیر کے کیبن میں سکوت طاری تھا، مگر اس کے اندر ایک طوفان برپا تھا۔ جہانگیر صاحب کے الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے، "اسے پرسنل اسسٹنٹ کے طور پر ٹرین کرو۔" وہ چاہ کر بھی انکار نہیں کر سکتا تھا کیونکہ جہانگیر گروپ آف انٹرپرائزز میں میرٹ اور کارکردگی پر کبھی سمجھوتہ نہیں ہوا تھا۔ "جی پاپا، میں دیکھ لوں گا،" المیر نے بمشکل اپنے لہجے کو سپاٹ رکھتے ہوئے کہا۔ جہانگیر صاحب کے جانے کے بعد اس نے کرسی کی پشت سے سر ٹکا دیا اور آنکھیں موند لیں۔ اسے مال والا وہ منظر یاد آیا جہاں تانیہ کی سادگی نے اسے مسحور کر دیا تھا، مگر اب وہی سادگی اس کے لیے ایک آزمائش بننے والی تھی۔
اگلے ہی لمحے انٹرکام کی گھنٹی بجی۔ "سر! مس تانیہ شہاب آپ سے ملنا چاہتی ہیں،" آپریٹر کی آواز آئی۔ المیر نے ایک گہرا سانس لیا، "اندر بھیج دیں۔" دروازہ کھلا اور تانیہ اندر داخل ہوئی۔ سفید لباس میں ملبوس، فائل سینے سے لگائے وہ نہایت پروقار لگ رہی تھی۔ المیر کی نظر پڑی تو ایک لمحے کے لیے اس کا دل دھڑکنا بھول گیا، مگر اگلے ہی پل اس نے اپنے چہرے پر وہی روایتی سرد مہری سجا لی۔ تانیہ نے جب سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ "آپ؟" تانیہ کے لبوں سے بے اختیار نکلا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ جس شخص نے مال میں اس کی مدد کی تھی، وہ دراصل اس کا باس اور جہانگیر صاحب کا بیٹا ہے۔
"مس تانیہ! یہ ایک آفس ہے، یہاں حیرت کے لیے کوئی جگہ نہیں،" المیر نے بے حد سرد لہجے میں کہا۔ "بیٹھئے!" تانیہ نے خود کو سنبھالا اور خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گئی۔ اسے المیر کے لہجے کی تبدیلی نے دھچکا پہنچایا تھا۔ کہاں وہ نرم خو شخص اور کہاں یہ برف جیسا سرد انسان۔ "آپ کی فائل میں نے دیکھی ہے۔ کمال صاحب آپ سے بہت متاثر ہیں، لیکن میرے معیار بہت مختلف ہیں۔ یہاں کام کا مطلب ہے سو فیصد درستگی۔ کیا آپ تیار ہیں؟" المیر کی نظریں تانیہ کے چہرے پر جمی تھیں۔ تانیہ نے نظریں اٹھا کر المیر کی آنکھوں میں دیکھا، جہاں اب کوئی شناسائی نہیں تھی۔ اس نے بھی پختہ ارادے سے جواب دیا، "میں یہاں سیکھنے اور اپنی محنت ثابت کرنے آئی ہوں سر۔ آپ مجھے مایوس نہیں پائیں گے۔" المیر نے ایک فائل اس کی طرف بڑھائی۔ "یہ پچھلے تین سال کا ڈیٹا ہے، مجھے اس کا خلاصہ کل صبح تک چاہیے۔ آپ کا ڈیسک میرے کیبن کے بالکل باہر ہے۔"
تانیہ فائل لے کر اٹھی، اس کا دل المیر کے بدلے ہوئے رویے پر کڑھ رہا تھا، مگر اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اپنی کارکردگی سے اسے یہ باور کروائے گی کہ وہ صرف ایک "اتفاقیہ ملاقات" نہیں تھی، بلکہ ایک باصلاحیت پروفیشنل بھی ہے۔ جیسے ہی وہ باہر نکلی، المیر نے اسے جاتے ہوئے دیکھا۔ اس کا دل کہہ رہا تھا کہ یہ قربت اسے بہت مہنگی پڑے گی، کیونکہ تانیہ کی موجودگی اس کے برسوں کے ضبط کو توڑ رہی تھی۔
