میرا ماہی قسط نمبر 24

 میرا ماہی


قسط نمبر24 

حویلی کی طرف جاتے ہوئے رحمان صاحب کے ذہن میں خیالات کا ایک طوفان برپا تھا۔ گاڑی کی کھڑکی سے باہر تیزی سے گزرتے درختوں اور عمارتوں کو دیکھتے ہوئے وہ سوچ رہے تھے کہ انسان کتنا نادان ہے کہ چمکتے ہوئے پتھروں کو ہیرا سمجھ بیٹھتا ہے اور پاس پڑے اصلی ہیرے کی قدر نہیں کرتا۔ مانی... جسے وہ ہمیشہ ایک ملازم یا ایک معمولی "لے پالک" سمجھتے تھے، آج وہی ان کی ڈوبتی ہوئی ساکھ کا سہارا بنا تھا۔ مانی نے نہ صرف ان کے اکلوتے بیٹے انیل کے گناہگاروں کو قانون کے شکنجے میں جکڑوایا، بلکہ رمشا اور اس کے باپ کی اصلیت بے نقاب کر کے ان کے خاندانی وقار اور بزنس کو مکمل تباہی سے بچا لیا تھا۔

رحمان صاحب کو احساس ہوا کہ وہ مانی کے کتنے بڑے احسان مند ہیں۔ یہ بات وہ فون پر بھی کہہ سکتے تھے، لیکن ان کے اندر کا بدلا ہوا انسان انہیں ملامت کر رہا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ مانی کے سامنے کھڑے ہو کر، اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی پچھلی تمام زیادتیوں کی معافی مانگیں اور اس کا شکریہ ادا کریں۔ آج کا رحمان وہ پرانا مغرور بزنس مین نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا باپ تھا جسے احساس ہو چکا تھا کہ رشتے احساس کے ہوتے ہیں، پیسے کے نہیں۔ پیسے سے آسائشیں تو خریدی جا سکتی ہیں، مگر وفاداری اور سکون نہیں۔ مانی نے انہیں زندگی کا وہ سبق پڑھایا تھا جو وہ اب کبھی نہیں بھولنا چاہتے تھے۔

گاڑی میاں جی کی عالیشان حویلی کے آہنی گیٹ سے اندر داخل ہوئی تو رحمان صاحب کا دل عجیب سی دھڑکنوں سے لرز رہا تھا۔ وہ گاڑی سے اتر کر اندر داخل ہوئے تو ملازم نے انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا۔ دیوار پر لگی ایک تصویر نے ان کی توجہ کھینچ لی۔ یہ مانی کے بچپن کی تصویر تھی، جس میں میاں جی نے اسے شفقت سے پکڑا ہوا تھا۔ رحمان صاحب کو یاد آیا کہ پہلے وہ اس تصویر کو دیکھ کر حقارت سے سوچا کرتے تھے کہ یہ نجانے کس کی اولاد ہے، میاں جی اسے اپنا بیٹا کیوں کہتے ہیں؟ بیٹا تو صرف اپنے خون سے ہوتا ہے۔ مگر آج مانی نے ثابت کر دیا تھا کہ خون کا رشتہ نہ ہونے کے باوجود اس کی رگوں میں وہی تربیت دوڑ رہی ہے جو میاں جی اور اماں جی نے اسے دی تھی۔

ملازم نے میاں جی کو اطلاع دی تو وہ فوراً اپنے کمرے سے باہر آ گئے۔ انہوں نے ملازم کو چائے لانے کی ہدایت دی اور ساتھ ہی پوچھا، "مانی کہاں ہے؟ اسے کہو ذرا میرے پاس آئے۔" میاں جی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تو رحمان صاحب احتراماً کھڑے ہو گئے۔ دونوں گلے ملے، خیریت دریافت کی اور پھر رحمان صاحب نے اپنے آنے کا مقصد بتایا:

"میاں جی! میں آج یہاں صرف آپ کا اور مانی کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔ اگر بروقت کارروائی نہ ہوتی اور ہاشم و رمشا پکڑے نہ جاتے، تو میرا بزنس اور میری عزت خاک میں مل چکی ہوتی۔" رحمان صاحب کی آواز میں نمی تھی۔

