بہار کے سنگ قسط نمبر:11
بہار کے سنگ
قسط نمبر:11
تانیہ جب بابا کے آفس پہنچی تو وہاں کا منظر دیکھ کر دنگ رہ گئی۔ شہاب صاحب نے کھڑے ہو کر اسے خوش آمدید کہا اور اپنی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے، "آؤ تانیہ! اس سیٹ پہ بیٹھو۔" تانیہ نے عقیدت سے اپنے بابا کو دیکھا اور دھیمے لہجے میں کہا، "بابا! یہ سیٹ آپ ہی کی ہے اور آپ ہی اس پر اچھے لگتے ہیں۔ مجھ سے جو بن پڑا، میں آپ کا ساتھ دوں گی، لیکن اس سیٹ پر بیٹھ کر آپ کی جگہ نہیں لے سکتی۔" شہاب صاحب نے مسکراتے ہوئے اسے سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور وہ بیٹھ گئی۔
وہ ایک نہایت جدید اور خوبصورت دفتر تھا، جہاں بڑی سکرینوں پر سکول کے کونے کونے کی لائیو فوٹیج چل رہی تھی۔ تانیہ نے پہلی بار دیکھا کہ اس کے بابا کا نیٹ ورک کتنا وسیع ہے۔ کلاس رومز، سٹاف روم، کینٹین، پلے گراؤنڈ اور یہاں تک کہ مین گیٹ اور وزیٹنگ روم بھی کیمروں کی زد میں تھا۔ شہاب صاحب اپنے آفس میں بیٹھ کر ایک ایک لمحے کو مانیٹر کر رہے تھے۔ یہ کسی عام سکول کا آفس کم اور کسی بڑی کمپنی کے اعلیٰ انتظامی افسر کا دفتر زیادہ لگ رہا تھا۔ شہاب صاحب لیپ ٹاپ پر مصروف تھے، انہوں نے سر اٹھا کر پوچھا، "ناشتہ کیسا رہا؟" تانیہ نے مختصر جواب دیا، "اچھا رہا۔"
"کیسے لگے سب لوگ؟" شہاب صاحب نے دوبارہ پوچھا۔ تانیہ نے سادہ سا جواب دیا، "ٹھیک تھے۔" "آج شام مہندی ہے، جمیل بھائی نے بہت تاکید کی ہے کہ وقت پر نکلنا ہے۔ فارم ہاؤس رہائشی علاقے سے تھوڑا دور ہے، دو گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ تم وقت سے تیار ہونا تاکہ ہم وقت پر پہنچ جائیں، کیونکہ انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں ان کے ساتھ مل کر لڑکے والوں کا استقبال کرنا ہے۔" تانیہ نے بوجھل دل کے ساتھ "جی اچھا" کہہ دیا۔ اسی دوران شہاب صاحب نے پیون کو بلایا اور ہدایت دی، "سٹاف روم میں جا کر کہو کہ تمام اساتذہ چھٹی سے پہلے میٹنگ روم میں جمع ہوں، میں ان کا تعارف مس تانیہ سے کروانا چاہتا ہوں۔"
میٹنگ روم میں تانیہ نے دیکھا کہ خاصا سٹاف موجود تھا۔ شہاب صاحب نے تانیہ کا تعارف 'ایگزیکٹیو کوآرڈینیٹر' کے طور پر کروایا اور اسے نئی برانچ کی ذمہ داریاں سونپنے کا اعلان کیا۔ تانیہ نے بھی پرجوش انداز میں سب سے خطاب کیا اور کہا کہ وہ اس مشن کو بابا کے خواب کے مطابق آگے بڑھائے گی۔
