بہار کے سنگ قسط نمبر: 09

 

بہار کے سنگ

قسط نمبر: 09

تحریر: ذوقِ عشا (عشرت )

شہروز مسکراتا ہوا گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے تک وہ جانے کے لیے تیار نہیں تھا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ شہاب انکل اسے پہچانیں گے نہیں اور نہ ہی ان کی فیملی اسے جانتی ہے، لیکن گھر والوں کے اصرار پر وہ دعوت نامہ لے کر ان کے گھر چلا گیا۔ شہروز کی والدہ خود جا سکتیں تو ضرور جاتیں لیکن وہ اپنے پاؤں کو آرام دینا چاہتی تھیں تاکہ مایوں اور مہندی کے فنکشنز کے لیے خود کو تیار رکھ سکیں۔ شہاب صاحب ان کے بھائیوں جیسے تھے اور دونوں خاندانوں میں برسوں سے بہت آنا جانا تھا، بس کچھ عرصہ مصروفیات کی بنا پر فاصلہ آگیا تھا مگر دلوں میں خلوص اور اپنائیت پہلے جیسی ہی تھی۔

گھر پہنچ کر شہروز کو گنگناتا اور مسکراتا دیکھ کر رمیسہ قریب آئی۔ "بائی! خیریت ہے؟ جاتے ہوئے تو آپ غصے میں تھے اور اب اتنے خوش؟ کچھ تو ہوا ہے، آپ بدلے بدلے لگ رہے ہیں، لگتا ہے کچھ چھپا رہے ہیں۔" شہروز بہن کی باتوں پر جھینپ گیا اور بولا، "کیا پوچھنا چاہ رہی ہو؟" جس پر رمیسہ چہک کر بولی، "وہاں تانیہ سے ملاقات ہوئی نا؟" شہروز کے چہرے پر ایک چمک آگئی جسے رمیسہ نے بھانپ لیا۔ "بس بھائی! میں سمجھ گئی، آپ تانیہ کے اسیر بن کر لوٹے ہیں۔ لو جی ہمارا کام آسان ہو گیا، آپ بھی فکس ہو گئے، مما کو بتاتی ہوں۔"

رمیسہ یہ کہتی ہوئی مما کے کمرے کی طرف بھاگی اور شہروز پیچھے لپکا، "رکو تو سہی! ابھی بس ایک ون سائیڈڈ ہے، میں نے پہلی نظر دیکھا تو اچھی لگی، ابھی میری اس موضوع پر اس سے کوئی بات نہیں ہوئی، وہ کیا چاہتی ہے یہ جاننا بھی ضروری ہے۔" رمیسہ نے شرارت سے کہا، "وہ فنکشنز پر آئے گی تو میں خود پوچھ لوں گی، آپ کو اکیلا چھوڑنا نہیں ہے اس بار پکا انتظام کرنا ہے۔ اچھا ہوا جو مجھے پتہ لگ گیا ورنہ مما نے ایک دو فیملیز دیکھ رکھی تھیں جو میری شادی کے بعد فائنل کرنی تھیں۔ اب ایک راز کی بات بتاؤں؟ ان میں سے ایک فیملی شہاب انکل کی بھی ہے، مما نے ذکر کیا تھا کہ تانیہ انہیں پسند ہے۔"

اتنے میں اندر سے آواز آئی، "کیا تم دونوں نے شور مچایا ہوا ہے؟ یا اندر آؤ یا مجھے آرام کرنے دو۔" شہروز بہن کا ہاتھ پکڑ کر لاؤنج میں لے آیا اور صوفے پر بٹھاتے ہوئے بولا، "کیا مایوں سے پہلے مہندی لگتی ہے؟" رمیسہ نے پوچھا، "کیوں؟ آپ نے بھی بیٹھنا ہے مہندی لگوانے؟" شہروز بولا، "نہیں، آپ کے پاؤں میں لگوانی ہے یہ جو ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھتیں، دو دن بعد مایوں ہے سکون کر لو۔ ابھی میں نے خود بات کرنی ہے تانیہ سے، پوچھنے دو کیا پتہ وہ کسی اور کو پسند کرتی ہو، پسند کرنا سب کا حق ہے۔" رمیسہ بولی، "وہ کام بھائی آپ مجھ پر چھوڑ دیں، میں خود تانیہ سے پوچھوں گی کہ کیا آپ میرے پیارے سے شرارتی بھائی کی وائف بننا پسند کریں گی۔"

