میرا ماہی — قسط نمبر 22
میرا ماہی
جوس کا خالی گلاس میز پر رکھتے ہوئے روہن نے انیل سے اجازت چاہی، مگر اسی لمحے پورچ میں گاڑی رکنے کی آواز آئی۔ مانی قدموں کی چاپ سناتا اندر داخل ہوا۔ روہن مانی سے مل کر نکلنے ہی والا تھا کہ انیل نے اسے روک لیا۔ "بیٹھو روہن، اتنی بھی کیا جلدی ہے؟" انیل نے اسے صوفے پر واپس بیٹھنے کا اشارہ کیا اور مانی کی طرف مڑتے ہوئے بولا، "روہن! تمہیں شاید علم نہ ہو، لیکن ریجا کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے میں مانی نے جو کردار ادا کیا ہے، وہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ آج جب ریجا میری زندگی اور میری ذمہ داری ہے، تب بھی مانی اپنا فرض ایک سچے بھائی کی طرح نبھا رہا ہے۔"
روہن نے اثبات میں سر ہلایا اور مانی کی طرف دیکھ کر سنجیدگی سے پوچھا، "مانی! سب تو ٹھیک ہے، مگر اب اس رمشا کا کیا کرنا ہے؟ کیا آج انکل رحمان کو وہ ویڈیو دکھانی ہے؟" مانی نے چونک کر پوچھا، "رمشا؟ وہی جو رحمان صاحب کے بزنس پارٹنر کی بیٹی ہے؟" انیل کے مکے بھنچ گئے، اس کے لہجے میں اب تک کا دبا ہوا غصہ ابھر آیا۔ "ہاں مانی، وہی! میں اب تک اس کا لحاظ کر رہا تھا، خاموش تھا کہ شاید وہ اپنی حد پہچان لے، مگر اب نہیں۔ اب میں اسے اپنے الفاظ میں سمجھاؤں گا کہ انیل رحمان کوئی کھلونا نہیں ہے جسے وہ جب چاہے اپنی انگلیوں پر نچا سکے۔"
مانی نے انیل کے کندھے پر ہاتھ رکھا، "انیل، غصہ نہیں! روہن ٹھیک کہہ رہا ہے، ہمیں اس معاملے کو بہت طریقے سے سنبھالنا ہوگا۔ ہمیں نہ صرف رمشا کو روکنا ہے بلکہ اس شخص تک بھی پہنچنا ہے جو پسِ پردہ یہ سارا کھیل کھیل رہا ہے۔" روہن نے فوراً اپنا فون نکالا، "میرے پاس رمشا کی وہ ریکارڈنگ موجود ہے جو اس کی اصلیت بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔" اس نے ویڈیو پلے کر کے مانی کے سامنے رکھ دی۔ جیسے جیسے مانی ویڈیو دیکھتا گیا، اس کی پیشانی پر بل پڑتے گئے۔ اب اسے سمجھ آ رہا تھا کہ انیل کے اندر غصے کا یہ لاوا کیوں پک رہا ہے۔
"یہ دونوں باپ بیٹی بہت چالاک ہیں،" روہن نے ویڈیو بند کرتے ہوئے کہا۔ "یہ رحمان انکل کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ انکل کے سامنے رمشا کا یہ بھیانک چہرہ لانا بہت ضروری ہے، ورنہ وہ زمینوں اور گروپ پر قبضے کے چکر میں سب کچھ تباہ کر دیں گے۔" مانی گہری سوچ میں ڈوب گیا، کمرے میں طویل خاموشی چھا گئی۔ "مانی! تم خاموش کیوں ہو؟" انیل نے اسے جھنجھوڑا۔ مانی نے ایک لمبی سانس لی، "انیل، میں یہاں تم سے رحمان صاحب کے بارے میں ایک ضروری بات کرنے آیا تھا۔"
