ناول: بہار کے سنگ قسط نمبر: 12

 

ناول: بہار کے سنگ

قسط نمبر: 12

تانیہ کی آنکھ فجر کی آواز سے کھل گئی۔ وضو کر کے نماز پڑھی اور قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگی۔ حسبِ معمول جب وہ باہر آئی تو دیکھا کہ بابا لان میں واک کر رہے تھے اور ہاتھ میں تسبیح تھی۔ وہ یہ بچپن سے دیکھتی آئی تھی، تبھی اسے بھی یہ عادت ہو گئی تھی۔ اس نے قریب آ کر سلام کیا، شہاب صاحب نے اس پر دعا پڑھی اور وعلیکم السلام کہہ کر پیار کیا۔

تانیہ نے پوچھا، "بابا! میں اپنے لیے شیک بنانے جا رہی تھی، سوچا آپ سے بھی پوچھ لوں۔ آپ کے کمرے کی لائٹ آف تھی تو میں سمجھ گئی کہ بابا لان میں ہوں گے۔ بابا! آپ کو صبح واک کرنا کتنا اچھا لگتا ہے؟" جس پر وہ بولے، "مجھے ان پرندوں کا چہچہانا، ان کی تسبیح کرنا اور اپنے مالک کا شکر ادا کرنا، یہ سب اچھا لگتا ہے، تو میں بھی آ جاتا ہوں کہ میں بھی اپنے رب کا شکر ادا کروں۔ کون سی نعمت اس نے مجھے نہیں دی؟ جتنا شکر ادا کرو اتنا ملتا ہے۔" تانیہ نے مسکرا کر سر ہلایا اور ساتھ ہی انہوں نے کہا، "میرے لیے بھی بناؤ، میں بھی اندر آ رہا ہوں۔"

تانیہ شیک بنانے لگی تو اس کے فون پر میسج ٹون کی وائبریشن ہو رہی تھی۔ سکرین پر دیکھا تو 'المیر' نظر آیا۔ اس نے اسے سائیڈ پر ہٹایا اور بلینڈر آن کر دیا۔ فون سائلنٹ پر کر کے وہ ٹرے لے کر کچن سے باہر آ گئی۔ بابا لاؤنج کے صوفے پر نیوز لگا کر بیٹھ گئے تھے اور خبریں دیکھنے لگے۔ "بابا! آج آفس کتنے بجے جانا ہے؟" تانیہ نے پوچھا۔ وہ کہنے لگے، "ہم آج ساڑھے سات بجے نکلیں گے۔ ابھی تو ٹائم ہے، تم نے مزید سونا ہے یا کچھ کام کرنا ہے تو کر لو۔ اور ذرا گیٹ کیپر کو بلاؤ، اس نے کہا تھا کہ میڈ  آئے گی، ابھی تک آئی نہیں۔"

تانیہ نے آواز دی تو وہ آ گیا۔ شہاب صاحب نے پوچھا، "میں نے میڈ کا پوچھا تھا؟" جس پر اس نے بتایا، "جی وہ تو آ گئی تھی لیکن اسے یہاں کا ایڈریس نہیں آتا تھا، وہ اپنے عزیز کے گھر ہے۔ آپ اجازت دیں تو میں لے آؤں؟ اس کے پاس رہنے کو جگہ نہیں ہے، آئی تو وہ کام کے لیے ہے۔" شہاب صاحب بولے، "اکیلی آئی ہے؟" گیٹ کیپر نے بتایا، "ساتھ بندہ بھی ہے، اس کی ڈرائیوری کے کام آتا ہے، وہ بھی کام ڈھونڈ رہا ہے تاکہ دونوں مل کر کچھ خرچہ پانی اپنے والدین کو گاؤں بھیج سکیں۔"

شہاب صاحب نے کہا، "کوئی نمبر ہے ان کا؟" اس نے بتایا، "جی ہے میرے پاس۔ میں نے انہیں کہا تھا کہ صاحب سے پوچھ کر بتاؤں گا کہ کام ملنا ہے کہ نہیں۔" شہاب صاحب نے کہا، "تم آج جا کر لے آؤ دونوں میاں بیوی کو۔ مجھے ایک ڈرائیور کی ضرورت ہے اسکول کی وین کے لیے، اسے وہاں کام دے دوں گا اور اس کی بیوی کو صفائی اور کچن کے کام, کیا اسے یہ کام آتے ہیں؟" وہ بولا، "جی بالکل آتے ہیں، جو کہو گے وہ پکا کر بھی دے گی۔ وہ آٹھ جماعتیں پڑھی ہوئی ہے اور اس کا مرد بھی دس جماعتیں پڑھا ہوا ہے۔ گاؤں میں دسویں تک کے ہی سرکاری اسکول ہیں۔"

