ناول: بہار کے سنگ قسط نمبر: 07
ناول: بہار کے سنگ
قسط نمبر: 07
تحریر: عشرت زاہد
جہانگیر صاحب کے الفاظ کسی زہریلے تیر کی طرح کمرے کی فضا میں لہرائے۔ آسیہ بیگم، جو پہلے ہی زندگی اور موت کی کشمکش سے لڑ کر آئی تھیں، اپنے شوہر کا یہ سفاکانہ روپ دیکھ کر ساکت رہ گئیں۔ ان کی آنکھوں میں کرب لہرایا، لیکن لکنت زدہ زبان ساتھ دینے سے قاصر تھی۔ المیر، جو اب تک خاموش کھڑا اپنے باپ کی ہوس اور بدتمیزی کا تماشا دیکھ رہا تھا، اب مزید ضبط نہ کر سکا۔ اس نے آگے بڑھ کر ایک ڈھال کی طرح اپنی ماں اور جہانگیر صاحب کے درمیان حائل ہوتے ہوئے نہایت سرد اور پاٹ دار لہجے میں کہا:
"بابا! بس بہت ہو گیا۔ آپ شاید بھول رہے ہیں کہ آپ کسی دفتر میں نہیں، بلکہ اپنی اس بیوی کے کمرے میں کھڑے ہیں جس نے اپنی پوری زندگی آپ کی بے وفائیوں کے باوجود اس گھر کی لاج رکھنے میں گزار دی۔ رہی بات اس فائل کی، تو وہ فائل اب اس جگہ پہنچ چکی ہے جہاں اسے ہونا چاہیے تھا۔"
جہانگیر صاحب کا چہرہ غصے سے تمتما اٹھا، "المیر! تم اپنی حد پار کر رہے ہو۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ اس ایک فائل کی گمشدگی سے مجھے کتنا بڑا کاروباری نقصان ہو سکتا ہے؟ وہ کمپنی صوفیہ کے نام ضرور ہے، لیکن اسے سینچنے والا میں ہوں۔" المیر کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ ابھری۔ "سینچنا بابا؟ یا اسے ہڑپ کرنا؟ صوفیہ پھپھو کا حق مار کر آپ جس سلطنت کا خواب دیکھ رہے ہیں، وہ ریت کی دیوار ثابت ہوگی۔ لیگل ایڈوائزر سے میں نے بات کر لی ہے، اب سے پاور آف اٹارنی میرے پاس ہے اور صوفیہ پھپھو کی کمپنی کے معاملات میں خود دیکھوں گا۔"
جہانگیر صاحب کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ وہ غصے میں پیر پٹختے ہوئے وہاں سے نکل گئے، مگر ان کی آنکھوں میں چھپی نفرت بتا رہی تھی کہ وہ اتنی آسانی سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ المیر نے کرسی کھینچی اور اپنی ماں کے پاس بیٹھ گیا۔ ان کا لرزتا ہوا ہاتھ تھام کر انہیں تسلی دی، "مما! آپ پریشان نہ ہوں، شہاب صاحب نے فائل محفوظ رکھی ہے۔ اب بس مجھے صوفیہ پھپھو تک پہنچنا ہے۔"
اگلے روز المیر جب آفس پہنچا تو اس کا دل غیر ارادی طور پر تانیہ کے کیبن کی طرف مڑا۔ سارہ نے بتایا کہ تانیہ نے آج بھی چھٹی لی ہے کیونکہ ان کے والد کی طبیعت ناساز تھی۔ المیر نے سوچا کہ گلدستہ بھیجنا کافی نہیں، اسے خود جا کر خیریت دریافت کرنی چاہیے۔ شام ڈھلے جب المیر تانیہ کے گھر پہنچا، تو شہاب صاحب اسے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ "انکل! مما نے آپ کے لیے سلام بھیجا ہے اور میں تانیہ کی خیریت پوچھنے چلا آیا۔" المیر کی نظریں تانیہ کو ڈھونڈ رہی تھیں جو ابھی کچن سے چائے لے کر کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ اسے دیکھ کر تانیہ کے چہرے پر حیا کی سرخی دوڑ گئی۔