روہن کھڑا ہو گیا، "انیل! کافی وقت ہو گیا ہے، ماما انتظار کر رہی ہوں گی۔ میں انہیں آدھے گھنٹے کا کہہ کر آیا تھا۔ اب مجھے چلنا چاہیے۔" اس نے مانی سے ہاتھ ملایا اور انیل کو اٹھنے سے منع کر دیا کیونکہ انیل کی ٹانگ میں ہلکا ہلکا درد ابھر رہا تھا۔ روہن کے جانے کے بعد، انیل نے مانی کو اپنے قریب بلایا۔ "کہو مانی، بابا کے بارے میں کیا بات کرنی ہے؟ کیا ریجا سے کوئی بات ہوئی ہے؟" مانی نے پہلے تو جھجک دکھائی، پھر خود کو سنبھال کر سب اگل دیا۔ "انیل، ریجا سے کوئی خاص بات نہیں ہوئی، لیکن سچ یہ ہے کہ رحمان صاحب ایک بار پھر اپنی اسی ادھوری محبت کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ وہ محبت جو صرف ان کی طرف سے تھی، وہ اب زبردستی فضا مامی کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ بھی مان جائیں۔"
انیل کا چہرہ سپید پڑ گیا، "آخر بابا چاہتے کیا ہیں؟ اس عمر میں وہ ایسی باتیں کر کے کسے شرمندہ کرنا چاہتے ہیں؟ دبی ہوئی چنگاریوں سے صرف راکھ ہی مل سکتی ہے مانی۔ وہ خود کو بھی تماشہ بنا رہے ہیں اور ماما کا اس سب میں کیا قصور ہے؟" اس کی آواز بھر آئی۔ "مانی، میں نے آج تک ماما اور بابا کو ایک خوش حال جوڑے کی طرح نہیں دیکھا۔ کیا شادی بس ایک دوسرے کو اذیت دینے کا نام ہے؟"
مانی نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا، "انیل، بات اس سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ ریجا نے فضا مامی سے اس بارے میں بات کی تھی، اور بدقسمتی سے اسی دوران مصلحت کی دیواریں گر گئیں اور ظریف ماموں کو سب پتہ چل گیا ہے۔" انیل نے اپنا سر پکڑ لیا، "اوہ خدا! تو اس کا مطلب ہے کہ صرف میں اور میری ماما ہی اس سچ سے انجان رہے، باقی پوری دنیا کو پتہ چل گیا۔"
"دیکھو انیل،" مانی نے اس کا ہاتھ تھاما، "تم میرے دوست نہیں، بھائی ہو۔ میں نہیں چاہتا کہ تمہارے بابا کا مذاق بنے۔ عمر کے جس حصے میں وہ ہیں، یہ باتیں مناسب نہیں لگتیں۔ اگر فضا مامی کی طرف سے بھی کوئی ردِعمل ہوتا تو شاید بات الگ ہوتی، لیکن یہ تو انہیں اذیت دینے والی بات ہے۔ وہ برسوں بعد ظریف ماموں کے ساتھ یہاں آئی ہیں، اور یہ سب کسی کو بھی اچھا نہیں لگے گا۔ تمہیں اپنے بابا کو اس راستے سے روکنا ہوگا۔" مانی نے مزید خبردار کیا، "اگر یہ بات میاں جی تک پہنچ گئی تو تم جانتے ہو کہ وہ اصولوں کے کتنے پکے ہیں۔ بہن بیٹیوں کی عزت کے معاملے میں وہ رتی برابر رعایت نہیں دیں گے۔"