"عمر کتنی ہے ان دونوں کی؟" "جی فیاض نام ہے اس کا، اس کی عمر بائیس سال ہے اور اس کی بیوی اٹھارہ سال کی ہے۔" "یہ تو بہت کم عمر ہیں، کیا گھر سنبھال لے گی؟ مجھے تو تم نے کہا تھا کہ بڑی عمر کی ہے۔" "جی اس کی ماں نے آنا تھا، وہ آتی مگر اس کے شوہر کی طبیعت خراب ہے، اسے اس کے پاس رکنا پڑا۔ یہ اسی کا بھائی بیٹا ہے۔ یہ اس کے علاج کے لیے ہی پیسے کمانے شہر آئے ہیں۔ صاحب جی! میرے پنڈ کے ہیں، میں جانتا ہوں شریف ہیں بس مجبور ہیں۔"

ساری بات سننے کے بعد شہاب صاحب بولے، "ان کے شناختی کارڈ بنے ہوئے ہیں؟" جس پر اس نے بتایا، "فیاض کا تو ہے، اس کی بیوی کا پتا نہیں۔" "تم اپنی تسلی کر لیجیے گا پھر کام پہ رکھیے گا۔" شہاب صاحب نے کہا، "ابھی جا کر لے آؤ۔" وہ خوشی خوشی بولا، "صاحب جی! میں ابھی اسے فون کر دیتا ہوں، لے آتا ہوں۔ آپ گھر پہ ہی ہیں؟" وہ بولے، "ہاں، میں مل کر تسلی کر لوں کیونکہ ہمیں ایک فل ٹائم میڈ چاہیے جو اعتبار والی ہو اور گھر سنبھالنا جانتی ہو۔ ایک بات سمجھا دینا کہ گھر میں ہر جگہ کیمرے فٹ ہیں، کچھ بھی غلط کیا تو سیدھا پولیس کیس بن جائے گا۔" "نہیں جی! وہ ایسے نہیں ہیں، میں جانتا ہوں ان کو۔" "ٹھیک ہے، اب جاؤ وقت ضائع کیے بغیر اور جلدی آؤ۔"

تانیہ سب سن رہی تھی اور بولی، "بابا! اتنی چھوٹی لڑکی کیا کام دیکھ لے گی؟" جس پر وہ بولے، "بیٹا! وہ دیہاتی لوگ ہیں، کافی تیز ہوتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو شروع سے کام کی عادت ڈالتے ہیں، شہری لوگوں جیسے آرام پسند نہیں ہوتے۔ پھر ان کی مجبوری بھی ہے۔ اس کو تو سجاد نے رکھوایا ہے، اس کا بھائی سجاد کے پاس کتنے سالوں سے ہے، میں نے گاؤں جا کر ساری معلومات لی تھیں۔ تم پریشان نہ ہو، وہ آتے ہیں تو تسلی کر کے ہی رکھوں گا۔"

جمیل صاحب کے گھر مہمانوں کی آمد جاری تھی۔ سب پوچھ رہے تھے کہ اتنی دور جگہ ہی ملی تھی؟ جس پر وہ بولے، "بچے چاہتے تھے کہ دیر تک فنکشن کو انجوائے کریں اور پھر آپ کو پتا ہے دو گھنٹے خواتین کو اپنی رسمیں کرنے کے لیے لگتے ہیں۔ اب یہ میرے بچوں کا فیصلہ تھا کہ دادا ابو کی جو رہائش تھی وہاں فنکشن کیا جائے۔ آپ وہاں گئے نہیں، جب دیکھیں گے تو آپ کو مزہ آئے گا، بہت خوبصورتی سے سجایا گیا ہے۔"