تانیہ نے اپنے ڈیسک پر بیٹھتے ہی فائل کھولی۔ اس کا ذہن اس وقت صرف کام پر مرکوز تھا۔ اس کے ہاتھ تیزی سے کی بورڈ پر چل رہے تھے، وہ اس ڈیٹا کو شیٹ پر شفٹ کر کے اسے اینالائز کرنے کے قابل بنا رہی تھی تاکہ 3 سال کی پروگریس کا اندازہ لگایا جا سکے، اس ایک اسٹیٹمنٹ کو دیکھنے سے پتہ چل جائے کہ کس کس سال کتنا پرافٹ ہوا اور گروتھ ریٹ کیا رہا۔ شام کے چھ بج رہے تھے، بابا کی کال 2 بار آ چکی تھی کہ آفس ٹائم تو 5 بجے ہے، تم انٹرنشپ پہ ہو تو کیوں اتنا لیٹ؟ اس نے کہا کہ بابا ایک ٹاسک ملا ہے، صبح اسے سبمٹ کروانا ہے، الموسٹ ڈن ہے، میں آتی ہوں۔
دوسری طرف المیر نے اپنا لیپ ٹاپ آف کیا اور بیگ میں رکھا۔ پیون کو آفس لاک کرنے کا کہا اور اپنی فائلز اٹھا کر اسے بیگ پکڑایا۔ موبائل اور گاڑی کی کیز لے کر وہ باہر آیا تو سب جا چکے تھے سوائے تانیہ کے۔ تانیہ اتنی مگن تھی کہ اسے المیر کے پاس کھڑے ہونے کا بھی احساس نہیں ہوا۔ المیر نے ڈیسک بجایا تب تانیہ نے دیکھا اور کھڑی ہو گئی۔ "جی سر؟" تب المیر نے لہجے میں نرمی کے ساتھ کہا، "تانیہ! آپ ابھی تک یہاں ہیں؟ آپ کو گھر ٹائم سے جانا چاہیے تھا۔ آپ کو اتنا بھی کام نہیں کرنا، آپ کے بابا پریشان ہوں گے۔ ٹائم دیکھیں! کل سے آپ 5 بجے نکل جایا کریں۔" المیر نے لیپ ٹاپ بند کر دیا۔ تانیہ نے شکر پڑھا کہ اس نے فائل سیو کر لی تھی، کل کا کام وہ سب کر چکی تھی۔ تانیہ نے لیپ ٹاپ اٹھایا اور فائل المیر کو ہینڈ اوور کی کہ "سر یہ فائل صبح آپ نے دی تھی، یہ آپ کی فائل۔" جسے المیر نے لے کر پیون کو دیا کہ "میری سائیڈ ڈیسک پہ سیکنڈ شیلف پہ رکھ دیجیے گا۔"
پیون وہ فائل لے کر آفس کے اندر گیا اور تانیہ نے پرس اٹھایا اور لیپ ٹاپ کو بیگ میں رکھ کر کھڑی ہوئی اور پھر وہ المیر کے ساتھ لفٹ تک آئی۔ دونوں لفٹ میں خاموش رہے اور لفٹ گراؤنڈ فلور پہ رکی تو تانیہ نے پرس سے موبائل نکالا۔ المیر اپنی گاڑی کے لیے باہر گیا، تانیہ کیب کروانا چاہ رہی تھی، پیک ٹائم ہونے کی وجہ سے اسے کیب نہیں مل رہی تھی۔ المیر کافی ٹائم سے تانیہ کو ہی دیکھ رہا تھا، وہ اپنی گاڑی تانیہ کے پاس لے آیا۔ "مس تانیہ! آپ کھڑی کیوں ہیں؟ کیا آپ گاڑی ساتھ نہیں لائیں؟" تب تانیہ نے بتایا کہ وہ بابا لے کر جاتے ہیں اسکول میں، کیب سے آتی جاتی ہوں، گاڑی میں لے آؤں گی تو بابا کو مشکل ہوگی۔ المیر نے تانیہ کے لیے فرنٹ ڈور اوپن کیا، "بیٹھ جائیں، میں بھی وائی بلاک ہی جا رہا ہوں، آپ کو ڈراپ کر دوں گا۔" تب تانیہ نے کہا، "سر میں نے تو روز آنا ہے۔" تب المیر نے کہا، "ابھی آپ بیٹھ جائیں، آپ کے لیے اسٹاف وین کا بندوبست کر دیں گے، آپ ابھی بیٹھ جائیں۔"