المیر تانیہ کے بابا سے رسمی باتیں ہی کر رہا تھا کہ اس کے فون کی گھنٹی نے کمرے کا سکون غارت کر دیا۔ اسکرین پر 'خالدہ باجی' کا نام چمک رہا تھا۔ المیر نے فون اٹھایا تو دوسری طرف سے ان کی گھبرائی ہوئی اور لرزتی ہوئی آواز آئی: "المیر بیٹا! خدا کے لیے جلدی گھر آؤ۔۔۔ جہانگیر صاحب آپے سے باہر ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مما کے لاکر کا تالا توڑ دیا ہے اور اب پورے گھر کو سر پر اٹھائے ہوئے ہیں! وہ غصے میں پاگل ہو رہے ہیں کہ فائل وہاں بھی نہیں ہے۔"
المیر کا چہرہ غصے سے تپ اٹھا اور مٹھیاں بھینچ گئیں۔ "میں ابھی آ رہا ہوں خالدہ باجی، آپ مما کے پاس رہیں اور انہیں کمرے سے باہر نہ نکلنے دیں۔" فون رکھ کر اس نے ایک نظر شہاب صاحب اور تانیہ پر ڈالی، جن کے چہروں پر تشویش لکھی تھی۔ "انکل، مجھے معذرت کے ساتھ نکلنا ہوگا۔ گھر پر ذرا ایمرجنسی ہو گئی ہے۔" شہاب صاحب نے سنجیدگی سے سر ہلایا، "بیٹا، اللہ خیر کرے۔ تم جاؤ، کوئی پریشانی ہو تو ہمیں ضرور بتانا۔" تانیہ خاموشی سے المیر کو گاڑی تک چھوڑنے آئی۔ اس کی آنکھوں میں المیر کے لیے بے پناہ فکر تھی، مگر لبوں پر کوئی لفظ نہ آ سکا۔ المیر نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی جیسے اسے یقین دلا رہا ہو کہ وہ سب سنبھال لے گا، اور تیزی سے گاڑی ریورس کر کے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب وہ گھر پہنچا تو منظر ہولناک تھا۔ لاؤنج میں سامان بکھرا پڑا تھا اور اسٹڈی روم سے جہانگیر صاحب کے دھاڑنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ المیر سیدھا وہاں پہنچا جہاں جہانگیر صاحب الماریوں سے فائلیں نکال کر فرش پر پھینک رہے تھے۔ "کہاں ہے وہ فائل؟" جہانگیر صاحب المیر کو دیکھتے ہی چلائے۔ "تمہاری ماں نے وہ فائل کہاں غائب کی ہے؟ اگر مجھے وہ پیپرز نہ ملے تو میں اسے آج ہی اس گھر سے نکال دوں گا!"
المیر کا ضبط جواب دے گیا۔ وہ اپنے باپ کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا، اس کی آنکھوں میں ایسی سرد مہری تھی کہ جہانگیر صاحب کے قدم ایک پل کو رک گئے۔ "وہ فائل آپ کو کبھی نہیں ملے گی بابا، کیونکہ وہ آپ کی ہوس کی پہنچ سے بہت دور ہے۔ اور رہی بات مما کو گھر سے نکالنے کی، تو یاد رکھیے گا، یہ گھر آپ کی انا سے نہیں، مما کی قربانیوں سے قائم ہے۔ اگر آپ نے حد پار کی، تو میں بھول جاؤں گا کہ آپ میرے باپ ہیں۔" جہانگیر صاحب کا ہاتھ غصے سے المیر کی طرف اٹھا، مگر المیر نے ہوا میں ہی ان کا ہاتھ تھام لیا۔ "اب نہیں بابا! اب ہم میں سے کوئی آپ کا ظلم نہیں سہے گا۔" اسی اثنا میں خالدہ باجی بھاگتی ہوئی آئیں، "المیر! جلدی آؤ، مما کی طبیعت اچانک پھر بگڑ گئی ہے!" المیر کا دل ڈوبنے لگا۔ وہ اپنے باپ کو وہیں چھوڑ کر اپنی ماں کے کمرے کی طرف بھاگا۔ آسیہ بیگم کی سانس اکھڑ رہی تھی، مگر ان کی نظریں دروازے پر جمی تھیں جیسے وہ المیر کا ہی انتظار کر رہی ہوں۔ المیر نے ان کا ہاتھ تھاما، "مما، میں آ گیا ہوں، آپ فکر نہ کریں۔" آسیہ بیگم نے اشارے سے اسے اپنے قریب کیا اور اس کے کان میں دبی آواز میں کہا، "المیر۔۔۔ وہ فائل۔۔۔ شہاب کو کہنا۔۔۔ اسے سنبھال کر رکھے۔۔۔ وہ تمہاری امانت ہے۔۔۔ اور صوفیہ۔۔۔" ان کی آواز تھم گئی اور آنکھیں موند لیں۔
