بہار کے سنگ قسط نمبر: 10

 

بہار کے سنگ

قسط نمبر: 10


ہسپتال کی راہداریوں میں پھیلی خاموشی المیر کے اعصاب پر سوار ہو رہی تھی۔ آپریشن تھیٹر کا سرخ بلب مسلسل جل رہا تھا، جو اسے جتا رہا تھا کہ اندر اس کی ماں کی زندگی کا فیصلہ ہو رہا ہے۔ اس نے ایک بار پھر اپنا موبائل چیک کیا، تانیہ کا میسج اب بھی  (ان پڑھا) تھا۔ اسے ایک عجیب سی تڑپ محسوس ہوئی—وہ تانیہ جس کے لیے وہ سب کچھ چھوڑنے کو تیار تھا، آج اس کی خاموشی اسے مار رہی تھی۔

دوسری طرف، تانیہ اپنے کمرے میں گم صم بیٹھی تھی۔ اس نے المیر کا میسج کھولا تو تھا، مگر اسے پڑھنے کی ہمت نہیں جٹا پا رہی تھی۔ اسے اپنے بابا کے وہ الفاظ یاد آ رہے تھے: "میں نے تمہیں مضبوط بنایا ہے، مجھے روتی ہوئی تانیہ پسند نہیں"۔ اس نے ایک لمبی سانس لی اور میسج ڈیلیٹ کرنے ہی والی تھی کہ اس کی نظر المیر کے آخری الفاظ پر پڑی: "میں زبردستی کا قائل نہیں لیکن تمہارے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہوں..." تانیہ کے ہاتھ لرزنے لگے۔ اس کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹپک کر موبائل کی سکرین پر گرا۔ اسے المیر سے نفرت کرنی چاہیے تھی، مگر اس کی بے بسی اسے پگھلا رہی تھی۔

صبح کا سورج نکلا تو شہروز کے گھر میں گہما گہمی عروج پر تھی۔ رمیسہ اپنے مایوں کے جوڑے کو دیکھ کر خوش ہو رہی تھی جبکہ شہروز بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا۔ "بھائی! ابھی سے تانیہ کا انتظار شروع کر دیا؟" رمیسہ نے شرارت سے کہا۔ شہروز مسکرایا، "انتظار تو اس کا ہے جو زندگی میں بہار بن کر آنے والی ہے۔" شہروز کی والدہ نے اسے ٹوکا، "شہروز! جاؤ فرنیچر والے کو فون کرو، اور ہاں، شہاب بھائی کو دوبارہ یاد دلا دینا کہ وہ وقت پر پہنچیں۔" شہروز نے فوراً فون اٹھایا، مگر اس کا دل تانیہ سے ملنے کے لیے بے چین تھا۔

اسی دوران، ہسپتال میں ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آئے۔ المیر تیزی سے ان کی طرف لپکا۔ "ڈاکٹر! میری مما کیسی ہیں؟" ڈاکٹر نے ماسک ہٹایا اور سنجیدگی سے کہا، "آسیہ بیگم کا آپریشن کامیاب رہا ہے، لیکن انہیں ہوش آنے میں وقت لگے گا۔ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔" المیر نے شکر کا سجدہ ادا کیا، مگر اس کے دل کا بوجھ اب بھی کم نہیں ہوا تھا۔ اسے پتہ تھا کہ ہوش آنے کے بعد ماں پہلا سوال تانیہ کے بارے میں ہی کرے گی۔

شام ہوتے ہی شہاب صاحب تانیہ کو لے کر شہروز کے گھر پہنچ گئے۔ گھر روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ رمیسہ نے تانیہ کو دیکھتے ہی گلے لگا لیا، "تانیہ! تم آگئیں، میں کتنی خوش ہوں!" تانیہ نے مسکرانے کی کوشش کی، مگر اس کی نظریں لاشعوری طور پر کسی کو ڈھونڈ رہی تھی۔ شہروز دور کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ آج نیلی واسکٹ اور سفید شلوار قمیض میں بہت پُرکشش لگ رہا تھا۔ جب تانیہ کی نظر اس سے ملی، تو شہروز نے سر کے اشارے سے سلام کیا، جس پر تانیہ نے نظریں جھکا لیں۔

فنکشن کے دوران، رمیسہ تانیہ کو ایک طرف لے گئی، "تانیہ! تمہیں پتہ ہے مما تمہیں کتنا پسند کرتی ہیں؟ اور شہروز بھائی تو جیسے تمہارے نام کی مالا جپتے ہیں۔" تانیہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ اسے احساس ہوا کہ یہاں سب اس کے لیے ایک خوبصورت مستقبل کے خواب دیکھ رہے ہیں، جبکہ وہ اب بھی ماضی کی الجھنوں میں قید ہے۔