شہروز کی باتیں سن کر ان کی امی بھی باہر آگئیں اور ملازم کو آواز دے کر چائے اور ٹیبلٹ لانے کا کہا۔ شہروز نے انہیں دیکھا تو کہا، "مما! آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہوں۔" انہوں نے جواب دیا، "بیٹا! آپ کی بہن صاحبہ کے کام ختم نہیں ہو رہے تھے، شکر ہے سب صحیح ہو گیا۔ سارا سامان ریڈی ہے، کل تم نے سب سے پہلے اسے سسرال چھوڑ کر آنا ہے۔ مجھے بتاؤ مٹھائی کے آرڈر دے دیے ہیں؟" شہروز نے کہا، "جی مما! وہ آج ہی کر آیا ہوں اور لائٹس والے کو بھی کہہ دیا ہے، صبح وہ آکر گھر ڈیکوریٹ کر دے گا۔" رمیسہ نے یاد دلایا کہ کل فرنیچر بھی پہنچانا ہے، "بھائی آپ ایک بار شوروم جا کر چیک کر لیجیے گا کہ وہی ہے جو میں نے فائنل کیا تھا۔" شہروز نے وعدہ کیا کہ وہ ویڈیو بنا کر بھیج دے گا اور پھر سر درد کا بہانہ بنا کر آرام کرنے چلا گیا۔ رمیسہ نے جاتے جاتے مما کو بتایا کہ بھائی بہت خوش ہیں، جس پر مما بولیں، "ظاہر ہے بہن کی شادی پر بھائی خوش ہوتے ہیں۔" شہروز نے جملہ کسا، "آفت گھر سے جا رہی ہے۔" رمیسہ نے کشن اٹھا کر مارنا چاہا جسے شہروز نے کیچ کر لیا۔ "مما دیکھ رہی ہیں آپ بھائی کو؟ میں آفت ہوں؟ آفت تو اب آئے گی، آپ نظر رکھیں مما، اس بار بھائی کو اکیلا نہیں جانے دینا۔"

دوسری طرف، المیر ڈاکٹروں کے ساتھ مشورہ کر رہا تھا کہ نرس نے آکر بتایا کہ آسیہ بیگم کو آپریشن کے لیے لے جانا ہے۔ المیر اپنی ماں کے پاس آیا، "مما! آپ نے ہمت نہیں ہارنی۔" ماں نے کہا، "المیر! مجھے معاف کر دینا، میں نے جانے انجانے میں تم سب کو اور شہاب بھائی کی فیملی کو دکھ دیے۔ میں نہ رہی تو میرا کفارہ تم ادا کرو گے، تم اس وقت تک معافی مانگتے رہنا جب تک ان کے دل نہ پگھل جائیں۔ اور ہاں! میری قبر پر ہو سکے تو روز آنا، میرا دل تمہارے آنے کا منتظر ہو گا، تمہاری دعاؤں سے میری روح کو سکون ملے گا۔" المیر نے ماں کے ہاتھ پر بوسہ دیا، اتنے میں نرس اور وارڈ بوائے انہیں لے گئے۔ المیر اپنی ماں کو جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا، اس کا دل بے چین تھا کہ کیا میں اپنی ماں کو دوبارہ سن سکوں گا؟ کیا انہیں پھر سے چلتا پھرتا دیکھ سکوں گا؟ "یہ زندگی اتنی مشکل کیوں ہے؟ سب کچھ ہے میرے پاس، کیا میں اپنی ماں کی صحت نہیں خرید سکتا؟ یا رب! میری ماں کی زندگی اور صحت لوٹا دے۔"