المیر اپنی والدہ کو لے کر فوراً ہسپتال پہنچا۔ ڈاکٹرز نے معائنے کے بعد المیر کو اپنے کیبن میں طلب کیا۔ ڈاکٹر نے سنجیدگی سے کہا: "المیر صاحب! آپ کی والدہ کے دماغ میں کلاٹس بن رہے ہیں۔ ہمیں فوری طور پر ایک پیچیدہ آپریشن کرنا ہوگا، جس کے لیے ہم نیورو سرجن ڈاکٹر مظہر کو بلا رہے ہیں۔ اس آپریشن میں کامیابی کے امکانات صرف 5 فیصد ہیں۔ مریض یا تو مکمل صحت یاب ہو جاتا ہے یا پھر کومہ میں چلا جاتا ہے۔"
المیر بوجھل قدموں سے باہر آیا تو شہاب صاحب کی کال آ رہی تھی۔ المیر نے ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ انہیں سب بتا دیا۔ شہاب صاحب نے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ المیر اپنی ماں کے پاس آیا تو آسیہ بیگم نے دبی آواز میں پکارا: "المیر۔۔۔ تانیہ اور اس کے باپ کو بلاؤ۔۔۔ ابھی۔۔۔ میں نے ان سے کچھ کہنا ہے۔"
شہاب صاحب نے تانیہ کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا، "تانیہ بیٹا! جلدی کرو، المیر کی والدہ کی طبیعت ٹھیک نہیں اور وہ ہم سے ملنا چاہتی ہیں۔" تانیہ نے فوراً اپنا فون اٹھایا، بالوں میں کیچر لگایا اور دوپٹہ درست کرتی ہوئی باہر آئی۔ وہ دونوں تیزی سے ہسپتال پہنچے جہاں آسیہ بیگم مشینوں کے حصار میں بے بسی کی تصویر بنی لیٹی تھیں۔ آسیہ بیگم نے شہاب صاحب کو دیکھ کر کہا، "شہاب صاحب! آپ نے میرے لیے بھائی کا کردار ادا کیا، اب ایک آخری مہربانی اور کر دیں۔ میں اپنے بیٹے المیر کے لیے آپ کی بیٹی تانیہ کا ہاتھ مانگتی ہوں۔ میں مرنے سے پہلے المیر کے لیے ایک سچا ساتھی چاہتی ہوں۔"
شہاب صاحب نے کہا، "آسیہ بیگم! میں چاہتا ہوں یہ دونوں اپنی زندگی کا یہ فیصلہ آزادانہ طور پر کریں۔" آسیہ بیگم نے المیر سے پوچھا، المیر نے ماں کی حالت دیکھ کر سر جھکا لیا، "مما! میں آپ کی ہر بات پر راضی ہوں، لیکن کل آپ کا آپریشن ہے۔" آسیہ بیگم نے تانیہ کا ہاتھ تھام لیا، "بیٹی! کیا ایک مرتی ہوئی ماں کی آخری خواہش پوری کرو گی؟ تانیہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، "آنٹی! جیسا آپ چاہیں گی، ویسا ہی ہوگا۔"
آسیہ بیگم کے اصرار پر اسی وقت ہسپتال کے کمرے میں نکاح کا انتظام کیا گیا۔ المیر نے گواہوں اور مولوی صاحب کا بندوبست کیا، جبکہ اس کے دوست رمیز کی بیوی تانیہ کے لیے ایک ریڈی میڈ جوڑا اور جیولری لے آئی۔ شام چار بجے کے قریب، تانیہ بنتِ شہاب کا نکاح بیس لاکھ روپے حقِ مہر کے عوض المیر جہانگیر سے پڑھا دیا گیا۔ جب تانیہ نے "قبول ہے" کہا، تو شہاب صاحب کی آنکھوں میں آنسو تھے اور آسیہ بیگم کے چہرے پر ایک اطمینان۔
