بہار کے سنگ - قسط نمبر 13

 


بہار کے سنگ - قسط نمبر 13

تانیہ نے گاڑی کے سائیڈ مرر سے دیکھا، المیر وہیں کھڑا تھا مگر اب اڑتی ہوئی دھول میں وہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ شہروز نے اس کی بے چینی کو محسوس کر لیا اور پوچھا، "کیا بات ہے تانیہ؟ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟" جس پر وہ بولی، "جی صحیح ہے، کب تک پہنچیں گے؟ میں ابھی سے تھکنے لگی ہوں۔" شہروز نے کہا، "ویٹ! میں آپ کو جوس دیتا ہوں، آپ نے صبح ناشتہ تو کیا تھا یا خالی پیٹ ہیں؟" شہروز نے گاڑی سائیڈ پر کی اور پیچھے سے اسے جوس اور سینڈوچ لا کر دیے اور گاڑی دوبارہ آگے بڑھا دی۔ تانیہ وہ لے کر سوچوں میں گم تھی کہ شہروز نے ٹوکا، "تانیہ پہلے کچھ کھا لیں، آپ کی طبیعت خراب ہوئی تو میں انکل، ماما، بابا اور رومیسہ... کس کس کو جواب دوں گا؟" اس کے کہنے پر تانیہ نے سینڈوچ کھانا شروع کیے اور پھر جوس پینے کے بعد وہ خود کو بہتر محسوس کر رہی تھی۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور سر سیٹ سے لگا لیا۔ اسے سوتا دیکھ کر شہروز نے گانے کا والیم مزید آہستہ کر دیا تاکہ نیند ڈسٹرب نہ ہو۔ آدھے گھنٹے تک انہوں نے پہنچ جانا تھا۔ شہروز نے بہت کوشش کی کہ کوئی جھٹکا نہ لگے مگر کچی جگہ ہونے کی وجہ سے جھٹکے تو لگنے ہی تھے، جس سے تانیہ جاگ گئی۔ شہروز نے اس کی طبیعت پوچھی اور بتایا کہ ہم تقریباً پہنچنے والے ہیں۔ تانیہ نے سر کے درد کو محسوس کیا تو شہروز نے کہا، "آگے ڈیش بورڈ اوپن کریں، اس میں میڈیسن ہے، پین کلر لے لیں اور یہ سائیڈ پر واٹر بوتل ہے، پی لیں تاکہ آپ کی طبیعت ٹھیک ہو جائے۔"

تانیہ نے بغیر کسی بحث کے میڈیسن نکالی اور کھا لی۔ تھوڑی دیر بعد سڑک تھڑی اچھی ہو گئی جس پر شہروز بتانے لگا کہ یہ والی سائیڈ بابا نے اپنے دوست کو کہہ کر بنوائی تھی تاکہ گھر تک کا راستہ صحیح بن جائے، پیچھے والا کب سے ایسا ہی ہے، کوئی یہاں آتا بھی تو نہیں ہے۔ فارم ہاؤس آ چکا تھا، شہروز نے تانیہ کو جگایا۔ "اوہ اچھا! میں پھر سو گئی تھی،" تانیہ نے کہا۔ جس پر شہروز نے پوچھا، "آپ شاید رات میں سوئی نہیں، آپ کی آنکھیں بھی بتا رہی ہیں،" اب تانیہ کیا بتاتی کہ آنکھیں کیوں سرخ ہو رہی ہیں۔ گاڑی سے اتر کر وہ کھڑی تھی کہ پیچھے سے انکل، آنٹی اور رومیسہ کی فرینڈز بھی قریب آ گئیں اور ساتھ ہی ڈرائیور بھی پہنچ گیا جو ایئرپورٹ لینے گیا تھا۔ سب آ چکے تھے۔ شہروز نے ملازموں سے سامان اندر رکھنے کا کہا۔ تانیہ اپنا پرس گاڑی میں بھول آئی تھی، موبائل ہاتھ میں تھا۔ اس کی سیٹ پر پرس دیکھ کر شہروز نے اٹھا لیا۔