جمیل صاحب اپنے رشتے داروں کو تفصیل بتا رہے تھے۔ شہروز کو دیکھ کر بولے، "بیٹا! کیٹرنگ والے کو سب ایڈریس سمجھا دیا تھا؟" جس پر وہ کہنے لگا، "ابّا! وہ وہاں پہنچ بھی گئے ہیں، ہمارے لوگوں نے انہیں جگہ بھی دے دی ہے اور وہ تیاری کر رہے ہیں۔ آپ یہ بتائیں کہ خواتین کب تک تیار ہوں گی؟ ہمیں چار بجے نکل جانا ہے تاکہ وہاں چھ بجے پہنچ جائیں۔ سات بجے فنکشن اسٹارٹ ہوگا۔ پھر جنہوں نے گھر جانا ہے وہ جا سکتے ہیں، ورنہ میں نے ریسٹ ہاؤس کا بھی انتظام کیا ہے اگر کوئی رات رکنا چاہے اور صبح جانا چاہے۔" جس پر وہ مسکرائے، "مجھے تم سے اسی سمجھداری کی امید تھی۔" شہروز نے پھولوں کے مزید آرڈر دیے ہوئے تھے جو ساتھ لے کر جانے تھے۔

رمیسہ کو مایوں کے سوٹ میں دیکھ کر شہروز کو اس پر پیار آ رہا تھا۔ وہ لاؤنج میں سب کزنز کے ساتھ بیٹھی تھی کہ اتنے میں ان کی امی آئیں اور کہنے لگیں، "لڑکیو! جلدی جلدی تیار ہونا اور ہاں، جس نے وہاں رکنا ہو وہ اپنے ساتھ ایک آدھ سوٹ بھی رکھ لے، سونے کی جگہ کا انتظام ہوا ہے۔ رمیسہ بیٹا! تم نے رات کا سلیپنگ ڈریس رکھنا نہیں بھولنا۔" جس پر وہ بولی، "ماما! میں نے اپنا سارا سامان سوٹ کیس میں رکھ دیا ہے۔"

شہروز آج بھی شلوار قمیض پہن رہا تھا۔ اس نے باہر پریس کے لیے دیا ہوا تھا، ساتھ اسے بابا کے سوٹ بھی پک کرنے تھے۔ وہ گاڑی کی کیز  لینے روم میں آیا تو اس کے فون میں دو مسڈ کالز آئی ہوئی تھیں۔ اس نے فون ان لاک کیا تو شہاب انکل کی کال تھی۔ اس نے بیڈ پر بیٹھ کر کال بیک کی تو شہاب صاحب نے پک کی۔ انکل کو سلام کرنے کے بعد اس نے خیریت پوچھی اور فون کرنے کی وجہ پوچھی۔

شہاب صاحب نے بتایا، "آج میری میٹنگ ہے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ اور اپروول سرٹیفکیٹ بھی ملنا ہے تو مجھے دیر ہو جائے گی۔ میں آج مہندی کے فنکشن کے لیے نہیں آ سکوں گا۔ جمیل بھائی کو بھی کر رہا تھا وہ شاید فون نہیں پک کر رہے۔" شہروز کا دل ایک دم سے بوجھل سا ہو گیا، "انکل! تو تانیہ بھی نہیں آئے گی؟" جس پر وہ بولے، "ظاہر ہے، اسے کون لے کر جائے؟ میں وہاں ہوں گا اور تانیہ نے آج اسکول بھی جانا تھا لیکن وہ میڈ کا انتظام کیا تو آج سے جوائن کیا ہے، تانیہ اسے سارے کام سمجھا رہی ہے۔ مجھے آج لازمی میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے، میں ابھی نکلنے والا ہوں۔ تانیہ کو کہا تھا کہ آج ہم چلیں گے، ایون  ڈریسز بھی دلوا دیے تھے سب ڈیز  کے، لیکن یہ بھی ضروری ہے۔"

شہروز سوچ کر بولا، "انکل! میں آ جاؤں تانیہ کو پک کرنے؟ واپسی پہ وہاں ساری کزنز کے رکنے کا ارادہ ہے، اگر وہ رکنا چاہیں، نہیں تو میں ڈراپ کر دوں گا واپسی پہ۔ اگر آپ کو پسند نہیں تو کوئی بات نہیں۔" جس پر شہاب صاحب بولے، "بیٹا! آپ پہ بھروسہ ہے۔ آپ لے جانا چاہیں تو آ جائیں، میں تانیہ سے کہہ دوں گا    آپ جب لینے کے لیے نکلو تو ایک میسج کر دینا، میں گیٹ کیپر کو سمجھا دوں گا۔ میں نے اسے کہا ہوا ہے کہ میری غیر موجودگی میں وہ کسی کے لیے دروازہ نہ کھولے۔ تانیہ کی مرضی ہے، وہ جانا چاہے گی تو تیار ہو جائے گی۔ ایک بات آپ بھی بات کر کے دیکھ لو۔"

