میرا ماہی — قسط نمبر 23
میرا ماہی
قسط نمبر 23
ریجا سمرہ کے ساتھ مل کر پڑھائی کر رہی تھی، تو اسے بہت سے ایسے نئے کانسیپٹس کا پتہ چلا جن سے وہ پہلے ناواقف تھی۔ وہ ان نوٹس کو بھی غور سے دیکھ رہی تھی جو سمرہ خاص طور پر اس کے لیے لائی تھی۔ اسی دوران سمرہ کے فون پر اس کے والد کی کال آنے لگی۔ سمرہ نے فون اٹھایا تو دوسری طرف سے اس کے ڈیڈی نے بتایا کہ گھر پر اچانک مہمان آ گئے ہیں اور اسے جلدی گھر پہنچنا ہوگا کیونکہ اس کی ماما کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔
سمرہ نے فون بند کر کے اپنی چیزیں سمیٹنا شروع کیں تو ریجا نے پیار سے کہا، "سمرہ! رکو تو سہی، ماما نے تمہارے لیے کھانے کا بھی کہہ دیا تھا۔" سمرہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "ریجا! میں پھر کسی اور دن آؤں گی۔ ابھی امتحان میں 25 دن باقی ہیں، میں دوبارہ آ کر تمہارا وہ تمام کام کور کروا دوں گی جو ہسپتال کی وجہ سے رہ گیا تھا۔ ابھی میرا گھر جانا ضروری ہے، تایا کی فیملی آئی ہوئی ہے اور ماما اکیلی کچن کا سارا کام نہیں کر سکتیں۔ کاش میرے ڈیڈی بھی ایک کک رکھ لیتے تو میری ماما بھی کچن کے کاموں سے آزاد ہو کر سکون کر پاتیں۔" اسی لمحے ڈرائیور کی کال آئی تو سمرہ نے بتایا کہ گاڑی باہر آ گئی ہے۔ وہ جلدی سے لاؤنج سے گزرتی ہوئی باہر نکل گئی اور ریجا اسے گیٹ تک چھوڑنے آئی۔
سمرہ کے جانے کے بعد ریجا جب کچن میں آئی تو وہاں ماما کو نہ پا کر وہ انہیں ڈھونڈنے لگی۔ اچانک بابا کے کمرے سے آتی ہوئی آوازوں نے اس کے قدم روک دیے۔ یہ اس کی ماما کے رونے کی آواز تھی۔ ریجا دھڑکتے دل کے ساتھ قریب آئی اور سننے لگی۔ اندر سراج صاحب کی آواز گونج رہی تھی، "زرمینے! میں جانتا ہوں میں نے تمہارے اور ریجا کے ساتھ بہت برا کیا ہے۔ میں تمہیں وہ سب نہیں دے سکا جس کی تم حقدار تھی۔ اب میں اپنی ہر زیادتی کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں۔ میں ریجا کو وہ باپ کی شفقت دینا چاہتا ہوں جو اسے بچپن میں ملنی چاہیے تھی، مگر میں نے سوچا کہ تم لوگوں کو پیسے دے کر میں نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ میں غلط تھا زرمینے! تمہارے حقوق میرے فرائض تھے جنہیں میں نے کبھی پورا نہیں کیا۔ میں تمہارا مجرم ہوں، لیکن میری ایک درخواست ہے... مجھے چھوڑ کر مت جاؤ۔ میرے پاس تمہارے سوا کوئی نہیں ہے، میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا۔"
سراج صاحب بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ ریجا کے لیے یہ سب برداشت سے باہر تھا، وہ تیزی سے کمرے کے اندر داخل ہوئی۔ وہاں زرمینے اپنے کپڑے نکال کر سوٹ کیس میں رکھ رہی تھی۔ ریجا نے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا، "ماما! آپ کہاں جا رہی ہیں؟" زرمینے نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا، "ریجا! میں اب یہاں نہیں رہ سکتی۔"