سب اندر آ چکے تھے۔ فارم ہاؤس نیو اسٹائل کا بنا ہوا کوئی مینشن لگ رہا تھا، خوبصورت اور فل ماربل سے انتہائی نفیس، صاحبِ ذوق دکھانے والا۔ اب تانیہ کو سمجھ آئی کہ کیوں رومیسہ نے یہاں فنکشن کرنے کا کہا۔ اندر ہال میں داخل ہوئی تو اسے پھولوں اور لائٹس سے مزید سجا دیا گیا تھا، دیکھنے والی نظر ٹھہرتی نہ تھی، انتہائی قیمتی فانوس تھے۔ تانیہ اوپر دیکھتی جا رہی تھی کہ ایک دم کسی سے ٹکرا گئی، اس سے پہلے کہ وہ گرتی کسی نے بڑے سلیقے سے اسے پکڑ لیا تھا۔ مردانہ پرفیوم کی خوشبو سے تانیہ نے غور کیا تو وہ شہروز ہی تھا جو کہہ رہا تھا، "سنبھال کے چلیں، گر جاتیں تو چوٹ لگ جاتی، ابھی آس پاس کوئی کلینک تو دور، ڈاکٹر بھی نہیں ہے۔" تانیہ نے خود کو اس سے الگ کیا اور ایکسکیوز کیا، جس پر شہروز نے کہا، "اپنا خیال کیا کریں، یہ آپ کا پرس دینے آیا تھا، آپ گاڑی کی سیٹ پر ہی بھول گئی تھیں۔" تانیہ کو یاد آیا کہ وہ پرس بھی لائی تھی۔ اس نے شکریہ کہہ کر پرس لیا اور آگے بڑھ گئی۔ اسے اسٹیج نظر آیا جو انتہائی خوبصورت سجایا گیا تھا جیسے کوئی مہندی کے لیے ہال سجواتا ہے۔ اتنے میں رومیسہ پاس آ گئی، "تانیہ!" جس پر وہ مڑی، "کہاں رہ گئے تھے آپ لوگ؟" تانیہ بولی، "وہ راستے میں ایک گاڑی کھڑی تھی جو خراب ہو گئی تھی، اس نے جگہ مانگی تو بس وہاں تھوڑا ویٹ کرنا پڑا۔" رومیسہ نے کہا، "اوہ اچھا! سفر کیسا رہا؟ بہت دور ہے یہ جگہ، مگر دیکھو کتنی پیاری ہے اور پھر ہم جو بھی کریں رات گئے تک کوئی یہ نہیں کہے گا کہ فنکشن کا ٹائم ختم ہو گیا۔ یہاں لیٹ نائٹ مستیاں چلتی ہیں، کزنز ایک دوسرے کو تنگ کرتے ہیں۔ وہ سائیڈ پر دیکھو میرے کزنز کیسے ایک دوسرے پر جملے کس رہے ہیں، آؤ تمہیں بھی ملواتی ہوں۔" تانیہ رومیسہ کے ساتھ چل پڑی۔

