میرا ماہی قسط نمبر: 21

 ناول: میرا ماہی

قسط نمبر: 21

تحریر: عشرت زاہد (عشرت خانم)

جیسے ہی ریجا کے ڈرائیور نے گاڑی پورچ سے باہر نکالی، میاں جی کے الرٹ گارڈز نے اسے اشارہ کر کے روک لیا۔ ایک گارڈ تیزی سے لپک کر فرنٹ سیٹ پر ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ گیا، جبکہ دوسرا گارڈ آگے کھڑی پروٹوکول گاڑی میں سوار ہوا جہاں پہلے سے مسلح گارڈز موجود تھے۔ زرمینے یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئیں اور ریجا سے پوچھنے لگیں، "ریجا! یہ تو بابا کے گارڈز ہیں، یہ ہمارے گھر کیا کر رہے ہیں؟ اور ہمارے ساتھ کیوں جا رہے ہیں؟" ابھی ریجا کچھ جواب دیتی، سامنے بیٹھے گارڈ نے ادب سے کہا، "بیگم صاحبہ! مانی سر نے ریجا بی بی کی سیکیورٹی کے لیے ہمیں خصوصی ڈیوٹی پر لگایا ہے۔ حالات کچھ ٹھیک نہیں ہیں، اس لیے اب ہم سائے کی طرح آپ کے ساتھ ہوں گے۔"

ریجا نے ماما کو تسلی دی اور اپنا فون نکال کر سراج کو مطلع کرنے کے لیے کال ملائی۔ ابھی وہ بابا کو شاپنگ مال جانے کا بتا ہی رہی تھی کہ اچانک ایک زوردار دھماکے جیسی گولی کی آواز فضا میں گونجی۔ ریجا کے ہاتھ سے فون چھوٹ کر نیچے گرا اور اس کے ذہن میں ایک لمحے کے لیے اندھیرا چھا گیا۔ گارڈز نے فوراً چلا کر کہا، "نیچے ہو جائیں! سب اپنی گردنیں جھکا لیں!" ریجا اور زرمینے خوف کے مارے سیٹ کے نیچے دبک گئیں۔ زرمینے نے مضبوطی سے ریجا کا بازو تھام لیا، ان کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ دوسری طرف فون پر سراج "ہیلو ریجا! کیا ہوا؟" پکارتے رہے مگر لائن کٹ چکی تھی۔ ڈرائیور نے کمال مہارت سے گاڑی کی رفتار بڑھائی اور کچھ دور جا کر ایک محفوظ موڑ پر گاڑی روکی۔ جب گارڈز نے اطمینان کر لیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے، تو زرمینے نے کانپتے ہوئے لہجے میں واپسی کا حکم دیا۔ وہ اتنی ڈر گئی تھیں کہ شاپنگ کا سارا ارادہ دھرا کا دھرا رہ گیا۔

گھر پہنچ کر جب گاڑی رکی تو زرمینے کے اوسان کچھ بحال ہوئے۔ انہوں نے گارڈ سے پوچھا، "یہ گولی کہاں سے آئی؟ کیا ہم پر حملہ ہوا تھا؟" گارڈ نے سنجیدگی سے بتایا، "بیگم صاحبہ! پیچھے سے ایک مشکوک گاڑی ہمارا پیچھا کر رہی تھی، یہ وہی گاڑی ہے جو کئی دن سے ریجا بی بی کی یونیورسٹی کے باہر بھی دیکھی گئی تھی۔ ہمارے گارڈز نے انہیں ڈرانے کے لیے فائر کیا، جس کے جواب میں انہوں نے بھی گولی چلائی۔ ہمارا ایک گارڈ زخمی ہوا ہے لیکن وہ لوگ اب پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ اب آپ لوگ گھر میں محفوظ ہیں۔" اسی دوران سراج کی دوبارہ کال آئی، ریجا نے روتے ہوئے سارا ماجرا سنایا۔ سراج کی تو جان نکل گئی تھی، اس نے فوراً پولیس کو اطلاع دینے کا کہا، مگر ریجا نے بتایا کہ مانی کے بھیجے ہوئے گارڈز نے انہیں بچا لیا ہے۔ سراج نے ایک طویل سانس لیا اور کہا، "تم لوگ اندر جاؤ، میں ابھی پہنچ رہا ہوں۔" مانی نے گارڈز کو فون کر کے مزید الرٹ رہنے کی ہدایت دی اور ریجا کی حفاظت کو یقینی بنایا۔

