بہار کے سنگ - قسط نمبر 08

بہار کے سنگ 

- قسط نمبر 08


آج تانیہ کا دل ٹوٹا ہوا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ میں جس انسان کو اپنا ہمسفر بنا چکی ہوں، میرے دل و دماغ پر المیر قابض ہے، لیکن اس دل کا کیا کروں جہاں ایک احساس مردہ ہو رہا ہے کہ میں اپنے ماں کے دشمنوں کے بیٹے کے ساتھ اپنی زندگی شروع کر پاؤں گی؟ کیا میں بابا کا مان توڑ دوں گی؟ دوسری طرف دل کہتا ہے کہ المیر کو بھی تو نہیں پتا تھا، اسے بھی اسی وقت پتا لگا، وہ بھی تو اپنی پھپھو کی فیملی کو ڈھونڈ رہا تھا۔ وہ کتنی بار ملے، ہر بار ایک کشش دونوں کو متوجہ کرتی، ایسا کیوں ہو رہا تھا اب سمجھ آئی۔ جب منزل مل گئی تو پھر دوری کیوں آ گئی؟

یہ سوچتے ہوئے وہ گھر گئی اور تانیہ نے ہارن دیا جس پر گیٹ کیپر نے دروازہ کھول دیا۔ گاڑی گھر کے اندر آئی تو شہاب صاحب گاڑی سے اتر کر خاموشی سے آہستہ آہستہ اندر کی طرف آگئے اور سیدھا اپنے روم میں آ کر بیڈ پر لیٹ گئے۔ آج انہیں اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔ جن لوگوں سے میں تانیہ اور تانیہ کی ماں کو بچاتا رہا، ان لوگوں میں اپنی بیٹی کا ہاتھ دے دیا؟ وہ محافظ تو نہیں ہیں، وہ تو سب قاتل ہیں ہماری خوشیوں کے۔ اب وہ کیا کریں گے؟ قانونی طور پر تانیہ اب المیر کی بیوی ہے، وہ کبھی بھی اپنی بیوی لے کر جا سکتا ہے۔ انہیں اس پریشانی میں خیال آیا کہ سجاد کو فون کرتا ہوں وہ کوئی مشورہ دے، جس پر شہاب صاحب نے فون ملایا اور سجاد نے اٹھ کر پوچھا کہ خیریت ہے؟ آج صبح تو ملاقات ہوئی تھی، تم ٹھیک ہو؟ جس پر شہاب صاحب نے بتایا کہ میں بہت پریشان ہوں۔ سجاد نے کہا کہ کھل کر بتاؤ، تانیہ بیٹی تو ٹھیک ہے؟ تو وہ کہنے لگے کہ تانیہ کی بات کرنی ہے۔

"سجاد! مجھ سے ایک بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ جس جگہ تانیہ انٹرنشپ کر رہی تھی، اس فرم کا اونر تو جہانگیر کا بیٹا نکلا۔ شروع میں میرا شک تھا، پھر میں نے سوچا کہ دنیا میں ایک نام کے کتنے لوگ ہوتے ہیں، یہ وہی صوفیہ کا بھائی ہو ضروری تو نہیں، لیکن میرا شک صحیح نکلا۔ اس کے بیٹے سے ملا ہوا ہوں، دیکھنے میں بالکل اپنے باپ کی طرح نہیں، بہت سلجھا ہوا شریف ہے، ایک دو بار ہماری ملاقات بھی ہوئی۔ ہسپتال میں تھا جس دن، رات وہاں اسی کی والدہ ایڈمٹ تھیں، آج بھی ہم ان کو دیکھنے گئے تھے، وہاں ان کی حالت ٹھیک نہیں تھی، ان کا آپریشن ہونا تھا، بچنے کے چانسز نہیں تھے، تب انہوں نے مجھ سے بہن بن کر کچھ مانگا، میں انکار نہیں کر سکا۔ ان کے بیٹے کے لیے اپنی تانیہ کا رشتہ دے دیا، نہ صرف رشتہ دیا بلکہ نکاح بھی پڑھوا دیا۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ میری وصیت ہے صوفیہ کو ڈھونڈئے گا، جس پر میں نے پوچھا تو میرا شک یقین میں بدل گیا۔

 یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے صوفیہ کو پل پل مارا۔ میری شادی کوئی اتنا بڑا گناہ نہیں تھا، تم تو میرے اس وقت کے ساتھی ہو، میرے سارے حالات سے واقف ہو۔ میں نے کتنی زیادہ محنت کی اچھا لائف اسٹائل دینے کے لیے، اب صوفیہ کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ جس پراپرٹی سے صوفیہ کو بے دخل کیا تھا، آج المیر اور اس کی ماں دے رہے ہیں۔ میں کیا کروں اب اس پراپرٹی کا؟ میں نے پہلے بھی اس لیے نہیں کی تھی کہ صوفیہ کی پراپرٹی میرے پاس آئے، اب بھی میرا کوئی ایسا ارادہ نہیں۔ اب تم بتاؤ کہ میں کیا کروں؟ کون سا قانونی راستہ اختیار کروں کہ میری بیٹی میرے پاس رہے؟ میں نہیں چاہتا کہ وہ المیر کی زندگی میں رہے یا اس فیملی کے کسی بھی بندے کا سایہ میری بیٹی پہ پڑے۔ صوفیہ نے بہت اذیت گزاری تھی، اسے میں نے سنبھالا تھا، اب تانیہ کو میں ان کے ظلم کی بھینٹ نہیں چڑھنے دوں گا۔ میں صوفیہ کے دشمنوں سے بدلہ لینا چاہتا ہوں۔ کل کا شہاب کمزور تھا، آج کا شہاب مالی طور پر مضبوط ہے۔"

سجاد صاحب نے ساری باتیں سننے کے بعد کہا کہ میں بس یہی کہوں گا کہ ذرا تحمل کا مظاہرہ کرو۔ بات بس رشتہ طے ہونے کی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ تانیہ اب المیر کی بیوی ہے، شرعی طور پر اور شریعت کی رو سے جب وہ لینے آیا تم روک نہیں سکتے۔ تانیہ سے پوچھو کہ وہ کیا چاہتی ہے، اس کی مرضی بھی ضروری ہے۔ پھر المیر کا اس سب میں کیا قصور دیکھو شہاب؟ تم اپنی زندگی کا بڑا حصہ گزار چکے ہو، تمہیں پتا بھی ہے آج کی نسل ہماری جیسی سوچ نہیں رکھتی، وہ اپنے فیصلے خود لیتی ہے۔ کل کو تانیہ المیر کے ساتھ رہنا چاہے گی تب کیا کرو گے؟ اس کے اور المیر کے بیچ دیوار بن جاؤ گے؟ علیحدہ کر دو گے؟ کیا گارنٹی ہے کہ دوسری جگہ شادی کرو گے وہ لوگ ایسے نہیں ہوں گے؟ ابھی جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا۔

تانیہ لان میں ٹہل رہی تھی، اس کا سب پہ دل دکھ رہا تھا۔ اسے غصہ اپنی فیلنگ پہ آ رہا تھا اور ساتھ اسے یہ بھی تھا کہ بابا نے جن لوگوں سے مجھے اور ماما کو بچا کے رکھا وہ ایک دن اس طرح سامنے آئیں گے۔ اتنے میں گاڑی کا ہارن سنائی دیا تو گیٹ کیپر نے آ کر بتایا کہ جی وہ بڑے صاحب کے مہمان آئے ہیں، کہہ رہے ہیں اندر آنا ہے۔ اسی اثنا میں شہاب صاحب بھی آگئے کہ کھولو گیٹ، شہروز ہوگا۔ مجھے جمیل بھائی کا فون آیا تھا، انہوں نے مٹھائی بھجوائی ہے اور ساتھ کارڈ بھی، شہروز دینے آیا ہے۔ وہ تانیہ کو تفصیل بتانے لگے۔ وہ گاڑی اندر لے آئے اور پھر مٹھائی اور کارڈ لے کر آئے اور سلام کیا، گلے لگے جس پر شہاب صاحب کا چہرہ کھل اٹھا۔ تانیہ جو اپنے بابا کے اداس چہرے کو کھلتا ہوا دیکھ رہی تھی، شہروز کو دیکھنے لگی کہ کیا کبھی بابا کا چہرہ المیر کے آنے پر بھی کھلتا تھا؟ وہ انہیں بھی ایسے ہی ویلکم کرتے تھے جب وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ صوفیہ کا بھتیجا ہے۔ شہروز نے ہاتھ ہلایا تو تانیہ ہوش میں آئی۔ "آپ کھڑے کھڑے سو جاتی ہیں؟" جس پر تانیہ بولی "بالکل نہیں، میں نے کبھی آپ کا نام نہیں سنا، آپ نے بتایا بھی نہیں کہ آپ کون ہیں" جس پر شہاب صاحب ہنس پڑے اور بولے "آؤ بچو اندر چلتے ہیں، میں تعارف کرواتا ہوں"۔

ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر شہاب صاحب بولے، "تانیہ بیٹی یہ شہروز ہے، جمیل بھائی جن کی ٹیکسٹائل کی مل ہے، وہ جمیل بھائی جو میرے خالہ زاد بھائی ہیں، وہ سرگودھا میں ہوتے تھے، کئی سالوں سے لاہور شفٹ ہو گئے، آپ ملی نہیں ہو، آپ کی آمی ملی ہوئی ہیں۔ یہ شہروز ان کے ہی بیٹے ہیں۔ شہروز باہر ہوتے ہیں، باہر کی تعلیم مکمل کی، اب باہر سے یہاں اپنی بہن کی شادی اٹینڈ کرنے آئے ہیں اور دوسرا شہروز کے لیے بھی جمیل بھائی اور ان کی بیگم لڑکیاں پسند کرنے نکلے ہوئے ہیں۔ رمیسہ کی شادی کے بعد ان صاحب نے باہر چلے جانا ہے، تو جانے سے پہلے نکاح کر کے اس کے پیپرز ساتھ لے کے جانے ہیں۔"

"اور شہروز! ان سے ملئے، یہ ہیں میری اکلوتی بیٹی، میرا پورا جہاں، میری آنکھوں کا نور تانیہ شہاب"۔ اتنی تفصیل سے تعارف پر تانیہ اور شہروز دونوں ہنس پڑے۔ "ببا! میں چائے بناتی ہوں" کہہ کر نکل گئیں اور پھر وہ دونوں باتیں کرنے لگے۔ شہاب صاحب نے چائے پی اور شہروز سے کہا کہ میں تو ضرور آؤں گا اب تانیہ کی مرضی ہے، وہ آپ کی فیملی کو جانتی نہیں تو اب یہ اس پہ ہے کہ وہ آئے گی یا نہیں۔ جس پر شہروز نے کہا کہ آپ مجھے وہاں پائیں گے، میں آپ کو کمپنی دوں گا، آپ ضرور آئیے گا۔ مما کے پاؤں سوج گئے ہیں شاپنگ کی وجہ سے اور میری بہن کی شاپنگ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی، اس پہ تانیہ ہنس پڑی اور بولی "آؤں گی"۔ تب شہروز نے کہا کہ 3 دن بعد مایوں ہے، ہم اسے مایوں بٹھا رہے ہیں، اس بہانے بازار کے چکر رک جائیں گے، میری جان کو بھی سکون ہوگا، بھائی ہونا بھی مشکل کام ہے۔

تانیہ نے گیٹ تک بابا کے ساتھ سی-آف کیا اور شہروز کے جانے کے بعد شہاب صاحب نے بتایا کہ جب آپ کی ماں سے شادی ہوئی تھی اور میں شادی کے بعد ان کے گھر گیا تھا تب ہمارا لاہور میں گھر نہیں تھا، بیسکلی ہم تھے تو سرگودھا کے رہنے والے۔ میں آپ کی ماں اور اپنے پیرنٹس کو لے کر لاہور آگیا، کئی جابز کیں، تب مجھے بزنس کے لیے جمیل بھائی کے والد صاحب نے سرمایہ دیا اور پھر میں نے زمین خریدی اور اسکول بنایا اور پھر دوست کی کنسٹرکشن کمپنی کے ساتھ بھی جڑ گیا اور یوں میں نے اپنا پہلا گھر یہ بنایا جہاں ہم رہتے ہیں۔ اسی ایریا میں پل بڑھ کر صوفیہ بڑی ہوئی تھی، میں اسے وہی سب دینا چاہتا تھا جس سے اس کے گھر والوں نے محروم کیا تھا۔ آج جب میں خود کفیل ہوں تو انہیں حصہ دینا یاد آگیا؟ میں نے صوفیہ کو بھی اپنے دم پہ رکھا اور وہ مجھ سے خوش اور راضی تھی، اب میں تمہیں بھی اچھے سے رکھ سکتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی تمہارا دشمن بنے، میں بس تمہیں سلامت دیکھنا چاہتا ہوں۔