دوسری طرف المیر کو ابھی تک یہی خیال آ رہا تھا کہ "کیا کروں اس دل کا، کیسے سمجھاؤں کہ وہ میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی اور میں اس کے بغیر ادھورا ہوں۔" آسیہ بیگم نے بیٹے کو اداس دیکھ کر پوچھا، "کیا سوچ رہے ہو بیٹا؟" المیر نے کہا، "وہ تانیہ کسی کے ساتھ تھی... پتا نہیں پیچھے بھی کافی گاڑیاں تھیں، غالباً کوئی گیدرنگ کا معاملہ لگ رہا تھا، لیکن آپ نے تو بتایا تھا کہ تانیہ کے والد صاحب کا کوئی بہن بھائی نہیں تھا۔" آسیہ بیگم بولیں، "جی انکل نے بھی یہی بتایا تھا۔" المیر نے ٹھنڈی آہ بھری، "کاش ماما، بابا نے زیادتی نہ کی ہوتی، اس کی سزا مجھے مل رہی ہے کہ تانیہ اس گاڑی کی بجائے میری گاڑی میں ہوتی۔ اس نے مجھے دیکھ کر ایسے اگنور کیا جیسے میں اس کا کچھ لگتا ہی نہیں ہوں۔" آسیہ بیگم نے تسلی دی، "صبر کرو بیٹا، وقت سب گتھیاں سلجھا دے گا، میں بہتر ہو جاؤں تو خود شاہاب بھائی کے پاس جاؤں گی، وقت بہت بڑا مرہم ہے۔" المیر نے پوچھا، "کتنا راستہ رہ گیا ہے ماما؟" جواب ملا، "بس دس منٹ تک پہنچ جائیں گے۔" آگے اسے کافی گاڑیاں نظر آ رہی تھیں، اس نے دیکھا کہ ایک فارم ہاؤس کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا جیسے کسی کا فنکشن ہو۔ آسیہ بیگم دیکھ کر بولیں، "لگتا ہے یہاں کوئی شادی ہو رہی ہے،" المیر نے کہا، "جی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے، چلیں ہم سائیڈ سے نکلتے ہیں، ہمارا فارم ہاؤس آگے ہے۔" دس منٹ کے فاصلے پر گھنے درختوں کو چیر کر ایک پتلی سی آدھی کچی آدھی پکی سڑک تھی جس پر گاڑی دوڑ رہی تھی۔ ایک جگہ المیر نے گاڑی روکی تو اسے 'آسیہ ہاؤس' لکھا نظر آیا۔ المیر حیران ہوا، "ماما! نیم پلیٹ بھی آپ کے نام کی ہے؟" آسیہ بیگم نے بتایا، "ہاں! بابا نے مجھے میری برتھ ڈے پر گفٹ کیا تھا، تب جہانگیر ملک میں نہیں تھے اور میں نے وہ ڈاکومنٹ اپنی فرینڈ کے پاس رکھوا دیے تھے۔ بابا نے کہا تھا کہ یہ سب سے چھپا کر رکھنا، برے وقت میں کام آئے گا۔ بابا کو بھی جہانگیر کی طبیعت کا پتا لگ گیا تھا، جس کو وہ سونا سمجھ رہے تھے وہ پتھر نکلا۔ مجھے بھی تب جہانگیر کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ آخر تک ماما بابا معافی کا کہتے رہے لیکن دونوں کو فالج ہوا تھا، بس معافی کے سوا کوئی لفظ سمجھ نہیں آتا تھا۔ نانا ابو نے پھر یہ گھر میرے نام کر دیا تھا، یہاں کے ملازم سب ان کے ہیں اور بہت ایماندار ہیں۔ میں جہانگیر سے چھپ کر دو بار یہاں آئی ہوں جب وہ فرینڈز کے ساتھ باہر گئے ہوئے تھے۔ میں تمہیں لے کر یہاں آگئی، سکون کے لیے پرسکون جگہ ہے۔" المیر نے پوچھا، "کسی کو معلوم تو نہیں؟ ڈرائیور نے نہیں بتایا بابا کو؟" آسیہ بیگم بولیں، "نہیں۔ وہ سب میرے بابا کے وفادار تھے۔ اب اترو، ساری باتیں گاڑی میں ہی کرنی ہیں؟"

