ناول "میرا ماہی" کا سفر: ایک احساس اور آپ سب کا شکریہ! ❤️ ا

ناول "میرا ماہی" کا سفر: 

ایک احساس اور آپ سب کا شکریہ! ❤️

اسلام و علیکم میری پیاری ریڈرز!

آج میرا دل ایک عجیب سی کیفیت میں ہے، خوشی بھی ہے اور تھوڑا سا دکھ بھی۔ وہ کہانی جس کے ساتھ میں پچھلے کئی ماہ سے جی رہی تھی، یعنی میرا ناول "میرا ماہی"، آج اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ جب میں نے اس کہانی کا پہلا لفظ لکھا تھا، تو میں نے نہیں سوچا تھا کہ انیل اور ریجا کی یہ داستان آپ سب کے دلوں کے اتنے قریب ہو جائے گی۔

"میرا ماہی" صرف ایک کہانی نہیں تھی... یہ ناول میرے لیے محض لفظوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا احساس تھا۔ انیل کا وہ کردار جس نے ریجا کی محبت میں ہر مشکل کا سامنا کیا، اور ریجا کی وہ ہمت جس نے کٹھن حالات میں بھی اپنے پیار پر یقین رکھا—یہ سب میرے خیالوں کا حصہ تھے، لیکن آپ سب کے تبصروں اور فیڈ بیک نے ان کرداروں میں جان بھر دی۔ ایک لکھاری کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ اس کے لکھے ہوئے کرداروں کو لوگ اپنے آس پاس محسوس کرنے لگیں، اور آپ سب نے مجھے وہ کامیابی عطا کی۔

کہانی کے پیچیدہ رشتے: جہاں انیل اور ریجا کی محبت ایک طرف تھی، وہیں مانی اور نتاشا کے کرداروں نے کہانی میں ایک الگ ہی رنگ بھر دیا۔ مانی کا نتاشا کے ساتھ رشتہ اور ان کے گرد گھومتی حالات کی کشمکش نے قارئین کو آخر تک باندھے رکھا۔ مجھے اندازہ ہے کہ آپ سب آخری قسط میں آنے والے ان بڑے موڑ سے حیران رہ گئے ہوں گے۔ جب سچائی سامنے آئی اور ماضی کے سارے پردے اٹھے، تو انیل اور ریجا کا رشتہ ایک نئے امتحان سے گزرا۔

بہت سے قارئین نے مجھ سے پوچھا کہ کیا انیل ریجا کو وہ خوشیاں دے پائے گا جس کی وہ مستحق ہے؟ اور مانی اور نتاشا کا انجام کیا ہوگا؟ لیکن یاد رکھیں، سچی محبت کا راستہ کبھی آسان نہیں ہوتا۔ انیل نے ثابت کیا کہ "ماہی" وہی ہوتا ہے جو ہر طوفان میں اپنی ساحل کی حفاظت کرے اور اسے کبھی اکیلا نہ چھوڑے۔

محبت اور صبر کی جیت: انیل اور ریجا کی یہ جیت دراصل ان تمام لوگوں کی جیت ہے جو مشکل وقت میں صبر کا دامن نہیں چھوڑتے۔ میں نے اس کہانی کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ رشتے اعتماد اور قربانی پر قائم ہوتے ہیں۔ مانی اور نتاشا کے ٹریک نے ہمیں سکھایا کہ زندگی ہمیشہ ویسی نہیں ہوتی جیسی ہم سوچتے ہیں، بلکہ یہ ہمارے فیصلوں کا عکس ہوتی ہے۔

ایک خاص شکریہ: میں اپنے ان تمام ریڈرز کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جو ہر قسط کا بے صبری سے انتظار کرتے تھے۔ آپ لوگوں کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے ہی میں نے اس ناول کو اتنی محنت اور دل لگی سے مکمل کیا۔ سوشل میڈیا، فیس بک اور بلاگ پر آپ کا ایک ایک کمنٹ میرے لیے بہت معنی رکھتا تھا۔ آپ کی تنقید نے مجھے سکھایا اور آپ کی تعریف نے مجھے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟ "میرا ماہی" کا سفر تو آج ختم ہوا، لیکن میرا اور آپ کا ساتھ ابھی ختم نہیں ہوا۔ میں جلد ہی ایک نئے موضوع اور ایک بالکل نئی داستان کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گی۔ میری کوشش ہے کہ اگلا ناول اس سے بھی زیادہ دلچسپ، سنسنی خیز اور سبق آموز ہو۔ میں چاہتی ہوں کہ میری تحریریں نہ صرف آپ کا دل بہلائیں بلکہ معاشرے کے کسی نہ کسی پہلو کی عکاسی بھی کریں۔

تب تک کے لیے، مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور میرے اس بلاگ سے جڑے رہیں تاکہ آپ میرے آنے والے نئے پراجیکٹس اور کہانیوں سے باخبر رہ سکیں۔ اگر آپ کو انیل، ریجا، مانی اور نتاشا کی یہ کہانی پسند آئی ہے، تو اس آخری پوسٹ پر اپنے تاثرات ضرور لکھیے گا۔

آپ کی اپنی، عشرت زاہد


Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22