بہار کے سنگ — قسط نمبر: 04
بہار کے سنگ — قسط نمبر: 04
المیر نے اپنے ایک پرانے دوست سے رابطہ کیا اور اسے وہ ایڈریس دے کر پوچھا کہ کیا اس آفس میں "شہاب صاحب" نامی کوئی شخص کام کرتے ہیں؟ وہاں سے جواب آیا کہ کافی سال پہلے ان کی ریٹائرمنٹ ہو چکی ہے اور اب وہ وہاں نہیں ہوتے۔ یہ سنتے ہی المیر نے کرسی کی پشت سے سر ٹکا دیا اور آنکھیں موند لیں۔ "پھپھو! آپ جہاں بھی ہیں، میں آپ کو ڈھونڈ نکالوں گا۔" اس نے سوچا کہ پھپھو کی کوئی تصویر یقیناً بابا کی لائبریری میں موجود ہوگی۔ وہ ابھی اپنا فون اٹھا کر باہر نکلنے ہی والا تھا کہ چپراسی اندر داخل ہوا: "صاحب! کوئی شہاب صاحب آئے ہیں، آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔"
"شہاب" کے نام پر المیر ایک دم چونک گیا۔ "کیا ان کے ساتھ میری کوئی میٹنگ ارینج تھی؟" اس نے انٹرکام پر ریسیپشنسٹ سے پوچھا، جس نے بتایا کہ وہ مس تانیہ کے والد ہیں۔ المیر نے انہیں اندر بھیجنے کا کہا۔ وہ شہاب صاحب سے بہت عزت سے ملا اور انہیں بیٹھنے کو کہا، ساتھ ہی پوچھا کہ وہ کیا لینا پسند کریں گے؟ شہاب صاحب نے معذرت کر لی، "میں ذرا جلدی میں ہوں، آج تانیہ کو پک کرنے آیا ہوں۔ تانیہ آپ سے کافی ڈرتی ہے، اس لیے میں آپ سے ریکوسٹ کرنے آیا ہوں کہ ذرا ہاتھ ہولا رکھیں۔"
المیر اس بات پر ہنس پڑا، "انکل! میں آفس میں ذرا پروفیشنل ہوتا ہوں اور ڈسپلن کا پابند ہوں، اس لیے سب ورکرز کے ساتھ ایسا ہی ہوں۔ آفس سے باہر میں ایک مختلف المیر ہوں۔" تانیہ کے والد نے مسکرا کر کہا، "میں بھی ڈسپلن کو پسند کرتا ہوں۔" المیر نے انٹرکام پر جوس کا کہہ دیا اور شہاب صاحب سے آنے کی وجہ پوچھی۔
شہاب صاحب کی آنکھوں میں ایک اداسی چھا گئی، "آج تانیہ کی برتھ ڈے ہے اور میں یہ شام ہمیشہ اس کے ساتھ سیلیبریٹ کرتا ہوں۔ پہلے تانیہ کی ماں بھی ساتھ ہوتی تھی، جب سے وہ گئی ہیں ہم دونوں ہی اسے مناتے ہیں۔ پہلے ہم قبرستان جاتے ہیں، فاتحہ پڑھتے ہیں، پرندوں کو دانہ ڈالتے ہیں اور پھول چڑھا کر واپسی پر بیکری سے کیک لیتے ہیں اور گھر جا کر اسے کھاتے ہیں۔ تانیہ اپنی سالگرہ نہیں منانا چاہتی کیونکہ برتھ ڈے والی رات ہی اس کی مما کی ڈیتھ ہوئی تھی۔ وہ کینسر پیشنٹ تھیں، ان کا ٹریٹمنٹ چل رہا تھا۔ برتھ ڈے والی شام ہم ہسپتال میں تھے اور میں نے تانیہ کی ماں کی خواہش پر ہسپتال کے اسی کمرے میں تانیہ کے لیے برتھ ڈے ارینج کی تھی۔ پھر رات کو وہ ہمیں چھوڑ گئیں۔ ہم پہلے برسی کی دعا کرتے ہیں، پھر کیک کاٹتے ہیں۔ یہ تانیہ سے اس کی ماں نے وعدہ لیا تھا کہ 'میرے بعد کیک کاٹنا اور خوشیاں منانا مت چھوڑنا'۔ اور پھر وہ تانیہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے ایسی سوئیں کہ پھر کبھی نہیں جاگیں۔"
یہ بتاتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ المیر فوراً اپنی سیٹ سے اٹھا اور ٹشو باکس ان کے آگے رکھا۔ شہاب صاحب نے آنسو صاف کیے اور بولے، "معذرت چاہتا ہوں، میں نے شاید کچھ زیادہ ہی بول دیا اور آپ کا قیمتی وقت لیا۔ آپ تو اتنے بڑے بزنس مین ہیں۔" المیر نے جذباتی ہو کر کہا، "انکل! آپ مجھے بیٹا کہہ کر بات کریں، مجھے اچھا لگے گا۔ جب میں تانیہ کو ڈراپ کرنے آیا تھا تب بھی آپ مجھے بہت اچھے لگے تھے حالانکہ ہم ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں تھے۔ تانیہ بہت اسٹرونگ ہے، یقیناً آپ نے ہی اسے یہ اعتماد دیا ہے۔"