نکاح کے بعد آسیہ بیگم نے دونوں کو دعا دی اور پھر شہاب صاحب سے کہا، "بھائی! اب ایک وصیت اور ہے۔ صوفیہ کو ڈھونڈنا اور میری طرف سے معافی مانگنا۔" "صوفیہ؟" شہاب صاحب اچھل پڑے۔ "کون صوفیہ؟" تانیہ نے بتایا، "بابا! وہی جن کی امانت آپ کے پاس ہے۔ المیر کی پھپھو۔"
شہاب صاحب کے چہرے پر غصے اور دکھ کی لہر دوڑ گئی، "آپ آسیہ بنتِ وجاہت ہیں؟" آسیہ بیگم چونکیں، "بھائی! آپ میرے فادر کا نام کیسے جانتے ہیں؟" شہاب صاحب نے گرج کر کہا، "میں ہی صوفیہ کا شوہر ہوں! اور جہانگیر آپ کے شوہر ہیں، وہ صوفیہ کے بھائی اور وجاہت صاحب کے داماد ہیں۔ تو وہ آپ تھیں جس نے جہانگیر کو صوفیہ کے خلاف بھڑکایا اور میری پاکدامن بیوی پر تہمت لگائی؟"
آسیہ بیگم زار و قطار رونے لگیں، "میں بہک گئی تھی۔۔۔ میں جہانگیر کو پانا چاہتی تھی۔۔۔ میں مجرم ہوں شہاب صاحب! المیر! تم جہانگیر کو کبھی مت بتانا کہ تانیہ صوفیہ کی بیٹی ہے، وہ اسے نقصان پہنچائے گا۔" شہاب صاحب نے تلخی سے کہا، "مجھے آپ کی دولت نہیں چاہیے۔ میری صوفیہ بھائی کی سنگدلی کا دکھ لیے دو سال پہلے کینسر سے لڑتے لڑتے مر گئی۔ جس دن تم لوگوں نے اسے گھر سے نکالا تھا، وہ اسی دن مر گئی تھی۔"
یہ انکشاف المیر کے لیے کسی دھماکے سے کم نہ تھا۔ تانیہ، اس کی اپنی پھپھو کی بیٹی تھی؟ شہاب صاحب ٹوٹے ہوئے قدموں سے تانیہ کا سہارا لیے باہر نکل گئے۔ تانیہ انہیں سہارا دے کر پارکنگ تک لائی، بابا کو فرنٹ سیٹ پر بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر وہاں سے روانہ ہو گئی۔ آسیہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، "المیر! تانیہ کا بہت خیال رکھنا۔۔۔" المیر نے ماں کا ہاتھ تھام کر وعدہ کیا کہ وہ اپنی
جان سے زیادہ تانیہ کی حفاظت کرے گا۔
کیا شہاب صاحب یہ رشتہ قائم رہنے دیں گے؟ کیا یہ دونوں اب ایک ساتھ ہوں گے یا بچھڑ جائیں گے؟ ماضی کی تلخیاں اس نئے بندھن کو جینے دیں گی یا جہانگیر صاحب کی نفرت سب کچھ خاک کر دے گی؟ کیا ہوگا آگے؟
جاننے کے لیے جڑے رہیے "بہار کے سنگ" کے ساتھ!
جاری ہے...
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں
اس ناول "بہار کے سنگ" کے تمام جملہ حقوق اور اس کی ملکیت قانونی طور پر مصنفہ عشرت زاہد کے نام محفوظ ہے۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر، کہانی، یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں (بشمول فوٹو کاپی، ریکارڈنگ، سوشل میڈیا شیئرنگ، یا پی ڈی ایف) دوبارہ شائع یا منتقل کرنا سخت ممنوع ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
وضاحت / ڈسکلیمر
یہ ایک افسانوی تحریر ہے جس کا مقصد محض تفریح ہے۔ اس میں شامل تمام کردار، نام، مقامات اور واقعات مصنفہ کے تخیل کی پیداوار ہیں۔ کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا مردہ) سے مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی۔ اس کہانی میں موجود خیالات کرداروں کے ہیں، جو مصنفہ کی ذاتی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

Comments
Post a Comment