ناول: میرا ماہی قسط نمبر: 19

  میرا ماہی

قسط نمبر: 19

تحریر: عشرت زاہد (عشرت خانم)

رمشا نے مسکراتے ہوئے فون رکھا اور کمرے میں موجود ساؤنڈ سسٹم آن کر دیا۔ موسیقی کی تیز لہروں پر تھرکتیں یادیں اور اپنے مستقبل کے خواب بُنتی وہ ڈریسنگ روم کی طرف بڑھی۔ آج اسے اپنی سہیلیوں کے ساتھ آؤٹنگ پر جانا تھا اور وہ اس موقع پر سب سے منفرد نظر آنا چاہتی تھی۔ دوسری طرف، ہاشم کے موبائل کی اسکرین پر ایک واٹس ایپ میسج چمکا۔ ایک لڑکی کی تصویر دیکھتے ہی ہاشم کی آنکھوں میں ایک سفاکانہ چمک آئی۔ اس نے فوراً کال ملائی اور دوسری طرف سے فون ریسیو ہوتے ہی ہاشم نے پوچھا، "تو یہ وہی لڑکی ہے جسے رمشا چاہتی ہے کہ راستے سے ہٹا دیا جائے؟" ہاشم نے تھوڑا رک کر کہا، "ٹھیک ہے، میں ابھی اپنے خاص بندے کو کہہ دیتا ہوں۔ بالکل فکر نہ کرو، نہ اسے کوئی نقصان ہوگا اور نہ ہی کسی کو خبر ہوگی۔ اس بار کام بالکل پکا ہوگا اور یہ لڑکی ہماری 'مہمان' بن کر رہے گی۔"

ہاشم نے فوراً اپنے بندے کو فون لگایا اور حکمیہ لہجے میں کہا، "جو تصویر ملی ہے، اس لڑکی کو کل یونیورسٹی جاتے ہوئے اٹھانا ہے اور میرے فارم ہاؤس والے کاٹیج میں شفٹ کرنا ہے۔ یاد رہے، اسے کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے، وہ مہمان بن کر رہے گی۔ جب کام ہو جائے گا ہم اسے آزاد کر دیں گے، سمجھ آئی؟" دوسری طرف سے "جو حکم سرکار" کہہ کر فون بند ہو گیا۔ ہاشم نے پھر سیف کو کال کی، "سیف! بتاؤ کیا بنا؟ کوئی رابطہ ہوا رحمان سے؟" سیف نے کہا کہ بس آپ کے حکم کا انتظار تھا، ہاشم نے ہدایت دی، "اس سے کہو ہائی وے والی زمین کے لیے کتنی رقم چاہیے؟ اس سے ڈیل بناؤ اور پھر مجھے بتاؤ۔" سیف نے ملاقات کا پوچھا تو ہاشم نے کہا، "مل بھی لیں گے، پہلے تم اسے راضی تو کرو، تمہارا شیئر بھی تمہیں دیں گے۔"

سیف نے رحمان صاحب کو فون کیا، "سر! میں سیف بات کر رہا ہوں، آپ کے لیے ایک آفر ہے۔ کیا آپ ہائی وے والی زمین کی ڈیل کرنا چاہیں گے؟ آپ کو منہ مانگی رقم دی جائے گی، ہاشم لینا چاہتا ہے۔" رحمان نے پوچھا، "کیا یہ تم سے خود ہاشم نے کہا ہے؟" سیف کی تصدیق پر رحمان نے ملاقات کی شرط رکھی، مگر کہا کہ وہ آفس میں نہیں بلکہ باہر کسی جگہ ملے گا۔ سیف نے "اوکے" کہہ کر فون رکھ دیا۔

ادھر انیل اپنے موبائل پر اسکرولنگ کر رہا تھا کہ ایک نامعلوم نمبر سے کال آئی۔ مخاطب نے پوچھا، "کیا آپ انیل بات کر رہے ہیں؟" انیل کے اثبات پر اس نے کہا، "آپ کی کزن ریجا کی جان خطرے میں ہے، کل ہاشم کے بندے اسے اٹھوا لیں گے۔ میں آپ کو اس لیے بتا رہا ہوں کہ آپ اسے بچا سکتے ہیں تو بچا لیں۔" اس سے پہلے کہ انیل کچھ پوچھتا، لائن کٹ گئی اور دوبارہ ملانے پر فون بند ملا۔