شہاب صاحب بولے، "یہ اعتماد اسے اپنی ماں سے بھی ملا ہے، جس نے میرے لیے سب کچھ چھوڑ دیا تھا۔" المیر مسکرایا، "تو گویا تانیہ کی مما کی لو میرج تھی؟" شہاب صاحب نے آہ بھر کر کہا، "ہاں! جس میں ان کے گھر والے راضی نہیں تھے، اسی کی سزا ملی انہیں ساری زندگی۔ خاندان والوں نے تعلق ختم کر دیا، میکے نہ جا پانے کا دکھ انہیں ساری زندگی ستاتا رہا۔" جوس کے گلاس میز پر رکھتے ہی شہاب صاحب کھڑے ہو گئے، "اجازت ہے؟ لے جاؤں تانیہ کو؟" المیر نے کہا، "آئیے! میں آپ کو باہر تک چھوڑ دیتا ہوں۔" شہاب صاحب نے المیر کو گھر آنے کی دعوت دی، "کسی دن گھر آنا، میں اپنے ہاتھ کی کافی پلاؤں گا۔" المیر نے شکریہ کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ کسی ویک اینڈ پر ضرور آئے گا۔
دونوں باہر آئے اور تانیہ کے ڈیسک تک پہنچے۔ المیر نے کہا، "مس تانیہ! آپ کی اب چھٹی۔" تانیہ کا رنگ ایک دم فق ہو گیا، "سر! میں نے کیا کیا ہے؟" دونوں ہنس پڑے۔ المیر بولا، "برتھ ڈے کی خوشی میں آپ کی آج جلدی چھٹی ہے، آپ کے بابا لینے آئے ہیں۔ کام بند کریں۔" تانیہ نے کہا کہ "سر یہ کام آپ نے آج ہی مانگا تھا۔" المیر نے نرمی سے کہا، "باقی کام مس سارہ دیکھ لیں گی، آپ جائیں۔ وش یو اے ویری ہیپی برتھ ڈے ٹو یو!" تانیہ نے تھینک یو کہا، چیزیں سمیٹی اور بابا کے ساتھ چلی گئی۔ المیر نے انہیں مین ڈور تک چھوڑا اور اللہ حافظ کہا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ "کچھ تو ہے ان باپ بیٹی میں... میں کیوں ان کی طرف کھنچا چلا جاتا ہوں؟" اتنے میں چپراسی نے آکر بتایا کہ جہانگیر صاحب میٹنگ روم میں بلا رہے ہیں۔
میٹنگ کے دوران جہانگیر صاحب نے المیر کی غیر حاضری محسوس کر لی تھی مگر تب کچھ نہ کہا۔ جب سب چلے گئے تو انہوں نے المیر کو روکا، "آج کوئی پریشانی ہے؟" المیر نے نفی میں سر ہلا دیا۔ جہانگیر صاحب نے پوچھا، "وہ نئی لڑکی جسے تمہارے انڈر کیا تھا، اس کی ٹریننگ کا کیا بنا؟" المیر نے بتایا کہ وہ اس کے انڈر ہی ہے اور باقی لوگ زبیر صاحب دیکھ رہے ہیں۔ جہانگیر صاحب نے پوچھا، "آج کوئی گیسٹ آئے تھے، کون تھے وہ؟" المیر نے بتایا کہ وہ مس تانیہ کے فادر تھے، "یہ وہی لڑکی ہے جس نے مال میں شاپنگ میں میری ہیلپ کی تھی اور مما اس سے بہت خوش تھیں۔"
المیر کے ذہن میں سوال اٹھا، "بابا! کیا آپ کا کوئی بہن یا بھائی نہیں تھا؟" جہانگیر صاحب کے چہرے پر ایک دم اداسی چھا گئی اور وہ بغیر جواب دیے میٹنگ روم سے باہر نکل گئے۔ المیر کے ذہن میں اپنی ماں کے الفاظ گونجے: "اس گھر میں صوفیہ کا نام سننا بھی کوئی پسند نہیں کرتا... بہت زیادتی ہوئی صوفیہ کے ساتھ۔"