اسی لمحے تانیہ کے پرس میں موبائل وائبریٹ ہوا۔ اس نے نکال کر دیکھا تو المیر کی کال تھی۔ تانیہ کا رنگ فق پڑ گیا۔ ایک طرف شہروز کی محبت بھری نظریں تھیں اور دوسری طرف المیر کی پکار۔ اس نے کال کاٹ دی، مگر اگلے ہی پل ایک میسج آیا: "مما کو ہوش آگیا ہے، وہ تمہارا پوچھ رہی ہیں۔ تانیہ! صرف ایک بار بات کر لو، شاید یہ ان کی آخری خواہش ہو۔" تانیہ کے قدم لڑکھڑانے لگے۔ اس نے شہروز کو دیکھا جو اپنے دوستوں کے ساتھ ہنس رہا تھا، اور پھر موبائل کی سکرین کو، جہاں المیر کی بے بسی لکھی تھی۔ اسے لگا جیسے وہ دو پاٹوں کے درمیان پس رہی ہے۔

ہسپتال کے ویٹنگ ایریا میں بیٹھا المیر ٹوٹ رہا تھا۔ اسے رہ رہ کر تانیہ کا خیال آ رہا تھا جس کا اعتبار وہ کھو چکا تھا۔ دوسری طرف شہاب صاحب اور جمیل بھائی کے درمیان فون پر طویل گفتگو ہو رہی تھی۔ جمیل بھائی اپنے بیٹے شہروز کی تعریفیں کرتے نہیں تھک رہے تھے کہ کس طرح اس نے باہر رہ کر بھی اپنی اقدار کو سنبھالا۔ شہاب صاحب کے دل میں شہروز کے لیے عزت بڑھتی جا رہی تھی، یہاں تک کہ ان کے دل میں خواہش جاگی کہ کاش شہروز جیسا لڑکا ہی ان کا داماد بنے۔ انہوں نے جمیل بھائی سے اس خواہش کا دبے لفظوں میں اظہار بھی کر دیا، جس پر جمیل بھائی نے خوشی کا اظہار کیا۔

رات کے آخری پہر، تانیہ واش روم میں تھی جب اس کا فون مسلسل بجنے لگا۔ شہاب صاحب کمرے میں داخل ہوئے تو سکرین پر المیر کا نام جگمگا رہا تھا۔ انہوں نے غصے سے فون اٹھایا، "کیوں فون کیا ہے؟" دوسری طرف سے المیر کی آواز آئی، "انکل! پلیز ایک بار تانیہ سے بات کروا دیں، میں سب واضح کرنا چاہتا ہوں۔"

"اب جو بھی بات ہوگی کورٹ میں ہوگی! میں خلع کے پیپرز تیار کروا رہا ہوں، اب تانیہ کو فون مت کرنا،" شہاب صاحب نے گرج کر کہا۔ المیر نے التجا کی، "انکل! بس ایک بار اسے فیصلہ کرنے دیں، اس کا جو فیصلہ ہوگا وہی مجھے منظور ہوگا۔" شہاب صاحب کا پارہ ہائی ہو گیا، "ایک بات سن لو! جو امانت کے طور پر تم نے چیزیں رکھوائی تھیں انہیں لے جاؤ، بلکہ بتاؤ کہاں پہنچاؤں؟ میں یا میری بیٹی جہانگیر کی دشمنی کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہتے۔ وہ کل بھی ایسا تھا اور آج بھی ویسا ہی ہے۔ رشتوں کا پاس اسے کبھی نہیں تھا۔ ہم سادہ مزاج لوگ ہیں، اللہ کا دیا سب میرے پاس ہے، میں خلع کے بعد تانیہ کی شادی اپنے دوست کے بیٹے سے کر رہا ہوں۔ شکر ہے رخصتی سے پہلے ہی یہ سب کھل کر سامنے آگیا، ورنہ میں صوفیہ کو کیا منہ دکھاتا؟" انہوں نے غصے سے فون کاٹ دیا۔