شہروز نے "جی اچھا" کہہ کر فون رکھ دیا۔ وہ یہ بتانے باہر آیا تو سامنے ہی اسے اپنے بابا نظر آ گئے۔ وہ فون پہ بات کر رہے تھے، "آپ آتے تو اچھا تھا لیکن آپ فکر نہ کریں، جیسے میری رمیسہ ہے ویسے ہی تانیہ بھی میری بیٹی ہے۔ آپ بے فکر ہو کر کام کریں اور اگر جلدی فارغ ہو جائیں تو آ جائیے گا، مل کر فنکشن انجوائے کریں گے۔"

فون بند ہوتے ہی وہ بولے، "آپ نے شہاب بھائی کے جانا ہے تانیہ کو پک کرنے اور سیدھا ادھر گھر لے کر آنا، ہم سب کے ساتھ جائے گی۔" "جی بابا! بات ہوئی ہے میری۔ آپ کو فون کر رہے تھے آپ نے اٹھایا نہیں تو انہوں نے مجھے کیا۔" بابا نے کہا، "میں جانتا ہوں اپنے بیٹے کی پسند۔ آج آ جائے تو بات کروں گا۔ کل تو وہ لازمی شریک ہوں گے۔ کیا کہتے ہو، کل ہی آپ کا بھی نکاح نہ پڑھوا دوں؟" جس پر شہروز جھینپ گیا اور وہ پیار کرنے لگے۔

شہروز اب رمیسہ کو ڈھونڈ رہا تھا اور اسے پا کر وہ قریب آیا، "میری بہنا! ایک کام ہے، میری ایک پرابلم سالو کر دو۔" رمیسہ سمجھ گئی کہ تانیہ سے بات کروانی ہے۔ تب اس نے ساری سچویشن سمجھائی تو وہ بولی، "اوکے! میں یہی کہوں گی کہ میں ڈرائیور بھیج دوں گی، تیار رہنا۔ لینے آپ جائیے گا، جب وہ ریڈی ہو گی تو آپ لے آنا۔ کہہ دینا کہ ڈرائیور آیا نہیں تھا تو بابا نے مجھے بھیج دیا۔ شہاب انکل کا نام لے لینا کہ ان سے بات ہوئی ہے، باقی میں سنبھال لوں گی۔ ابھی میں کال کرتی ہوں۔"

تانیہ کے فون کی بیل بج رہی تھی۔ اس نے کام والی کو کام سمجھانے کے بعد لاؤنج میں رکھے فون کی طرف دیکھا، 'رمیسہ کالنگ' لکھا آ رہا تھا۔ اس نے فون اٹھایا تو رمیسہ نے بڑے پیار اور اخلاق سے بات کی اور تانیہ سے ریکویسٹ کی آج آنے کی۔ جس پر تانیہ نے بتایا، "بابا تو نہیں آ سکتے آج، وہ ایک ضروری میٹنگ میں نکل گئے ہیں۔" رمیسہ نے کہا، "میری انکل سے بات ہو گئی ہے، میں ڈرائیور بھیج دوں گی وہ آپ کو ادھر ہمارے گھر لے آئے گا اور پھر ہم سب مل کر فارم ہاؤس جائیں گے۔"

تانیہ بولی، "وہ تو ٹھیک ہے لیکن بابا بتا رہے تھے کہ دو گھنٹے کا راستہ ہے، تو میں اتنی رات کو کیسے واپس آؤں گی؟" رمیسہ نے کہا، "اس کی بھی ٹینشن نہ لیں، میری کچھ فرینڈز بھی وہیں اسٹے کر رہی ہیں۔ وہاں پہ گیسٹ رومز ہیں، کافی بڑا ہاؤس ہے، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انکل سے بات کی ہے اب آپ کی مرضی پہ ہے، چاہو تو میرا مان رکھ لو یا توڑ دو۔" جس پر تانیہ نے کہا، "ایسے تو نہ کہیں، میں بابا سے ایک بار پوچھ کر آپ کو ٹیکسٹ کر دوں گی۔" رمیسہ نے شکریہ ادا کیا اور فون بند ہو گیا۔ رمیسہ نے اسپیکر آن کیا ہوا تھا جو شہروز سن رہا تھا۔