دوسری طرف، تانیہ اور شہاب صاحب قبرستان پہنچے، قبر پر دانہ ڈالا اور پھول چڑھائے۔ دعا کے بعد وہ گاڑی میں بیٹھے تو شہاب صاحب نے گاڑی بیکری کی طرف موڑ لی، مگر تانیہ نے منع کر دیا: "باما! کیک مت لیں، مما بہت یاد آتی ہیں۔ کیوں نہ ہم اس بار کیک کے پیسے یتیم بچوں کے لیے استعمال کریں؟" شہاب صاحب نے بیکری سے کافی چیزیں لیں اور وہ یتیم خانے پہنچ گئے۔ وہاں سامان تقسیم کرنے کے بعد تانیہ جیسے ہی مڑی، اس کی ٹکر ایک شخص سے ہوئی۔ سامنے المیر کھڑا تھا۔ تانیہ نے سوری کہا تو المیر نے حیرت سے پوچھا کہ وہ یہاں کیا کر رہی ہے، آج تو اس کی برتھ ڈے ہے۔ تانیہ نے بتایا کہ وہ یہاں سیلیبریٹ کرنے آئے ہیں، "بابا کے اسکول میں بھی بہت سے ایسے بچے پڑھ رہے ہیں جو یہاں سے آتے ہیں۔" المیر نے مسکرا کر کہا، "مجھے بھی اصل خوشی یہیں ملتی ہے۔ میں مما کے کہنے پر آتا ہوں، آج بھی انہوں نے کہا تھا کہ جاؤ ڈونیشن دے کر آؤ، ان بچوں کی دعائیں تمہیں لگیں گی۔"
اتنے میں شہاب صاحب بھی وہاں آگئے۔ المیر نے کہا، "انکل! اگر آپ برا نہ مانیں تو کیا میں آپ کو 'شہاب انکل' کہہ سکتا ہوں؟ آپ کو دیکھ کر اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔" شہاب صاحب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، "ہم گھر جا رہے ہیں، اگر چلنا ہے تو آؤ، میں کافی بناؤں گا۔" المیر نے مسکرا کر جواب دیا، "مجھے لگتا ہے ہماری ملاقات دوبارہ اسی لیے ہوئی کہ میں نے آپ کے ہاتھ کی کافی پینی تھی۔" شہاب صاحب ہنس کر بولے، "تانیہ کی مما کو بھی میرے ہاتھ کی کافی بہت پسند تھی۔"
المیر ان کے پیچھے پیچھے تانیہ کے گھر پہنچ گیا۔ گھر بڑا مگر بہت سادہ تھا۔ ڈرائنگ روم کی دیوار پر تانیہ کے والدین کی تصویر دیکھ کر المیر نے پوچھا، "یہ تمہاری مما ہیں؟" تانیہ نے اثبات میں سر ہلایا۔ المیر نے فیملی کے بارے میں پوچھا تو تانیہ نے بتایا، "دادا اور دادی میرے بچپن میں ہی چلے گئے تھے۔ ہم تین لوگ ہی رہ گئے تھے، پھر مما بھی چلی گئیں۔ بابا اکیلے بیٹے تھے اور مما بھی اکیلی تھیں۔" المیر نے رشتہ داروں کا پوچھا تو تانیہ بولی، "بابا نے پسند کی شادی کی تھی، ان کی بچپن کی انگیجمنٹ تھی جو توڑ کر انہوں نے مما سے شادی کی، جس پر خاندان والوں نے بائیکاٹ کر دیا۔ مما کے والدین بھی ان کے بچپن میں کار ایکسیڈنٹ میں فوت ہو گئے تھے، ان کی پرورش ان کے تایا کے گھر ہوئی تھی۔"
ابھی وہ بات کر ہی رہی تھی کہ شہاب صاحب کافی لے آئے۔ پہلے ہی سپ پر المیر نے تعریف کی، "انکل! اتنی اچھی کافی تو شیف بھی نہیں بناتے، میرے گھر میں دو کک ہیں پر ایسی کافی کوئی نہیں بناتا۔" ابھی وہ کافی سے لطف اندوز ہو ہی رہا تھا کہ اس کا فون بجا۔ فون سنتے ہی المیر کھڑا ہو گیا، "ایمبولینس بلوائیں... ٹھیک ہے میں آتا ہوں۔" اس نے فون رکھا اور پریشانی میں بولا، "سوری انکل! میری مما کی طبیعت بگڑ گئی ہے، مجھے فوراً نکلنا ہے۔" شہاب صاحب نے ہمدردی سے کہا، "میری کوئی ہیلپ چاہیے تو بتانا، میں یا تانیہ ساتھ چلیں؟" المیر نے کہا، "آپ کو جیسا مناسب لگے، اپی ابھی یہاں نہیں ہیں، دو دن پہلے یوکے گئی ہیں، مما بالکل اکیلی ہیں۔" شہاب صاحب نے تانیہ کو المیر کے ساتھ جانے کا کہا اور خود پیچھے آنے کا وعدہ کیا۔
