میرا ماہی - آخری قسط
میرا ماہی
آخری قسط
حویلی کی طرف جاتے ہوئے رحمان صاحب کے ذہن میں خیالات کا ایک طوفان برپا تھا۔ گاڑی کی کھڑکی سے باہر تیزی سے گزرتے درختوں کو دیکھتے ہوئے وہ سوچ رہے تھے کہ انسان کتنا نادان ہے کہ چمکتے ہوئے پتھروں کو ہیرا سمجھ بیٹھتا ہے اور پاس پڑے اصلی ہیرے کی قدر نہیں کرتا۔ مانی... جسے وہ ہمیشہ ایک معمولی "لے پالک" سمجھتے تھے، آج وہی ان کی ڈوبتی ہوئی ساکھ کا سہارا بنا تھا۔ مانی نے رمشا اور اس کے باپ کی اصلیت بے نقاب کر کے ان کے خاندانی وقار اور بزنس کو تباہی سے بچا لیا تھا۔
میاں جی نے اپنے وکیل کو فون کیا کہ "آپ سے جو وصیت بنوانے کو کہا تھا وہ لے کر آئیں" اور ساتھ ہی میاں جی نے سراج اور رحمان کو بھی فون کر دیا کہ "آپ سب اپنی فیملی کے ساتھ میاں ہاؤس تشریف لائیں تاکہ وصیت سن سکیں"۔ رحمان صاحب اور سراج میں پہلے سے بدلاؤ آ گیا تھا، یہ بات سب نوٹ کر رہے تھے۔ میاں ہاؤس میں ایک دوسرے کو دیکھ کر وہ بھڑکے نہیں بلکہ عزت سے ایک دوسرے سے ملے اور ہاتھ ملایا۔ یہ بات میاں جی اور اماں جی کے ساتھ باقی سب کے لیے اطمینان بخش تھی۔
سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے وکیل کے منتظر تھے کہ آخر ایسی کیا بات ہے وصیت میں جس کے لیے میاں جی نے سب کو جمع کیا ہے؟ میاں جی نے خانساماں کو بھی آج بہترین کھانا اور چائے کا کہا ہوا تھا۔ وکیل صاحب کے انتظار کے دوران ہی ملازم چائے لے آیا اور سب کو چائے پیش کی، اور سنیکس کے اچھے انتظامات پر سب ان سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ اتنے میں مانی اندر آیا اور کہا، "میاں جی! وکیل صاحب اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں"۔ تب میاں جی نے کہا، "بُلاؤ! کب سے ان کا انتظار کر رہے ہیں"۔ تب مانی انہیں لے کر اندر آیا اور میاں جی کے برابر والی کرسی پر بیٹھ گیا۔
میاں جی سے ملنے کے بعد وکیل صاحب نے دیر سے آنے کی معذرت کی کہ "میری والدہ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی، انہیں لے کر جانا پڑا، اب وہ بہتر ہیں تو میں پہلی فرصت میں آپ سے ملاقات کرنے آیا ہوں"۔ تب میاں جی نے ان کی والدہ کے لیے دعا کی کہ اللہ انہیں صحتِ کاملہ عطا فرمائے اور پھر وصیت پڑھنے کو کہا۔ ایک دم خاموشی چھا گئی۔ تب وکیل صاحب کی آواز گونجی:
"میں، میاں قدوس صاحب نے اپنی ساری جائیداد اپنے بچوں میں برابر تقسیم کی ہے۔ تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ میاں جی کی گاؤں والی حویلی اور ایک فیکٹری زریف کے نام کی ہے۔ گاؤں والی زمینوں سے جو اناج آتا ہے، اس سے ملنے والی آمدنی دونوں بیٹیوں نسرین اور زرمین کے نام کی ہے۔ میاں جی کا جو نیا ویلا ہے وہ ریجا اور انیل کے نام کیا گیا ہے۔ اور میاں جی نے مانی کو اپنا قانونی وارث تسلیم کرتے ہوئے اسے بھی وراثت میں شامل قرار دیا ہے۔ وصیت کے مطابق، یہ گھر جس میں میاں جی رہتے ہیں، مانی کو دیا گیا ہے، ساتھ ہی مانی کو نئی فیکٹری کا بھی وارث بنایا گیا ہے جو کہ میاں جی کے ذاتی استعمال میں ہے"۔