انیل نے فوراً مانی کو کال ملائی اور سارا ماجرا سنایا۔ مانی نے پریشانی میں سر پکڑ لیا، "پہلے آپ پر حملہ ہوا اور اب ریجا کے پیچھے کون ہے جو پوری فیملی کے پیچھے پڑ گیا ہے؟" انیل نے کہا، "میں ابھی ریجا کو خوفزدہ نہیں کر سکتا، میں اس کا محافظ ہوں، مجھے ہی اس کی کیئر کرنی ہے۔" مانی نے اس کی صحت کا پوچھا تو انیل نے بتایا کہ وہ پہلے سے بہتر ہے اور ریجا کا خیال رکھ سکتا ہے۔ طے پایا کہ مانی میاں جی کے گارڈز کے ساتھ ریجا کو پک کرے گا اور یونیورسٹی میں اس وقت تک رہے گا جب تک وہ فارغ نہ ہو جائے۔ انیل نے مانی کا شکریہ ادا کیا تو مانی بولا، "میاں جی کے اور آپ سب کے مجھ پر اتنے احسانات ہیں کہ میں چاہ کر بھی نہیں اتار سکتا۔" انیل نے جواب دیا، "میں آپ کو اپنا سمجھتا ہوں، تبھی سب سے پہلے اپنی پریشانی بتائی۔ اب میں روہن کو بھی کہتا ہوں کہ وہ الرٹ رہے۔"

رحمان صاحب نے گاڑی آفس سے گھر لے جانے کی بجائے عثمان کے کلینک کی طرف موڑ لی۔ وہ ہاشم کے بارے میں مشورہ کرنا چاہتے تھے کہ وہ اس ڈیل میں اتنا انٹرسٹ کیوں لے رہا ہے۔ عثمان نے کلینک پہنچ کر رحمان کی بات سنی اور مشورہ دیا کہ جب تک فیس ٹو فیس ملاقات نہیں ہوگی، کچھ نہیں کہہ سکتے۔ رحمان نے عثمان کے کہنے پر ملنے کا ارادہ کر لیا اور سیف کو بتا دیا۔

اگلی صبح ریجا بیدار ہوئی تو اسے عجیب سی بے چینی ہو رہی تھی۔ رات جلدی سو جانے کے باوجود اس کی طبیعت بوجھل تھی، لیکن اسے پروجیکٹ جمع کروانے اور پریزنٹیشن کے لیے جانا ضروری تھا۔ اس نے انیل کا گڈ مارننگ کا میسج دیکھا اور جواب دیا۔ وہ تیار ہونے لگی، پنک لپ اسٹک لگائی، بال سیٹ کیے اور پرفیوم لگا کر جیسے ہی فائل اٹھائی، مانی کی کال آ گئی۔ مانی نے کہا، "ریجا! میں یونیورسٹی کی طرف جا رہا تھا، سوچا آپ کو بھی ڈراپ کر دوں گا اور گپ شپ بھی ہو جائے گی۔ میں پہنچنے والا ہوں۔" ریجا نے کہا، "میں جوس پی کر نیچے آ رہی ہوں، آپ اندر آ کر ناشتہ کر لیں،" مگر مانی نے باہر ہی انتظار کرنے کا کہا۔

نیچے ڈائننگ روم میں زرمینے موجود تھیں۔ ریجا نے بابا کی کرسی خالی دیکھ کر پوچھا تو زرمینے نے بتایا کہ انہیں فلو ہے، شاید لیٹ جائیں گے۔ ریجا نے بتایا کہ وہ مانی کے ساتھ جا رہی ہے، اس نے اسے ڈراپ کرنا ہے۔ زرمینے نے اسے جوس پلایا اور جاتے ہوئے پیچھے سے دعا پڑھ کر حصار قائم کیا۔ باہر نکلی تو دو گاڑیوں کا پروٹوکول دیکھ کر ریجا حیران رہ گئی، "مانی! اتنے گارڈز کیوں؟ یہ تو میاں جی تب لے جاتے ہیں جب زمینوں پر جانا ہو۔" مانی نے اسے مزید سوالات سے روک دیا۔

راستے میں مانی نے ریجا کو دو اہم باتیں بتائیں۔ پہلی فضا مامی کے حوالے سے کہ رحمان صاحب اور فضا ماضی میں کلاس فیلوز تھے اور رحمان ان کے عشق میں گرفتار تھے، جبکہ فضا کا کوئی انٹرسٹ نہیں تھا۔ اب برسوں بعد فضا کو دیکھ کر رحمان پھر بے قابو ہو رہے ہیں اور انہیں ماضی یاد دلاتے ہیں۔ مانی نے کہا کہ فضا مامی اس ٹینشن سے بیمار ہو رہی ہیں، ہمیں ان کا ساتھ دینا چاہیے اور انہیں سمجھانا چاہیے کہ وہ خود زریف ماموں کو اعتماد میں لے کر سچ بتا دیں۔ دوسری بات مانی نے انیل کو آنے والی کال کے بارے میں بتائی، "انیل نے منع کیا تھا کہ آپ ڈر جائیں گی، مگر میں آپ کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہوں۔ آپ نے دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے۔" ریجا نے مانی کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ان دونوں کے لیے کتنا کیئرنگ ہے۔