فون کے بند ہوتے ہی شہروز بولا، "یہ محترمہ آپ کے ساتھ اتنے پیار سے بات کرتی ہیں، میرے ساتھ ہی مسئلہ ہو جاتا ہے۔ میں تھوڑی سی شرارت بھی نہیں کر سکتا۔" "بھیا! تھوڑا صبر کر لیں۔ بابا نے ماما کو سارا بتا دیا ہے۔ ابھی وہ آفیشلی کسی کی بیوی ہیں تو کیسے آپ سے کھل مل جائیں؟ وہ مشرقی لڑکی ہے۔ انکل آنٹی نے اس کی تربیت الگ طرح کی ہے۔ یو نو ، وہ آپ کے ہی جیسی ہے۔ تھوڑا ویٹ کرنا ہوگا، اپنے دل پہ قابو کریں۔" "وہی تو نہیں ہو رہا۔" شہروز نے آہ بھری۔

تانیہ نے بابا کو ٹیکسٹ کیا تو تھوڑی دیر بعد میسج آیا کہ "آپ تیاری کر کے چلی جانا، میں نے آنا ہوا تو میں ڈائریکٹ وہیں آ جاؤں گا۔" تانیہ نے روم میں آ کر اپنا سوٹ نکالا اور اسے دیکھ کر وہ مرر  کے پاس آئی۔ اس نے گرین اور شاکنگ کلر میں خود کو دیکھا۔ یہ لانگ شرٹ کے ساتھ پلازو تھا، ساتھ گولڈن چپل اور جھمکے نکال لیے۔ وہ سائیڈ ٹیبل پہ رکھے اور باہر آ گئی۔

وہ میڈ کو لے کر سرونٹ کوارٹر آئی اور اسے کہا کہ یہاں ضرورت کا سارا سامان ہے۔ اس نے وہ پورشن دیکھ کر کہا، "بی بی! یہاں کے تو سرونٹ کے کمرے بھی اتنے پکے ہیں۔ گاؤں کے کمرے پکے نہیں ہوتے، ہم تو بغیر پنکھے کے عادی ہیں، باہر صحن میں منجی ڈال کر سوتے تھے۔ آپ شہری لوگ تو جنت میں رہتے ہیں۔" تانیہ اس کی بات سن کر بولی، "تم یہاں رہو، جب کام ہوگا تو تمہیں بلا لوں گی۔ وہ سائیڈ پہ تمہارا کچن ہے، وہاں سب چیزیں رکھ دی تھیں۔ اس سے آگے باہر کو جو دروازہ ہے ادھر باتھ روم ہے۔" "یہاں تو جی باتھ روم بھی کمرے جیسے ہیں۔" میڈ حیرانی سے بولی۔

تانیہ ہنستی ہوئی اسے بتانے لگی، "یہ انٹرکوم ہوتا ہے۔ جب یہاں سے بیل کی آواز آئے تو اسے اٹھاؤ گی اور بات کرو گی۔ میں یا بابا ہی کال کریں گے۔" تب وہ بولی، "بی بی جی! میں اس سے گاؤں بات کر سکتی ہوں؟" تانیہ نے کہا، "تم بہت سادہ اور معصوم ہو۔ یہ بس گھر کے اندر کا فون ہوتا ہے، اس سے ہم اندر سے ادھر جو بھی رہتا ہے اسے بلا سکتے ہیں یا گیٹ پہ بیٹھے گیٹ کیپر کو۔" "اب سمجھ گئی بی بی جی۔" "اور باقی چیزیں تمہیں آہستہ آہستہ سمجھ آ جائیں گی۔ اب یہ بتاؤ کہ آج کا کھانا بنا لیا؟" "جی وہ جو آپ نے بتایا تھا ویسے بنا لیا۔ مجھے آتے تو سارے ہیں لیکن آپ شہری لوگ وہ انگلش کھانے بھی کھاتے ہیں، وہ نہیں آتے لیکن میں وہ بھی سیکھ جاؤں گی۔" تانیہ نے کہا، "نہیں، میں اور بابا وہ نہیں کھاتے گھر پہ، وہ کھانے باہر جا کر کھاتے ہیں۔ اب تم آرام کرنا چاہو تو کر سکتی ہو۔"