ریجا نے آگے بڑھ کر اپنی ماں کا ہاتھ پکڑا اور انہیں بیڈ پر بٹھا کر بولی، "ماما! میں جانتی ہوں بابا سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے۔ انہوں نے آپ کو وہ محبت نہیں دی جس کی آپ حقدار تھیں۔ لیکن ماما! محبت تو ایک بے اختیار جذبہ ہے، بابا کو وہ شدت سے ہوئی تھی۔ اور دادا ابو نے جو سودا کیا، وہ بھی تو غلط تھا۔ وہ اپنے بیٹے کی پسند کو قبول کر لیتے، بابا نے نکاح کیا تھا کوئی گناہ تو نہیں کیا تھا۔ آخر ہمارے بڑے اپنی مرضی کیوں مسلط کرتے ہیں؟ ماما! اب تو وہ خاتون بھی زندہ نہیں ہیں، میں بھی بابا سے اس بات پر خفا ہوں، لیکن ماما یہ گھر آپ کا ہے۔ آپ یہاں سے کہیں نہیں جائیں گی۔ آپ یہیں رہ کر بابا کو سزا دیں، ان سے لاتعلق ہو جائیں، ان سے بات نہ کریں، مگر لوگوں کو ہنسنے کا موقع نہ دیں۔ آپ میری بات تو کبھی نہیں ٹالتی نا؟"
ریجا نے اٹھ کر گلاس میں پانی ڈالا اور زرمینے کو دیا۔ زرمینے نے خاموشی سے پانی پیا اور سوچنے لگی کہ ریجا ٹھیک کہہ رہی ہے۔ اسے سراج کو سزا دینی ہے تو اس کے سامنے رہ کر دینی چاہیے تاکہ وہ بھی اس تکلیف کو محسوس کرے جو برسوں اس نے زرمینے کو دی تھی۔ اس نے ریجا کی طرف دیکھا اور کہا، "ٹھیک ہے، میں نہیں جاتی۔ لیکن اب سے میں تمہارے ساتھ والے کمرے میں شفٹ ہو جاؤں گی، جب تک میرا دل نہیں مان جاتا، میں سراج کے ساتھ اس کمرے میں نہیں رہوں گی۔" زرمینے نے اپنی ضرورت کی تمام چیزیں اور لباس سوٹ کیس میں بھرے اور ریجا نے وہ سوٹ کیس لے جا کر ساتھ والے کمرے میں رکھ دیا۔
دوسرے کمرے میں جا کر زرمینے ایک بار پھر پھوٹ پڑی۔ اسے وہ پچھلے تمام سال، وہ رویے اور وہ باتیں یاد آنے لگیں جن سے سراج نے اسے ٹیز کیا تھا۔ وہ تکلیف اب پہلے سے زیادہ گہری محسوس ہو رہی تھی۔ "کیسے معاف کر دوں؟ اتنے سالوں کی نفرت کی وجہ آج کھل کر سامنے آئی ہے..." اس نے نڈھال ہو کر اپنا سر بیڈ کی بیک سے لگا لیا۔
ادھر ریجا واپس اپنے بابا کے کمرے میں آئی۔ وہ سراج صاحب کے سامنے نیچے زمین پر بیٹھ گئی اور بولی، "بابا! میں جانتی ہوں آپ کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے، لیکن ماما کو تھوڑا وقت دیں۔ عورت سب کچھ برداشت کر لیتی ہے مگر محبت میں شراکت برداشت نہیں کرتی، نہ وہ یہ سہہ سکتی ہے کہ اس کا شوہر کسی اور کے خیالوں میں رہے۔" سراج صاحب نے لرزتے ہاتھوں سے ریجا کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، "بیٹا! میں تم سے بھی معافی مانگتا ہوں۔ میں نہیں جانتا تھا کہ میں نے اتنے سال کس بے کار نفرت میں گزار دیے ہیں۔ زرمینے تو ہمیشہ مجھے محبت اور احترام دینے کی کوشش کرتی رہی، میں ہی اس کے قابل نہیں تھا۔ آج مجھے پہلی بار اپنے بابا کی پسند پر غصہ نہیں آیا، ورنہ مجھے لگتا تھا کہ انہوں نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے۔ اگر زرمینے نہ ہوتی تو ریجا بھی نہ ہوتی، اور میں اتنی پیاری بیٹی کہاں سے لاتا؟"