وصیت سننے کے بعد وکیل نے کاغذات میاں جی کی طرف بڑھائے اور انہوں نے سائن کیے۔ وکیل صاحب کے جانے کے بعد میاں جی نے مانی کو بلایا اور اس سے کہا، "مانی! تم میرے قانونی بیٹے ہو، کوئی تمہیں اس پراپرٹی، اس گھر یا فیکٹری سے نہیں نکال سکتا۔ اگر کسی کو اعتراض ہے تو مجھ سے کہے، میرے بعد مانی سے کوئی نہیں لڑے گا۔ جس نے مانی کو تکلیف پہنچائی، سب سن لیں، اس نے مجھے تکلیف پہنچائی"۔
میاں جی نے زریف سے پوچھا، "زریف! تمہیں کوئی اعتراض ہے تو ابھی کہہ دو، میں نہیں چاہتا کہ بعد میں دل میں کوئی بات آئے"۔ تب زریف نے اٹھ کر مانی کو گلے لگایا اور کہا، "میاں جی! میں ایک عرصہ باہر رہا ہوں، یہاں جو کچھ سنبھالا وہ مانی نے کیا ہے، اس کا پورا حق بنتا ہے، مجھے کوئی اعتراض نہیں"۔ میاں جی نے نسرین اور زرمین سے پوچھا کہ "آپ دونوں کو آپ کے حصے بھی دے دیے گئے ہیں اور ریجا اور انیل کو الگ نیا ویلا بھی دیا گیا ہے، یہ ان بچوں کے لیے میاں جی کی محبت کا ایک تحفہ ہے"۔
میاں جی نے کہا، "مانی اب اس گھر کا فرد ہے۔ میں کل مانی کے لیے کچھ لوگوں کو گھر پہ انوائٹ کر رہا ہوں۔ آنے والے جمعے کو میں مانی کا رشتہ بھی پکا کرنے جا رہا ہوں۔ جس طرح آج سب آپ لوگ میرے کہنے پہ آئے، اس دن بھی آئیے گا اور اسی طرح مل بیٹھ کر اس خوشی میں شریک ہوئیے گا"۔
میاں جی نے مزید کہا، "اب میرا اگلا فیصلہ ہے کہ میں میاں قدوس، انیل کے لیے ریجا کا ہاتھ مانگ رہا ہوں تم دونوں سے"۔ رحمان صاحب اور سراج میاں جی کی طرف متوجہ ہوئے، میاں جی نے کہا، "ماضی کی تلخیاں بھلا کر ایک فیملی کی طرح آگے بڑھ جانا ہی تم سب کی بقا ہے۔ میرے بعد تم لوگوں نے رشتوں کو آگے لے کر چلنا ہے۔ میں دونوں بیٹیوں کو ایک فیملی کی طرح دیکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے امید ہے تم سب میرے اس فیصلے کا احترام کرو گے"۔
تب رحمان صاحب نے کہا، "میاں جی! میں پہلے غلطی پر تھا، میں نے اپنے بیٹے کی چاہت اور خوشی پر اپنی ضد اور انا کو ترجیح دی۔ مجھے انیل کے لیے ریجا کا رشتہ منظور ہے، آپ سراج سے پوچھ لیں کیا وہ اپنی بیٹی میرے بیٹے کو دینا چاہے گا؟" تب میاں جی نے سراج کو مخاطب کیا، "بولو سراج! کیا کہتے ہو؟" سراج نے کہا، "میاں جی! میں اپنی بیٹی کی خوشی چاہتا ہوں۔ میں نے نسرین کے ساتھ بہت زیادتی کی، میں نے اسے اپنی بہن سے ملنے سے دور رکھا، یہاں بھی کام آڑے آتا تھا جس کی میں نسرین سے معافی مانگتا ہوں اور اپنی بیٹی کی خوشیوں کے لیے میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔ اگر ریجا انیل سے شادی کے لیے راضی ہے تو میں بھی تیار ہوں، مجھے کوئی مسئلہ نہیں"۔
