رمضان کا آخری عشرہ: وہ راتیں جن پر آسمان کو بھی رشک ہے
رمضان کا آخری عشرہ: وہ راتیں جن پر آسمان کو بھی رشک ہے
تحریر: عشرت زاہد
رمضان المبارک کا سورج جب بیسویں روز غروب ہوتا ہے، تو کائنات کی فضاؤں میں ایک عجیب سا تغیر آ جاتا ہے۔ رحمتِ الٰہی کا دریا جو پہلے ہی موجزن تھا، اب اپنے پورے جوش کے ساتھ پکارنے لگتا ہے۔ یہ رمضان کا آخری عشرہ ہے— وہ دس راتیں جن کی قسم کھائی جا سکتی ہے، وہ راتیں جن میں بخشش کے پروانے تقسیم ہوتے ہیں، اور وہ راتیں جن میں انسانی تقدیریں بدلی جاتی ہیں۔
اعتکاف اور نبی کریم ﷺ کی سنت
نبی کریم ﷺ جب رمضان کے آخری دس دنوں میں داخل ہوتے، تو آپ ﷺ کا اندازِ بندگی بدل جاتا تھا۔ احادیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی کمر کس لیتے، راتوں کو زندہ کرتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے تھے۔ یہ آخری عشرہ دراصل "فنِ بندگی" کی انتہا ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ ان دس دنوں میں دنیا سے کٹ کر مسجد کے ایک گوشے میں اعتکاف بیٹھ جاتے تھے تاکہ دل کا ہر تار صرف اپنے خالق سے جڑا رہے۔
ہم جو دنیا کی مصروفیات میں الجھے ہوئے ہیں، ہمارے لیے یہ دس راتیں ایک "روحانی تربیتی کیمپ" کی طرح ہیں۔ اگر ہم اعتکاف نہیں بھی بیٹھ سکتے، تو کم از کم ان راتوں کی حرمت کا خیال تو رکھ سکتے ہیں۔
لیلۃ القدر: ہزار مہینوں سے افضل رات
انہی آخری دس راتوں کی طاق راتوں (21، 23، 25، 27، 29) میں وہ ایک عظیم رات چھپی ہے جسے قرآن نے "لیلۃ القدر" کا نام دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ذرا حساب لگائیں، ہزار مہینے تقریباً 83 سال اور 4 ماہ بنتے ہیں۔ یعنی ایک اوسط انسان کی پوری زندگی کی عبادت ایک طرف، اور اس ایک رات کا جاگنا ایک طرف!
یہ اللہ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اتنی مختصر زندگی دی مگر اس میں ایسی راتیں رکھ دیں جو ہمیں صدیوں کی عبادت کا ثواب دلا سکتی ہیں۔ اس رات فرشتے اور حضرت جبرائیلؑ زمین پر اترتے ہیں اور ہر اس شخص پر سلامتی بھیجتے ہیں جو اللہ کی یاد میں مصروف ہوتا ہے۔
سکونِ قلب کی تلاش: ان راتوں کا خاصہ
آج کی بھاگ دوڑ والی زندگی میں ہر انسان "سکون" کا متلاشی ہے۔ کوئی اسے پیسوں میں ڈھونڈتا ہے، کوئی رشتوں میں۔ لیکن سچا سکون ان آخری راتوں کی خاموشی میں چھپا ہے۔ جب آدھی رات کو دنیا کی روشنیاں مدھم پڑ جاتی ہیں اور آپ اپنے مصلے پر تنہا اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں، تو وہ جو ٹھنڈک دل میں اترتی ہے، وہی اصل سکون ہے۔
یہ راتیں ہمیں سکھاتی ہیں کہ ہمارا اصل گارڈین اللہ ہے۔ وہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور ہماری ان سسکیوں کو بھی سنتا ہے جو زبان تک نہیں پہنچ پاتی تھیں۔
ان راتوں میں کیا کریں؟
ان دس راتوں کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے چند عملی کام:
دعا کی کثرت: حضرت عائشہؓ کے پوچھنے پر آپ ﷺ نے جو دعا سکھائی: "اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي" اسے اپنا ورد بنا لیں۔
توبہ و استغفار: یہ راتیں گناہوں کے داغ دھونے کے لیے ہیں۔ اپنے ماضی کی غلطیوں پر ندامت کے آنسو بہائیں، اللہ توبہ کرنے والوں کو بہت پسند کرتا ہے۔
تلاوتِ قرآن: چونکہ قرآن اسی رات میں نازل ہوا، اس لیے قرآن سے اپنا رشتہ مضبوط کریں۔
صدقہ و خیرات: ان راتوں میں دیا گیا ایک روپیہ بھی ہزاروں گنا بڑھ کر ملتا ہے۔
غفلت کا نقصان
کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو ان قیمتی راتوں کو بازاروں کی شاپنگ، سوشل میڈیا کی سکرولنگ یا فضول گفتگو میں گزار دیتے ہیں۔ یاد رکھیں، یہ راتیں دوبارہ ملیں گی یا نہیں، اس کی کوئی ضمانت نہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب اللہ کی رحمت "سیل" (Sale) لگا کر بیٹھی ہے، اور ہم دکانوں کی سیل کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ اصل سمجھدار وہ ہے جو ان دس راتوں میں اپنی آخرت کا سودا کر لے۔
اختتامی دعا
اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان آخری راتوں کی قدر کرنے کی توفیق دے۔ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو لیلۃ القدر پانے میں کامیاب ہوئے اور جن کی پکار پر آسمان کے فرشتوں نے "آمین" کہا۔ اگر ہم بیمار ہیں، پریشان ہیں یا تنہا ہیں، تو یہ راتیں ہمارے لیے امید کا چراغ ہیں۔
اے اللہ! اس آخری عشرے کے صدقے ہماری تمام بیماریوں کو دور فرما، ہمارے رزق میں برکت دے اور ہمیں وہ سکون عطا کر جو صرف تیری یاد میں ہے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment