بہار کے سنگ قسط نمبر: 6
بہار کے سنگ
قسط نمبر: 6
تحریر: عشرت زاہد
فجر کی نماز کے بعد المیر ڈاکٹرز سے اپنی ماں کی رپورٹس ڈسکس کر رہا تھا جب شہاب صاحب نے تانیہ کو فون کیا جو کہ المیر کی والدہ کے پاس ہی تھی۔ شہاب صاحب نے خیریت دریافت کی اور بتایا کہ وہ ناشتہ کر کے ہسپتال کی طرف نکل رہے ہیں۔ انہوں نے تانیہ کے لیے بھی ناشتہ لانے کی پیشکش کی، مگر تانیہ نے منع کر دیا: "بابا! آپ پریشان نہ ہوں، المیر سر نے مجھے کینٹین سے چائے اور سینڈوچ منگوا دیے تھے اور ویسے بھی دو گھنٹے تک انٹی ڈسچارج ہو جائیں گی۔" شہاب صاحب نے فون رکھ دیا۔
کچھ دیر بعد المیر رپورٹس اور نئی ادویات کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔ سامان پیک کرتے ہوئے اسے تانیہ کا خیال آیا۔ "مس تانیہ! میں آپ کا اور آپ کے والد کا بے حد مشکور ہوں جس طرح آپ لوگوں نے میرا ساتھ دیا۔ اب آپ کو گھر جا کر آرام کرنا چاہیے، اور ہاں! اگر آپ چاہیں تو کل کی بھی چھٹی کر سکتی ہیں، آپ کو آرام کی ضرورت ہے۔"
آسیہ بیگم نے تانیہ کو اپنے پاس بلایا اور اس کا ہاتھ تھام کر شفقت سے کہا، "تم گھر ضرور آؤ گی ناں؟ تم مجھے بہت اچھی لگی ہو۔ تمہاری بہت اچھی تربیت ہوئی ہے۔" آسیہ بیگم کی نظروں میں تانیہ کے لیے ایک خاص چمک تھی، وہ اس میں اپنی ہونے والی بہو دیکھ رہی تھیں۔ المیر نے مسکراتے ہوئے مداخلت کی، "مما! اب تانیہ کا ہاتھ چھوڑ دیں، انہیں گھر جانا ہے۔" المیر نے وہیل چیئر منگوائی اور نرس کی مدد سے انہیں گاڑی تک لائے۔ المیر نے تانیہ سے بھی گاڑی میں بیٹھنے کو کہا۔ تانیہ نے جھجکتے ہوئے کہا کہ وہ کیب منگوا لے گی، مگر آسیہ بیگم نے پیار سے ڈانٹا، "بیٹا بیٹھ جاؤ، المیر نے بتایا ہے کہ تم بھی وائی بلاک میں رہتی ہو، تمہیں اکیلے بھیجنا مناسب نہیں۔"
تانیہ ان کے کہنے پر پیچھے بیٹھ گئی۔ المیر کے چہرے پر پہلی بار ایک واضح مسکراہٹ تھی جسے تانیہ نے محسوس کیا۔ گاڑی ریورس کرتے ہوئے المیر بیک مرر سے مسلسل تانیہ کو دیکھ رہا تھا۔ تانیہ نے جب یہ نوٹس کیا تو شرما کر کھڑکی کے شیشے سے باہر دیکھنے لگی۔ تانیہ کے گھر پہنچ کر شہاب صاحب باہر ہی انتظار کر رہے تھے۔ المیر نے ایک نظر تانیہ پر ڈالی اور اپنی ماں کو لے کر گھر روانہ ہو گیا۔
گھر پہنچ کر المیر نے دیکھا کہ آسیہ بیگم کی آواز میں اب بھی تھوڑی لکنت تھی، جس پر ڈاکٹر نے اسٹروک کا اثر بتایا تھا۔ المیر نے خالدہ باجی کو بلایا اور تفصیلی ہدایات دینی شروع کیں: "خالدہ باجی! مما کو کسی قسم کا ذہنی دباؤ نہیں ملنا چاہیے۔ ڈاکٹر کے مطابق انہیں فل ٹائم اٹینڈنٹ کی ضرورت ہے، اس لیے میں نے ہسپتال سے ایک نرس کا انتظام کر دیا ہے۔ جب تک مما صحیح نہیں ہو جاتیں، نرس یہیں رہیں گی۔ اگر وہ کہیں جاتی ہیں تو خالدہ باجی یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ مما کے پاس کوئی نہ کوئی ہو۔ میں سارا دن گھر نہیں ہوتا، شام کو وقت دوں گا۔ آپ نے نرس پر بھی نظر رکھنی ہے۔ ابھی میں فریش ہونے جا رہا ہوں، آپ مما کے لیے سوپ بنوا دیں اور یاد رہے، سوپ میں نمک بالکل نہیں ڈالنا۔ ساتھ میرا ناشتہ بھی لگوا دیں اور گاڑی بھی صاف کروا دیں۔ ادویات میں کوئی لاپرواہی نہیں ہونی چاہیے۔"
کچھ دیر بعد گیٹ کیپر نے بتایا کہ نرس 'فاخرہ' آ گئی ہیں۔ المیر فریش ہو کر ماں کے کمرے میں آیا اور نرس کو کام شروع کرتے دیکھ کر اطمینان کا سانس لیا۔ ابھی اس نے ناشتہ شروع ہی کیا تھا کہ اس کی نظر اخبار پر پڑی۔ فرنٹ پیج پر اس کے والد جہانگیر صاحب کی تصویر ایک اداکارہ کے ساتھ سنگاپور میں لگی تھی۔ المیر نے غصے سے اخبار کے ٹکڑے کر دیے۔ اسے اپنے باپ سے ایسی امید نہ تھی۔ اس نے خالدہ کو سختی سے ہدایت کی، "اگر بابا آجائیں تو وہ ہرگز مما کے کمرے میں نہیں جائیں گے۔"
المیر نے گاڑی میں بیٹھتے ہی سن گلاسز لگائے اور مینیجر کو کال ملا کر اپنا شیڈول پوچھا اور سختی سے ہدایت کی کہ جتنی بھی پینڈنگ میٹنگز ہیں انہیں آج ہی ارینج کیا جائے۔ جب وہ آفس پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ شیئر ہولڈرز اس سے ملنا چاہ رہے ہیں۔ المیر نے وقت ضائع کیے بغیر بورڈ روم میں میٹنگ رکھ لی اور تمام شیئر ہولڈرز کو بریفنگ دی۔ میٹنگ ختم ہونے کے بعد جب سب جانے لگے تو ادارے کے پرانے اور وفادار ملازم خاور صاحب نے ہمت کر کے المیر کو روکا اور کہا، "سر! آج اخبار میں جہانگیر صاحب کی جو تصویر اداکارہ کے ساتھ آئی ہے، اسے لے کر ہر جگہ باتیں ہو رہی ہیں۔ اس سے بزنس کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ ایک اور بات، لیگل ایڈوائزر ایک فائل لائے تھے جس پر جہانگیر صاحب، صوفیہ میڈم کی پراپرٹی اپنے نام کروانا چاہتے ہیں۔ وہ کمپنی جو صوفیہ میڈم کے نام تھی، اب اس کے شیئرز کی ویلیو بہت تیزی سے اوپر جا رہی ہے اور کچھ بانڈز بھی میچورٹی کی طرف آ گئے ہیں جو ان کی اولاد کو ملنے ہیں۔"
یہ سن کر المیر نے فوراً لیگل ایڈوائزر کو اپنے کمرے میں طلب کیا اور فائل منگوا لی۔ اس نے ایڈوائزر کو سخت لہجے میں نئی ہدایات دیں: "آج سے وہ کمپنی جس کا چارج میرے پاس ہے، 'المیر' کے نام سے رجسٹرڈ ہوگی۔ ایک کمپنی صوفیہ میڈم کے نام ہی رہے گی اور تیسری بابا کے پاس۔ یہ سارا کام رازداری سے کرنا ہے اور بابا کو ابھی اس بارے میں کچھ نہیں بتانا۔ جب تک میں ان پیپرز پر سائن نہ کر دوں، آپ نے بابا سے کوئی رابطہ نہیں کرنا۔ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پاور آف اٹارنی میرے پاس ہے، لہذا بابا کے پاس صرف ان کا اپنا حصہ جائے گا۔" اس کے بعد المیر نے ایڈوائزر کو رخصت کیا اور گہرے سوچ میں ڈوب گیا کہ وہ کسی صورت اپنی پھپھو کا حق نہیں کھانے نہیں دوں گا۔