باہر نکل کر ہوا کی تازگی کا اپنا ہی احساس تھا۔ گیٹ کھلا اور گیٹ کیپر نے کہا، "صاحب! چابی دیں، میں گاڑی پارک کر دوں گا۔" المیر نے چابی دی اور سارا سامان لانے کو کہا۔ آسیہ بیگم المیر کا ہاتھ پکڑ کر اندر داخل ہوئیں، لان کے بیچ سے راستہ بنایا گیا تھا، پتھروں کا خوبصورت ڈیزائن اور بڑے شیشے کے دروازے لگے تھے۔ سلائیڈنگ ڈور کھلا اور اندر سے ایک عورت اور مرد باہر آئے، "بی بی جی! بڑے عرصے بعد آئی ہیں، یہ المیر صاحب ہیں؟ اتنے بڑے ہو گئے، چھوٹے تھے تب دیکھا تھا۔" المیر سب سے ملنے کے بعد اندر گیا تو اوپر تک اتنی بڑی لابی، فانوس اور نقش و نگار کا کام دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ ملازمہ نے پوچھا، "کھانا تیار ہے، ڈائننگ ٹیبل پر لگا دوں؟" آسیہ بیگم نے کہا، "لگا دو، لیکن پہلے ہم واش روم سے فارغ ہو جائیں۔" انہوں نے المیر سے کہا، "ابھی دیکھتے رہنا پورا فارم ہاؤس، 12 رومز ہیں اس میں، جو چاہو پسند کر لو، میں اپنے کمرے میں جاؤں گی۔" وہ اینڈ والے ماسٹر بیڈ روم میں گئیں تو المیر نے حیرت سے کام دیکھا۔ آسیہ بیگم بولیں، "یہ گھر بابا نے میری پسند کا بنایا تھا، وہ ڈریم ہاؤس بنانا چاہتے تھے جہاں میں اور جہانگیر فرصت کے وقت بچوں کے ساتھ گزار سکیں۔ میں تھک جاتی تھی جہانگیر کے رویے سے تو یہاں آ جاتی تھی، کچھ دن رہ کر طبیعت بحال ہو جاتی تھی۔" المیر نے کہا، "ماما آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟ میں چھوٹا تھا تب، لیکن اب میں کچھ برا نہیں ہونے دوں گا، اب ابا یہاں نہیں آ سکیں گے۔"

مہندی کے فنکشن کی تیاریاں بہت اچھی تھیں۔ لائٹس کا اچھا انتظام تھا، جنریٹر بھی لگوائے ہوئے تھے کہ اگر لائٹ چلی جائے تو کوئی بدانتظامی نہ ہو۔ ہال میں قالین بچھوائے گئے تھے، گدیوں کے ساتھ گاؤ تکیے رکھے تھے اور ایک اسٹیج بھی بنوایا گیا تھا جہاں مہندی کی رسم ہونی تھی۔ شہروز نے سارے انتظامات چیک کیے، اس کے فرینڈز نے بھی آنا تھا جنہیں وہ لوکیشن بھیج چکا تھا۔ ہال میں لڑکیاں ڈھولک سنبھال چکی تھیں اور مہندی کے تھال رکھ دیے گئے تھے۔ فوٹوگرافر اپنی پوزیشن سنبھال چکے تھے، بس لڑکے والوں کا انتظار تھا۔ ان ساری تیاریوں میں شہروز کی نظریں تانیہ کو ڈھونڈ رہی تھیں جو نظر نہیں آ رہی تھی۔ اسے فکر ہوئی کہ کہیں پھر طبیعت تو خراب نہیں ہو گئی۔ اتنے میں شاہاب انکل کی کال آئی، انہوں نے لوکیشن دوبارہ مانگی۔ شہروز خوش ہو گیا، "جی انکل! ابھی کرتا ہوں۔" اس کی خوشی کی وجہ یہ بھی تھی کہ آج کے فنکشن میں بابا نے انکل سے تانیہ کے لیے بات کرنی تھی، وہ اب مزید انتظار نہیں کرنا چاہتا تھا، وہ تانیہ کو وہ سارے سکھ دینا چاہتا تھا جو وہ ڈیزرو کرتی تھی۔ تانیہ کا پوچھتے ہوئے اپنی بہن کے پاس آیا تو رومیسہ نے بتایا کہ وہ ماما کے ساتھ اندر کمرے میں ہے، جہاں تائی جان اور پھوپھو سب موجود ہیں اور ماما اس کا سب سے تعارف کروا رہی ہیں۔ شہروز اپنی ماں کے کمرے کی طرف گیا تو اسے آواز آئی: "جی یہ مجھے پیاری ہے، میری پسند ہے، نہ صرف میری بلکہ میرے بیٹے کی بھی پسند ہے، میں نے تو سوچ لیا ہے اس بار نکاح کر کے ہی بھیجوں گی۔"