میاں جی نے ملازم کو بلوایا کہ "مٹھائی لاؤ، سب کا منہ میٹھا کرواؤ"۔ میاں جی نے تھوڑا دور بیٹھے مانی کو دیکھا تو اسے پاس بلایا، "مانی بیٹا! اداس مت ہو، تمہاری اکیلے پن کا بھی میں نے حل ڈھونڈ لیا ہے۔ کل لڑکی والے آئیں گے تم سے ملنے۔ اب تم لے پالک نہیں ہو، میاں جی کے بیٹے کی حیثیت رکھتے ہو اور فیکٹری کے مالک ہو، کوئی کیوں تمہیں اپنی بیٹی نہیں دے گا؟ تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا تھا کہ میاں جی کو تمہاری فکر نہیں؟ سارے جہاں کے مسئلے اپنے سر پہ لے کر تم پھرتے ہو، کیا میاں جی کو تمہاری خبر نہیں؟ مجھے آئی جی صاحب کا فون آیا تھا، جس طرح تم نے ہاشم، رمشا اور اس کے باپ کو پکڑوایا وہ قابلِ تحسین ہے، وہ بہت تعریف کر رہے تھے۔ بیٹا! آج تم نے ثابت کر دیا کہ میں نے جو تمہیں سکھانا چاہا تم نے اس کا مان رکھا اور پرورش جیت گئی۔ تم بھلے میرا خون نہیں لیکن تمہارے ہر انداز میں میری اور تمہاری اماں جی کی تربیت بولتی ہے۔ اب کبھی خود کو لاوارث نہیں سمجھنا، میں ہوں تمہارا گارڈین! جو بھی لڑکی پسند ہے بتاؤ، میں خود رشتہ لے کر جاؤں گا"۔
مانی نے آنکھیں صاف کرتے ہوئے میاں جی کو گلے لگایا اور میاں جی نے اسے پیار کیا، "میں تمہارا مشکور ہوں۔ جب زریف مجھے چھوڑ کر گیا تھا تب تم چھوٹے سے تھے، تمہیں تھامے میں اس حویلی میں داخل ہوا تھا۔ تمہاری معصومیت سے یہ سونا آنگن پھر سے جگمگا اٹھا تھا۔ تم نے مجھے سنبھالا تھا، میری جینے کی وجہ بنے تھے۔ میں اس وقت ٹوٹنے کے قریب تھا جب تم نے اپنی محبت سے مجھے پھر سے توانا اور تروتازہ کیا تھا"۔
مانی اور میاں جی کی اس جذباتی گفتگو کے بیچ انیل نے کہا، "میاں جی! تھوڑی محبت میرے لیے بچا لیں، ساری مانی بھائی پہ ہی ختم کر دیں گے؟" اور ساتھ ہی زریف کے بچے بھی اندر آ گئے، "دادا جان! ہم بھی آپ سے بہت محبت کرتے ہیں اور ہم نے بابا کو کہہ دیا ہے کہ ہم واپس نہیں جا رہے، ہمارا ایڈمیشن یہیں کروا دیں کیونکہ ہم مانی چاچو کے پاس رہنا چاہتے ہیں"۔ تب
میاں جی کی خوشی دوبالا ہو گئی کہ اب ان کی فیملی ایک بن گئی ہے جس کا وہ خواب دیکھا کرتے تھے۔
میاں جی کے گھر نتاشا کے والدین کی آمد ہوئی اور میاں جی سے ان کی ملاقات ہوئی۔ مانی قصداً ان مہمانوں سے مل کر باہر نکل گیا اور کام کا بہانہ بنا کر مصروف رہا۔ فضا مامی کے بار بار کہنے پر کہ "لڑکی کی تصویر تو دیکھ لو"، مانی نے بس یہی کہا کہ "میاں جی نے پسند کر لی ہے تو وہی کروں گا جو میاں جی کہیں گے"۔ میاں جی نے نتاشا کے والدین کو مانی کی طرف سے اطمینان دلایا اور انہیں یہ بھی بتایا کہ مانی ان کا قانونی وارث ہے اور اس کی اپنی مالی حیثیت ہے۔ اس پر تسلی ہونے پر وہ نکاح کی تاریخ فکس کر کے چلے گئے۔ یہ سب مانی کو بتانا چاہتے تھے مگر مانی کسی کے ہاتھ نہیں لگ رہا تھا۔ نیو فیکٹری کے اونر کی حیثیت سے مانی کی مصروفیات بڑھ گئی تھیں، وہ خود کو اس ذمہ داری کے اہل بنا رہا تھا۔ کل کے مانی اور آج کے مانی میں بہت فرق تھا، اب اسے سب "سر" یا "مانی صاحب" کہہ کر بلاتے تھے جس سے اس کے اندر ایک سکون اور اعتماد بھر گیا تھا۔ وہ بزنس ایڈمنسٹریشن کی ایوننگ کلاسز بھی لے رہا تھا اور پریکٹیکلی بزنس کو بھی دیکھ رہا تھا۔ یہ نیا مانی اب گھر کم ہی دکھائی دیتا تھا۔ فضا مامی اسے شاپنگ کے لیے ساتھ لے جانا چاہتی تھیں مگر اس نے منع کر دیا کہ "میرا کوئی تجربہ نہیں، آپ ریجا اور اماں جی کو ساتھ لے جائیں"۔ فضا مانی کی اس سعادت مندی پر حیران ہوتیں کہ اس صدی میں کون اتنا وفادار ہوتا ہے، یہ مانی میاں جی کی کسی نیکی کا پھل تھا۔
فضا کے فون پر کال آئی تو انہوں نے ریسیو کرنے کے بجائے کٹ کیا اور لسٹ لے کر اماں جی کے پاس چلی گئیں۔ اپنا فون وہ کمرے میں ہی چھوڑ گئی تھیں تب زریف کمرے میں آئے جہاں فضا کا فون بج رہا تھا۔ زریف نے اٹھایا تو دوسری طرف سے رحمان صاحب کی آواز آئی: "فضا! فون مت کٹ کرنا، میں تم سے شرمندہ ہوں۔ میں نے اپنی انا اور ضدی طبیعت کی وجہ سے تمہیں بہت تنگ کیا۔ میری محبت میں کوئی کھوٹ نہیں تھا بس تم میرے نصیب میں نہیں تھیں۔ تمہارا لندن اچانک چلے جانا مجھ سے برداشت نہیں ہوا تھا۔ مجھ سے زیادہ خوش قسمت زریف ہے جسے تمہاری چاہت اور ساتھ ملا۔ میری ہر غلطی کو معاف کر دینا، میں کوشش کروں گا کہ میرے کسی عمل سے تمہیں دوبارہ تکلیف نہ ملے۔" زریف کے لیے یہ سب اطمینان بخش تھا کہ فضا اس کی وفادار تھی اور رحمان بھائی اب اسے تنگ نہیں کریں گے اور اس کی بہن کا گھر بھی بسا رہے گا۔ زریف نے فون بیڈ پر رکھا اور واش روم میں گھس گیا۔ فضا، ریجا اور انیل کے ساتھ مال گئیں جہاں ان کی ملاقات نتاشا سے ہوئی جو ان کا انتظار کر رہی تھی۔ فضا نے ہی نتاشا کو بلوایا تھا تاکہ اس کی پسند کا جوڑا بنوایا جائے۔
نکاح کی صبح مانی فیکٹری جانے لگا تو فضا نے اسے روکا مگر مانی نے کہا کہ "ضروری میٹنگ ہے، دو گھنٹے میں آ جاؤں گا، نکاح تو شام کو ہے"۔ میاں جی نے ہنستے ہوئے اسے اجازت دے دی۔ حویلی کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا، مین لان میں سٹیج اور سیٹنگ کی گئی تھی اور انٹریس بھی خوبصورت پھولوں سے سجائی گئی تھی۔ مہمان آنا شروع ہوئے مگر مانی کا پتا نہیں تھا۔ جب مانی کی گاڑی آئی تو فضا کے ڈانٹنے پر اس نے دس منٹ میں تیار ہونے کا کہا۔ انیل اسے شیروانی میں دیکھ کر تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا اور اسے گلے لگا لیا۔ انیل اسے لان میں لے گیا جہاں سب منتظر تھے۔ میاں جی کے کہنے پر نکاح شروع ہوا۔ مانی نے جب نکاح خواں کے منہ سے نتاشا کا نام سنا تو پاس بیٹھی گھونگھٹ میں اسے نتاشا کی ہنسی سنائی دی۔ انیل نے کہا "یہ نتاشا ہی ہے، اب بول بھی دو، قبول ہے!" مانی نے کہا "قبول ہے" اور نکاح کی کارروائی مکمل ہوئی۔