ریجا نے کمرے میں پہنچ کر سب سے پہلے انیل کو فون کیا۔ انیل نے بتایا کہ مانی اسے پہلے ہی سب بتا چکا ہے۔ ریجا نے سسکتے ہوئے کہا، "انیل! کیا اب میں قید ہو کر رہ جاؤں گی؟ میں باہر بھی نہیں جا سکتی؟" انیل نے اسے بہت پیار اور تحمل سے سمجھایا، "نہیں ریجا، یہ صرف چند دنوں کی بات ہے۔ میں پتہ لگوا رہا ہوں کہ اس سب کے پیچھے کون ہے، بس تھوڑی سی احتیاط ضروری ہے۔" ریجا کے منہ سے بے ساختہ نکلا، "کہیں رحمان انکل تو یہ سب نہیں کر رہے؟" انیل ایک لمحے کے لیے سن ہوا، پھر تڑپ کر بولا، "نہیں۔۔۔ بابا اتنا نہیں گر سکتے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے مجھ پر حملہ کیا تھا۔ مجھے تھوڑا وقت دو، میں ان کا اصلی چہرہ سب کے سامنے لاؤں گا، چاہے اس میں کوئی بھی ملوث ہو۔" ریجا کو انیل کے لہجے میں موجود یقین نے تھوڑی تسلی دی۔

دوسری طرف، روہن اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ ڈی ایچ اے کے ایک مشہور کیفے میں بیٹھا تھا۔ انیل نے طبیعت کی وجہ سے آنے سے معذرت کر لی تھی۔ باتوں کے دوران ویٹر سے غلطی سے روہن کی پینٹ پر تھوڑا سا جوس گر گیا۔ روہن معذرت کرتا ہوا واش روم کی طرف بڑھا، وہاں سے واپسی پر اسے ایک جانی پہچانی آواز سنائی دی۔ پارٹیشن کی دوسری طرف کوئی اور نہیں، رمشا بیٹھی اپنی سہیلی سے قہقہے لگا کر باتیں کر رہی تھی۔ روہن وہیں رک گیا اور اپنا فون نکال کر ریکارڈنگ آن کر لی۔ اسے لگا کہ شاید یہاں سے کوئی بڑا ثبوت مل جائے۔

رمشا بڑے فخر سے کہہ رہی تھی، "تم دیکھنا، ریجا کو اب اپنی جان کے لالے پڑے ہوں گے۔ پاپا نے یقین دلایا ہے کہ اسے جلد ہی راستے سے ہٹا دیں گے یا اٹھوا لیں گے، تبھی تو میری شادی انیل سے ہوگی۔" اس کی سہیلی نے حیرت سے پوچھا، "مگر رمشا! تم یہ سب کیوں کر رہی ہو؟ رحمان انکل تو تمہارے پاپا کے دوست ہیں۔" رمشا نے زہریلے لہجے میں جواب دیا، "انیل نے مجھے اگنور کیا ہے، جو مجھے کسی صورت برداشت نہیں۔ دوسرا، پاپا ہاشم انکل کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتے ہیں اور رحمان انکل اس میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ پاپا چاہتے ہیں کہ شادی کے ذریعے وہ ہائی وے والی قیمتی زمین حاصل کر لیں، پھر میں تو لندن چلی جاؤں گی اپنے پرانے دوست ٹیمی کے پاس، انیل یہاں سڑتا رہے۔ ہمیں تو بس وہ زمین اور رحمان گروپ پر قبضہ چاہیے۔" روہن یہ سب سن کر ششدر رہ گیا، اس نے رمشا کے اس بھیانک چہرے کی مکمل ویڈیو بنائی اور انتہائی احتیاط سے وہاں سے نکل آیا۔