انیل نے مانی کی بات سے اتفاق کیا، "میں کچھ کرتا ہوں مانی۔" "اور ہاں،" مانی نے اٹھتے ہوئے کہا، "وہ رمشا والی ریکارڈنگ مجھے بھی فارورڈ کر دینا۔ مجھے ہاشم اور رمشا کے خلاف رپورٹ درج کروانی ہے، میرے پاس کچھ اور ثبوت بھی ہیں۔ ہمیں ان کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہوگا اس سے پہلے کہ پانی سر سے اوپر ہو جائے۔" مانی جانے کے لیے کھڑا ہوا تو سامنے سے نسرین بیگم آتی دکھائی دیں۔ "مانی! کب کے آئے ہو اور مجھے بتایا تک نہیں؟ رکو، میں کھانے کا انتظام کرتی ہوں۔" مانی نے مسکرا کر معذرت کی، "نہیں آنٹی، میں ذرا جلدی میں ہوں، پھر کبھی آؤں گا تو ضرور کھاؤں گا۔" انیل نے بتایا کہ ماما، میں نے ملازم کو بھیجا تھا مگر اس نے کہا کہ آپ آرام کر رہی ہیں۔ نسرین نے دھیمی آواز میں کہا، "بس طبیعت ذرا بوجھل سی محسوس ہو رہی تھی، سوچا لیٹ جاؤں۔"
مانی کے جانے کے بعد نسرین انیل کے پاس آ بیٹھیں۔ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر بولیں، "انیل، کوئی پریشانی والی بات ہے کیا؟" انیل نے زبردستی مسکراہٹ سجائی، "نہیں ماما، میرے ہوتے ہوئے آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔" "مانی کیوں آیا تھا؟" انہوں نے دوبارہ پوچھا۔ "بس میری خیریت پوچھنے آیا تھا، میں کافی دن سے میاں جی کے گھر نہیں گیا نا، تو اسے فکر ہوئی۔" انیل نے اپنا چہرہ کھڑکی کی طرف کر لیا تاکہ باہر لان کا منظر دیکھ سکے، اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی آنکھیں نسرین کے سامنے سارا سچ نہ اگل دیں۔
دوسری طرف ریجا نے سمرہ کو فون کیا اور کمبائن اسٹڈی کی دعوت دی۔ "سمرہ! میرے بہت سے لیکچرز مس ہو گئے ہیں۔" سمرہ نے اس کی سیکیورٹی کی صورتحال دیکھتے ہوئے کہا، "تم گھر پر ہی رہو ریجا، میں دادی کے ساتھ آتی ہوں اور رات کو واپس چلی جاؤں گی۔" ریجا نے اپنی ماما کو بتایا کہ سمرہ آ رہی ہے، وہ کھانا بھی یہیں کھائے گی۔ زرمینے نے فوراً کچن کا رخ کیا تاکہ خانساماں کو رات کے کھانے کی ہدایات دے سکیں۔
اسی دوران مانی کی گاڑی میاں جی کے پورچ میں رکی۔ لان میں کھیلتے بچوں نے جیسے ہی مانی کو دیکھا، تینوں "چچو چچو" پکارتے اس کی طرف دوڑے۔ مانی نے بچوں کے لیے لائی ہوئی چیزیں انہیں دیں اور فضا مامی کے پاس آ گیا۔ فضا نے مسکرا کر کہا، "مانی، دیکھو تو ذرا، یہ بچے تھوڑے ہی دنوں میں تم سے کتنا اٹیچ ہو گئے ہیں۔ اب جب ہم چلے جائیں گے تو یہ تمہیں بہت یاد کریں گے۔"
مانی کی آنکھیں نم ہو گئیں، "بچے تو پیار کے بھوکے ہوتے ہیں مامی۔ میں نے تو بس وہی پیار دینے کی کوشش کی ہے جو مجھے میاں جی کے گھر والوں سے ملا۔ میں یتیم تھا، میاں جی نے میرے سر پر ہاتھ رکھا، ظریف ماموں نے کبھی مجھے پرایا نہیں سمجھا۔ ریجا اور انیل نے مجھے ہمیشہ اپنا دوست اور کزن مانا، حالانکہ میرا ان میں سے کسی کے ساتھ کوئی خونی رشتہ نہیں ہے۔" فضا نے شفقت سے کہا، "مانی، رشتے تو خلوص اور محبت کے ہوتے ہیں۔ ظریف کی فیملی واقعی بہت اچھی ہے۔"