المیر کے بہت انسسٹ کرنے پر تانیہ بیٹھ گئی۔ تب المیر نے تانیہ کو دیکھا اور کہا کہ "اب چلیں؟" تب تانیہ نے سر ہلایا۔ المیر نے تانیہ کی خاموشی کو محسوس کیا تو کہا کہ "میں آفس میں تھوڑا سخت ہوتا ہوں، میرے کام کا اپنا اسٹائل ہے، ویسے میں بہت ٹاکٹیو ہوں۔ مما کو آپ کی چوائس بہت پسند آئی، مما کو بتایا تھا میں نے مال کا سارا احوال، آپ نے اتنی جلدی شاپنگ کروا دی تھی۔" تانیہ کی خاموشی پر المیر نے تانیہ کی طرف دیکھ کر کہا کہ "آپ کو آفس میں کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا؟ آپ مجھ سے کہہ سکتی ہیں اگر آپ ان-کمفرٹیبل ہیں۔" تب تانیہ نے کہا کہ "جی، آپ کے صبح کے بیہیوئیر پہ حیران ہوئی تھی۔" تب المیر زور سے ہنسا، "وہ تو میرا پروفیشنل انداز ہے، میں سب کے ساتھ ایک جیسا ہی ہوتا ہوں، آپ نے مجھے پہلی بار دیکھا ہے۔ ابھی تو میں باس نہیں ہوں، المیر ہوں، ابھی تو آپ بات کر سکتی ہیں۔ آپ کو کسی دن اپنی مما سے ملواؤں گا، آپ کی نیچر بالکل ان کی جیسی ہے۔" تانیہ نے اپنی اسٹریٹ کا بتایا اور بتائی ہوئی لوکیشن پہ تانیہ نے گاڑی رکوائی۔
بابا باہر ہی کھڑے تھے۔ تانیہ گاڑی سے نکلی، ساتھ المیر بھی باہر آ گیا اور بہت اچھے سے سلام کیا اور بولا کہ "سر! آج کے لیے معذرت، ایک ضروری پروجیکٹ پہ کام تھا، تانیہ میرے انڈر کام کرتی ہے، میں نے ہی ڈراپ کرنا تھا، کل سے ٹائم سے گھر آئے گی۔" شہاب صاحب نے شکریہ کہا اور المیر اپنی گاڑی میں بیٹھ کے نکل گیا۔ شہاب صاحب سوچ رہے تھے کہ "یہ ہے جہانگیر کا بیٹا؟ لگتا نہیں ہے، اپنے بڑوں جیسا تو بالکل نہیں ہے۔" تانیہ نے بازو سے شہاب صاحب کو پکڑا، "بابا! کیا دیکھ رہے ہیں؟ المیر سر جا چکے ہیں۔ آپ کو بتاؤں؟ یہ وہی ہیں جن سے مال میں ملاقات ہوئی تھی، اپنی والدہ اور سسٹر کے لیے کپڑے لینے تھے۔" بابا نے ٹائم دیکھا تو بولے، "بیٹا جی اندر آ جاؤ، روزہ کھلنے والا ہے۔" تب وہ دونوں اندر آ گئے۔ المیر تانیہ کے بارے میں سوچا جا رہا تھا کہ "میں اتنا سخت کیوں ہو گیا تھا؟ دل ہے کہ بھاگے چلے جا رہا ہے اور تانیہ کہیں مجھے دل پھینک نہ سمجھ لے۔"
دوسری طرف المیر جب گھر پہنچا تو اسے لاؤنج میں مما نظر نہیں آئیں۔ وہ سیدھا مما کے روم کی طرف گیا، دروازہ کھلا تھا مگر وہ وہاں نہیں تھیں۔ اسے بابا کی اسٹڈی کا خیال آیا، وہاں لائٹ آن دیکھ کے سمجھ گیا کہ مما یہیں ہیں۔ مما کو اتنا غمزدہ دیکھ کے المیر فوراً اندر آیا اور کہا، "مما! کیا ہوا؟ سب خیریت ہے؟" تب آسیہ بیگم نے ایک ڈائری بند کی، یہ جہانگیر کی تھی، اس کے بیک کور پہ جہانگیر لکھا تھا۔ "مما! کیا پڑھ رہی تھیں؟" تب آسیہ نے بتایا، "المیر! مجھ سے ایک بہت بڑا قصور ہو گیا ہے، انفیکٹ تمہارے بابا سے بھی۔ دیکھو یہ تصویر!" المیر نے یہ تصویر دیکھی تب کہا، "مما! ایک تو بابا ہیں، ایک آپ، اور یہ کون ہیں؟"