"یہ گٹھڑی کیسی ہے؟" تانیہ نے پوچھا۔ میڈ نے بتایا، "جی میرے گھر والے اور میرے کپڑے ہیں۔" تانیہ نے کہا، "وہ دیوار پہ الماری ہے اسے کھولو، اس میں طریقے سے تہہ کر کے رکھو۔ اور سنو، اپنا روم بھی اب تم نے صاف رکھنا ہے، یہ بنایا ہی اسی لیے تھا کہ اگر کوئی سرونٹ رکھا جائے تو وہ یہاں رہ سکے۔ ابھی تمہارا شوہر بابا کے ساتھ گیا ہوا ہے، تب تک تم اندر سے دروازہ بند کرو اور ہاں، کوئی پریشانی ہو تو مجھے اس والے فون سے یہ بٹن دباؤ گی، کال کر لینا۔" "جی ٹھیک ہے۔" "میں تمہارے لیے ایک فون کا بندوبست بھی کروں گی۔ آگے سے میں نے اسکول جانا ہوگا تو تم مجھ سے اس نمبر سے بات کر سکو گی۔ اس نمبر سے تم اپنے گاؤں بھی بات کر سکو گی۔" "وہ موبیئل لے کر دیں گی؟" اس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ تانیہ نے کہا، "اسے موبائل کہتے ہیں، موبیئل نہیں۔" "جی بی بی! مجھے انگریزی نہیں آتی، میں سیکھ جاؤں گی۔" "جی سیکھنا تو بہت کچھ ہے تمہیں، لیکن تم اچھی لڑکی ہو۔"

تانیہ آ گئی، اب اسے رمیسہ کو ٹیکسٹ کرنا تھا۔ ادھر شہروز انتظار کر رہا تھا۔ رمیسہ نے چیک کیا تو میسج آ گیا تھا جس میں لکھا تھا، "میں آؤں گی، بابا نے کہہ دیا ہے۔ آپ ڈرائیور کو بھیج دیجیے گا۔" دونوں بہن بھائی نے  نعرہ لگایا۔ شہروز نے کہا، "یس باس!" رمیسہ بھائی کی خوشی دیکھ رہی تھی۔ "بھائی! آپ نے دل لگایا بھی تو کہاں؟ میں اور ماما یہی سوچ کے پریشان ہیں کہ اگر تانیہ نے انکار کر دیا تب کیا ہوگا۔" "لیٹ سی )۔" شہروز نے دھیرے سے کہا۔ "اللہ میرے بھائی کو اس کی محبت دلا دے، اتنی مشکل سے کوئی لڑکی پسند آئی ہے، پھر سے بھائی کا ارادہ ہی نہ بدل جائے۔" رمیسہ نے دعا کی۔

تانیہ نے ٹائم دیکھا تو سوچا کہ شاور لے کر ہیئر ڈرائی کرنے چاہئیں، ٹائم سے تیار ہو جانا چاہیے۔ شاور کے بعد وہ ہیئر ڈرائی کرنے لگی اور اپنے فون کو بھی بار بار چیک کر رہی تھی۔ "بابا نے ابھی تک کال بیک نہیں کیا۔ بابا آج ہوتے تو زیادہ اچھا رہتا۔" وہ خود کو تسلی دیتی رہی۔ اس نے میک اپ کیا، لائٹ سی بی بی کریم لگائی، کاجل اور آئی شیڈو بھی لائٹ لگائے اور لپ اسٹک لگا کر خود کو دیکھنے لگی۔ اسے خیال آیا کہ مسکارا لگاتی ہوں، پھر سوچا کل لگاؤں گی، اب کافی ہو گیا ہے۔ اس نے ہیئر برش کیے اور بال کھلے چھوڑ دیے۔ اس کے بال سلکی اور لمبے تھے، جب بھی وہ کھولتی دیکھنے والے تعریف کیے بغیر نہیں رہتے تھے۔ اس نے چوڑیاں پہنیں، کانوں میں جھمکے پہنے اور گولڈن چپل پہن کر آئینے میں خود کو دیکھا۔ لائٹ سا ڈیوڈرنٹ لگایا اور باہر آ گئی۔