آفس پہنچ کر المیر اپنی سیٹ پر بیٹھا سوچ رہا تھا کہ تانیہ کو فون کرے یا نہیں۔ "آخر اس لڑکی میں ایسا کیا ہے؟ جتنا خود کو سمجھاتا ہوں، دل اس کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔ تانیہ کی معصومیت اچھی لگتی ہے۔" اسے اپنا وہ روکھا رویہ بھی یاد آیا جو اس نے پہلے دن تانیہ کے ساتھ رکھا تھا۔ اسی دوران گھر سے خالدہ کا فون آیا کہ جہانگیر صاحب واپس آ گئے ہیں اور خود کو اسٹڈی روم میں لاک کر لیا ہے۔
المیر کو خیال آیا کہ اس نے تانیہ کی سالگرہ پر اسے کوئی گفٹ بھی نہیں دیا تھا۔ وہ باہر آیا تو دیکھا کہ مس سارہ کام کر رہی تھیں۔ المیر نے ان کی ٹیبل پر جا کر پوچھا، "سارہ! جو کام تانیہ کو دیا تھا وہ مکمل ہو گیا؟" سارہ نے بتایا، "جی سر! مس تانیہ وہ کام مکمل کر چکی تھیں اور میں نے وہ سارا کام پی ڈی ایف فائل بنا کر آپ کو ای میل کر دیا ہے۔" المیر نے جواب دیا، "مجھے ٹائم نہیں ملا، میری والدہ بیمار ہو گئی تھیں۔" سارہ نے ہمدردی سے کہا، "جی سر پتا چلا تھا، اب وہ کیسی ہیں؟ ہم پورا اسٹاف دعا گو ہیں۔"
المیر وہاں سے نکلا، راستے میں ایک خوبصورت گلدستہ لیا اور کارڈ پر
'Thank You for everything - Almeer'
لکھ کر تانیہ کے گھر پہنچ گیا۔ وہاں نئے چوکیدار نے بتایا کہ تانیہ سو رہی ہے۔ المیر نے گلدستہ اسے دیا اور کہا، "جب وہ جاگیں تو انہیں دے دینا۔" تانیہ جب جاگی اور اسے گلدستہ ملا تو وہ حیران رہ گئی۔ کارڈ کے نیچے المیر کا نمبر تھا۔ اس نے فوراً نمبر سیو کیا اور میسج بھیجا
'My Pleasure - Tania Shahab'
۔ میسج دیکھ کر المیر کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ اس کی ماں نے جب یہ چمک دیکھی تو کہا، "المیر! تم تانیہ سے شادی کر لو، وہ تمہیں سنبھال لے گی۔" المیر نے جواب دیا، "اس پر سوچا جا سکتا ہے، لیکن ابھی بابا سے بات نہیں کرنی۔"
اسی دوران باہر شور سنائی دیا۔ جہانگیر صاحب خالدہ پر برس رہے تھے کہ ان کی اسٹڈی سے ایک اہم فائل غائب ہے۔ المیر نے جب ان سے اخبار والی تصویر اور سنگاپور کی ڈیل کا ذکر کیا تو وہ بولے، "میری مرضی، میری کمپنی! جس نے رہنا ہے رہے، جس نے جانا ہے جائے۔"
المیر اپنی ماں کے پاس بیٹھا گہری سوچ میں تھا، پھر اس نے دبی آواز میں پوچھا، "مما! صوفیہ پھپھو والی فائل آخر آپ کے پاس کیسے آئی؟"