ہسپتال پہنچ کر المیر بھاگتا ہوا ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ پہنچا۔ اپنی ماں کو آئی سی یو لے جاتے دیکھ کر اس نے ڈاکٹر سے پوچھا، "کیا ہوا ہے میری مما کو؟" ڈاکٹر نے بتایا، "اسٹروک ہوا ہے، چیک اپ کے بعد ہی فائنل رپورٹ دیں گے۔" المیر شیشے کے دروازے سے اپنی ماں کو بے بس دیکھ رہا تھا۔ وہ مضبوط مرد اس لمحے ایک چھوٹا بچہ لگ رہا تھا۔ تانیہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے ویٹنگ لاؤنج میں بٹھایا، "سر! یہ وقت دعا کا ہے، دعا کرتے ہیں۔" تانیہ کو محسوس ہوا کہ المیر کے آنسو گر رہے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر باہر نکلا، المیر بھاگا، "ڈاکٹر! کچھ تو بتائیں؟" ڈاکٹر نے سنجیدگی سے کہا، "اگلے 24 گھنٹے بہت اہم ہیں، اگر ہوش نہ آیا تو وہ کوما میں بھی جا سکتی ہیں۔"
المیر نے جہانگیر صاحب کو کال ملائی مگر فون مسلسل بزی جا رہا تھا۔ المیر غصے میں تھا، "پاپا! فون اٹھائیں، مما کی یہ حالت ہے اور آپ کہاں ہیں؟" آخر اس نے واٹس ایپ میسج کیا۔ تھوڑی دیر بعد جواب آیا: "میں سنگاپور کی فلائٹ کے لیے بورڈنگ کا ویٹ کر رہا ہوں، یہ بزنس ٹرپ بہت ضروری ہے۔ تم ہو نا اپنی ماں کے پاس، ویسے بھی اسے میری نہیں تمہاری ضرورت ہے۔ اسے تو اب دورے زیادہ ہی پڑنے لگے ہیں، بے ہوشی کے ڈرامے مجھے نہیں دیکھنے، جب ہوش آئے تو گھر لے آنا۔" یہ وائس میسج سن کر المیر کا خون کھول اٹھا: "بابا! آپ کے سینے میں دل نہیں؟ پہلے آپ نے اپنی بہن کے ساتھ زیادتی کی اور اب مما... میں اپنی مما کے ساتھ کچھ برا نہیں ہونے دوں گا۔" وہ ابھی غصے میں تھا کہ اسے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا، شہاب صاحب وہاں پہنچ چکے تھے۔ المیر نے اپی کی کال اٹھائی اور انہیں سب بتایا۔ اس کا دل بوجھ سے بھر گیا، "پاپا اپنی بیوی کے لیے ایک میٹنگ کینسل نہیں کر سکتے تھے؟" شہاب صاحب نے اسے حوصلہ دیا، "آپ اکیلے نہیں ہو، مجھے انکل مانا ہے تو حوصلہ رکھو، آپ کی والدہ جلد ٹھیک ہو جائیں گی۔"
اتنے میں ڈاکٹر آئی، "المیر کون ہے؟ پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے، وہ المیر کو بلا رہی ہیں۔" المیر تیزی سے اندر گیا۔ ماں کو مشینوں میں جکڑا دیکھ کر اس کا دل پھٹنے لگا۔ اس نے ماں کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا، "کیا ہوا تھا مما؟" آسیہ بیگم نے نحیف آواز میں پوچھا، "صوفیہ کا کچھ پتہ لگا؟" المیر نے جھوٹ بول دیا، "ان کے شوہر جہاں کام کرتے تھے وہ ریٹائر ہو چکے ہیں، ایک دوست سے پتہ چلے گا، آپ ابھی اپنی صحت کی فکر کریں۔" آسیہ بیگم نے جہانگیر صاحب کا پوچھا تو المیر نے میٹنگ کا کہہ کر بات ٹال دی۔ آسیہ بیگم بولیں، "آج میری طبیعت خراب تھی، میں نے انہیں ڈاکٹر کے پاس جانے کا کہا تھا پر وہ 'فضول ڈراموں' کا کہہ کر نکل گئے۔"