فون دیکھا تو رمیسہ کا میسج تھا، "آپ کو لینے ڈرائیور نکل آیا ہے، پلیز دیر مت کرنا، ہم سب آپ کا ویٹ کر رہے ہیں۔" تانیہ نے 'اوکے' کا ریپلائی کر دیا۔ اتنے میں گیٹ کیپر نے بتایا کہ جمیل صاحب کے گھر سے گاڑی آئی ہے۔ تانیہ میڈ کے روم میں آئی، وہ بیڈ پہ لیٹی ہوئی تھی۔ اسے سمجھا کر وہ باہر آئی اور جیسے ہی بیک ڈور کھولنا چاہا، فرنٹ ڈور کھل گیا۔

"میڈم! آپ آگے بیٹھ جائیں، میں آپ کا ڈرائیور نہیں ہوں۔ وہ کہیں پھنس گیا تھا تو بابا نے مجھے بھیجا ہے۔ جلدی کریں سب نکلنے والے ہیں، آج میری بہن کی مہندی ہے، مجھے جلدی پہنچنا ہے مہمانوں کا استقبال بھی کرنا ہے۔ سوچ کیا رہی ہیں؟ بیٹھ جائیں، بعد میں غصہ کر لیجیے گا۔ اتنا غور سے دیکھیں گی تو نظر لگ جائے گی۔" تانیہ نے غصہ ضبط کیا، وہ ابھی کسی بدمزگی کے موڈ میں نہیں تھی۔ اس نے سارے راستے کوئی بات نہیں کی۔

جمیل انکل کے گھر کے باہر ساری گاڑیاں واقعی تیار تھیں۔ رمیسہ اور باقی گاڑیاں نکل بھی گئی تھیں، یہ دو تین گاڑیاں رکی ہوئی تھیں۔ شہروز نے آگے گاڑی کی، باقی گاڑیاں اسے فالو کرنے لگیں۔ تانیہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔ "پیچھے والی گاڑی ماما بابا کی ہے، اس سے پیچھے والی تانیہ کی فرینڈز ہیں۔ آپ کو اغوا نہیں کیا جا رہا، اتنا تو اعتبار کر سکتی ہیں۔ اب ذرا غصہ کم ہوا ہو تو اجازت ہے کہ میوزک لگا لوں؟" شہروز نے شرارت سے پوچھا۔ تانیہ نے کہا، "آپ کو میری اجازت کی ضرورت کیوں ہے؟ آپ کی گاڑی، آپ کی مرضی، جو چاہیں کیجیے۔" شہروز بولا، "رمیسہ بھی خفا نہ ہو جائے، آنا ڈرائیور نے ہی تھا، وہ ہمارے کچھ گیسٹ آئے تھے تو ڈرائیور انہیں لینے ایئرپورٹ چلا گیا۔ وہ ڈائریکٹ فارم ہاؤس لے کر آئے گا۔ میں ہی رہ گیا تھا تو بابا نے مجھے کہا کہ لازمی آپ کو پوری عزت اور احترام کے ساتھ لے کر پہنچوں۔"

تانیہ نے اپنا فون دیکھا تو بابا کی مس کال تھی، "اوہ! میں نے دیکھا کیوں نہیں۔" اتنے میں شہروز کا فون بجنے لگا۔ شہروز نے اسکرین پہ نظریں جمائیں اور ایئربڈز سے کال آن کی۔ سلام کرنے کے بعد کہا، "جی انکل! میرے ساتھ ہیں، لیکن ارادے خطرناک ہیں ان کے، بس چلے تو مجھے مار دیں۔" دوسری طرف سے کچھ کہا گیا تو شہروز نے ایئربڈ نکال کر دیا، "آپ کے بابا ہیں۔" تانیہ نے کہا، "ان سے کہیں کہ میں کال کرتی ہوں۔" شہروز نے واپس لگا کر کہا، "انکل! وہ میرے فون سے بات نہیں کرنا چاہتیں، آپ انہیں ان کے فون پہ کیجیے۔ میں ویسے بھی رنگ روڈ پہ ڈرائیو کر رہا ہوں۔ جی جی، اسپڈ نارمل ہے۔ اوکے، ٹیک کیئر۔"