ریجا نے اپنے باپ کی گود میں سر رکھ دیا، "بابا! اب آپ کو تھوڑا صبر کرنا ہوگا۔ اب تک ماما نے صبر کیا تھا، اب آپ کی باری ہے۔ اب آپ نے انہیں تنگ نہیں کرنا۔" سراج نے ریجا کے بالوں کو سہلاتے ہوئے غمزدہ لہجے میں کہا، "بیٹا! میری غلطیوں کی یہ سزا کیا کافی نہیں کہ اس نے میرا کمرہ چھوڑ دیا؟ اب مجھے پھر سے اس کا اعتبار جیتنا ہوگا۔"
مانی نے میاں جی کے دوست سے رابطہ کیا جو پولیس ڈپارٹمنٹ میں ایک بہت بڑے عہدے پر فائز تھے۔ مانی نے ان سے ملاقات کے لیے وقت لیا جس پر انہوں نے مانی کو اپنے آفس بلوا لیا۔ مانی عین وقت پر ان کے دفتر پہنچ گیا اور ان کے سامنے ہاشم، رمشا اور اس کے باپ کے خلاف وہ تمام ثبوت ڈھیر کر دیے جو اس نے اپنی جان پر کھیل کر اور بڑی محنت سے حاصل کیے تھے۔ ساتھ ہی اس نے روہن کی وہ ریکارڈنگ بھی دکھائی جو ان مجرموں کو پکڑوانے میں سب سے مضبوط کڑی ثابت ہونے والی تھی۔
ڈی آئی جی صاحب مانی کی اس بہادری اور عقلمندی کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔ مانی نے ان سے درخواست کی، "سر! ابھی میاں جی کو یہ سب نہ بتائیے گا، جب یہ سب گرفتار ہو جائیں تب ہی بات کھولیے گا۔" ڈی آئی جی صاحب کے کمرے میں بیٹھ کر مانی نے تمام باتیں تفصیل سے ڈسکس کیں اور انہوں نے بھرپور تعاون کا وعدہ کیا۔ مانی نے ریجا پر حملے اور انیل کی کار کے ایکسیڈنٹ کے پیچھے بھی ہاشم کے ہاتھ ہونے کے بارے میں بتایا۔ مانی چاہتا تھا کہ وہ لوگ ملک چھوڑ کر فرار نہ ہو سکیں اور اس سے پہلے ہی پکڑے جائیں۔ ڈی آئی جی کی ہدایت پر ایس پی کو کال کر کے بلایا گیا اور موقع پر ریڈ کر کے ان سب کو گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا۔ ساتھ ہی متعلقہ تھانے سے مانی کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آر کی کاپی بھی منگوا لی گئی۔ مانی نے شکریہ کے ساتھ اجازت چاہی اور واپس میاں جی کے گھر آگیا۔
دوسری طرف، ہاشم ابھی اپنے فارم ہاؤس جانے کے لیے تیاری کر رہا تھا کہ کسی نے اسے اطلاع دی، "تمہارے خلاف مانی نامی کسی شخص نے ایف آئی آر کٹوا دی ہے، اس سے پہلے کہ پولیس تم تک پہنچے تم یہاں سے غائب ہو جاؤ، پھر موقع ملتے ہی ملک سے باہر چلے جانا۔" ہاشم یہ سنتے ہی اپنے گارڈز کو فارم ہاؤس چلنے کا کہنے لگا، لیکن اس سے پہلے کہ گاڑی گھر سے نکلتی، پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی۔ گرفتاری کے وارنٹ دکھانے کے بعد ہاشم کو اس کے ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا۔