مانی اندر جانے لگا تو فضا نے اسے روکا، "مانی، ایک بات بتاؤ گے؟" "جی مامی، پوچھیے۔" "مانی! کب تک یوں اکیلے زندگی گزارو گے؟ کوئی ہمسفر ہو تو زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ میرے والدین جاتے ہوئے میرا ہاتھ ظریف کے ہاتھ میں دے گئے، میں کتنی خوش قسمت ہوں کہ مجھے ظریف جیسا وفادار انسان ملا۔ تم کہو تو میں تمہارے لیے کوئی لڑکی دیکھوں؟ میں ریجا کی فرینڈز سے بھی ملی ہوں، اگر کہو تو بات چلاؤں؟"
مانی نے تلخی سے مسکرا کر کہا، "مامی! مجھے کوئی کیوں اپنی بیٹی دے گا؟ میرا اپنا ہے ہی کیا؟" فضا نے اسے ٹوکا، "کیوں نہیں دیں گے؟ تم بھی میاں جی کے رشتہ دار کے پوتے ہو۔ مرتے ہوئے انہوں نے تمہیں میاں جی کے حوالے کیا تھا، اور میاں جی نے تمہاری پرورش بیٹوں کی طرح کی ہے۔ تمہارا بھی پورا حصہ ہے میاں جی کی پراپرٹی پر، ایسا مجھے ظریف نے بتایا ہے کہ میاں جی نے اپنی جائیداد میں تمہارا حصہ رکھا ہوا ہے۔ تم کسی سے کم نہیں ہو مانی۔"
مانی یہ سن کر سن ہو گیا۔ "مامی! یہ میاں جی کا ظرف ہے کہ وہ مجھے اپنا سمجھتے ہیں، میں ان کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتا۔ لیکن میں ان کی پراپرٹی میں کوئی حصہ نہیں چاہتا۔" یہ کہہ کر مانی رکا نہیں اور تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گیا، اس کے پیچھے فضا اسے حیرت سے دیکھتی رہ گئی۔
سمرہ آ گئی تھی اور زرمینے اسے ریجا کے کمرے تک لے آئیں۔ زرمینے کے جانے کے بعد سمرہ نے اپنے تجسس کو زبان دی، "ریجا! مجھے پوری بات بتاؤ۔ روہن نے مجھے حملے کا بتایا تھا، کیا تمہاری فیملی میں اتنے مسائل ہیں؟ میں تو شاپنگ کا پلان بنا رہی تھی، میرے کزن کی شادی ہے، اب کیسے ہوگا؟" ریجا نے اسے سب سمجھایا اور پھر نوٹس مانگے، "سمرہ! ان دنوں کے نوٹس دو جب میں ہسپتال میں تھی۔" سمرہ نے اسے فوٹو کاپیاں دیں اور بتایا کہ سر نے کافی پریکٹیکل کام بھی کروا دیا ہے۔ ریجا نے اس کا شکریہ ادا کیا، "تم واقعی اچھی دوست ہو۔"
ملازمہ نے چائے اور سینڈوچز لا کر رکھے، سمرہ براؤنیز دیکھ کر خوش ہو گئی۔ ریجا نے بتایا، "بابا کو کھانے کا شوق ہے، اس لیے ہم نے کک رکھا ہے تاکہ ماما کو تھوڑا وقت ملے اور وہ میرے ساتھ ٹائم گزار سکیں۔" سمرہ نے پوچھا، "کیا رحمان انکل کے گھر بھی کک ہے؟" ریجا نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر نکاح کی بات چلی تو ریجا نے کہا، "پہلے ان طوفانوں سے نمٹ لیں، پھر سب کو بتائیں گے۔"
اسی دوران سراج گھر آ گئے اور زرمینے سے ریجا کا پوچھا۔ سراج نے پورچ میں کھڑے گارڈز کو دیکھ کر پوچھا، "کیا یہ مستقل ہمارے لیے ہیں؟" زرمینے نے بتایا، "مانی نے کہا ہے کہ جب تک خطرہ ٹل نہیں جاتا، ریجا کی سیکیورٹی اہم ہے۔" سراج نے کہا، "میاں جی کا نہیں، مانی کا شکریہ ادا کرو جو تمہاری بیٹی کے لیے اتنا کچھ کر رہا ہے۔" سراج نے زرمینے سے کہا کہ ظریف کی فیملی اور میاں جی کو کسی دن کھانے پر بلاؤ، جس پر زرمینے بہت خوش ہوئی۔