تب آسیہ کے منہ سے نکلا، "یہ صوفیہ ہے، میری بیسٹ فرینڈ ہوا کرتی تھی اور دیکھو قسمت نے اسے ہم سے جدا کر دیا۔ جہانگیر کی لاڈلی بہن، ایک ہی بہن تھی۔" تب المیر حیران ہوا، "مما! میری پھپھو بھی تھیں؟ آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟ اور آپ اور بابا نے کبھی بتایا ہی نہیں!" تب آسیہ نے بتایا کہ گھر میں صوفیہ کا ذکر کرنا منع تھا، جہانگیر اس کا نام بھی سننا نہیں پسند کرتے تھے۔ "یہ جو اتنی پراپرٹی ہے، یہ تمہارے بابا کی اکیلی کی نہیں ہے، ان کی بہن کا بھی حصہ ہے۔ میں ڈرتی ہوں اس دن سے جب اس ناانصافی کی سزا مجھے یا میرے بیٹے کو ملے جو تمہارے نانا ابو اور نانا نے کی تھی, جہانگیر کی بہن کو نکال دیا تھا۔"
تب المیر بول اٹھا، "کیا جرم کیا تھا پھپھو نے؟" تب آسیہ نے کہا، "پسند سے شادی کرنا چاہتی تھی، اور پھر میں (آسیہ) چاہتی تھی کہ سب کچھ میرے حصے میں آئے، اس لیے جہانگیر کی نظروں سے گرانے کے لیے سازش کی۔ وہ تو چلی گئی لیکن ساتھ میرا سکون بھی لے گئی۔ میرے پاس سب کچھ ہے بس سکون نہیں، رات کو سکون سے سو نہیں سکتی، جہانگیر مجھے نفسیاتی مریضہ کہنے لگے ہیں۔ المیر! میرا ایک کام کرو، صوفیہ کو ڈھونڈو، میں معافی مانگنا چاہتی ہوں اس سے اپنے والدین کی کی ہوئی زیادتیوں کی، میں نہیں چاہتی کہ تمہارے ساتھ کچھ برا ہو۔" المیر نے ماں کے آنسو صاف کیے اور پوچھا، "مما! کوئی ایڈریس، کوئی فون نمبر؟ اتنے سال ہو گئے، کبھی کسی نے رابطہ کیا؟"
تب آسیہ نے بتایا کہ "یہ ایک پتہ ہے اس کے شوہر کے جہاں کام کرتا تھا، اس سے تمہیں کچھ پتہ لگ جائے۔" المیر نے ایڈریس دیکھا اور پوچھا، "مما! ان کے شوہر کا نام؟" تب آسیہ نے بتایا، "شہاب نام ہے، یہ بھی میں نے پرانی کام والی سے پوچھا تھا جب اس نے مجھے بلایا اور کہا کہ 'بڑی بی بی اور صاحب جی نے بہت گناہ کمایا، میں تو جا رہی ہوں لیکن ایک امانت ہے جو صوفیہ بی بی تک پہنچانی ہے۔ یہ کچھ زیورات ہیں صوفیہ بی بی کی امی کے ہیں، ان کے لیے رکھے تھے آپ کی امی سے چھپا کے میرے پاس رکھے تھے۔ میرے بچوں کا کوئی بھروسہ نہیں، آپ کی تو دوست تھی، آپ پہ اعتبار کر رہی ہوں، یہ امانت ان کی ہے، آپ پہنچا دیجیے گا ان کی اولاد کے کام آئے گی۔ بڑے صاحب نے انہیں یہاں سے نکال دیا، میں مل بھی نہ سکی ورنہ میں یہ انہیں خود دے دیتی۔ یہ میں نے بڑی مشکل سے ایک پتہ نکلوایا ہے، یہ ان کے شوہر کے دفتر کا ہے۔ وہاں میں جا نہیں سکتی جوڑے کے ڈر کی وجہ سے۔ چھوٹی بی بی! آپ کو اللہ کا واسطہ، آپ یہ امانت کا ذکر بڑی بی بی اور صاحب سے نہ کیجیے گا، نہ جہانگیر صاحب سے۔ میں نمک حرام نہیں ہوں، بس صوفیہ بی بی کی ماں سے کیا ہوا وعدہ نبھانا چاہتی ہوں۔ زندہ رہی تو ملوں گی ورنہ جب بھی آپ صوفیہ بی بی کے پاس جائیں یہ ان تک پہنچا دیجیے گا۔' یہ لے آسیہ واپس اپنے گھر آ گئی اور اس امانت کی ایسے حفاظت کی جیسے کوئی اپنی قیمتی خزانے کی کرتا ہے۔" اور پھر آسیہ رکی اور بولی کہ "المیر! اب میرا بھی کچھ پتہ نہیں کہ کتنا جیتی ہوں، صوفیہ کو ڈھونڈو بیٹا اور اسے مجھ سے ملوا دو، میں معافی مانگوں گی۔"
المیر نے ماں سے وہ ایڈریس لے کے کوٹ کی جیب میں رکھا اور ڈائری بند کر کے شیلف میں رکھی، اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ کے انہیں ساتھ لے آیا اور روم میں لا کے لیٹایا اور ساتھ انہیں کمفرٹ اڑھا دیا اور سامنے چیئر پہ بیٹھ کے بولا کہ "مما! میں جلد ہی پھپھو کی فیملی کو ڈھونڈ لوں گا اور بے فکر رہیں، میں بابا کو نہیں پتہ لگنے دوں گا۔ آپ آرام کریں، ریلیکس ہو جائیں"
المیر کے ہاتھ میں وہ پتہ ہے جس کی تلاش میں اس کی ماں نے اپنی زندگی کا سکون داؤ پر لگا دیا۔ لیکن کیا المیر جان پائے گا کہ جس 'شہاب' کو وہ ڈھونڈ رہا ہے، وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کی اپنی اسسٹنٹ 'تانیہ' کے بابا ہیں؟
کیا تقدیر المیر کو اس معافی کا راستہ دکھائے گی جو برسوں سے ادھوری ہے، یا جائیداد اور انا کے پرانے بت ایک بار پھر ان کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں گے؟
کیا المیر اپنی ماں کی آخری خواہش پوری کر سکے گا؟ کیا تانیہ کا ماضی اس کے مستقبل کو بدل دے گا؟
جاننے کے لیے دیکھیے اگلی قسط!
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں۔ اس ناول "بہار کے سنگ" کے تمام جملہ حقوق عشرت زاہد کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں (بشمول فوٹو کاپی، ریکارڈنگ، سوشل میڈیا پر شیئرنگ، یا کسی دوسرے الیکٹرانک یا مکینیکل طریقے سے) دوبارہ شائع، تقسیم یا منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
وضاحت / ڈسکلیمر: یہ ایک افسانوی تحریر ہے جس کا مقصد محض تفریح ہے۔ اس میں شامل تمام کردار، نام، مقامات، کاروبار اور واقعات مصنفہ کے تخیل کی پیداوار ہیں۔ کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا مردہ) یا حقیقی زندگی کے واقعات سے کسی بھی قسم کی مماثلت محض ایک اتفاقیہ عمل ہو گا، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کہانی میں موجود خیالات کرداروں کے ہیں، جو مصنفہ کی ذاتی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

Comments
Post a Comment