میرا ماہی قسط نمبر: 20 (مکمل قسط)


ناول: میرا ماہی

قسط نمبر: 20 (مکمل قسط)

تحریر: عشرت زاہد (عشرت خانم)

ریجا کی آنکھ کھلی تو اسے اپنے کمرے میں شام کا اندھیرا محسوس ہوا۔ گھڑی دیکھی تو شام کے 6 بج رہے تھے۔ اس نے پردے ہٹائے تو باہر اندھیرا گہرا ہو رہا تھا۔ اسے اچانک احساس ہوا کہ وہ یونیورسٹی سے آ کر کپڑے تبدیل کرنا بھی بھول گئی تھی اور تھکاوٹ کی وجہ سے سیدھی بیڈ پر لیٹ گئی تھی۔ ریجا نے وارڈروب سے نیا لباس نکال کر شاور لیا اور واپس آ کر سکون سے نماز ادا کی۔ اب اسے شدت سے بھوک کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ بال سیٹ کر کے کمرے سے باہر آئی تو دیکھا کہ زرمینے ڈرائنگ روم میں کسی سے فون پر بات کر رہی تھیں۔ ریجا سامنے صوفے پر بیٹھ کر ان کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگی۔

زرمینے نے فون بند کیا اور شفقت سے پوچھا، "آج تو تم بہت سوئی ہو۔ میں آئی تو تم گہری نیند میں تھیں، میں نے آواز بھی دی کہ کھانا کھا لو۔ آج میں نے بھی نہیں کھایا، کیونکہ تم ساتھ ہوتی ہو تو میرا بھی دل لگتا ہے۔" ریجا نے اٹھ کر ماں کو گلے لگایا، "ماما! آپ اپنا خیال رکھا کریں، آپ ہی تو میری کل کائنات ہیں۔" زرمینے نے پیار سے اس کی گال تھپتھپائی، "اچھا! میں کل کائنات ہوں تو پھر انیل کیا ہے؟" ریجا نے شرمانے کی اداکاری کی اور بات گھماتے ہوئے بولی، "ماما! بہت سخت بھوک لگی ہے، جلدی سے کچھ کھانے کو دیں۔" زرمینے نے کک کو آواز دی جو ریجا کا پسندیدہ 'لزانیہ' تیار کر رہا تھا۔ لزانیہ کا سن کر ریجا کے منہ میں پانی آ گیا، "اوہ ماما! آپ میری ایک ایک پسند کا کتنا خیال رکھتی ہیں۔"

اسی دوران ریجا نے مانی کی مسڈ کالز دیکھیں تو اسے کال بیک کی۔ مانی نے کہا، "بس خیریت ہی پوچھنی تھی، اور یہ یاد دہانی کروانی تھی کہ اب آپ جب بھی ڈرائیور کے ساتھ کہیں جائیں گی تو اکیلی نہیں ہوں گی، میاں جی کے دو گارڈز ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں گے۔" ریجا نے حیرت سے کہا، "مانی! یہ کیا ہے؟ کیا اب میں اپنی مرضی سے کہیں آ جا بھی نہیں سکتی؟" مانی نے سنجیدگی سے سمجھایا، "کچھ لوگ آپ لوگوں کو پریشان کرنے کی نیت رکھتے ہیں، آپ کو اپنی حفاظت عزیز ہونی چاہیے۔" ریجا مانی کی فکر دیکھ کر اس کی مشکور ہوئی اور سوچنے لگی کہ انیل سے بات کروں، لیکن انیل فون نہیں اٹھا رہا تھا۔ اسے اپنی انگلی میں وہ انگوٹھی نظر آئی جو مانی نے نکاح کے بعد اسے دی تھی، انیل سے جڑی ہر چیز اس کے لیے بہت قیمتی تھی۔

