رمضان المبارک کا آخری عشرہ: توبہ، سکون اور لیلۃ القدر کی تلاش

 

رمضان المبارک کا آخری عشرہ: توبہ، سکون اور لیلۃ القدر کی تلاش

تحریر: عشرت زاہد

رمضان المبارک کا مہینہ اپنی تمام تر برکات اور رحمتوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہے، لیکن اب یہ مبارک مہینہ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وہ لمحہ آ پہنچا ہے جس کا انتظار تمام مومنین سال بھر کرتے ہیں— یعنی رمضان کا آخری عشرہ۔ یہ وہ دس دن اور راتیں ہیں جنہیں جہنم سے آزادی کا عشرہ کہا جاتا ہے۔ یہ ایام ہم سے زیادہ محنت، زیادہ لگن اور زیادہ آنسوؤں کا تقاضا کرتے ہیں۔

آخری عشرے کی اہمیت اور فضیلت

نبی کریم ﷺ ان آخری دس دنوں میں عبادت کے لیے کمر کس لیتے تھے اور اپنی راتوں کو زندہ کرتے تھے۔ یہ عشرہ صرف عبادت کا نہیں بلکہ اپنے رب سے ٹوٹے ہوئے تعلق کو جوڑنے کا نام ہے۔ ان راتوں میں ایک ایسی رات چھپی ہے جو ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے— یعنی لیلۃ القدر۔ ذرا تصور کریں، وہ انسان کتنا خوش نصیب ہے جس کی ایک رات کی دعا قبول ہو جائے اور اسے 83 سال سے زیادہ کی عبادت کا ثواب مل جائے۔

طاق راتیں اور سکونِ قلب

اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ ہمیں سکون کیوں نہیں ملتا؟ سکون بازاروں یا دنیاوی آسائشوں میں نہیں، بلکہ ان طاق راتوں (21، 23، 25، 27 اور 29) کی تنہائی میں چھپا ہے۔ جب دنیا سو رہی ہوتی ہے اور آپ اپنے مصلے پر بیٹھ کر اپنے رب سے باتیں کرتے ہیں، تو وہ جو سکون قلب محسوس ہوتا ہے، اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔

ان راتوں میں اللہ تعالیٰ پہلے آسمان پر تشریف لاتا ہے اور پکارتا ہے: "ہے کوئی مانگنے والا جسے میں عطا کروں؟ ہے کوئی مغفرت چاہنے والا جسے میں معاف کر دوں؟" یہ پکار ان تمام لوگوں کے لیے ہے جو گناہوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، جو پریشان حال ہیں، اور جو اپنی زندگی میں کسی معجزے کے منتظر ہیں۔

دعا کی طاقت: ایک نیا آغاز

رمضان کا یہ آخری حصہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مایوسی کفر ہے۔ اگر آپ نے پہلے دو عشرے سستی میں گزار دیے ہیں، تو یہ دس دن آپ کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔

  • مانگیں: اپنی صحت، رزق، اولاد اور سب سے بڑھ کر اپنی ہدایت کے لیے مانگیں۔

  • معاف کریں: اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللہ آپ کو معاف کرے، تو ان لوگوں کو معاف کر دیں جنہوں نے آپ کا دل دکھایا ہے۔

  • روئیں: اللہ کے سامنے بہنے والا ایک آنسو جہنم کی آگ بجھانے کے لیے کافی ہے۔

عبادت کا مسنون طریقہ

ان راتوں میں تلاوتِ قرآن، نوافل اور خاص طور پر وہ دعا جو آپ ﷺ نے حضرت عائشہؓ کو سکھائی:

"اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي" > (اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔)

اس دعا کو اپنی زبان کا وظیفہ بنا لیں۔ یہ مختصر سی دعا آپ کے تمام گناہوں کو دھونے کی طاقت رکھتی ہے۔

اختتامی کلمات

رمضان رخصت ہونے کو ہے، مسجدوں کی رونقیں اور سحر و افطار کی برکتیں اب یادیں بننے والی ہیں۔ لیکن یہ آخری عشرہ ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے رب کو راضی کر لیں۔ آئیے عہد کریں کہ ان باقی ماندہ راتوں میں ہم سونے کے بجائے جاگیں گے، غفلت کے بجائے ذکر کریں گے اور اپنے رب کے حضور جھک کر اپنی دنیا اور آخرت سنواریں گے۔

خدا کرے کہ یہ رمضان ہماری زندگی کا آخری رمضان نہ ہو، اور اگر ہو، تو اللہ ہمیں اس حال میں اٹھائے کہ وہ ہم سے راضی ہو۔ آمین۔


Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22