میاں جی مسکرائے اور بولے، "رحمان! یہ سب میں نے نہیں، بلکہ مانی نے کیا ہے۔"

رحمان صاحب نے تائید میں سر ہلایا، "جی میاں جی، میں جانتا ہوں۔ وہ باپ بیٹی تو آستین کے سانپ نکلے جو مجھے اور میرے کاروبار کو ڈس رہے تھے اور میں آنکھیں بند کیے ان پر اعتبار کر رہا تھا۔ اگر مانی میری آنکھیں نہ کھولتا تو میں اپنا بیٹا بھی کھو دیتا اور اپنا نام بھی۔"

اتنے میں مانی ڈرائنگ روم میں داخل ہوا۔ اسے دیکھتے ہی رحمان صاحب آگے بڑھے اور اسے گلے لگا لیا۔ مانی حیران رہ گیا۔ رحمان صاحب نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا، "مجھے معاف کر دو مانی بیٹا! میں نے ہمیشہ تمہیں غیر سمجھا، ایک ملازم سمجھا، لیکن تم تو میاں جی کے وہ قیمتی ہیرے ہو جس کی چمک نے میرے گھر کا اندھیرا دور کر دیا۔ تم نے ثابت کیا کہ پیدا کرنے سے زیادہ پرورش کا کمال ہوتا ہے۔ آج میں نے جانا کہ اصل برتری عاجزی میں ہے، تکبر میں نہیں۔ میں پولیس اسٹیشن سے سیدھا آ رہا ہوں اور شرمندہ ہوں۔"

میاں جی نے مانی کو اپنے پاس بٹھایا۔ مانی نے عاجزی سے جواب دیا، "رحمان صاحب! میں نے اس گھر کا نمک کھایا ہے۔ میاں جی کے مجھ پر اتنے احسانات ہیں کہ میں اپنی جان بھی دے دوں تو وہ قرض نہیں اتر سکتا۔ انیل اور ریجا تو مجھے اپنی جان سے زیادہ پیارے ہیں۔ میں نے جو کیا وہ میرا فرض تھا۔"

میاں جی نے فخر سے مانی کے سر پر ہاتھ رکھا، "مجھے ناز ہے اپنے مانی پر۔ اس نے میری تربیت کا حق ادا کر دیا۔ اب میں سکون سے مر سکوں گا کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ میرے بعد اس گھر کی باگ ڈور محفوظ ہاتھوں میں ہے۔" مانی نے تڑپ کر انہیں ٹوکا، "میاں جی! ایسی باتیں نہ کریں، میری عمر بھی آپ کو لگ جائے۔" مانی چائے سرو کرنے لگا اور اس کے دل میں ایک اطمینان تھا کہ اس نے اپنے محسنوں کی عزت بچا لی ہے۔

کچھ دن بعد، انیل کی صحت یابی اور تمام دشمنوں کے خاتمے کی خوشی میں دوستوں نے ایک فارم ہاؤس پر شاندار پارٹی رکھی۔ روہن نے خاص طور پر مانی کو مدعو کیا جہاں اس کا استقبال کسی "چیف گیسٹ" کی طرح کیا گیا۔ مانی، جو ہمیشہ خاموش رہتا تھا، آج سب کی محبت دیکھ کر جذباتی تھا۔ وہاں نتاشا بھی موجود تھی، جو خاموشی سے مانی کو دیکھ رہی تھی۔

ریجا نے نتاشا کی نظروں کا تعاقب کیا اور شرارت سے پوچھا، "نتاشا! کیا مانی بھائی اچھے لگ رہے ہیں؟" نتاشا شرما کر رہ گئی۔ روہن نے بھی یہ منظر دیکھ لیا تھا۔ وہ قریب آیا اور ہنستے ہوئے بولا، "میرا خیال ہے ان دونوں کو تھوڑا وقت دینا چاہیے۔ ریجا! تم فکر نہ کرو، واپسی پر میں مانی کے ذریعے نتاشا کو ڈراپ کرواؤں گا، تب یہ کھل کر بات کر سکیں گے۔ اگر بات بن گئی، تو ہم میاں جی کے پاس رشتہ لے کر پہنچ جائیں گے۔"