واپسی پر تانیہ نے جب بابا کے اس پورے سیٹ اپ کی تعریف کی تو شہاب صاحب بولے، "تانیہ! یہ میری اکیلی کی محنت نہیں ہے۔ یہ جو بلڈنگ تم دیکھ رہی ہو، جمیل بھائی کے والد نے مجھے بزنس کے لیے جو رقم دی تھی، وہ میں نے اس کی تعمیر میں لگا دی۔ اور جب سکول تیار ہوا تو اس کا سارا خرچہ جمیل بھائی اور ان کے والد نے اٹھایا۔ وہ آج بھی ایک بڑی رقم سکول کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرتے ہیں تاکہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ ان لوگوں نے اتنی دولت ہونے کے باوجود کبھی تکبر نہیں دکھایا۔ اور اب شہروز ان کا بازو ہے، میرے نئے پروجیکٹ کی لیبز کے لیے سارے فنڈز شہروز نے دیے ہیں۔" شہاب صاحب نے رک کر پوچھا، "شہروز کیسا لگا؟ میں نے دو بار پوچھا ہے، تم نے بتایا نہیں۔" تانیہ نے بات ٹالتے ہوئے کہا، "بابا گھر چلیں، بھوک لگ رہی ہے۔" شہاب صاحب سمجھ گئے کہ وہ ابھی اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتی۔
دوسری طرف، ہسپتال میں المیر کی ماں، آسیہ بیگم کو ہوش آ چکا تھا۔ نرس کی اطلاع پر المیر اندر گیا تو انہوں نے آنکھ کھولتے ہی دھیمی آواز میں پوچھا، "تانیہ کیسی ہے؟ کیا شہاب بھائی نے مجھے معاف کر دیا؟" المیر نے تڑپ کر ماں کا ہاتھ تھاما، "جی مما! سب ٹھیک ہے، انہوں نے معاف کر دیا ہے۔ آپ بس آرام کریں۔" آسیہ بیگم نے المیر کو اپنے قریب بلایا اور وصیت کے انداز میں بولیں، "المیر، میرا ایک کام کرنا۔ تمہارے نانا نے میرے نام ایک گھر شہر سے دور خریدا تھا۔ میں جہانگیر کے گھر واپس نہیں جانا چاہتی۔ میں سکون سے رہنا چاہتی ہوں۔ تم تانیہ کو رخصت کروا کر وہیں لے آنا۔ میں جہانگیر سے ہر تعلق توڑنا چاہتی ہوں۔" المیر نے فوراً شہباز (پرانے ملازم) کے بیٹے کو فون کیا اور گھر کی صفائی اور رازداری رکھنے کی تاکید کی۔
گھر پہنچ کر شہاب صاحب نے تانیہ کی فرمائش پر اس کے پسندیدہ ریسٹورنٹ سے کھانا منگوایا۔ کھانے کے بعد وہ تانیہ کو نصیحت کرتے ہوئے بولے، "بیٹا! آج اچھے سے تیار ہونا۔ تم ہر معاملے میں اپنی ماں صوفیہ جیسی ہو، وہ بھی اداسی چھپاتی تھی لیکن میں سمجھ جاتا تھا۔ اب تم کھل کر جیو، یہ تمہاری زندگی ہے۔ اگر ایک چیپٹر خراب نکل آئے تو پوری لائف خراب نہیں کرتے۔ میں نے شہروز کا انتخاب کیا ہے، لیکن میں کوئی زبردستی نہیں چاہتا۔ بس اتنا جان لو کہ میں تمہیں المیر کے نکاح میں نہیں رہنے دینا چاہتا، وہ جہانگیر کا بیٹا ہے اور مجھے اس سے کوئی اچھی امید نہیں۔"
شہاب صاحب کے آرام کرنے جانے کے بعد تانیہ بیڈ پر بیٹھی تھی کہ ایک نامعلوم نمبر سے میسج آیا: "امید ہے میں نے ڈسٹرب نہیں کیا ہوگا، کیا ہم کال پر بات کر سکتے ہیں؟" تانیہ نے پوچھا "کون ہیں آپ؟" تو جواب آیا "آپ میرا نام نہیں جانتیں؟ یہ مذاق کر رہی ہیں؟" تانیہ نے سختی سے جواب دیا کہ وہ مزارق نہیں کر رہی اور اسے دوبارہ پریشان نہ کیا جائے۔ کال آئی تو تانیہ نے کاٹ دی، اتنے میں رمیسہ کا فون آگیا۔