تانیہ واش روم سے باہر آئی تو شہاب صاحب کو فون ہاتھ میں لیے دیکھا۔ "جی بابا! کس کا فون تھا؟" اس نے سہم کر پوچھا۔ "المیر کا تھا! اب وہ دوبارہ فون کرے تو مت اٹھانا۔ میں نے فیملی لائر سے بات کر لی ہے، دو دن بعد تم میرے ساتھ چلنا، ہم سجاد کے آفس جا کر خلع کا کیس فائل کریں گے۔" یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئے۔ تانیہ کے سر پر جیسے بجلی آ گری۔ اسے لگا تھا بابا کا غصہ وقتی ہے، مگر یہاں تو فیصلہ سنا دیا گیا تھا۔ وہ تڑپ کر رہ گئی، "یا اللہ! کوئی تو مددگار بھیج دے۔"

اسی لمحے رمیسہ کی کال آئی۔ تانیہ نے بوجھل دل کے ساتھ فون اٹھایا۔ "تانیہ! سوئی تو نہیں؟" رمیسہ کی چہکتی آواز سنائی دی۔ "نہیں رمیسہ، بتائیں خیریت؟" "خیریت ہی ہے! کل صبح 11 بجے ہم آپ کو پک کریں گے، ہم کزنز نے باہر ناشتے کا پلان بنایا ہے، آپ بھی ساتھ ہوں گی تو مزہ آئے گا۔"

تانیہ ہچکچائی، "مگر رمیسہ، میں تو آپ سب کو جانتی بھی نہیں ہوں۔" "جان پہچان ہی تو کروانی ہے! تھوڑی گپ شپ ہو جائے گی تاکہ آپ کو ہماری فیملی میں کوئی انجان نہ لگے۔ انکل سے بھی بات ہو گئی ہے اور وہاں سے گرین سگنل ملنے پر ہی ہم نے آپ کو کال کی ہے۔" رمیسہ نے شرارت سے شہروز کی طرف دیکھ کر آنکھ ماری، جو سپیکر پر سب سن رہا تھا۔ یہ رمیسہ کا پلان تھا کہ اپنی شادی سے پہلے تانیہ اور شہروز کو آمنے سامنے بٹھائے تاکہ وہ ایک دوسرے کو سمجھ سکیں۔

تانیہ نے فون رکھ دیا، اس کا دل دو حصوں میں بٹا ہوا تھا۔ ایک طرف ان لوگوں کا خلوص تھا اور دوسری طرف اس کا دکھتا ہوا دل۔ اسے احساس تھا کہ بابا اپنی جگہ صحیح ہیں۔ جو لوگ اس کی ماں کے ساتھ اتنا کچھ کر سکتے ہیں، وہ اسے بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ بابا اس کے لیے بہت فکرمند تھے اور جلد سے جلد اس غلطی کا ازالہ کرنا چاہتے تھے جو ان سے انجانے میں ہوئی تھی۔

تانیہ بیڈ پہ آ کر لیٹ گئی، یہی سوچیں آ رہی تھیں۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ جو بھی ہو بہتری ہو، "اے اللہ! بہترین فیصلہ کرنے کی قوت عطا فرما"۔ دعا کرتے وقت اس کے گالوں پہ آنسو آ گئے۔ صبح ہوئی، فجر کی آواز اس کے کانوں میں آ رہی تھی "نماز نیند سے بہتر ہے"۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی، فون پہ ٹائم دیکھا اور وضو کے لیے چلی گئی۔ شہاب صاحب اب اٹھ گئے تھے، انہوں نے تانیہ کا دروازہ ناک کیا مگر جواب نہ ملنے پہ دروازہ کھولا تو تانیہ بیڈ پہ نہیں تھی۔ وہ سمجھ گئے کہ وہ واش روم میں ہے اور اٹھ گئی ہے۔ چھوٹی سی عمر میں شہاب صاحب نے تانیہ کو نماز کی عادت ڈالی تھی، وہ سمجھتے تھے کہ ہم نماز اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے پڑھتے ہیں۔ اس وقت تانیہ کے معصوم ذہن میں جو سوال آتے تھے وہ بابا سے پوچھتی اور ان کی تفصیل سن کر مطمئن ہو جاتی۔ بچپن سے اب تک تانیہ نے نماز نہیں چھوڑی تھی، یہ اس کی زندگی کا معمول تھا۔