پارٹی کے اختتام پر منصوبہ بندی کے مطابق روہن نے معذرت کی کہ اسے ایئرپورٹ جانا ہے، اس لیے مانی نتاشا کو چھوڑ دے۔ انیل اور ریجا بھی اپنی شاپنگ کا بہانہ بنا کر نکل گئے۔ مانی تھوڑا تذبذب کا شکار تھا، اور یہی حال نتاشا کا تھا۔

گاڑی میں دونوں کے درمیان طویل خاموشی تھی۔ اچانک نتاشا کے فون پر ریجا کا میسج چمکا: "خاموش مت رہنا، مانی سے بات کرو، ایسا موقع دوبارہ نہیں ملے گا!"

نتاشا نے ہمت جمع کی اور پوچھا، "مانی! کیا آپ کی زندگی میں کوئی ہے؟ مطلب، آپ کسی کو پسند کرتے ہیں؟"

مانی نے سنجیدگی سے کہا، "نہیں۔ میرا کوئی نہیں ہے۔ میں میاں جی کی پناہ میں پلا بڑھا ہوں، وہی میرے سب کچھ ہیں۔ نہ میرے والدین کا پتہ ہے، نہ کسی رشتے دار کا۔ میری کل کائنات یہی حویلی اور اس کے لوگ ہیں۔"

نتاشا نے گہرا سانس لیا اور براہِ راست پوچھا، "اگر کوئی لڑکی آپ کے ساتھ زندگی کا سفر گزارنا چاہے... تو کیا آپ اسے قبول کریں گے؟"

مانی نے ایک دم بریک لگائی اور گاڑی سائیڈ پر روک دی۔ اس نے نتاشا کی آنکھوں میں دیکھا، جہاں اسے سچائی اور اپنے لیے ایک خاص تڑپ نظر آئی۔ "نتاشا! میرے پاس اپنا کچھ نہیں ہے۔ رشتے اکثر اسٹیٹس ) کی بنیاد پر بنتے ہیں۔ میں جو کچھ بھی ہوں، میاں جی کی مہربانی سے ہوں۔ کیا آپ کے والدین ایک ایسے شخص کو اپنی بیٹی دیں گے جس کا کوئی حسب نسب نہ ہو؟"

نتاشا نے مضبوطی سے جواب دیا، "میرے والدین مادہ پرست  نہیں ہیں۔ وہ میری خوشی کو ترجیح دیتے ہیں۔ میں نے آپ کو پہلی بار یونیورسٹی میں دیکھا تھا جب آپ ریجا کو ڈراپ کرنے آئے تھے، تب سے آپ کی سنجیدگی مجھے بھا گئی ہے۔ میں نے اپنے والدین سے بات کی ہے، انہیں کوئی اعتراض نہیں۔"

مانی کچھ دیر خاموش رہا، پھر دھیمے لہجے میں بولا، "نتاشا! آپ میرے لیے قابلِ احترام ہیں، لیکن میرے جیون ساتھی کا فیصلہ اماں جی اور میاں جی کریں گے۔ اگر وہ راضی ہیں، تو میری مرضی بھی وہی ہوگی۔ آپ اپنے والدین سے کہیں کہ وہ ان سے بات کریں۔"

نتاشا کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ پھیل گئی۔ مانی نے گاڑی دوبارہ اسٹارٹ کی اور نتاشا کو اس کے گھر ڈراپ کیا۔ جاتے ہوئے مانی نے نتاشا کو مڑ کر دیکھا، اور پہلی بار اس کے چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ تھی جو بتا رہی تھی کہ اس کے دل کا ویران آنگن بھی اب آباد ہونے والا ہے۔

(جاری ہے...)


Copyrights & Disclaimer

All Rights Reserved: اس ناول "میرا ماہی" کے تمام جملہ حقوق بحقِ مصنفہ عشرت زاہد (عشرت خانم) محفوظ ہیں۔ اس تحریر کا کوئی بھی حصہ مصنفہ کی اجازت کے بغیر کسی بھی پلیٹ فارم پر شیئر کرنا قانونی جرم ہے۔

Disclaimer: 

یہ ایک افسانوی تحریر ہے جس کا مقصد صرف تفریح ہے۔ تمام کردار اور واقعات فرضی ہیں۔



Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22