یونیورسٹی پہنچ کر گارڈز ریجا کو ڈیپارٹمنٹ تک چھوڑ کر آئے اور باہر پہرہ دینے لگے۔ دوسری طرف ہاشم کے بندے تاک میں تھے، مگر سکیورٹی ٹائٹ دیکھ کر انہوں نے ہاشم کو فون کیا، "سر! یہاں سکیورٹی بہت سخت ہے، زبردستی کی تو مسئلہ بن جائے گا۔" ہاشم نے انہیں واپسی کا کہا مگر ہدایت دی کہ ریجا کے آنے جانے پر نظر رکھو، جب وہ اکیلی نکلے تو ریڈی رہنا۔

انیل نے مانی کو فون کر کے پوچھا، "کیا بنا؟" مانی نے بتایا کہ ریجا کو ڈراپ کر دیا ہے اور اسے سب سچ بتا کر ہوشیار بھی کر دیا ہے۔ انیل نے اپنا بتایا کہ وہ ابھی ہسپتال میں ہے، ڈاکٹر نے پلاسٹر اتار دیا ہے مگر اسٹک کے سہارے چلنے اور واک کرنے کو کہا ہے۔ مانی نے شکر ادا کیا کہ آپ چلنے کے قابل ہو گئے۔ انیل نے اپنی گاڑی کا پوچھا جو ورکشاپ میں تھی، مانی نے کہا کہ ابھی اس میں کام باقی ہے، میری گاڑی حاضر ہے۔ انیل نے جذباتی ہو کر کہا، "مانی! تم سچے دوست ہو، میری جگہ تم نے ریجا کو تحفظ دیا۔" مانی نے جواب دیا، "وہ ہمارے گھر کی عزت ہے اور عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔"

دو بجے ریجا اپنی جیوری اور سبمیشن مکمل کر کے فارغ ہوئی۔ روہن اور سمرہ نے اس سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ مانی اور گارڈز کے ساتھ جا رہی ہے۔ باہر آتے ہی گارڈز اس کے پیچھے چلنے لگے اور وہ گاڑی میں بیٹھ گئی۔ مانی نے اسے بحفاظت گھر پہنچایا اور ان دو گارڈز کی ڈیوٹی لگائی کہ، "ریجا کو پتہ نہیں لگنا چاہیے، آپ دونوں نے ہر وقت اس کے ساتھ رہنا ہے۔ گھر کے باہر کوئی مشکوک بندہ یا گاڑی نظر آئے تو فوراً بتانا۔"

گھر پہنچ کر ریجا بہت تھک چکی تھی، زرمینے پانی لے کر آئیں مگر ریجا نے صرف سونے کی خواہش کی اور کمرے میں چلی گئی۔ باہر سائیڈ پر کھڑے گارڈز ہر آنے جانے والے پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ دور ایک گاڑی رکی تو گارڈز کو پاس آتے دیکھ کر وہ وہاں سے چلی گئی۔ گاڑی کے اندر بیٹھے بندے نے ہاشم کو فون کیا، "صاحب! وہاں پہرہ سخت ہے، ہم وہاں سے نکل آئے ہیں۔" ہاشم نے قہقہہ لگایا، "یہ چڑیا کب تک بچے گی؟ کبھی تو جال میں پھنسے گی۔ اب میں یہ الزام  رحمان پر لگاؤں گا کہ یہ کام اس نے کیا ہے، پھر رحمان اور سراج آپس میں الجھ جائیں گے اور میرا راستہ صاف ہو جائے گا!"

(جاری ہے...)

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ: اس ناول "میرا ماہی" کے تمام جملہ حقوق بحقِ مصنفہ عشرت زاہد (عشرت خانم) محفوظ ہیں۔ اس تحریر کا کوئی بھی حصہ، کہانی کا کوئی بھی موڑ، مکالمہ یا کردار مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر کسی بھی ویب سائٹ، سوشل میڈیا پیج (فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ، ایکس)، یوٹیوب چینل یا آڈیو بک (Audiobook) کی صورت میں نقل کرنا، کاپی کرنا یا شیئر کرنا قانونی جرم ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف کاپی رائٹ ایکٹ (Copyright Act) کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ڈسکلیمر (دستبرداری)

یہ ایک افسانوی کہانی (Work of Fiction) ہے جس کا مقصد صرف اور صرف قارئین کی تفریح ہے۔ اس کہانی کے تمام کردار، نام، مقامات اور واقعات مصنفہ کے تخیل کی پیداوار ہیں۔ اس کا کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا مردہ)، کسی ادارے یا حقیقی واقعے سے تعلق محض ایک اتفاقیہ عمل ہوگا، جس کی ذمہ داری مصنفہ یا پلیٹ فارم پر عائد نہیں ہوتی۔



Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22