رمشا کے پاپا نے ابھی لاہور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر قدم رکھا ہی تھا کہ ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی پولیس نے ان کا 'استقبال' کیا۔ ایس پی وہاج نے سختی سے کہا، "سر! آج آپ ہمارے مہمان ہیں۔" انہوں نے اپنے لائر سے بات کرنے کی کوشش کی جس پر ایس پی نے دو ٹوک جواب دیا، "جو بھی کرنا ہے تھانے جا کر کرنا ہے۔ ہمارے پاس آپ کی بیٹی اور آپ کے خلاف ایف آئی آر اور ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ آپ پر جو الزامات ہیں وہ ان ثبوتوں سے ثابت ہو رہے ہیں، اب آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔" پولیس کی وین میں بیٹھ کر انہیں رمشا کا خیال آ رہا تھا کہ وہ گھر پر میرا انتظار کر رہی ہوگی۔ تب انہوں نے اہلکار سے کہا، "میرا فون دو، میں اپنی بیٹی کو بتا تو دوں۔" مگر اہلکار نے فون دینے سے منع کر دیا اور کہا، "وہ گھر میں نہیں، پولیس اسٹیشن میں ملے گی۔"
گھر پر رمشا کک کو جھاڑ پلا رہی تھی، "جلدی جلدی ہاتھ چلاؤ ہڈ حراموں! پاپا نے تم لوگوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔" اس نے ٹائم دیکھا اور سوچا کہ پاپا کا پلین تو لینڈ کر چکا ہوگا۔ یہ سوچ کر وہ لاؤنج میں ٹی وی آن کر کے بیٹھی ہی تھی کہ گیٹ کیپر کی آوازیں آنے لگیں۔ وہ اٹھ کر باہر آئی تو دیکھا کہ لیڈیز پولیس کے ساتھ پولیس اہلکار موجود تھے۔ رمشا نے غصے سے پوچھا، "یہ کیا شور ہے؟ پولیس یہاں کیا کرنے آئی ہے؟" گیٹ کیپر نے ڈرتے ہوئے بتایا، "میڈم! یہ کہہ رہے ہیں کہ رمشا کو گرفتار کرنا ہے، ان کے پاس وارنٹ ہیں۔"
رمشا آگے بڑھی اور چلائی، "تم لوگ ہوتے کون ہو مجھے گرفتار کرنے والے؟ جانتے نہیں میں کون ہوں؟ میرے پاپا آنے والے ہیں، وہ تم سب کی چھٹی کروا دیں گے! میں نے کچھ نہیں کیا، نکالو ان سب کو باہر!" تب لیڈیز پولیس نے رمشا کا ہاتھ پکڑ کر ہتھکڑی لگا دی اور اسے زبردستی کھینچتے ہوئے باہر لے آئیں۔ رمشا چیخی، "میرا ہاتھ چھوڑو! مجھے اپنا فون تو لینے دو، مجھے پاپا کو فون کرنا ہے، وہ آتے ہی ہوں گے۔" تب لیڈی پولیس نے سپاٹ لہجے میں کہا، "آپ کے پاپا کو ایئرپورٹ سے ہی تھانے لے جایا جا چکا ہے۔" رمشا کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ انسپکٹر نے کہا، "اب چپ چاپ بیٹھ جائیں، جو جرم آپ نے اپنے باپ کے ساتھ مل کر کیا ہے وہ آپ کو حوالات میں جا کر پتہ چلے گا۔"
رحمان صاحب پولیس اسٹیشن پہنچے اور ایس پی وہاج سے ملتے ہی پہلا سوال یہی کیا کہ ان کے خلاف کس نے ایف آئی آر کٹوائی ہے۔ ایس پی وہاج نے سنجیدگی سے جواب دیا، "سر! یہ کئی جرائم میں ملوث ہیں۔ سراج کی بیٹی پر حملہ انہوں نے ہاشم کے ساتھ مل کر پلان کیا تھا، ریجا کو اغوا کرنے کی سازش کی اور آپ کی کمپنی کے اہم راز ہاشم کو دیے۔ یہاں تک کہ انیل پر ہونے والا حملہ بھی انہی کے کہنے پر ہوا تھا۔ اگر آپ کو مزید ثبوت چاہیے تو میں آپ کو رمشا بی بی کی ریکارڈنگ دکھاتا ہوں۔"
رحمان صاحب جیسے جیسے وہ ریکارڈنگ دیکھتے جا رہے تھے، ان کے غصے کی انتہا عروج کو پہنچ رہی تھی۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ یہ دونوں باپ بیٹی اس حد تک گر سکتے ہیں۔ وہ دل ہی دل میں خود کو ملامت کرنے لگے کہ ان لوگوں کی خاطر وہ اپنی بیوی اور بیٹی کو برا بھلا کہتے رہے، جبکہ ان کا بیٹا انہیں پہلے ہی خبردار کر چکا تھا۔ یہ لوگ جان بوجھ کر مارکیٹ میں ان کی کمپنی کے شیئرز گرا رہے تھے تاکہ ان کی شہرت خراب ہو سکے۔
