ناول: بہار کے سنگ قسط نمبر:05

 

ناول

: بہار کے سنگ

قسط نمبر: (5) 

تحریر: عشرت زاہد

آسیہ بیگم کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں، مگر ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ انہوں نے کانپتے ہاتھوں سے المیر کا ہاتھ تھاما اور دبی آواز میں بولیں، "المیر! میرے لاکر سے وہ امانت ابھی نکال لاؤ۔ اگر وہ جہانگیر کے ہاتھ لگ گئی تو میں کبھی خود کو معاف نہیں کر سکوں گی۔ وہ ابھی سنگاپور میں ہے، یہی وقت ہے۔ میری الماری میں سب سے نیچے ایک چھوٹا باکس ہے، اس میں لاکر کی چابیاں ہیں۔ جاؤ المیر! سب کچھ نکال کر کہیں چھپا دو۔"

ماں کے لہجے میں موجود خوف نے المیر کو دہلا دیا۔ اس نے نرس کو مطلع کیا اور باہر آکر تانیہ اور شہاب صاحب سے مخاطب ہوا، "انکل! مجھے ایک بہت ضروری کام سے گھر جانا ہے، پلیز مما کا خیال رکھیے گا۔" تانیہ نے اثبات میں سر ہلایا اور المیر تیزی سے ہسپتال کی راہداریوں کو عبور کرتا باہر نکل گیا۔

گھر پہنچ کر المیر نے مرکزی دروازے کے بجائے پچھلے راستے  کا انتخاب کیا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس وقت کوئی بھی ملازم اسے گھر میں داخل ہوتے یا کچھ لے جاتے ہوئے دیکھے۔ اس کا دل کسی چور کی طرح دھڑک رہا تھا۔ وہ دبے قدموں اپنی ماں کے کمرے میں داخل ہوا۔ الماری کھول کر بتائی ہوئی جگہ سے چابیوں کا باکس نکالا اور پھر لرزتے ہاتھوں سے لاکر کھولا۔ اندر ایک پرانا جیولری باکس، ایک موٹا لفافہ اور کچھ فائلیں موجود تھیں۔ المیر نے وہ سب سامان ایک بیگ میں ڈالا، لاکر دوبارہ بند کیا اور چابیاں واپس اسی جگہ رکھ کر پچھلے ہی راستے سے باہر نکل آیا۔

واپسی کے راستے میں المیر کا ذہن سوالوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ "یہ سامان کس کے پاس رکھواؤں؟" اچانک اس کے ذہن میں تانیہ کا خیال آیا۔ "کیا میں تانیہ پر بھروسہ کروں؟ میں تو اسے ٹھیک سے جانتا بھی نہیں۔" ابھی وہ اسی کشمکش میں تھا کہ تانیہ کی کال آ گئی۔ "سر! آپ کب تک آئیں گے؟ انٹی آپ کا پوچھ رہی ہیں۔ بابا ان کے پاس ہی ہیں۔" تانیہ کی آواز میں موجود اپنائیت نے المیر کا بوجھ ہلکا کر دیا۔ "میں پہنچ رہا ہوں تانیہ، مما ٹھیک ہیں نا؟" "جی سر! وہ بالکل ٹھیک ہیں۔"

ہسپتال پہنچ کر المیر سیدھا اپنی ماں کے پاس آیا۔ بیگ سے فائل اور باکس نکال کر ان کے سامنے رکھ دیے۔ "میں لے آیا ہوں مما! میں پچھلے راستے سے گیا تھا، کسی نے نہیں دیکھا۔" آسیہ بیگم نے سکون کا سانس لیا۔ المیر بولا، "مما! میرا خیال ہے یہ امانت میں تانیہ کے بابا کے پاس رکھوا دوں؟" آسیہ بیگم نے اسے غور سے دیکھا، "تم بہتر جانتے ہو بیٹا! اگر تمہیں لگتا ہے کہ وہ قابلِ بھروسہ ہیں تو رکھوا دو۔ بس اب صوفیہ کو ڈھونڈ لو۔"