آسیہ بیگم نے ایک گہری سانس لی اور بتانے لگیں، "المیر! میں نے تمہارے بابا کو لیگل ایڈوائزر سے بات کرتے سنا تھا کہ وہ کمپنی اور ساری پراپرٹی جو صوفیہ کے نام ہے، وہ دھوکے سے اپنے نام کروانا چاہتے ہیں۔ میں یہ ناانصافی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ اسی لیے میں نے وہ فائل چپکے سے جہانگیر کی اسٹڈی سے نکالی اور اپنے لاکر میں شفٹ کر دی، اور اب وہ تانیہ کے والد کے پاس محفوظ ہے۔ جہانگیر وہاں تک پہنچنا تو دور، سوچ بھی نہیں سکتا۔ المیر! اب تم اپنی پھپھو کو ڈھونڈو اور یہ امانت ان تک پہنچاؤ تاکہ میں سکون سے مر سکوں۔"
المیر یہ سن کر گہری سوچ میں پڑ گیا، لیکن اسی لمحے اچانک کمرے کا دروازہ زور سے کھلا۔ جہانگیر صاحب اندر داخل ہوئے، مگر ان کے چہرے پر اپنی بیمار بیوی کی طبیعت پوچھنے کے بجائے غصہ اور نفرت تھی۔ وہ آتے ہی آسیہ بیگم پر برسنے لگے، "آسیہ! سچ بتاؤ وہ صوفیہ والی فائل کہاں چھپائی ہے؟ اگر وہ فائل مجھے نہ ملی تو تم دیکھنا میں کیا کرتا ہوں۔ یاد رکھنا! پھر تمہاری میرے اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔"
"اگلی قسط میں دیکھیے"
"اب جہانگیر اس فائل کو حاصل کرنے کے لیے کون سا نیا حربہ اپنائے گا؟ کیا وہ فائل اپنے اصل حقدار تک پہنچ پائے گی یا جہانگیر کی ہوس اسے ہمیشہ کے لیے مٹا دے گی؟ کیا المیر کبھی یہ جان پائے گا کہ تانیہ کی طرف کھچاؤ محض اتفاق نہیں بلکہ خون کی پکار ہے؟ اور کیا کبھی المیر کی نظر شہاب صاحب کے کمرے میں لگے اس فریم پر پڑے گی جو اس کی گمشدہ پھپھو کی تصویر ہے؟"
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں
اس ناول "بہار کے سنگ" کے تمام جملہ حقوق اور اس کی ملکیت قانونی طور پر مصنفہ عشرت زاہد کے نام محفوظ ہے۔
مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر، کہانی، یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں (بشمول فوٹو کاپی، ریکارڈنگ، اسکرین شاٹ، سوشل میڈیا گروپس میں شیئرنگ، پی ڈی ایف فائل بنانا، یا کسی بھی دوسرے الیکٹرانک یا میکینیکل طریقے سے) دوبارہ شائع، تقسیم یا منتقل کرنا سخت ممنوع ہے۔
اس مواد کو چوری کرنے، اپنے نام سے منسوب کرنے یا کسی بھی ویب سائٹ/ایپ پر بغیر اجازت اپ لوڈ کرنے کی صورت میں ذمہ دار فرد یا پلیٹ فارم کے خلاف کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
وضاحت / ڈسکلیمر
یہ ایک افسانوی تحریر ہے جس کا مقصد محض تفریح ہے۔ اس میں شامل تمام کردار، نام، مقامات، کاروبار اور واقعات مصنفہ کے تخیل کی پیداوار ہیں۔ کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا مردہ) یا حقیقی زندگی کے واقعات سے کسی بھی قسم کی مماثلت محض ایک اتفاقیہ عمل ہو گا، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کہانی میں موجود خیالات کرداروں کے ہیں، جو مصنفہ کی ذاتی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

Comments
Post a Comment