اسی شام، مانی نے انیل کو فون کر کے بتایا کہ کس طرح ریجا نے فضا مامی کی مدد کی ہے اور رحمان کے ماضی کا وہ سچ اگلوا لیا ہے جسے وہ برسوں سے چھپا رہے تھے۔ انیل کو ایک زوردار جھٹکا لگا کہ اس کے بابا فضا مامی کے یکطرفہ عشق میں اس حد تک مبتلا تھے کہ آج بھی انہیں پریشان کر رہے ہیں۔ انیل نے بوجھل دل سے سوچا کہ اس کی ماں نسرین نے ساری زندگی بابا کی محبت کے لیے تڑپ کر گزاری، جبکہ بابا کسی اور کی یاد میں جی رہے تھے۔ اسے مامی کی آنکھوں کا وہ خوف یاد آیا جو اس نے میاں جی کے گھر دیکھا تھا، اب اسے سمجھ آئی کہ مامی رحمان انکل سے کیوں ڈرتی تھیں۔ انیل نے اپنی ماں کے کمرے کی طرف دیکھا، جہاں وہ خاموشی سے نماز پڑھ رہی تھیں۔ اسے ان پر بہت ترس آیا کہ انہوں نے ایک ایسے مرد کے لیے اپنی زندگی قربان کر دی جس کا دل کہیں اور اٹکا ہوا تھا۔

انیل ابھی لان میں واک کر رہا تھا کہ روہن وہاں پہنچ گیا۔ روہن نے بغیر کسی تمہید کے اسے وہ ویڈیو دکھائی۔ ویڈیو دیکھ کر انیل کے مکے بھنچ گئے، اس کی آنکھوں میں غصے سے خون اتر آیا۔ "تو یہ سب رمشا اور اس کے باپ کا کھیل ہے؟ وہ میری ریجا کی جان لینا چاہتے ہیں تاکہ زمینیں ہتھیا سکیں؟ میں کوئی کھلونا نہیں ہوں جسے بابا رمشا کی جھولی میں ڈال دیں۔ آج میں اس رمشا کا قصہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دوں گا! میں بابا کو بتاؤں گا کہ وہ جس لڑکی کو اپنی بہو بنانا چاہتے ہیں، وہ کتنی مکار ہے۔" روہن نے اسے بازو سے پکڑ کر روکا، "انیل، ہمیں جذباتی نہیں ہونا۔ ابھی رحمان انکل کو یہ ویڈیو دکھانے کا صحیح وقت نہیں ہے۔ پہلے ہمیں اس ہاشم کے بندے کو پکڑوانا ہے جس نے آج فائرنگ کی، تاکہ ہمارے پاس قانون کے لیے ٹھوس ثبوت ہو۔ اگر ہم نے ابھی جلد بازی کی تو وہ لوگ الرٹ ہو جائیں گے۔"

انیل نے گہرا سانس لیا اور روہن کی بات سے اتفاق کیا۔ وہ دونوں اندر لاؤنج کی طرف چلے گئے جہاں نسرین ان کے لیے اسنیکس اور تازہ جوس تیار کروا رہی تھیں۔ انیل نے لاؤنج میں بیٹھ کر رحمان کا انتظار کرنا شروع کر دیا، اس کے ذہن میں سوالات کا ایک طوفان تھا۔ رمشا کی اصلیت سامنے آنے پر کیا رحمان شرمندہ ہوگا؟ کیا وہ اب بھی اپنے بیٹے کی زندگی اس بے حس لڑکی سے جوڑنے کی ضد کرے گا؟ اور جب اسے پتہ چلے گا کہ انیل اس کے ماضی کا سارا کچا چھٹا جان چکا ہے، تو وہ انیل کا سامنا کیسے کرے گا؟

(جاری ہے...)


قانونی انتباہ اور جملہ حقوق

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ: اس ناول "میرا ماہی" کے تمام جملہ حقوق بحقِ مصنفہ عشرت زاہد (عشرت خانم) محفوظ ہیں۔ اس تحریر کا کوئی بھی حصہ، کہانی کا کوئی بھی موڑ، مکالمہ یا کردار مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر کسی بھی صورت میں نقل یا شیئر کرنا قانونی جرم ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت سخت قانونی
کارروائی کی جائے گی۔

ڈسکلیمر (دستبرداری)

یہ ایک افسانوی تحریر  ہے جس کا مقصد صرف اور صرف قارئین کی تفریح اور معاشرتی اصلاح ہے۔ اس کہانی کے تمام کردار، نام، مقامات اور واقعات مصنفہ کے تخیل کی پیداوار ہیں۔ اس کہانی کا کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا مردہ)، کسی ادارے، گروہ یا حقیقی واقعے سے تعلق محض ایک اتفاقیہ عمل ہوگا، جس کی قانونی ذمہ داری مصنفہ یا پبلشنگ پلیٹ فارم پر عائد نہیں ہوتی۔

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22