"صوفیہ؟" دروازے پر کھڑی تانیہ کے کان کھڑے ہو گئے۔ وہ ابھی ابھی اندر آئی تھی۔ المیر نے تانیہ کا تعارف اپنی ماں سے کروایا۔ تانیہ نے مسکرا کر کہا، "سر کے جانے کے بعد میں آپ کے پاس ہی تھی انٹی، آپ سو رہی تھیں۔" پھر اس نے تجسس سے پوچھا، "سر! یہ صوفیہ کون ہیں؟" المیر نے آہ بھر کر کہا، "میری پھپھو ہیں تانیہ! برسوں سے بچھڑی ہوئی ہیں۔" تانیہ کے چہرے پر حیرت پھیل گئی، "کتنا عجیب اتفاق ہے سر! میری مما کا نام بھی صوفیہ تھا۔" کمرے میں ایک لمحے کے لیے گہری خاموشی چھا گئی۔

المیر نے بتایا کہ شہاب صاحب مسجد گئے ہیں۔ تانیہ کے فون کی گھنٹی بجی تو وہ کمرے سے باہر چلی گئی۔ اس کے جاتے ہی المیر ماں کی طرف مڑا، "ماما! کیا پاپا کو واقعی اس امانت کا نہیں پتہ؟" آسیہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ "المیر! یہ سب ہماری پرانی کام والی دے کر گئی تھی۔ اس نے برسوں ان چیزوں کی حفاظت کی، اب وہ مرنے والی تھی تو اس نے مجھے بلا کر یہ سب میرے حوالے کیا اور کہا کہ جہانگیر کو پتہ نہ چلے۔ میں جہانگیر کی محبت میں اندھی ہو گئی تھی۔ جب تمہارے دادا دادی صوفیہ پر بہتان لگا رہے تھے، تب تمہارے بابا نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا میری بہن بدکردار ہے؟ میں نے سچ جانتے ہوئے بھی وہی کہہ دیا جو سب سننا چاہتے تھے۔ حالانکہ وہ پاک دامن تھی۔ المیر! مجھے معافی چاہیے، صوفیہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی اور میرا اللہ بھی مجھ سے ناراض ہوگا۔ میں ایسے نہیں مرنا چاہتی!"

آسیہ بیگم کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ المیر نے نرس کو بلا کر انہیں سکون کا انجکشن لگوایا۔ جب وہ باہر آیا تو شہاب صاحب چائے اور سینڈوچز لیے کھڑے تھے۔ المیر نے جذباتی ہو کر کہا، "انکل! ایک اور مہربانی کر دیں۔ یہ ایک چھوٹا سا پیکٹ ہے، میری پھپھو کی امانت ہے۔ گھر میں یہ محفوظ نہیں، میں چاہتا ہوں آپ اسے سنبھال لیں۔" شہاب صاحب نے سنجیدگی سے پیکٹ لیا، "میں اسے سنبھال لوں گا بیٹا! بس تمہارے والد کو پتہ نہ چلے۔" چائے پینے کے بعد شہاب صاحب نے تانیہ سے چلنے کا پوچھا، مگر تانیہ نے وہیں رکنے کا فیصلہ کیا، "بابا! آپ جا کر آرام کریں، میں سر المیر کے ساتھ ہوں۔" المیر نے مشکور نظروں سے تانیہ کو دیکھا۔ اسے احساس ہوا کہ کبھی کبھی غیر، اپنوں سے زیادہ ہمدرد ہوتے ہیں۔

کچھ دیر بعد نرس نے دونوں کو اندر بلایا۔ آسیہ بیگم اب پرسکون تھیں۔ انہوں نے تانیہ کو اپنے پاس بٹھایا، "تم بالکل میری بیٹی جیسی ہو۔ تمہاری امی کیا کرتی ہیں؟" المیر نے بتایا، "مما! ان کی امی کی وفات ہو چکی ہے۔" آسیہ بیگم کی آنکھوں میں ہمدردی آ گئی، "بیٹا! تم گھر جا کر آرام کیوں نہیں کر لیتی؟" تانیہ نے محبت سے جواب دیا، "انٹی! آپ بھی میری ماں جیسی ہیں۔ جب مما کا علاج چل رہا تھا، ہم بھی ایسے ہی ہسپتال میں رہتے تھے۔ سر المیر کو آرام کی زیادہ ضرورت ہے۔"