ایک طرف تانیہ تھی جس کا اعتبار اسے جیتنا تھا اور دوسری طرف ماں، وہ کتنا اکیلا محسوس کر رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ کاش مما آپ نے زیادتی نہ کی ہوتی، دنیا کے مفاد کی خاطر رشتوں سے دھوکہ ایک دن لوٹ کر آتا ہے۔ جس پراپرٹی کے لیے صوفیہ پھوپھو کو بدنام کیا، وہ نہ آپ کے کام آئی نہ بابا کے۔ اس نے تانیہ کو میسج کیا: "میری مما کا آپریشن ہے، دعا کرنا، مجھے تمہاری دعا اور ساتھ کی ضرورت ہے۔ محبت کب ہوئی نہیں جانتا، میں صوفیہ پھوپھو کی فیملی کو ایک قرض چکانے کے لیے ڈھونڈ رہا تھا، امید ہے تم سمجھو گی۔ میں نہیں جانتا تھا کہ مما اور بابا نے کیا ظلم کیے، علم ہوتا تو پہلے ہی بتا دیتا۔ میں زبردستی کا قائل نہیں لیکن تمہارے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہوں، تمہارے جواب کا انتظار کروں گا۔"

تانیہ کے موبائل پر میسج آیا تو اس نے دیکھا کہ "سر المیر" کا میسج ہے۔ وہ کھولنا ہی چاہتی تھی کہ شہاب صاحب کمرے میں آئے، "بیٹی! میں باہر جا رہا ہوں، سوچا تمہیں بھی ساتھ لے لوں، آؤ کچھ شادی کے لیے ڈریسز دیکھ لیں۔" تانیہ نے بے دلی سے کہا، "بابا! اتنے تو ہیں، کوئی بھی پہن لوں گی۔" شہاب صاحب بولے، "بیٹا! میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی کسی سے کم نظر آئے، وہاں لڑکیاں ایک سے بڑھ کر ایک ہوں گی، میں تمہارے لیے ہی تو کماتا ہوں، جلدی آؤ میں گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں۔"

تانیہ جلدی سے تیار ہو کر باہر آئی۔ شہاب صاحب گیٹ کیپر کو ہدایات دے رہے تھے۔ دونوں شاپنگ مال پہنچے، اتنے برانڈز دیکھنے کے باوجود تانیہ کو کچھ پسند نہیں آ رہا تھا، اس کا دل میسج پر اٹکا ہوا تھا۔ اچانک اسے بابا کی کسی سے بات کرنے کی آواز آئی، مڑ کر دیکھا تو شہروز تھا۔ بابا اس سے بڑے پیار سے مل رہے تھے۔ شہروز تانیہ کے پاس آیا، "کیسی ہیں مس تانیہ؟" تانیہ نے مختصر جواب دیا۔ شہروز نے محسوس کیا کہ وہ کچھ بجھی بجھی سی ہے، اس نے پوچھا "سب ٹھیک ہے؟" تو تانیہ نے جواب دینے کے بجائے ڈریسز دیکھنا شروع کر دیے۔ شہروز نے اسے نظر انداز کر کے شہاب صاحب سے بات کی، "انکل! مجھے مایوں کے لیے شرٹ شلوار لینی تھی، ابھی رمیسہ کے سسرال سامان بھی پہنچانا ہے، پلیز میری ہیلپ کروا دیں۔" انہوں نے اسے کچھ اچھے برانڈز بتائے اور شہروز وہاں سے نکل گیا۔ شہاب صاحب نے تانیہ سے کہا، "بیٹا! آپ شہروز سے صحیح بات کیوں نہیں کر رہی تھیں؟ آپ ایسی تو نہیں تھیں۔ کیا سوچے گا وہ؟ میری اور آپ کی والدہ کی تربیت پر حرف آئے گا۔" تانیہ نے معذرت کی، "سوری ابا! آئندہ خیال رکھوں گی۔"

شہاب صاحب نے اپنی پسند سے تینوں دنوں کے حساب سے ڈریسز، جیولری اور سینڈلز دلوائے اور گھر آگئے۔ تانیہ کچن میں چائے بنانے چلی گئی۔ شہاب صاحب فون پر جمیل بھائی سے بات کرنے لگے جو میٹنگ کی وجہ سے خود نہیں آسکے تھے اور معذرت کر رہے تھے۔ انہوں نے شہروز کی بہت تعریف کی کہ باہر رہنے کے باوجود اس میں اخلاق ہے۔ تانیہ چائے لے کر آئی تو بابا نے بتایا کہ جمیل بھائی کا فون تھا، انہوں نے کل لازمی آنے کا کہا ہے۔ تانیہ خاموش رہی، وہ جلد سے جلد اپنے کمرے میں جا کر میسج پڑھنا چاہتی تھی۔