شہروز نے ناک کیا اور اندر آگیا، "ماما تانیہ کہاں ہے؟" اتنے میں تانیہ واش روم سے نکلتی دکھائی دی۔ شہروز نے اسے بتایا کہ شاہاب انکل پہنچنے والے ہیں اور لڑکے والے بھی دس منٹ میں آ جائیں گے۔ تانیہ کی آنکھوں میں بابا کے آنے کا سن کر ایک چمک آگئی۔ شہروز سوچنے لگا کہ تانیہ کا دل کتنا پیور ہے، جو دل کی کیفیت ہو وہی چہرے پر آ جاتی ہے۔ تانیہ نے باہر نکلنے کا راستہ مانگا تو شہروز بولا، "سوری! میں اپنی سوچوں میں تھا، آپ باہر آجائیں۔" تانیہ کے کانوں میں شہروز کا یہ جملہ بھی پڑا کہ "آپ کی سوچوں سے باہر آؤں تو کچھ اور سوچوں۔" وہ الجھن میں پڑ گئی، ایک طرف المیر اور دوسری طرف شہروز کی معنی خیز آنکھیں اور اتنی کیئر... وہ کیسے دامن بچائے؟ وہ سوچتی ہوئی ہال میں گئی اور ایک سائیڈ چیئر پر بیٹھ گئی۔ جمیل صاحب اندر آئے، "خواتین پھول لے کر باہر آ جائیں، لڑکے والے آ گئے ہیں۔" ڈھول کی آواز پر سب باہر بھاگے۔ جمیل صاحب نے تانیہ کو اکیلے بیٹھے دیکھا تو کہا، "بیٹی! باہر آؤ، سب بھنگڑا ڈال رہے ہیں۔" تانیہ باہر آئی تو شہروز بھی وہاں موجود تھا، وہ اپنے بہنوئی کے ساتھ بھنگڑا ڈال رہا تھا۔ کزنز نے ان کے گرد چین بنائی ہوئی تھی، کیمرہ مین ایونٹ کیپچر کر رہا تھا۔ تانیہ کی نظریں شہروز پر ٹک گئیں، شہروز نے اسے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ تانیہ تالیاں بجاتے ہوئے اتنی پیاری لگ رہی تھی، ہوا سے بالوں کی لٹ بار بار اس کے چہرے پر آ رہی تھی۔ شہروز کے بہنوئی نے دیکھ لیا اور کہا، "آج نکاح پڑھوا لو، لڑکی آپ کے جوڑ کی ہے بھائی، دیر مت کریں۔" شہروز نے نگاہیں ہٹا لیں، دل کا موسم بہت حسین ہو گیا تھا۔ سب بزرگوں کو ہار پہنائے گئے اور نوجوان نسل ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتی ہال میں آگئی جہاں مہندی کی رسم کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