فون بند ہوا تو تانیہ نے دیکھا کہ اس کا فون وائبریٹ کر رہا ہے۔ شہاب صاحب کی ہدایات پہ تانیہ نے کہا، "جی میں خیال کروں گی آئندہ۔ جی موڈ صحیح ہے میرا۔" جس پر شہروز نے دیکھا، "آپ جھوٹ بھی بولتی ہیں اپنے بابا سے؟ کہاں صحیح ہے آپ کا موڈ؟" تانیہ نے کہا، "اب چپ ہوں، میں بات کر لوں؟" "جی بالکل۔" شہروز نے گاڑی کو سائیڈ سے کچے راستے پر ڈالا جہاں ابھی روڈ اتنی پکی نہیں ہوئی تھی۔ تانیہ نے فون بند کیا تو دیکھا، "ہم کہاں جا رہے ہیں؟" شہروز نے کہا، "فارم ہاؤس جا رہے ہیں، کیا آپ کبھی کسی فارم ہاؤس نہیں آئیں؟"

اتنے میں ایک گاڑی آگے رکی ہوئی تھی۔ شہروز نے شیشے سے باہر آواز لگائی، "بھائی! سائیڈ پہ ہو جائیں، ہمیں گزرنا ہے۔" "یا شور)، سوری! میں کرتا ہوں۔ ایک دم گاڑی بند ہو گئی تھی، میں نے دوسری منگوائی ہے، یہ تو بند ہے۔" اس نے بونٹ کا ڈھکن گرایا تو وہ کوئی اور نہیں المیر تھا! دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور شہروز گاڑی نکال کر لے گیا۔ المیر دھول اڑتی گاڑی کو دیکھنے لگا کہ تانیہ کس کے ساتھ تھی اتنے تیار ہو کر؟ "میں تانیہ کو کسی اور کا ہونے نہیں دوں گا، اب بات میری عزت کی ہے..." المیر کا غصہ ساتویں آسمان پر گیا۔

تانیہ ایک دم شاک  میں آ گئی اور ایک دم بولی، "یہاں کتنے فارم ہاؤسز ہیں؟" شہروز اس سوال پہ بولا، "کافی سارے ہیں، جس کا دل چاہے زمین خریدے اور بنا لے۔ یہ تو دادا ابو کے زمانے سے آباد ہے۔ وہاں ہمارے سرونٹس ہیں، ہم بچپن میں یہاں پکنک پہ آتے تھے۔ یہ رمیسہ کی فرمائش تھی کہ میں نے اپنے فنکشن یہاں کرنے ہیں۔"

"المیر! کیا ہوا بیٹا؟ اتنا غصہ کیوں آ رہا ہے؟" گاڑی کی بیک سائیڈ پہ بیٹھی آسیہ بیگم بولیں۔ "ابھی آ جاتی ہے گاڑی، اندر آ کر بیٹھ جاؤ۔" "ماما! میں ٹھیک ہوں، اب ریلیکس کریں۔" ساتھ ہی گاڑی بھی آ گئی اور وہ اس گاڑی میں سامان رکھوانے لگا اور اس میں بیٹھ کر وہ آگے لے گیا۔ ڈرائیور مکینک کو گاڑی دکھانے لگا۔ المیر کا دل بہت ہی دکھا ہوا تھا، "تو یہ تھی وجہ میرے فون نہ اٹھانے کی، میسجز کے ریپلائی نہ دینے کی... میں نے ایسا بھی کیا کیا تھا؟ ایک بار پوچھا تو ہوتا تانیہ تم نے، تم نے المیر کو جانا ہی نہیں"


جملہ حقوق اور ڈس کلیمر

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں اس ناول "بہار کے سنگ" کے تمام تر قانونی حقوق اور ملکیت مصنفہ عشرت خانم (قلمی نام: ذوقِ عشا / عشرت زاہد) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس کہانی، تحریر یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں (بشمول فوٹو کاپی، ریکارڈنگ، سوشل میڈیا شیئرنگ، پی ڈی ایف یا کسی دوسری ویب سائٹ پر شائع کرنا) سخت ممنوع ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ڈس کلیمر (اعلانِ لاتعلقی) یہ ایک افسانوی تحریر ہے جس کا مقصد محض تفریح ہے۔ اس میں شامل تمام کردار، نام، مقامات اور واقعات مصنفہ کے تخیل کی پیداوار ہیں۔ کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا مردہ) یا حقیقی واقعے سے کوئی بھی مشابہت محض اتفاقیہ ہوگی۔ اس کہانی میں ظاہر کیے گئے خیالات کرداروں کے ہیں اور مصنفہ کی ذاتی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

تحریر و تخلیق: عشرت خانم (عرف: ذوقِ عشا / عشرت زاہد)
آفیشل ویب سائٹ
:https://zoaqdigitalnovels.netlify.app/

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22