تھوڑی دیر بعد ریجا کا فون بجا تو وہ دوڑ کر ڈرائنگ روم آئی۔ انیل کی کال دیکھ کر اس کی بے صبری دیدنی تھی۔ فون اٹھاتے ہی بولی، "انیل! کہاں تھے آپ؟" انیل نے مسکراتے ہوئے کہا، "انیل کی جان! پہلے انسان سلام دعا کرتا ہے۔" ریجا نے جواب دیا، "اوہ ہاں، میں ذرا جلدی میں تھی، آپ کی یاد آ رہی تھی۔" انیل نے چھیڑتے ہوئے کہا، "محترمہ! آپ بھول رہی ہیں کہ میں اب آپ کا شوہر ہوں، تھوڑا احترام سے بات کرنا پسند کریں گی۔" ریجا نے قہقہہ لگایا، "اتنے مشکل الفاظ؟ کیا شادی کے بعد سب مرد ایسے ہی رعب ڈالنے والے ہو جاتے ہیں؟" انیل نے جواب دیا، "سوچ لو! ابھی رخصتی نہیں ہوئی، بعد میں کہیں پچھتاؤ نہ۔" ریجا نے سنجیدہ ہو کر مانی کی سکیورٹی والی بات بتائی تو انیل نے کہا، "مانی نے مجھے سب بتا دیا ہے، وہ تمہاری حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ اب تم ریجا انیل ہو، میری ذمہ داری ہو اور مجھے اپنی ذمہ داری نبھانا آتی ہے۔" انیل نے بتایا کہ اس کا پلاسٹر اتر گیا ہے اور وہ اگلے ہفتے سے یونیورسٹی جوائن کر لے گا، جس پر ریجا بہت خوش ہوئی۔

دوسری طرف رمشا اپنے کمرے میں غصے سے ٹہل رہی تھی کہ اس کے پاپا فون کیوں نہیں اٹھا رہے۔ جب کال آئی تو اس نے اسپیکر پر ڈال دی۔ "پاپا! آپ میرا فون پہلی بار میں کیوں نہیں اٹھاتے۔" ہاشم نے جواب دیا، "میری جان! بزنس کے سو کام ہوتے ہیں۔" رمشا نے بات کاٹ کر پوچھا، "پاپا! بتائیے کیا ریجا کو اٹھا لیا؟" ہاشم نے بتایا، "سراج کے گھر اور یونیورسٹی میں سکیورٹی بہت الرٹ ہے، ابھی خطرہ مول لینا ٹھیک نہیں۔ میں نے ہاشم سے کہا ہے کہ یہ کام اسی ہفتے ہو جانا چاہیے۔" رمشا نے بیزاری سے کہا، "میں انیل سے شادی صرف آپ کے کہنے پر کر رہی ہوں، اس کے اتنے نکھرے ہیں کہ میرے میسجز کا جواب بھی نہیں دیتا۔ ڈیل ہوتے ہی میں نے اسے چھوڑ دینا ہے، میں لندن والے ٹیمی کو پسند کرتی ہوں۔"

ادھر ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں رحمان صاحب، عثمان کے ساتھ ہاشم کا انتظار کر رہے تھے۔ ہاشم اپنے گارڈز اور سیف کے ساتھ وہاں پہنچا۔ سیف نے تعارف کروایا، "رحمان صاحب! یہ ہاشم ہیں، گروپ کے اونر۔" دونوں نے ہاتھ ملایا اور بیٹھ گئے۔ رحمان نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا، "پہلے یہ بتائیں کہ میرے بیٹے پر حملہ آپ نے کروایا تھا؟" ہاشم ہنسا، "یہ کسی دشمن کی حرکت ہوگی، میری آپ سے کوئی دشمنی نہیں۔" سیف نے بات آگے بڑھائی کہ ہاشم ہائی وے والی زمین منہ مانگی قیمت پر خریدنا چاہتا ہے کیونکہ وہاں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کا پلان ہے۔ رحمان صاحب نے دو ٹوک جواب دیا، "اگر میں نہ بیچنا چاہوں تو؟" ہاشم نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا، "پھر میں کوئی اور راستہ اختیار کروں گا۔ مختار کو بھی یہی پیشکش کی تھی، وہ نہیں مانا تو اسے راستے سے ہٹانا پڑا۔ آپ کا بیٹا اکلوتا ہے، اس کی خیریت آپ کو عزیز ہوگی۔" انیل کا نام سن کر رحمان بھڑک اٹھے، "مجھے پہلے شک تھا اب یقین ہے کہ حملہ تم نے کیا ہے! میں زمین کسی کو نہیں دوں گا، جو کرنا ہے کر لو۔" ہاشم غصے سے اٹھا، "جن کو پیار کی زبان سمجھ نہ آئے، میرے آدمی انہیں گولی سے سمجھاتے ہیں۔"