نماز پڑھ کر تانیہ کے دل کو سکون ہوا، پھر تلاوت کی اور لان میں واک کرنے آ گئی تو بابا وہاں پہلے ہی پودوں کو پانی دے رہے تھے۔ "باہا! یہ کام میں کر دیتی ہوں"۔ شہاب صاحب نے بتایا کہ کل رات جمیل بھائی اور بھابھی کی کال آئی تھی، انہوں نے ریکویسٹ کی کہ آج سارے بچے باہر ناشتہ کرنے جا رہے ہیں اور وہ تانیہ کو پک کرنا چاہتے ہیں۔ "میں نے حامی بھر لی کہ تانیہ میرا کہا نہیں ٹالے گی، کیا میں نے کچھ غلط کیا؟" تانیہ بولی، "نہیں بابا! میں نے کبھی آپ کا مان نہیں توڑا، آگے بھی نہیں توڑو گی، بس ذہن بہت الجھا ہوا ہے۔ آپ جانتے ہیں میں نے المیر سے نکاح ایک مرتی ہوئی ماں کی ریکویسٹ پہ کیا تھا، آپ جیسے چاہیں گے ویسا ہی ہو گا"۔ شہاب صاحب نے تانیہ کی بجھی آنکھیں دیکھیں تو ایک لمحے کو احساس ہوا کہیں وہ علیحدگی کروا کر زیادتی تو نہیں کر رہے۔

تانیہ نے بتایا کہ رات رمیسہ کی کال آئی تھی، وہ 11 بجے آئیں گے۔ شہاب صاحب نے کہا کہ تم تیاری کرو میں ناشتہ خود بنا لوں گا، مگر تانیہ نے پائپ ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا کہ میں بنا کر کھلا کر جاؤں گی، آپ میڈیسن بھی لیتے ہیں۔ وہ جانتی تھی بابا اس کے ساتھ ناشتہ کرتے ہیں۔ تانیہ نے ناشتہ بنا کر ٹیبل لگا دیا، شہاب صاحب نیوز پیپر لے آئے، وہ اسکول جانے کے لیے ریڈی تھے۔ انہوں نے تانیہ کو ہدایت دی کہ فون ساتھ رکھنا اور گھر سے نکلتے ہوئے میسج کرنا۔

ناشتے کے برتن سمیٹتے ہوئے شہاب صاحب بولے کہ میں نے ایک عورت کو کہا ہے، کل سے آ جائے گی، تم اسے سمجھا دینا کہ میں نمک کم لیتا ہوں۔ "اب تمہیں میرے اسکول کی ایڈمنسٹریشن میں میرا ہاتھ بٹانا ہے، مجھے ایک ایماندار بندے کی ضرورت ہے جو میری سیٹ پہ بیٹھ سکے۔ مجھے پراپرٹی کے کام بھی دیکھنے ہوتے ہیں، میرے بعد یہ سب تم نے دیکھنا ہے"۔ تانیہ بولی، "آج تو میں جا رہی ہوں"۔ شہاب صاحب مسکرائے، "میرا مطلب ہے مستقبل میں یہ بھاگ دوڑ تم نے سنبھالنی ہے، میں اسٹاف سے تمہارا تعارف کروانا چاہتا ہوں، نئی برانچ کے لیے کوآرڈینیٹر چاہیے۔ میری بیٹی بہت اسکل فل ہے"۔ شہاب صاحب چابی اٹھا کر پیار کرتے ہوئے نکل گئے اور کہا کہ تیار اچھے سے ہونا، اداس تانیہ پسند نہیں۔ تانیہ نے برتن سمیٹے اور کپڑوں کے بارے میں سوچنے لگی۔

اس نے پرپل  رنگ کی فراک منتخب کی جس پہ ہلکا تھریڈ ورک تھا، ساتھ میچنگ ایئر رنگز، واچ اور بریسلیٹ نکالے۔ تانیہ کا فون بج رہا تھا، سکرین پہ المیر کالنگ  لکھا آ رہا تھا۔ اس نے سائلنٹ کر دیا تاکہ ڈسٹرب نہ ہو۔ تیار ہو کر اس نے ہلکی لپ اسٹک اور کاجل لگایا اور خود کو آئینے میں دیکھ کر سوچنے لگی کہ کاش میری قسمت بھی میری طرح خوبصورت ہو۔ فون پھر بجنے لگا، اس بار رمیسہ کی کال تھی کہ ہم پہنچنے والے ہیں۔ بھائی (شہروز) آپ کو پک کرنے آ رہے ہیں، میں سیف کے ساتھ اپنی گاڑی میں ہوں گی۔