تانیہ نے اپنے بابا کی باتیں سنیں تو ساتھ لگ گئی اور دونوں لاؤنج میں آگئے۔ "بابا! پھر آپ کیا پہن کے جا رہے ہیں جمیل انکل کی بیٹی کی شادی میں؟" کارڈ دیکھتے ہوئے تانیہ نے کہا "بابا! یہ تو کسی فارم ہاؤس کا ایڈریس ہے، آپ دیکھیں"۔ شہاب صاحب کارڈ دیکھنے لگے اور بولے "اوہ اچھا، یہ تو ان کا پلان ہے، جمیل بھائی کے والد صاحب تھے، ان کا دل نہیں لگتا تھا یہاں، وہ رونق والی جگہوں سے ذرا پرسکون دور رہائش کو پسند کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام بھی وہی گزارے، وہ بہت پیاری جگہ ہے۔ اگر تو سارے فنکشنز وہیں ہیں تو بہت مزہ آنے والا ہے"۔

شہروز واپسی پہ تانیہ کے بارے سوچتا جا رہا تھا۔ اسے ہمیشہ سے مشرقی حسن پسند تھا، باہر رہتے ہوئے اس نے کبھی کسی انگریز لڑکی سے دوستی تک نہیں کی، اس نے اپنے گرد ایک حد مقرر رکھی ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ بہت پاپولر بھی تھا اور لوگ وہاں کمیونٹی کے اسے بہت پسند کرتے تھے۔ کچھ لوگوں نے تو خود اس کی اسی شرافت کو دیکھتے ہوئے اپنی بیٹی سے شادی کی آفر بھی دی تھی جو اس نے یہ کہہ کر ایکسکیوز  کر لیا کہ میری مما اور بابا کی مرضی سے ہوگی۔ تانیہ کو دیکھنے کے بعد اسے تانیہ اتنی بھا گئی کہ اس نے سوچا کہ گھر جا کر وہ سب سے پہلے یہ بات اپنی بہن سے کہے گا، وہ اس کے پیچھے پڑی ہوئی تھی کہ بھائی! میری فرینڈز آئیں گی، کوئی بھی پسند آئے بتا دیجئے گا۔ جس پر شہروز ہنس کر بات ٹال دیتا لیکن اب وہ سوچ رہا تھا اس سے پہلے کہ مما کوئی لڑکی دیکھیں، تانیہ اسے پسند بھی تھی اور شہاب انکل کے اس کے بابا کے ساتھ دوستی اور رشتہ داری بھی ہے تو اعتراض ہوگا نہیں۔ یہ سوچ کر مسکرا اٹھا، اس نے اپنی گاڑی میں میوزک آن کیا۔۔۔ "میری زندگی میں آئی ہو بہار بن کے، میرے دل کی رانی ہے کوئی اور نہیں بس تو ہے صنم، بس تو ہے صنم"۔

شہروز سے مل کر شہاب صاحب کے ذہن میں جو چل رہا تھا، وہ سوچ کر بیٹھے تھے کہ وہ جمیل سے کہیں گے۔ انہیں شہروز پہلے مل جاتا تو وہ المیر کی ماں کی باتوں میں آ کر اس کے نکاح کی جلد بازی نہ کرتے۔ اب بھی وقت نہیں گزرا، مجھے تانیہ کی حفاظت کے لیے اسے المیر سے علیحدہ کرنا ہوگا۔ ہاں مجھے یہ کرنا ہوگا۔۔۔

تانیہ جو بابا کے روم میں کافی لے کر داخل ہونے والی تھی، اس کے ہاتھ سے ٹرے گرتے ہوئے بچی۔۔۔ کیا میں المیر سے علیحدہ ہو جاؤں گی؟۔۔۔ کیا مجھے خلع دلوائیں گے بابا؟۔۔۔۔۔۔

جاری ہے...


جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں

اس ناول "بہار کے سنگ" کے تمام جملہ حقوق اور اس کی ملکیت قانونی طور پر مصنفہ عشرت خانم (قلمی نام  ذوقِ عشا (عشرت زاہد) کے نام محفوظ ہے۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر، کہانی، یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں (بشمول فوٹو کاپی، ریکارڈنگ، سوشل میڈیا شیئرنگ، یا پی ڈی ایف) دوبارہ شائع یا منتقل کرنا سخت ممنوع ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

وضاحت / ڈسکلیمر

یہ ایک افسانوی تحریر ہے جس کا مقصد محض تفریح ہے۔ اس میں شامل تمام کردار، نام، مقامات اور واقعات مصنفہ کے تخیل کی پیداوار ہیں۔ کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا مردہ) سے مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی۔ اس کہانی میں موجود خیالات کرداروں کے ہیں، جو مصنفہ کی ذاتی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔


تحریر و تخلیق: عشرت خانم (بنام: ذوقِ عشا / عشرت زاہد)

 

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22