دعا کے بعد رحمان صاحب نے کہا "مولوی صاحب ٹھہر جائیے، ساتھ ہی انیل اور ریجا کا نکاح بھی پڑھاتے جائیے"۔ میاں جی نے کہا "مولوی صاحب آپ جائیے، ان بچوں کا نکاح میں پہلے ہی کروا چکا ہوں اسی حویلی میں"۔ سراج اور رحمان بول اٹھے "یہ کب ہوا؟" میاں جی بولے "یہ تب ہوا جب آپ فارم ہاؤس میں خفیہ پلاننگ کر رہے تھے، تب میں نے ان بچوں کی خوشیوں کے لیے یہ فیصلہ کیا۔ آپ کی بیویاں اور باقی سب اس نکاح میں شریک تھے، کہو تو تصویریں دکھا دوں؟" جس پر رحمان اور سراج نے شرمندہ ہو کر منہ دوسری طرف کر لیا۔ پھر فیملی فوٹو بنی۔ مانی نے نتاشا سے پوچھنا چاہا کہ یہ سب کیسے ہوا تو انیل نے بتایا کہ میاں جی کے گھر جو انویٹیشن تھا وہ نتاشا کے ہی والدین تھے۔ فضا بول اٹھیں "میں نے کہا تھا تصویر دیکھ لو لیکن آپ کسی کی سنیں تو نا!" اس پر سب ہنس پڑے۔ نتاشا بولی "میرا ماہی! اب کہاں چلے؟ بیٹھیے، ایک اچھی فوٹو تو بنا لیں، انسٹاگرام پہ فالوورز کو بھی تو بتانا ہے میرا ماہی کتنا سوہنا ہے!" جس پر مانی کی ہنسی نکل گئی۔ ریجا بولی "میرا ماہی کیوں پیچھے ہے وہ بھی آگے آئے"۔ تب فضا بھی دیکھنے لگی کہ زریف کہاں ہیں، وہ زریف کو ڈھونڈنے نکلیں (اپنے ماہی کو لانے) جس پر انیل نے فوٹوگرافر سے کہا "وہ جب تک اپنے ماہی کو لاتی ہیں ہماری تصویر تو لیں!" وہ دونوں کپلز ایک ساتھ ان لمحات کو انجوائے کرنے لگے۔
کل کے دشمن آج کے سمدھی بن چکے تھے اور ایک ساتھ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ زرمین نے ریجا کی خاطر سراج کو معاف کر دیا تھا اور رحمان نے نسرین سے معافی مانگ لی تھی۔ اب دلوں میں محبت کی نئی امنگ جاگی تھی۔ میاں جی اپنے بچوں کو مسکراتا دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے۔
اختتامی نوٹ: میرا ماہی ناول کیسا لگا آپ کو؟ اپنی رائے کا کمنٹس میں ضرور اظہار کیجیے گا۔ میرا اگلا ناول کیسا چاہیں گے؟ ضرور بتائیے گا۔ آپ کا "ماہی" کیسا ہے یہ مجھے بتائیے گا۔ میرا ماہی کا سفر یہاں ختم ہوا، میں ملوں گی ایک نئے ناول کے ساتھ تب تک اپنا خیال رکھیے گا۔ میرے ساتھ جڑے رہنے کا شکریہ۔
کاپی رائٹ اور ڈس کلیمر (Copyrights & Disclaimer)
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں: اس ناول "میرا ماہی" کے تمام جملہ حقوق، بشمول کہانی، کردار، مکالمے اور مرکزی خیال، بحقِ مصنفہ عشرت زاہد (عشرت خانم) محفوظ ہیں۔ اس تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر کسی بھی پلیٹ فارم (فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب، ویب سائٹ یا کسی بھی ڈیجیٹل/پرنٹ میڈیا) پر کاپی کرنا، شیئر کرنا، آڈیو کی شکل میں بدلنا یا اپنے نام سے منسوب کرنا اخلاقی اور قانونی جرم ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھا جاتا ہے۔
ڈس کلیمر: یہ ایک افسانوی تحریر ہے جس کا مقصد صرف قارئین کی تفریح ہے۔ اس کہانی کے تمام کردار، مقامات اور واقعات فرضی ہیں جن کا مقصد کسی بھی فردِ واحد، خاندان، گروہ یا ادارے کی دل آزاری کرنا ہرگز نہیں ہے۔ کسی بھی زندہ یا مردہ شخص سے کوئی بھی مماثلت محض ایک اتفاق تصور کی جائے گی۔

Comments
Post a Comment