باتوں باتوں میں آسیہ بیگم نے پوچھا، "تانیہ بیٹا! تمہارا کہیں رشتہ ہوا؟" تانیہ نے مسکرا کر نفی میں سر ہلا دیا، "نہیں انٹی! بابا اکیلے رہ جائیں گے، میرا ابھی ایسا کوئی ارادہ نہیں۔" آسیہ بیگم بولیں، "بیٹیاں اپنے گھر کی اچھی لگتی ہیں۔ مجھے تو فکر اس المیر کی ہے، کسی لڑکی کی طرف دیکھتا تک نہیں۔ جب یہ مال سے شاپنگ کر کے آیا تو میں نے سوچا کہ اس لڑکی سے ضرور ملوں گی جس نے میرے بیٹے کو شاپنگ سکھائی۔ میرا بیٹا بالکل اپنی پھپھو جیسا ہے، وہ بھی ایسی ہی تھی۔" تانیہ نے پوچھا، "وہ کہاں گئیں؟" آسیہ بیگم کی آواز بھر آئی، "قسمت نے جدا کر دیا، اب میں مرنے سے پہلے ان سے ملنا چاہتی ہوں۔ کاش ان کی کوئی بیٹی ہوتی، میں المیر کی شادی اس سے کرتی۔" المیر نے ماں کا ہاتھ تھاما، "مما! پہلے پھپھو کو ڈھونڈنا ہے، آپ ابھی ٹھیک ہونے پر توجہ دیں۔"

اسی وقت ڈاکٹر اندر داخل ہوئے اور رپورٹس دیکھتے ہوئے المیر سے مخاطب ہوئے، "خوش قسمتی سے یہ بچ گئی ہیں اور ان کے بولنے کی صلاحیت متاثر نہیں ہوئی۔ لیکن ان کا دایاں ہاتھ اور بائیں ٹانگ متاثر ہوئی ہے، جس کے لیے فزیوتھراپی ضروری ہے۔ اگر ان کا بی پی نارمل رہا تو آپ انہیں کل صبح گھر لے جا سکتے ہیں، لیکن یاد رکھیے گا، اب اگر دوبارہ اسٹروک ہوا تو یہ کوما میں جا سکتی ہیں۔ انہیں کسی قسم کا ذہنی دباؤ نہیں ملنا چاہیے۔"

المیر نے ڈاکٹر کی بات سر جھکا کر سنی، جبکہ تانیہ خاموشی سے المیر کے چہرے پر لکھے دکھ کو پڑھ رہی تھی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ جس پھپھو کی تلاش کا عہد المیر کر رہا ہے، اس کا سرا خود تانیہ کے اپنے گھر تک جاتا ہے۔

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں: اس ناول "بہار کے سنگ" کے تمام جملہ حقوق اور اس کی ملکیت قانونی طور پر مصنفہ عشرت زاہد کے نام محفوظ ہے۔

مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر، کہانی، یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں (بشمول فوٹو کاپی، ریکارڈنگ، اسکرین شاٹ، سوشل میڈیا گروپس میں شیئرنگ، پی ڈی ایف فائل بنانا، یا کسی بھی دوسرے الیکٹرانک یا میکینیکل طریقے سے) دوبارہ شائع، تقسیم یا منتقل کرنا سخت ممنوع ہے۔

اس مواد کو چوری کرنے، اپنے نام سے منسوب کرنے یا کسی بھی ویب سائٹ/ایپ پر بغیر اجازت اپ لوڈ کرنے کی صورت میں ذمہ دار فرد یا پلیٹ فارم کے خلاف کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

وضاحت / ڈسکلیمر 

یہ ایک افسانوی تحریر ہے جس کا مقصد محض تفریح ہے۔ اس میں شامل تمام کردار، نام، مقامات، کاروبار اور واقعات مصنفہ کے تخیل کی پیداوار ہیں۔ کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا مردہ) یا حقیقی زندگی کے واقعات سے کسی بھی قسم کی مماثلت محض ایک اتفاقیہ عمل ہو گا، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کہانی میں موجود خیالات کرداروں کے ہیں، جو مصنفہ کی ذاتی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔


Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22