آسیہ بیگم کو خاموشی میں کہیں دور سے ڈھول کی آواز آ رہی تھی۔ المیر نے کہا، "ماما! وہ پہلے والا ہاؤس ہے وہاں فنکشن ہے، میں نے کچھ سامان منگوایا تھا ڈیلیوری والا قریب ہی ہے، میں اسے لے آؤں، پانچ منٹ میں آیا۔" المیر نے گاڑی اسٹارٹ کی اور باہر نکل آیا۔ عین اسی جگہ جہاں پہلے گاڑی خراب ہوئی تھی، بارش کی وجہ سے مٹی اور کیچڑ زیادہ ہونے پر ٹائر پھنس گیا۔ المیر نے اندر آ کر ایک بندے سے کہا، "ہماری گاڑی پھنس گئی ہے، کیا کچھ بندے مل جائیں تو ٹائر نکالنے میں مدد ہو جائے؟" شہروز ملازم سے بات کرتے ہوئے باہر آیا اور پوچھا، "باہر کون ہے؟" اسے بتایا گیا کہ کسی کی گاڑی پھنس گئی ہے وہ ہیلپ مانگ رہے ہیں۔

شہروز نے جب اسے دیکھا تو اسے لگا کہ اسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے۔ ادھر رومیسہ نے تانیہ سے کہا، "بھائی کے ساتھ فوٹو بنوانی ہے، وہ نظر نہیں آ رہے، پلیز بلوا دو۔" تانیہ باہر آئی تو پتا چلا شہروز باہر ہے، وہ اسے دیکھنے باہر آئی ہی تھی کہ المیر کی نظر اس پر پڑ گئی۔ وہ بول اٹھا، "تانیہ! اور یہاں؟" اس نے شہروز کے ملازم سے پوچھا، "یہاں کیا ہو رہا ہے؟" ملازم نے بتایا، "مہندی کا فنکشن ہے، شہروز صاحب کے گھر کا۔" المیر نے تانیہ کی طرف اشارہ کر کے پوچھا، "یہ کون ہیں؟" ملازم بولا، "یہ صاحب جی کے گھر کی ہیں۔"

یہ سننا تھا کہ المیر کے دل پر وار ہوا۔ شہروز اور تانیہ؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تانیہ تو میرے نکاح میں ہے! نکاح پر نکاح؟ اف میرے اللہ...

کاپی رائٹس اور ڈس کلیمر (جملہ حقوق محفوظ ہیں)

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026 تحریر: عشرت زاہد (ذوقِ عشا)

کاپی رائٹ نوٹس: اس کہانی (بہار کے سنگ) کے تمام حقوق، بشمول کہانی کا پلاٹ، کردار اور مکالمے، مصنفہ عشرت زاہد کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر کا کوئی بھی حصہ کسی بھی شکل میں (بشمول سوشل میڈیا پوسٹس، بلاگز یا یوٹیوب ویڈیوز) نقل کرنا، چوری کرنا یا شائع کرنا قانونی جرم ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ڈس کلیمر (وضاحت): یہ ایک افسانوی کہانی ہے جس کے تمام کردار، مقامات اور واقعات محض تخیلاتی ہیں۔ اس کا کسی بھی زندہ یا مردہ شخص یا حقیقی واقعے سے تعلق محض اتفاقیہ ہوگا۔ کہانی کا مقصد صرف تفریح ہے، کسی کی دل آزاری یا کسی فرقے/گروہ کی مخالفت ہرگز نہیں۔


خوشخبری! اب آپ میرے تمام ناولز اپنے موبائل پر بھی پڑھ سکتے ہیں۔

میری نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: [https://drive.google.com/file/d/1Ggp4AGQXIP56CwbOVyF2S1-XMBkJO67W/view?usp=drive_link]

ضروری نوٹ: چونکہ یہ ایپ ابھی آزمائشی مراحل  میں ہے اور ابھی پلے اسٹور پر دستیاب نہیں، اس لیے اسے انسٹال کرتے وقت اگر آپ کو کوئی مشکل پیش آئے یا "Harmful App" کا میسج آئے، تو پریشان نہ ہوں۔ یہ ایپ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ آپ بس اپنی موبائل سیٹنگز میں جا کر "Install Anyway" پر کلک کریں اور اسے انسٹال کر لیں۔

اپنا تجربہ میرے ساتھ ضرور شیئر کیجیے گا کہ آپ کو ایپ کیسی لگی!

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22