یہ سب دیکھنے کے بعد رحمان صاحب نے ایس پی وہاج کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے یہ کارروائی کی۔ تب وہاج نے بتایا، "سر! اگر آپ کو شکریہ ادا کرنا ہی ہے تو میاں جی کے پوتے مانی کا کیجیے۔ یہ سب مانی کے کہنے پر ہوا ہے، اسی نے یہ سارے ثبوت ہمیں ان دونوں اور ہاشم کے خلاف دیے ہیں۔ ہاشم نے آپ کو بہت بڑے نقصان پہنچانے کی کوشش کرنی تھی مگر مانی نے ان کے تمام وار الٹے ان پر ہی کر دیے۔"
رحمان صاحب اپنی سیٹ سے اٹھے اور پوچھا، "کیا میں ایک بار ان باپ بیٹی سے مل سکتا ہوں؟" ایس پی وہاج نے کانسٹیبل کو بلا کر ہدایت کی کہ انہیں ملوا دیا جائے۔
جیسے ہی رحمان صاحب سامنے آئے، رمشا فوراً بولی، "شکر ہے انکل آپ آ گئے۔ یہ دیکھیں ہمیں کیسے اٹھا کر لائے ہیں، ہمارا تو کوئی قصور بھی نہیں تھا۔" رحمان صاحب نے گرج کر کہا، "خبردار! مجھے انکل مت کہو۔ میں تمہیں اپنی بیٹی سمجھتا تھا، اپنی بہو بنانا چاہتا تھا، مگر تمہارا باپ تو آستین کا سانپ نکلا۔ میں اسے دوست سمجھتا رہا اور اس نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔ میں نے کتنا بھروسہ کیا تم پر... تم مجھ سے کہتیں تو میں سب تمہیں دے دیتا، انیل سے شادی کی صورت میں سب تمہارا ہی ہونا تھا۔ لیکن شکر ہے وقت پر یہ سب سامنے آ گیا اور میرا گھر تم جیسے مکار لوگوں سے بچ گیا۔"
وہ کرب بھرے لہجے میں بولے، "میں اپنے بیٹے کے سامنے کس منہ سے جاؤں گا؟ وہ مجھے کہتا رہا کہ یہ لوگ ٹھیک نہیں ہیں مگر میں اسی کو غلط کہتا رہا۔ آج ثابت ہو گیا کہ کم نسل سے وفا کی امید نہیں کی جا سکتی۔" وہ مزید ایک پل وہاں نہیں رکے اور باہر آ کر ڈرائیور کو حکم دیا کہ گاڑی گھر کے بجائے میاں جی کے گھر کی طرف موڑ لی جائے۔
(جاری ہے...)
قانونی انتباہ اور جملہ حقوق
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ: اس ناول "میرا ماہی" کے تمام حقوق بحقِ مصنفہ عشرت زاہد (عشرت خانم) محفوظ ہیں۔ اس تحریر کا کوئی بھی حصہ، کہانی کا کوئی بھی موڑ، کردار یا مکالمہ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر کسی بھی دوسری ویب سائٹ، بلاگ، سوشل میڈیا پیج (فیس بک، انسٹاگرام، ایکس)، یوٹیوب چینل یا آڈیو بک کی صورت میں شیئر کرنا، نقل کرنا یا چوری کرنا قانونی جرم ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف کاپی رائٹ ای کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ڈسکلیمر (دستبرداری)
نوٹ: یہ ایک افسانوی کہانی ہے جس کا مقصد صرف اور صرف قارئین کی تفریح ہے۔ اس کہانی کے تمام کردار، نام، مقامات اور واقعات مصنفہ کے تخیل کی پیداوار ہیں۔ اس کا کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا مردہ) یا کسی حقیقی واقعے سے تعلق محض ایک اتفاقیہ امر ہوگا۔

Comments
Post a Comment