المیر نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں۔ آسیہ بیگم نے سچ اگلنا شروع کیا، "برسوں پہلے صوفیہ کا نام لینے پر جہانگیر کو غصہ آگیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ وہ میرے لیے اسی دن مر گئی تھی جس دن وہ بھاگی تھی۔ پر المیر! وہ بھاگی نہیں تھی، اس کا نکاح ہوا تھا اور میں تمہارے بابا کے ساتھ چھپ کر سب دیکھ رہی تھی۔ جہانگیر کو یہ بتایا گیا تھا کہ وہ جائیداد میں حصہ مانگ رہی ہے، جس پر جہانگیر نے کہا کہ ایک پیسہ نہیں ملے گا۔ تمہارے نانا نانی بھی یہی چاہتے تھے کہ سب کچھ میرے (جہانگیر کے) نام ہو جائے۔ میں بھی اس وقت سیلفش ہو گئی تھی، میں نے ظلم ہوتے دیکھا پر بولی نہیں۔ صوفیہ کو ایک جوڑے میں گھر سے نکال دیا گیا اور اس پر سب دروازے بند کر دیے گئے۔"
آسیہ بیگم کی آواز اٹکنے لگی تو المیر نے انہیں خاموش رہنے کا کہا۔ انہوں نے آخری وصیت کی، "المیر! میری زندگی کا کچھ پتہ نہیں۔ میری الماری میں ایک سیف ہے، اس میں لاکر کی چابیاں، جائیداد کے کاغذات، کچھ جیولری اور ایک لیٹر ہے۔ وہ سب صوفیہ کی امانت ہے، اسے دے دینا۔ میں نہ رہی تو یہ فرض تم ادا کرو گے اور یہ بات کبھی اپنے بابا کو پتہ نہ لگنے دینا۔" المیر نے ماں سے وعدہ کیا کہ وہ پھپھو کو ڈھونڈے گا اور یہ امانت ان تک پہنچائے گا۔ نرس نے آکر انجکشن لگایا اور المیر کو
باہر جانے کا کہہ دیا۔
المیر کے ہاتھ میں وہ پتہ ہے جس کی تلاش میں اس کی ماں نے اپنی زندگی کا سکون داؤ پر لگا دیا۔ لیکن کیا المیر جان پائے گا کہ جس 'شہاب' کو وہ ڈھونڈ رہا ہے، وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کی اپنی اسسٹنٹ 'تانیہ' کے بابا ہیں؟
کیا تقدیر المیر کو اس معافی کا راستہ دکھائے گی جو برسوں سے ادھوری ہے، یا جائیداد اور انا کے پرانے بت ایک بار پھر ان کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں گے؟
کیا المیر اپنی ماں کی آخری خواہش پوری کر سکے گا؟ کیا تانیہ کا ماضی اس کے مستقبل کو بدل دے گا؟
جاننے کے لیے دیکھیے اگلی قسط!
کاپی رائٹ نوٹسجملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں:
اس ناول "بہار کے سنگ" کے تمام جملہ حقوق اور اس کی ملکیت قانونی طور پر مصنفہ عشرت زاہد کے نام محفوظ ہے۔
مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر، کہانی، یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں (بشمول فوٹو کاپی، ریکارڈنگ، اسکرین شاٹ، سوشل میڈیا گروپس میں شیئرنگ، پی ڈی ایف فائل بنانا، یا کسی بھی دوسرے الیکٹرانک یا میکینیکل طریقے سے) دوبارہ شائع، تقسیم یا منتقل کرنا سخت ممنوع ہے۔
اس مواد کو چوری کرنے، اپنے نام سے منسوب کرنے یا کسی بھی ویب سائٹ/ایپ پر بغیر اجازت اپ لوڈ کرنے کی صورت
میں ذمہ دار فرد یا پلیٹ فارم کے خلاف کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
وضاحت / ڈسکلیمر: یہ ایک افسانوی تحریر ہے جس کا مقصد محض تفریح ہے۔ اس میں شامل تمام کردار، نام، مقامات، کاروبار اور واقعات مصنفہ کے تخیل کی پیداوار ہیں۔ کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا مردہ) یا حقیقی زندگی کے واقعات سے کسی بھی قسم کی مماثلت محض ایک اتفاقیہ عمل ہو گا، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کہانی میں موجود خیالات کرداروں کے ہیں، جو مصنفہ کی ذاتی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

Comments
Post a Comment