تانیہ ابھی لاؤنج میں تھی کہ گیٹ کیپر نے بتایا کہ شہروز صاحب آگئے ہیں۔ تانیہ باہر آئی تو شہروز نے فرنٹ ڈور کھول دیا۔ تانیہ نے سلام کیا، شہروز نے جواب دے کر پوچھا، "آپ کمفرٹیبل ہیں تو چلیں؟" تانیہ نے دوپٹہ سر پہ لیا تو شہروز مسکرا اٹھا۔ "میں آپ کو بھگا کے نہیں لے جا رہا، آپ کے والد کو پتہ ہے، میں نے کال کی تھی تو انہوں نے ہی گیٹ کیپر کو کہا کہ آپ کو بلا لائے، ریلیکس ہو کر بیٹھیں"۔ تانیہ آئینے سے باہر دیکھ رہی تھی، شہروز کو تانیہ کی خاموشی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ "تانیہ! ایسا کیوں لگتا ہے کہ آپ اپنی مرضی سے نہیں آئیں؟ کیا انکل نے زبردستی بھیجا ہے؟" تانیہ نے بغیر دیکھے جواب دیا، "نہیں ایسی کوئی بات نہیں، میں ذرا ریزرو نیچر کی ہوں، آسانی سے نہیں گھلتی ملتی"۔ شہروز نے کہا، "یہ تو اچھی بات ہے"۔

ریسٹورنٹ پہنچ کر وہ روف ٹاپ پہ گئے جہاں باقی سب موجود تھے۔ رمیسہ نے آگے بڑھ کر گلے لگایا اور پوچھا، "بھائی نے بور تو نہیں کیا؟" شہروز بولا، "یہ مجھ سے بھی زیادہ خاموش طبع ہیں"۔ نوشین نے مذاق کیا تو رمیسہ نے ٹوکا کہ یہ ہماری اسپیشل گیسٹ ہیں، کوئی تنگ نہیں کرے گا۔ ناشتے کے بعد سب نے فوٹوز بنوائیں، گروپ فوٹو میں یادیں محفوظ ہو گئیں۔ واپسی پہ رمیسہ نے کہا کہ شہروز بھائی ہی ڈراپ کریں گے۔ شہروز نے بتایا کہ شہاب انکل کی کال تھی، انہوں نے کہا ہے کہ تانیہ کو اسکول ڈراپ کر دو، وہ وہاں سے ساتھ گھر جائیں گے۔

تانیہ کا موڈ اب کافی فریش تھا، شہروز نے محسوس کیا اور بولا، "آپ ایسی ہی اچھی لگتی ہیں، اداسی سوٹ نہیں کرتی"۔ تانیہ نے کہا، "کوئی جان کے اداس نہیں ہوتا، زندگی ایسے موڑ پہ لاتی ہے کہ انسان مسکرا نہیں پاتا"۔ شہروز نے گاڑی روکی اور سنجیدگی سے بولا، "المیر آپ کا پاسٹ تھا، اسے بھول جائیں۔ میں آپ کا آج ہوں۔ مجھے حیرانی نہیں کہ آپ حیران ہو رہی ہیں، میں نے پہلی نظر میں ہی آپ کو چن لیا تھا۔ بابا نے انکل سے بات کی تو انہوں نے نکاح کا بتایا، جس پہ میں نے کہا کہ تانیہ کی مرضی شامل ہونی چاہیے۔ اگر آپ المیر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتیں تو میں آپ کو کھلے دل سے ویلکم کہتا ہوں۔ میں آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا"۔ تانیہ اتر گئی اور شہروز گاڑی لے گیا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ سب جانتے ہوئے بھی شہروز اس کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ شہاب صاحب اسے آفس بلا رہے تھے۔ "کیا میں المیر کو چھوڑ دوں اور شہروز کا ہاتھ پکڑ لوں؟ میں کیسے دوراہے پہ آ کھڑی ہوئی ہوں..."

(جاری ہے...)

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں اس ناول "بہار کے سنگ" کے تمام تر قانونی حقوق اور ملکیت مصنفہ عشرت خانم (قلمی نام: ذوقِ عشا / عشرت زاہد) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس کہانی، تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں (بشمول فوٹو کاپی، ریکارڈنگ، سوشل میڈیا شیئرنگ یا پی ڈی ایف) دوبارہ شائع کرنا، تقسیم کرنا یا منتقل کرنا سخت ممنوع ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ڈس کلیمر یہ ایک افسانوی تحریر ہے جس کا مقصد محض تفریح ہے۔ اس میں شامل تمام کردار، نام، مقامات اور واقعات مصنفہ کے تخیل کی پیداوار ہیں۔ کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا مردہ) سے کوئی بھی مشابہت محض اتفاقیہ ہوگی۔ اس کہانی میں ظاہر کیے گئے خیالات کرداروں کے ہیں اور مصنفہ کی ذاتی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

تحریر و تخلیق: عشرت خانم (عرف: ذوقِ عشا / عشرت زاہد)


Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22