گھر واپس آ کر ریجا نے فضا مامی کو فون کیا تاکہ مانی کے کہے مطابق ان سے بات کر سکے۔ حال احوال کے بعد ریجا نے پوچھا، "مامی! آپ نے گریجویشن کہاں سے کیا تھا؟" فضا نے بتایا کہ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کی تھی۔ ریجا نے ہمت کر کے اصل بات چھیڑی، "مامی! کیا آپ رحمان انکل کو جانتی ہیں؟ مانی بتا رہا تھا کہ اس دن رحمان انکل کسی سے آپ کا ذکر ایسے کر رہے تھے جیسے وہ آپ میں بہت زیادہ انٹرسٹڈ رہے ہوں۔" فضا نے ایک گہرا سانس لیا اور اعتراف کیا، "ریجا! رحمان کو دیکھ کر میں بھی چونک گئی تھی۔ یونیورسٹی کے دنوں میں وہ مجھے پریشان کرتے تھے، میں نے انہیں سمجھایا بھی تھا، پھر ہم لندن شفٹ ہو گئے۔ مجھے لگا اتنے سالوں بعد وہ بدل گئے ہوں گے، لیکن اس دن زرمینے آپا کے گھر انہوں نے پھر وہی باتیں شروع کر دیں کہ میں انہیں چھوڑ کر کیوں گئی؟ میں نے بتایا کہ میں صرف ظریف سے محبت کرتی ہوں، مگر وہ سمجھنے کو تیار نہیں۔ اب ان کے پیغامات آ رہے ہیں۔ ریجا! اگر ظریف کو پتہ چلا تو میرا گھر خراب ہو سکتا ہے۔"

اسی دوران ظریف، جو فضا کو سرپرائز دینے آ رہا تھا، دروازے پر رک گیا۔ ریجا کی آواز اسپیکر کی وجہ سے باہر تک صاف آ رہی تھی۔ ریجا کہہ رہی تھی، "مامی! آپ ظریف ماموں کو سب بتا دیں، اس سے پہلے کہ انہیں کہیں اور سے پتہ چلے۔" فضا نے روتے ہوئے کہا، "ریجا! میں اسی لیے تو لندن واپس جانا چاہتی ہوں تاکہ یہاں سے دور رہوں۔ وہ تمہارے سسر بھی بننے والے ہیں، مجھے ڈر لگتا ہے۔" جیسے ہی ریجا نے فون رکھا، ظریف کمرے کے اندر داخل ہو گیا۔ فضا ڈر گئی، مگر ظریف نے اس کے ہاتھ تھام کر کہا، "میں سب سن چکا ہوں فضا! تمہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، میں تمہارا سائبان ہوں۔ اب اگر رحمان نے تمہیں پریشان کیا تو اسے صاف کہنا کہ تم مجھے بتا دو گی، اس کی ہمت نہیں ہوگی دوبارہ ایسی حرکت کرنے کی۔" فضا ظریف کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی، آج اسے لگا جیسے اس کے سر سے بوجھ اتر گیا ہو۔

دوسری طرف سراج کے آفس میں فون بجا، ایک لڑکی کی کال تھی، "میں آپ کی خیر خواہ ہوں، آپ کی بیٹی کے پیچھے کچھ لوگ پڑے ہیں، بچا سکتے ہیں تو بچا لیں۔" سراج نے ہیلو ہیلو کیا مگر لائن کٹ چکی تھی۔ وہ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ ریجا کی کال آ گئی۔ "بابا! میں اور ماما شاپنگ مال جا رہے ہیں۔" ابھی ریجا کی بات پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ اچانک گولی چلنے کی آواز آئی۔ زرمینے کی زوردار چیخ گونجی اور ریجا کے ہاتھ سے فون گر گیا۔ پیچھے سے شور اور فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں اور پھر لائن ڈسکنیکٹ ہوگئی۔ سراج کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی!

(جاری ہے...)


قانونی انتباہ اور جملہ حقوق

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ: اس ناول "میرا ماہی" کے تمام جملہ حقوق بحقِ مصنفہ عشرت زاہد (عشرت خانم) محفوظ ہیں۔ اس تحریر کا کوئی بھی حصہ، کہانی کا کوئی بھی موڑ، مکالمہ یا کردار مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر کسی بھی صورت میں نقل یا شیئر کرنا قانونی جرم ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ڈسکلیمر (دستبرداری)

یہ ایک افسانوی تحریر  ہے جس کا مقصد صرف اور صرف قارئین کی تفریح ہے۔ اس کہانی کے تمام کردار، نام، مقامات اور واقعات مصنفہ کے تخیل کی پیداوار ہیں۔ اس کہانی کا کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا مردہ)، کسی ادارے یا حقیقی واقعے سے تعلق محض ایک اتفاقیہ عمل ہوگا، جس کی ذمہ داری مصنفہ یا پلیٹ فارم پر عائد نہیں ہوتی۔

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ - قسط نمبر 17

بہار کے سنگ قسط نمبر 21