چائے پی کر شہاب صاحب اٹھے، "بیٹی! میں آرام کرتا ہوں، تم یہ چیزیں سیٹ کر لو اور سیلون وغیرہ جانا ہو تو بتا دینا۔" انہوں نے تانیہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور جذباتی ہو کر بولے، "میں نے پوری کوشش کی کہ تمہیں ماں کی کمی محسوس نہ ہونے دوں، میں تمہاری آنکھوں میں اداسی پڑھ سکتا ہوں، تم ابھی بھی المیر والے شاک سے نہیں نکلی ہو۔ زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے، لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ میں صوفیہ کے بغیر جی رہا ہوں، تمہیں اداس دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں تمہاری ماں کو کیا جواب دوں گا؟" تانیہ بابا کے گلے لگ کر خوب روئی، وہ اندر سے بہت تنہائی محسوس کر رہی تھی۔ انہوں نے تانیہ کے آنسو پونچھے، "میں نے تمہیں مضبوط بنایا ہے، مجھے روتی ہوئی تانیہ پسند نہیں۔" تانیہ نے وعدہ کیا کہ وہ خود کو سنبھالے گی۔

تانیہ اپنے کمرے میں آگئی، اب اسے میسج پڑھنے میں وہ دلچسپی نہیں رہی تھی۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنے بابا کے مان اور تربیت پر کوئی حرف نہیں آنے دے گی۔ بابا جو فیصلہ المیر کے حق میں کریں گے وہی اسے منظور ہوگا اور وہ انہیں پتہ بھی نہیں چلنے دے گی کہ اسے کبھی المیر سے محبت ہوئی تھی۔ وہ بابا کا ساتھ نہیں چھوڑے گی۔

ادھر المیر کئی بار واٹس ایپ چیک کر چکا تھا مگر تانیہ نے میسج دیکھا تک نہیں تھا۔ اسے تانیہ کی ہر بات یاد آ رہی تھی۔ اس نے دفتر فون کیا تو سیکرٹری نے بتایا کہ تانیہ کے والد استعفیٰ دے گئے ہیں اور وہ اب کام جاری نہیں رکھیں گی۔ المیر نے اپنے بابا کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا کہ وہ یو کے کی فلائٹ پر روانہ ہو چکے ہیں اور کہہ گئے ہیں کہ ذاتی ٹرپ پر ہیں، انہیں ڈسٹرب نہ کیا جائے۔ المیر کو شدید غصہ آیا، اسے سمجھ آگئی کہ بابا کن عیاشیوں کے لیے گئے ہیں۔ "یہ مکافاتِ عمل ہی ہے، بابا سب کچھ اپنے ہاتھوں ختم کر رہے ہیں، وہ عزت جو کمائی تھی آج نیلام ہونے لگی ہے۔ نیوز پیپر کی شہ سرخیوں میں پھر ایک خبر آئے گی جہانگیر اور اس ایکٹریس کی۔ بابا! آپ کو ذرا احساس نہیں مما کس حال میں ہیں۔" المیر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔

(جاری ہے...)

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں

اس ناول "بہار کے سنگ" کے تمام جملہ حقوق اور اس کی ملکیت قانونی طور پر مصنفہ عشرت خانم (قلمی نام: ذوقِ عشا / عشرت زاہد) کے نام محفوظ ہے۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر، کہانی، یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں (بشمول فوٹو کاپی، ریکارڈنگ، سوشل میڈیا شیئرنگ، یا پی ڈی ایف) دوبارہ شائع یا منتقل کرنا سخت ممنوع ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

وضاحت / ڈسکلیمر

یہ ایک افسانوی تحریر ہے جس کا مقصد محض تفریح ہے۔ اس میں شامل تمام کردار، نام، مقامات اور واقعات مصنفہ کے تخیل کی پیداوار ہیں۔ کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا مردہ) سے مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی۔ اس کہانی میں موجود خیالات کرداروں کے ہیں، جو مصنفہ کی ذاتی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

تحریر و تخلیق: عشرت خانم (بنام: ذوقِ عشا / عشرت زاہد)

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22