سراج چائے پینے بیٹھے تو انہوں نے زرمینے کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "زرمینے بیٹھو! کچھ بات کرنی ہے۔" سراج نے ایک ایسا سچ کھولا جس نے زرمینے کو ہلا کر رکھ دیا۔ "زرمینے، میں نے تم سے ایک بات چھپائی تھی۔ میاں جی جانتے تھے مگر بابا نے انہیں روک دیا تھا۔ میری پہلے کورٹ میرج ہو چکی تھی، آسیہ نام تھا اس کا۔ لیکن بابا نے اسے قبول نہیں کیا۔ جب اسے برین ٹیومر ہوا تو میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ بابا نے شرط رکھی کہ اگر میں آسیہ کو چھوڑ دوں اور تم سے شادی کر لوں تو وہ اس کا علاج کروائیں گے۔ میں نے بادلِ ناخواستہ ہاں کر دی، مگر آسیہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔ مجھے تم سے اسی دن سے نفرت ہو گئی تھی کہ تمہاری وجہ سے میں نے اپنی محبت کو سودا بنایا۔"
سراج رو رہا تھا، "ریجا جب بے ہوش ہوئی تو مجھے احساس ہوا کہ میں نے تم دونوں کے ساتھ کتنی زیادتی کی ہے۔ میں تمہارا گناہ گار ہوں، چاہو تو مجھے معاف کر دو۔" زرمینے نے اپنے آنسو پونچھے اور دو ٹوک لہجے میں کہا، "سراج صاحب! میں نے ایک فیصلہ کیا ہے... آپ کو چھوڑنے کا فیصلہ!"
سراج ششدر رہ گیا، زرمینے کا چہرہ آنسوؤں سے بھرا ہوا تھا مگر اس کے لہجے میں وہ ہمت تھی جو برسوں کی خاموشی کے بعد ابھری تھی۔ کیا زرمینے سراج کو معاف کر پائے گی؟ کیا ریجا اپنے باپ کا یہ ماضی قبول کرے گی؟ اور مانی کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ دیکھیے "میرا ماہی" کی اگلی قسط میرے بلاگ پر!
جملہ حقوق (Copyrights)
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ "عشرت زاہد" محفوظ ہیں۔
اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو مصنفہ کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی پلیٹ فارم، ویب سائٹ، فیس بک پیج، یوٹیوب چینل یا آڈیو بک کی صورت میں شیئر کرنا قانونی جرم ہے۔ ایسا کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔
ڈسکلیمر (Disclaimer)
نوٹ: یہ ناول "میرا ماہی" ایک افسانوی تحریر ہے۔ اس کے تمام کردار، مقامات اور واقعات محض تخیل کی پیداوار ہیں۔ اس کا مقصد کسی بھی زندہ یا مردہ شخص، ادارے یا مذہب کی دل آزاری کرنا ہرگز نہیں ہے۔ کسی بھی قسم کی مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی۔
"آج کی قسط میں سراج کا اعتراف اور زرمینے کا کڑا فیصلہ کہانی کو ایک نیا رخ دے رہا ہے۔ آپ کی رائے میرے لیے بہت اہم ہے، کمنٹس میں ضرور بتائیے گا کہ کیا زرمینے کا فیصلہ درست ہے؟"

Comments
Post a Comment