"تانیہ! بھائی آپ سے بات کرنا چاہ رہے ہیں، وہ میسج کر رہے تھے، میں نے سوچا کوئی غلط فہمی نہ ہو جائے تو کال کروائی، آپ نے کٹ کیوں کر دی؟" رمیسہ نے صفائی دی۔ تانیہ نے کہا، "میں اجنبیوں کی کال نہیں اٹھاتی، انہیں نام بتانا چاہیے تھا۔" رمیسہ نے فون شہروز کو دے دیا۔
"کیسی ہیں آپ؟" شہروز کی دھیمی آواز آئی۔ تانیہ نے غصے سے کہا، "میں بہت غصے میں ہوں، میرا آپ سے کوئی مذاق والا رشتہ نہیں ہے۔" شہروز نے معذرت کی، "سوری! مجھے اپنا نام بتانا چاہیے تھا۔ آپ درست کہتی ہیں، اچھی لڑکیاں اجنبیوں کی کال نہیں اٹھاتیں۔ میں بس چاہتا ہوں کہ ہم دوست بن جائیں۔" تانیہ نے دو ٹوک جواب دیا، "میں کسی سے دوستی نہیں کرنا چاہتی، آپ کا وقت برباد ہوگا۔ جو آپ چاہ رہے ہیں وہ فی الحال ممکن نہیں۔"
شہروز نے خاموشی کے بعد پوچھا، "کیا آپ المیر کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں؟" اس سوال پر تانیہ کا ضبط ٹوٹ گیا، "یہ میرا پرسنل میٹر ہے! آپ کے لیے لڑکیوں کی کمی نہیں، آپ کسی اور سے نکاح کر لیں۔ میں کوئی کھلونا نہیں ہوں کہ کوئی مرتی ماں کی خواہش پوری کرنے کے لیے مانگ لے تو کوئی احسانات کے بوجھ تلے دبا کر مجھے لے لے۔ میں جیتی جاگتی انسان ہوں!"
شہروز نے پوری بات تحمل سے سنی اور کہا، "تانیہ! آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔ میں آپ کے بابا پر احسان کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنی پسند کی وجہ سے آپ کا ہاتھ مانگ رہا ہوں۔ آپ کے پاس وقت ہے، سوچ لیں۔ کوئی آپ پر دباؤ نہیں ڈالے گا۔ لیکن یہ مت سوچئے گا کہ یہ سب بزنس انویسٹمنٹ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔" شہروز نے اللہ حافظ کہا اور لائن کاٹ دی، تانیہ کو ایک نئے دوراہے پر چھوڑ کر۔
جملہ حقوق اور ڈس کلیمر
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں اس ناول "بہار کے سنگ" کے تمام تر قانونی حقوق اور ملکیت مصنفہ عشرت خانم (قلمی نام: ذوقِ عشا / عشرت زاہد) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس کہانی، تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں (بشمول فوٹو کاپی، ریکارڈنگ، سوشل میڈیا شیئرنگ یا پی ڈی ایف) دوبارہ شائع کرنا، تقسیم کرنا یا منتقل کرنا سخت ممنوع ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ڈس کلیمر یہ ایک افسانوی تحریر ہے جس کا مقصد محض تفریح ہے۔ اس میں شامل تمام کردار، نام، مقامات اور واقعات مصنفہ کے تخیل کی پیداوار ہیں۔ کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا مردہ) سے کوئی بھی مشابہت محض اتفاقیہ ہوگی۔ اس کہانی میں ظاہر کیے گئے خیالات کرداروں کے ہیں اور مصنفہ کی ذاتی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔
تحریر و تخلیق: عشرت خانم (عرف: ذوقِ عشا / عشرت زاہد)

Comments
Post a Comment